قربانی یا سنت ابراہیمی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فرض کر لیا کہ قربانی سے مراد جانور قربان کرنا ہی ہے۔ لیکن بقول اللہ تعالیٰ اس کے پاس نہ تو قربانی کا گوشت پہنچتا ہے نہ آپ کا مال، اس کے پاس تو بس تقویٰ پہنچتا ہے اور تقویٰ کیا چیز ہے اس کے لیے ہمیں پڑھنا پڑے گا تو پڑھیں ہمارے دشمن کیونکہ ہم صرف اپنی انا کی تسکین کے لیے ہر فرض / واجب کے پابند ہیں۔

قربانی سے یہی مراد ہے ایک جانور خرید کر محلے کے چوراہے میں باندھ دو اور ساتھ کچھ آوارہ لڑکے بیٹھا دو جنہوں نے سپیکر پر گانے بہ آواز بلند چلا رکھے ہوں اور ہر آتی جاتی بی بی کو گھورتے رہیں۔ خیر ہم تو اپنے نبی کا یوم پیدائش بھی ایسے ہی مناتے ہیں۔ قربانی تو معمولی دن ہے۔

قربانی سے مراد یہی ہے کہ ہم اپنے دروازے پر مانگنے والے غرباء کا ہجوم دیکھنا چاہتے ہیں اور اس ہجوم کو بلاوجہ کے انتظار میں کھڑا رکھ کر ذاتی تسکین کی لذت سے ہمکنار ہونا چاہتے ہیں۔

قربانی سے مراد یہی ہے کہ صاف گوشت اپنے پاس رکھ لیا جائے اور جانور کی غلاظت دوسروں کے دروازے پر پھینک دی جائے۔ یہ کہاں لکھا ہے کہ قربانی مسلمان کرے اور غلاظت عیسائی اٹھائے؟

قربانی سے مراد یہی ہے اس ایک حکم کی تعمیل میں ہمیں کئی اور احکامات کی خلاف ورزی کرنے کی اجازت ہے۔ ہم قربانی کے تہوار کے دنوں جتنی اخلاقی خلاف ورزیاں کرتے ہیں کیا ان کا حساب نہیں ہوگا؟

خود سے پوچھیں کہ قربانی کے جانور کا خون ہمارے ایمان کی آبیاری کر رہا ہے یا ذاتی انا کی یا سوشل سٹیٹس کی؟ اگر ایمان کی آبیاری ہو رہی ہے تو کیا ایسے ہی ہونی چاہیے؟

یہ بھی مان لیا کہ ہم سنت ابراہیمی ادا کرتے ہیں۔ کیا ہم اپنی سب سے عزیز چیز قربان کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟

ہم سنت ابراہیمی کے نام پہ جانور ذبح کر کے جان چھڑا لیتے ہیں لیکن کیا ہم نے سوچا ہے کہ اس دور کا تقاضا جانور کا گوشت ہے یا کچھ اور؟

کسی نے میرے سوال کرنے پر کہا تھا کہ ہر دور کا دجال الگ ہے۔ ہمارے دور کا دجال وہ منحوس خیال ہیں جو ہمیں گمراہ کرنے پر کمر بستہ ہیں۔ ہمیں ان خیالات کے آگے اپنے مالک پہ شک نہیں کرنا چاہیے۔ تو کیا ”سنت ابراہیمی“ بھی اس عہد میں ایک جانور کا ہی تقاضا کرتی ہے ہم سے؟

آپ نے سنت ابراہیمی ادا کرنی ہے تو جانور ہی کیوں؟ اپنی ذہنی تسکین کو قربان کریں اور کسی بیوہ سے شادی کر لیں یا کم از کم کسی بیوہ کا خرچہ اٹھا لیں۔ کیونکہ اللہ کے پاس تو نیت اور تقوی پہنچے گا۔

آپ نے سنت ابراہیمی ادا کرنی ہے تو اپنے سکون کا کچھ حصہ قربان کر کے کسی ایسی طوائف کی مدد کر دیں تو جسم فروشی کی دلدل سے نکلنا چاہتی ہے۔ آپ کہیں گے کہ ہمیں کیسے معلوم ہوگا کہ کون طوائف اس دلدل سے نکلنا چاہتی ہے؟ بھائی جیسے منڈی میں جانور تلاش کرنے جاتے ہیں ویسے ہی انسانوں کی منڈی سے بھی ایسے انسان مل جاتے ہیں اگر نیت کر لی جائے۔ کیونکہ اللہ کے پاس تو نیت اور تقوی پہنچے گا۔

آپ نے سنت ابراہیمی ادا کرنی ہے تو اپنی ریاکاری کو قربان کر کے کسی غریب کے بچے کو تعلیم حاصل کرنے میں مدد کر دیں۔ کیونکہ اللہ کے پاس تو نیت اور تقوی پہنچے گا۔

آپ نے سنت ابراہیمی ادا کرنی ہے تو اپنے وقت اور مال کی قربانی دے کر ہجڑوں کے ہاں چکر لگا آؤ۔ ان کا حال احوال پوچھ آؤ۔ انہیں اس معاشرے کے جانوروں سے بھی برا سمجھا جاتا ہے جا کے ان جانوروں کو انسان ہونے کا احساس ہی دے آؤ۔ کیونکہ اللہ کے پاس تو نیت اور تقوی پہنچے گا۔

خیر ہم نے خدا جانے کیا کرنا ہے اور کیا کر رہے ہیں لیکن کیا مسلمان صرف نماز، روزہ، حج کی تبلیغ کا ہی ذمہ دار ہے یا اخلاقی غلطیاں، نفسیاتی کمزوریاں، معاشرتی بیماریاں درست کرنا بھی ہماری ہی ذمہ داری ہے؟ ان سب کی درستگی کے لیے کیا کوئی اور نبی آئے گا؟ ہمیں کسی کا انتظار ہے؟

اگر ایسا نہیں تو ہمارا رد عمل کیا ہے؟ ہمارے دور میں ”سنت ابراہیمی“ ہم سے کیا تقاضا کرتی ہے؟ بس یہی بتانا تھا کہ اللہ کے پاس تو نیت اور تقوی پہنچے گا اور ہم کیا پہنچا رہے ہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *