اپنی قربانی کو آسان بنائیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دس فیصد رعایت فلاں بینک کے ساتھ، پندرہ فیصد رعایت فلاں میٹ کے ساتھ۔ بہت دنوں سے بڑے تواتر سے یہ اور اسی طرح کے اور پیغامات موبائل فون پر موصول ہو رہے ہیں۔ ان کو پڑھ کر خاموش رہا جا سکتا ہے، مگر دل میں کہیں کچھ کھٹکتا ہے۔ قربانی، رعایت، قربانی کرنے والے کاروباری۔ ستائیس ہزار کا بکرا، تیرہ ہزار کا بڑے جانور میں حصہ۔ گھر بیٹھے تیار گوشت حاصل کریں وزن چودہ کلو گرام۔ کچھ تو گڑ بڑ ہے۔ کچھ تو کھو گیا ہے۔ ارے ہاں فلسفۂ قربانی۔

سنت ابراہیمی کی ادائیگی میں لاکھ سہولتیں میسر سہی، مگر دین اسلام نے جس بنا پر اس کو مسلمانوں کے لئے واجب قرار دیا ہے، وہ جذبہ اور وہ فلسفہ کہیں کھو گیا ہے۔ کاروباری حضرات لاکھ نئے طریقے نکال لائیں اور قربانی کو بہت آسان بنا لیں مگر جس کا نام قربانی ہو وہ آسان کیسے ہو سکتی ہے۔ حضرت ابراہیم جس جذبہ سے حضرت اسماعیل کو قربان کرنے لے گئے تھے وہ آج کے مسلمانوں میں ناپید ہے۔

اگر غور کیا جائے تو چند ایک نقاط ذہن میں آتے ہیں جو ہماری مسلمانیت کو چاٹ گئے ہیں جیسے لکڑی کو دیمک چاٹ جاتی ہے۔ اور جن کی وجہ سے جذبۂ قربانی مانند پڑ گیا ہے اور کاروباری حضرات اس نہج پہ پہنچے ہیں کہ ہمیں گھر بیٹھے ”جانور قربانی“ کی سہولت فراہم کر رہے ہیں۔ یہ نقاط درج ذیل ہیں۔

ریا کاری: دیکھا جائے تو سب سے پہلا مسئلہ جو اس وقت درپیش ہے وہ ہے ریا کاری۔ بکرا گلی میں سب سے زیادہ بڑے قد کا ہونا چاہیے۔ ہم اکیلے پورا بیل دے رہے ہیں۔ ہم نے تو قصاب کے چکر سے جان چھڑوائی اور آن لائن قربانی ادا کر دی۔ یہ قربانی نانا نانی، دادا دادی کی طرف سے ہے۔ ریاکاری سے ہم نہ صرف خود کے عمل کو ضائع کر بیٹھتے ہیں بلکہ دوسروں کی زندگی بھی اجیرن کر ڈالتے ہیں۔ جو نقل کرنے کی کوشش میں اپنے وسائل سے آگے گزرتے ہوئے پریشانی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

حرام و حلال کی تمیز: قربانی کے لئے تگڑا جانور خریدنا اور اس کی نمائش کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ مگر اس طرف کوئی نظر نہیں دوڑاتا کہ آیا جانور جس کمائی سے خریدا ہے وہ اس سنت کو ادا کرنے کے قابل بھی ہے کہ نہیں۔ اگر تو وہ بچھڑا (اندر کا چور) قربان کیا ہے جسے قربان کرنے میں بنی اسرائیل لیت و لعل کر رہے تھے تو قبول۔ ورنہ اگر اسے آپ نے باغیچے میں چھپا لیا ہے اور بازار میں کسی اور کی شاہ رگ کو کاٹ ڈالا ہے تو قربانی کا حق ادا نہ ہوا۔

ایمان کی کمی: اللہ کو دلوں کا تقویٰ پہنچتا ہے نہ کہ خون اور گوشت۔ تو کیا کبھی غور کیا کہ یہ بات واضح کرنے کا کیا مطلب ہوا؟ قربانی اس کی بھی ہو جاتی ہے جو اسی قربانی کی رقم سے کسی نادار کا علاج ممکن کروا دے۔ کسی غریب کے بچوں کو تن ڈھانپنے کو تین کپڑے دلوا دے مگر اس سے زیادہ ترجیح جانور خریدنے کو دی جاتی ہے کیونکہ وہ نظر آتا ہے۔ مگر اللہ تک پھر بھی تقویٰ ہی پہنچے گا۔

قربانی کا فلسفہ سمجھنے سے قاصر: قربانی نیت اور تقویٰ کی عکاس ہے۔ اگر ریاکاری کے لئے، نا جائز کمائی سے خریدا ہوا جانور قربان کرکے اس کا گوشت فریزر میں سنبھال لیا تو خون بہنے کے باوجود قربانی نہیں ہوئی۔ اس میں وہ جذبہ کبھی نہیں آ سکتا جس سے مسلمان کی پہچان ہوا کرتی ہے۔

اس کو حاصل کرنے کے لئے دل پہ پتھر رکھ کر قربان کرنا پڑے گا ان اطوار کو جن سے آسان دولت کا حصول ممکن ہوتا ہے، جن میں کسی اور کی حق تلفی ہوتی ہے۔ جن میں آپ کی چوری کا تاوان کوئی اور بھرتا ہے اور آپ کی عدم توجہی کسی کی جان جانے کا سبب بن سکتی ہے۔ اس بقر عید پر قربانی دیں ان نفرتوں کی جو معاشرے میں عدم توازن کا باعث بنتی ہیں۔ اللہ ہم سب کی قربانی کو قبول فرمائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
حسن عباس کھوکھر کی دیگر تحریریں

Leave a Reply