آواز خاموش کرانا درست نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آواز کے معنی کیا ہیں، انسان اور جانداروں کی زندگی میں کیا اہمیت رکھتی ہے، اس پر کتنا انحصار کیا جاتا ہے، اردو لغت میں دیکھیں، وہاں مطلب کچھ یہ موجود ہیں، پکار کر بیچنے کا ڈھنگ، جانوروں کی صدا، سائیں سائیں، غل غپاڑہ، فقیر کی صدا،

ایسے ہی لہجے کے اعتبار سے کسی چیز کے ٹکرانے یا تصادم کا کھٹکا، کھٹ کھٹ بھی آواز کہلاتی ہے، اس کے مترادف الفاظ میں بانگ، پکار، توک، تڑاقا، جھنکار، دھماکا، شور، صدا، صوت، فریاد، فغاں، گونج، للکار، نالہ، ندا، نوا، کوک اور ہانگ شامل ہیں۔

اس ساری تمہید کامقصد تھوڑا سا جائزہ لینا ہے کہ آواز کہاں، کس انداز اور کس موقع پر نکالی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زبان دی ہے، جس کے ذریعے رابطہ کیا جاتا ہے اپنا پیغام اور بات دوسروں تک پہنچائی جاتی ہے، کسی معاملے پر آواز بلند کی جاسکتی ہے۔

اسے چپ کرانا، خاموش کر دینا، دبا دینا، اظہار کا موقع نہ دینا، دوسروں تک بات نہ پہنچنے دینا، یہ وہ متضاد طریقے ہیں، جن سے آواز کو روکا جاسکتا ہے۔

چرند پرند اس معاملے میں آزاد ہوتے ہیں، اپنی خوشی، تکلیف، یا رابطے کے لئے جب اور جہاں چاہتے ہیں، ان کی کوک، صدا بلند کرتے، شور مچاتے، بانگ دیتے، حتیٰ کہ نالہ و فغاں بھی سنائی دیتی ہے۔

انسان کا اظہار کبھی بہت سیدھا سادہ ہوتا ہے، چاہے وہ گدا گر کی صدا ہو، کسی سے مدد کی پکار ہو، حملہ کرنے والے کو جوابی للکار ہو، خوشی میں غل غپاڑہ ہو، لیکن آدمی کئی بار تھوڑا پابند اور مجبور پایا گیا ہے، اس کے جذبات بعض اوقات بولنے نہیں دیتے، حالات کچھ کہنے سے روک دیتے ہیں۔

اپنے اور دوسروں کے حق کے لئے آواز اٹھانے میں بے شمار رکاوٹیں حائل ہوجاتی ہیں۔ اس صدا کی گونج کبھی بہت زیادہ سنائی دیتی ہے لیکن طاقت کا استعمال اسے مختلف حربوں کے ذریعے چپ کرادیتا ہے۔ ایسے میں خوف کی فضا میں محض سائیں سائیں کی سرگوشی رہ جاتی ہے۔ اس جبر کو توڑنے اور آواز کو باہر آنے کا راستہ دینے کے لئے صرف زیادہ آوازیں نکالنا پڑتی ہیں۔ قدرت کا نظام ہے، جب تعداد بڑھے گی، نوائے فریاد ایک گونج، شور اور دھماکے کی صورت اختیار کر جائے گی۔ اس کو دبانا مشکل ہو جائے گا۔

نہ جانے کیوں سچ کی آوازیں کم ہوتی جارہی ہیں، یہ مفادات اور دھوکے کی صداوں میں گم ہوتی جارہی ہیں۔ اگر کہیں سے نعرہ حق بلند ہوتا ہے، کوئی بانگ سحر سنائی دیتی ہے، سماعتیں اس طرف دھیان کیوں نہیں دیتیں۔ ہم غیرضروری اور فضول معاملات کے شور کے عادی کیوں بن گئے ہیں۔

بڑوں کا کام بات بتانا، نصیحت کرنا اور عمل کرکے دکھانا ہوتا، دوسروں کو سوال کرنے اور حق مانگنے سے روکنے یا انہیں خاموش کرانے سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔ جتنا کسی کو دبائیں گے، اس کا ردعمل اتنا زیادہ شدت سے آئے گا۔ ایسے میں بہت کچھ غلط بھی ہو جائے گا۔

حق دینے والوں کو کھلے دل ودماغ سے فیصلے کرنا ہوتے ہیں، انہوں نے انصاف بھی کرنا ہوتا ہے، اس میں سوچ کی وسعت اور مزاج میں لچک کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے، دوسروں کو حوصلے اور برداشت سے سننا ہوگا۔ عدم رواداری معاملات کو نہ صرف بگاڑدیتی ہے بلکہ بند گلی میں دکھیل دیتی ہے۔ کسی کی آواز دبانا کبھی مسئلے کا حل نہیں ہوا، ڈرانا دھمکانا کبھی کام نہیں آتا، اپنا موقف منوانے کے لئے دلیل دینا پڑتی ہے، دوسرے کو قائل کرنے کے لئے اس کو بھی موقع دینا پڑتا ہے۔ زور زبردستی کبھی کامیاب ہتھکنڈا نہیں رہا۔ اظہار کی آزادی انسان کا حق ہے، بس اسے استعمال کرنے دیں، جہاں کہیں ضوابط سے ہٹ کر بات ہو، اس کو ٹوک دیا جائے۔ لیکن خاموش کرانا درست نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نعمان یاور

نعمان یاور پرنٹ اور الیکٹرانک صحافت میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ ان دنوں دنیا ٹی وی میں سنیئر پروڈیوسر نیوز کے عہدے پر پیشہ ورانہ فرائض انجام دے رہے ہیں ۔

nauman-yawar has 65 posts and counting.See all posts by nauman-yawar

Leave a Reply