حج ادائیگی کا آسان طریقہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں بمطابق 29 جولائی، ایک دن کے فرق کے ساتھ سعودی عرب میں تاریخ 8 ذوالحجہ 1441 ہ ہوگی اور اسی دن انشاءاللہ حج کا باقاعدہ آغاز ہو گا مگر اس بار بدقسمتی سے عالمی موذی مرض کورونا (COVID۔ 19 ) کے اثرات کے پیش نظر حج کی سعادت صرف مقامی افراد ہی حاصل کرسکیں گے کیونکہ اس حوالے سے سعودی حکام نے بیرون ممالک کے حجاج کرام کی آمد پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور اس وقت بین الاقوامی فلائٹس بھی مکمل طور پر معطل ہیں۔ میرا آج کا کالم حج ادائیگی کے آسان طریقہ کار پر ہے جو ان حجاج کرام کو فائدہ پہنچا سکتا ہے جو اردو زبان پڑھنا جانتے ہیں۔ طریقہ کار درج ذیل ہے۔

جس دن عرفات کے میدان جانا ہے اس سے ایک دن قبل ایک بیگ تیار کرنا ہے جس میں مندرجہ ذیل اشیاء ہونی چاہیے۔

دو عدد چادر احرام فالتو پاس رکھیں، قرآن مجید (چھوٹا سائز) ، دو سوٹ کپڑے، بند جوتا، ایک گرم چادر، ہوا بھرنے والا تکیہ۔ ہلکی جا ئے نماز، مناجات مقبول بمعہ ترجمہ، ایک عدد تسبیح، ایک ہفتے کی دوائی (اگر کھا رہے ہوں ) ، پانی کی چھوٹی بوتل، بسکٹ وغیرہ، فولڈنگ چٹائی، کنکریاں والی تھیلی، بند جوتا رکھنے والا تھیلا،

پلاسٹک کا کڑا:حج کے دنوں میں پلاسٹک کا کڑا ہاتھ میں پہنے رکھنا ہے۔
8ذوالحجہ پہلا دن:ایک کا م کرنا ہے ( میدان عرفات جانا ہے ) ۔
1۔ جانے سے 3۔ 4 گھنٹے پہلے احرام باندھ لیں۔
2۔ اپنے کمرے ہی میں احرام باندھنا ہے۔

3۔ دو رکعت نفل حج کی نیت (حج کی نیت کرتا ہوں اس کو آسان فرما اور قبول فرما) اور تین دفعہ تلبیہ بلند آواز میں پڑھیں۔

4۔ حج کا احرام باندھ کر اپنے مکتب /خیمہ میں ہی 5 دن رہنا ہے۔
5۔ نماز کے لئے امام مقرر کر لیں۔
6۔ احرام کی حالت میں پاؤں ڈھانپ سکتے ہیں۔ چہرہ اور سر کھلا رہے۔
9ذوالحجہ دوسرا دن:دو کام کرنے ہیں۔
ا) وقوف عرفہ (فرض ہے ) ۔ میدان عرفات میں ٹھہرنا /رکنا۔
ب ) وقوف مزدلفہ (واجب ہے ) ۔ مزدلفہ میں ٹھہرنا /رکنا۔
ا) وقوف عرفہ (فرض ہے ) :
1۔ میدان عرفات میں زوال سے پہلے دو وقت کے کھانے کا انتظام کر لیں۔
2۔ قیام و مدت :زوال (ظہر ) سے سورج کے غروب ہونے تک۔
3۔ اپنے خیمہ میں ہی نماز اوقات میں پڑھیں۔
4۔ خیمہ کے باہر نکل کر کھلے آسمان کے نیچے کھڑے ہوکر دعا مانگیں۔
5۔ جن لوگوں نے دعا کے لئے آپ کو کہا ہے ان کے لئے دعا مانگیں۔
6۔ توبہ استغفار کرتے رہیں۔
7۔ ایام تشریق جو 23 نمازوں پر مشتمل ہے کی پابندی ضروری ہے۔
8۔ آج مغرب کی نماز عرفات کے میدان میں نہیں پڑھنی ہے۔
9۔ مزدلفہ کے لئے پیدل جانا ہے۔
ب ) وقوف مزدلفہ (واجب ہے ) :
1۔ وقت روانگی :سورج غروب ہونے کے بعد

2۔ دونوں نمازیں ( مغرب اور عشاء کے وقت) اکٹھی پڑھنی ہے (ایک اذان ایک اقامت میں عشاء کے وقت دونوں اکٹھی پڑھنی ہے ) اور ترتیب نمازیوں ہے۔ 3 فرض مغرب، 4 فرض عشاء، 2 سنت مغرب، 2 سنت عشاء، 3 وتر عشاء۔

3۔ رات کو ہی مزدلفہ میں 70 کنکریاں تھیلی میں ڈالیں جو مٹر کے دانے کے برابر اور کھجور کی گٹھلی سے چھوٹی ہو۔

4۔ مزدلفہ میں فجر کی اذان مکہ کے ٹائم کے وقت ( 5 منٹ تاخیر سے ) دینی ہے۔
5۔ مزدلفہ سے روانگی فجر کی نماز کے بعد واپس منیٰ تک پیدل جانا ہے۔
6۔ مزدلفہ میں رکنے کا وقت فجر کی اذان کے بعد سورج طلوع ہونے تک ہے۔
10 ذوالحجہ تیسرا دن:تین کام کرنے ہیں۔
ا) رمی یعنی کنکریاں مارنا۔ (ب ) قربانی۔ (ج) سر کے بال اتروانا۔

1۔ پہلے خیمہ میں پہنچیں اور اپنے بیگ کو وہاں رکھ دیں اور پھر اس کے بعد رمی کریں کیونکہ بیگ ساتھ لے کر جانے کی اجازت نہیں۔

2۔ وقت رمی۔ صبح سورج نکلنے کے بعد سورج غروب ہونے تک اور تمام رات کنکریاں ماری جاسکتی ہیں۔
3۔ تیسرے بڑے شیطان کو سات کنکریاں مارنی ہیں۔
4۔ کنکریاں مارنے کے وقت تلبیہ بند کردیں۔ (ظہر کے وقت کوشش کریں )
ب) قربانی کا پتا کر لیں ا ور اگر قربانی کی تصدیق ہو جا ئے تو پھر۔
ج) سر کے بال اتروا لیں اور احرام کھول لیں۔
طواف زیارت (فرض حج) :
1۔ 10,11,12 ذوالحجہ فجر کے بعد تمام دن سورج غروب ہونے تک۔
2۔ آج ہی مکہ مکرمہ روانہ ہوجائیں اپنے خرچ پر۔
3۔ صرف گلے کا بیگ لے کر جائیں۔
4۔ طواف زیارت (سات چکر۔ طواف زیارت 2 نفل۔ سعی۔ استلام نمبر 9 )
5۔ طواف زیارت کے بعد واپسی منیٰ ہوگی۔
11 ذوالحجہ چوتھا دن اور 12 ذوالحجہ پانچواں دن: دونوں دن ایک ہی کام کرنے ہیں۔
1۔ ظہر تک فارغ۔
2۔ تین جگہ کنکریاں مارنی ہیں بہتر ہے کہ مغرب کے بعد جائیں۔
3۔ وقت رمی۔ زوال ظہر سے سورج ’غروب ہونے تک اور تمام رات۔
4۔ سات کنکریاں ہر جگہ مارنی ہیں بسم اللہ، اللہ اکبر کہنا ہے۔
12 ذوالحجہ کو ہی مکہ مکرمہ کے لئے روانہ ہو جائیں۔
الوداعی طواف (واجب) :
1۔ اپنے ملک واپس آنے سے چھ گھنٹے پہلے الوداعی طواف کریں جو واجب اور ضروری ہے۔
2۔ عام کپڑوں میں۔
3۔ پہلے تین چکر بغیر رمل کے (اکڑ کے نہیں چلنا) ۔
4۔ سات چکر واجب طواف دو نفل۔
5۔ سعی نہیں کرنی۔

یہ تھا حج ادائیگی کا آسان طریقہ۔ یہ کالم میں نے اپنے والد محترم کی مدد سے لکھا ہے جو 2016 میں حج کی سعادت حاصل کرنے والے خوش نصیبوں میں شامل تھے۔ چند تربیتی کورسز میں، میں خود بھی ان کے ساتھ رہا مگر میں اب تک حج کی سعادت حاصل نہیں کر سکا۔ آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا چاہوں گا کہ جو لوگ اس سال حج کی سعادت حاصل کرنے جا رہے ہیں ان کی عالمی موذی مرض کورونا (COVID۔ 19 ) سے حفاظت فرما اور تمام قارئین سمیت مجھے بھی حج کی سعادت جلد اور بار بار نصیب فرمائے۔ آمین

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *