رشوت بڑی کہ ٹیکس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بات ہے یقین کی، وگرنہ قانونی طریقہ کار ہی بڑا ہے۔ دیگر ممالک کی طرح ہمارے ملک میں بھی ٹیکسز کی بھرمار ہے، ہمارے ملک کی ایک بڑی تعداد اپنی آمدن سے بڑھ کر سیلز ٹیکس، پی ٹی وی ٹیکس، ود ہولڈنگ ٹیکس، موبائل ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس، سروسز ٹیکس، ذرائع آ مد و رفت ٹیکس، ذرائع ابلاغ ٹیکس بلکہ اب تو شادی ٹیکس اور پتا نہیں کون کون سے ٹیکس ادا کر رہی ہے۔ جبکہ بہت کم لوگ ہیں جو کہ اپنی آ مدنی پر ٹیکس یا اثاثوں پر ٹیکس دیتے ہیں۔

مذکورہ بالا عوامی ٹیکسز کو دیکھیں تو حیرت ہوتی ہے کہ اتنے ٹیکسز کے باوجود ہر سال گورنمنٹ کے ٹیکس اکٹھے کرنے والے ادارے اپنے طے شدہ اہداف حاصل کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ اور موصوف ایف بی آ ر والوں کی خاص موجیں ہیں وہ نہ تو اپنے ہدف حاصل کرتے ہیں بلکہ تنخواہیں بھی دوگنی لیتے ہیں۔ ہم سب کو پتا ہے کہ حکومت کے ذریعے ملکی امور چلانے کے لیے عوامی ٹیکسز قلیدی حیثیت رکھتے ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ حکومتی نمائندے اور ملازمین اپنی اجرت کے عوض عوام کی تعلیم، ترقی، صحت، تحفظ، انصاف، روزگار اور فلاح کے لیے کام کرتی ہیں۔ بیوروکریسی کے افسران اور وزیروں کی باتیں سنیں تو لگتا ہے کہ یہ بے چارے عوام کی ترقی کے لئے اتنا کام کرتے ہیں کہ اپنے دفاتر سے اپنے گھروں کو بھی نہیں جا پاتے۔ اور بغور جائزہ لیں تو ایک محاورہ جو کہ تھوڑی سی تبدیلی کے بعد ان پر مصر آ تا ہے۔ ”کہ پل دے ویل اور ککھ دی کارکردگی نہیں“ ۔

ٹیکس کے متوازی طاقت ہے رشوت۔ اب تو سرکاری محکموں نے اس لفظ کو جدید شکل دے کر ایک مہذب لفظ سروس چارجز استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس لفظ کی طاقت یا اس کے کمال یہ ہیں کہ لوگ ٹیکس جمع کرواتے وقت بھی رشوت دینے کو ترجیح دیتے ہیں مزید یہ کہ کسی بھی سرکاری محکمہ کے کام کے متعلق آپ کسی بھی اپنے دوست احباب سے مشورہ کریں آپ کو فوراً جواب ملے گا کہ بھائی کلرک کو، ریڈر کو، پی اے کو، گارڈ کو پیسے دو اور اپنا کام کروا لو۔

اس طریقہ کار سے واقفیت کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کو تمام متعلقہ لوگوں کے ریٹ بھی پتا ہیں کہ کون سا بندہ، پانچ سو، ہزار، پانچ ہزار یا اس سے زیادہ میں آ پ کا کام کر دے گا۔ عوام کی حالت اتنی پتلی ہے کہ جب تک متعلقہ محکمے میں سے کسی بندے کو پیسے نہ دیں بے چین بے چین محسوس کرتے ہیں کہ پتا نہیں کام ہو کہ نہ ہو۔ رشوت کا نظام کام کرتے کرتے اتنا مضبوط ہو گیا کہ اب عوام کا ایمان، یقین اور امید بن چکا ہے۔ بہت سارے سرکاری محکموں نے بڑا اچھا کام کیا کہ اپنی سروسز کے عوض ایگزیکٹو سروس شروع کر دی۔

جیسے نادرہ، پاسپورٹ، سوئی گیس وغیرہ کے دفاتر مگر نادرہ چھوڑ باقی سب میں ان اداروں کی سروس حاصل کرنے کے لیے ایگزیکٹیو فیس ادا کرنے کے بعد بھی آپ کا کام رشوت کے بغیر طے شدہ ٹائم میں نہیں ہوتا۔ پولیس کے تو کیا کہنا، مجھے یاد ہے دو چار سال قبل میں اسلام آ باد میں گیا تو ان دنوں نیشنل ایکشن پلان کی وجہ سے تھوڑی پوچھ گچھ زیادہ تھی تو پولیس کے روکنے پر میں شناختی کارڈ نہ مہیا کر سکا تو اسلام آباد پولیس نے کافی منت سماجت کے بعد شناختی کارڈ 1500 روپے میں بنا دیا گیا اور کارڈ کے بغیر ہی مجھے جانے دیا۔ پنجاب پولیس تو تھانے میں ہی فوراً سروس چارجز کے عوض تھانے میں آپ کے غیر قانونی پسٹل کا لائسنس بنا دیتی، آپ کو قمار باز یا شرابی بنا دیتی ہے، آپ کو قتل کے کیس میں بے گناہ کر دیتی ہے اور ٹریفک پولیس تو بعض دفعہ دو تین سو میں آ پکا ڈرائیو نگ لائسنس بھی بنا دیتی ہے۔

اب یہ دیکھتے ہیں کہ لوگ ٹیکسز کیوں نہیں دیتے اور رشوت کے لئے فوراً کیسے راضی ہو جاتے ہیں۔ ہمارے ملک میں ٹیکسز کا پے بیک بہت کم اور غیر معیاری ہے۔ کسی بھی حکومت یا ادارے نے عوام کی معیار زندگی کو بہتر کرنے کا کوئی عملی منصوبہ نہیں بنایا۔ سرکاری دفاتر میں افسر شاہی اور تکبر کا راج ہے۔ سیاست میں اقربا پروری اور پیسے کا راج ہے۔ اور انصاف کے متعلق تو زبان زد عام ہے کہ انصاف بکتا ہے جو قیمت ادا کر سکتا ہے وہ خرید لے۔

اب رشوت نے ان سب میں کیسے جگہ بنائی، آپ مثال کے طور پر دیکھیں کہ آپ نے ایک برتھ سرٹیفکیٹ کا لیٹ اندراج کروانا ہے اور اس کا قانونی طریقہ اور اس کی پیچیدگیاں دیکھیں، اور جیسے ہی سیکرٹری صاحب کو سروس چارجز دیں گے تو پھر قانون میں آپ کے لیے آسانیاں ہی آسانیاں پیدا ہو جائیں گی۔ مگر ایک چیز جو رشوت کو جگہ دیتی ہے وہ ہے یقینی سروس ڈیلیوری اور اسی طرح تمام محکموں میں رشوت کا نظام چلتا ہے۔ حکومت وقت مانے یا نہ مانے رشوت کا نظام حکومت کے نظام کے متوازی چل رہا ہے اور اسی سے لوگوں کی زندگیوں کو آسانیاں مل رہی ہیں۔

رشوت کے نظام میں اگرچہ آسانیاں یقینی ہیں اس لئے لوگ حکومت کو ٹیکسز دینے کی بجائے اس نظام پر اعتماد کرتے ہیں کیونکہ اس کے ذریعے سے لوگ ڈائریکٹ فائدہ اٹھاتے ہیں جبکہ ٹیکسز کے نظام سے حکومتی نمائندوں اور ملازمین سے اگر کچھ بچ جائے تو نیچے ٹھیکیدار وغیرہ ڈکار مار جاتے ہیں اس لیے عوام میں اور حکومت میں اعتماد کا رشتہ کمزور ہے جس وجہ سے لوگ رشوت کو ٹیکس پر ترجیح دیتے ہیں۔ اب ہونا کیا چاہیے یہ ہمارے سربراہان کو بہتر پتا ہے ہمارے جیسے لوگوں کے بتانے کا تب ہی فائدہ ہے جب کہ اس پر عمل ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *