جویوں ہوتا تو کیا ہوتا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چونکہ سوچنے پر ابھی تک ٹیکس نہیں لگا اس لیے دفتری اور دوسرے فارغ اوقات میں ہمارا یہی مشغلہ ہے۔ دراصل سیدھی سادی چیزیں ہمیں ایک آنکھ نہیں بھاتیں۔ اس لیے اکثر ایسے فلسفے سنتے وقت ہم آنکھیں کان اور دماغ بند کرلیتے ہیں۔ بہرحال ہمیں وقت ملے یا نہ ملے۔ کوشش یہی ہوتی ہے کہ پرانے فلسفوں کو نئے زاویے سے دیکھا جائے۔ کبھی کبھار یہ کوشش کامیاب بھی ہو جاتی ہے۔ ورنہ اکثر تو یہی ہوتا ہے کہ کسی فلسفے کی ٹانگ ٹوٹ جاتی ہے اور کسی کا ہاتھ سلامت نہیں رہتا۔

اور کئی تو ایسے ٹنڈ منڈ ہو جاتے ہیں کہ ان پر فلسفہ ہونے کا گمان بھی نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن چونکہ عادت سے مجبور ہیں۔ اس لیے آج ایک اور پرانے فلسفے کی ایسی کی تیسی کرنے جا رہے ہیں۔ تمام دنیا اس بات پر متفق ہے کہ انسان کو اگلے پل کا بھی پتا نہیں ہوتا۔ لیکن ذرا فرض کیجئے کہ اگر سب کو اپنی زندگی کے تمام آمدہ لمحات کا علم ہوتا تو پھر کیا کیا ہوتا؟ ذیل میں چند فرضی خبریں دی جارہی ہیں جو پرانے فلسفے کا حشر نشر کرنے میں ہماری مدد کریں گی۔

خبر: 89 سالہ سیٹھ نے اپنی طبعی عمر مکمل ہونے سے ایک دن پہلے خودکشی کرلی۔

(ڈیسک نیوز/سٹی رپورٹر) معلوم ہوا ہے کہ چیچو کی ملیاں کے کروڑ پتی سیٹھ دار و مدار جن کی عمر 90 سال طے تھی، نے اپنی طبعی عمر مکمل ہونے سے محض چوبیس گھنٹے پہلے سخت سردی میں رات بھر ننگے رہ کر خودکشی کرلی۔ سیٹھ دار و مدار 40 برس کے ہونے تک کروڑ پتی بن چکے تھے اور انہوں نے باقی زندگی شادیاں کرتے گزار دی۔ انہوں نے چار شادیاں کی تھیں۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق خودکشی بھی خاندانی چپقلش کا نتیجہ ہو سکتی ہے کیونکہ ان کی چوتھی بیوی، جس سے انہوں نے چند ماہ پہلے شادی کی تھی، نے دو دن پہلے انہیں کچھ نہ کر سکنے کا طعنہ دیا تھا۔ اس بات پہ بزرگ سیٹھ برافروختہ ہوگئے اور رات بھر ننگے رہ کر خود کشی کرلی۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ انہوں نے خودکشی بیوی کی بات پہ بر امان کر کی یا وہ اسے عملی جواب دے رہے تھے، بہرحال پولیس معاملے کی ہر دو زاویوں سے تحقیق کررہی ہے۔

خبر:قدرت کو دھوکا دینے کی کوشش ناکام، حادثہ ہو کر رہا۔

(خصوصی نامہ نگار) قدرت کو دھوکا دینے کی کوشش ناکام ہوگئی۔ طے شدہ حادثہ وقوع پذیر ہو کے رہا۔ تفصیلات کے مطابق میانوالی کے شہری ابتسام خان کی تقدیر میں مورخہ 06 مارچ 2019 ء کو حادثہ پیش آنا تھا۔ انہیں اس بات کا علم تھا۔ اس لیے انہوں نے قدرت کو دھوکا دینے کی کوشش کی اور موٹر وے سے لاہور جانے کی بجائے جی ٹی روڑ سے روانہ ہوگئے۔ نتیجے کے طور پر ان سے ٹکرانے کے لیے آنے والے طے شدہ ٹرک کو انہیں ٹکرمارنے کے لیے پنڈی چوک گوجرانوالہ تک کا سفر کرنا پڑا۔

ٹرک کے ڈرائیور مولاداد نے گرفتاری پر شدید احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے اس بات کا مطالبہ کیا ہے کہ دھوکا دہی کے مرتکب فرد کو چاہیے کہ وہ انہیں پٹرول اور موبائل فون کا خرچہ دیں۔ پٹرول کا اس لیے کہ انہوں نے براستہ موٹروے لاہور جانا تھا لیکن ابتسام خان کی وجہ سے انہیں جی ٹی روڈ سے آنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ موبائل فون کا خرچہ بھی انہیں دلایا جائے کہ وہ ٹکر مارنے کے لیے ابتسام کی ریکی پر مامور افراد سے رابطے کے ضمن میں کئی کارڈ پھونک چکے ہیں۔ پولیس نے سٹی ہسپتال گوجرانوالہ کی مسجد کے امام صاحب سے درخواست کی ہے کہ وہ بستر مرگ پر پڑے ابتسام خان کی صحت کے لیے دعا کریں تاکہ مولاداد کو رقم دلائی جاسکے اور اپنا غیر طے شدہ حصہ وصول کیا جاسکے۔

خبر:موت کی طے شدہ جگہ بدلنے کی کوشش کارگر نہ ہوئی، ہونی ہو کر رہی۔

(سٹی رپورٹر) حیدرآباد کے نواح میں موت کی طے شدہ جگہ بدلنے کی کوشش کار گر نہ ہو سکی۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق حیدر آباد کے نواحی گاؤں بھٹو نگر کے رہائشی اللہ رکھا کا 55 سال کی عمر میں وہیں مرنا ’طے‘ تھا۔ طے شدہ دن اللہ رکھا موت سے بچنے کے لیے پیدل ہی حیدر آباد کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ دوپہر کے قریب انہوں نے ایک موٹر سائیکل والے سے لفٹ لی۔ جو ایک اور رستے سے بھٹو نگر ہی پہنچ گیا۔ جونہی بائیک بھٹو نگر میں داخل ہوا اللہ رکھا نے گاؤں پہچان کر چلتے بائیک سے اترنا چاہا اور ایسے میں ہی وہ خالق حقیقی سے جاملے۔

خبر:راولپنڈی بورڈ کے عملہ کی غلطی سے طے شدہ نتائج درست ہوگئے، ایک طالب علم پرچے دیے بغیر ہی پاس دوسرا امتحان میں شریک ہوکر بھی ناکام۔

(نیٹ نیوز) راولپنڈی بورڈ کے عملہ کی غلطی سے طے شدہ نتائج درست ہوگئے۔ ایک طالب علم پرچے دیے بنا ہی پاس ہوگیا جبکہ دوسرا امتحان میں شامل ہونے کے باوجود بھی ناکام رہا۔ تفصیلات کے مطابق جہلم کے طالب علم عدنان اجمل رول نمبر 100243 کا ایف اے میں فیل ہونا جبکہ اٹک کے بلال احمد رول نمبر 100549 کا پاس ہونا طے تھا۔ امتحان شروع ہونے سے چند روز قبل بلال احمد سائیکل سے گر کر اپنا بازو تڑوا بیٹھے اور کسی بھی پرچے میں شریک نہ ہو سکے۔

تاہم وہ رزلٹ آنے پہ خود کو پاس دیکھ کر حیران رہ گئے۔ ہمارے خصوصی نمائندے کے مطابق ایسا جہلم کے عدنان اجمل کی وجہ سے ہوا۔ ان کا ایف اے میں فیل ہونا طے تھا۔ اس لیے انہوں نے پہلے تو پرچے نہ دینے کا فیصلہ کیا لیکن والد کی ’غیر طے شدہ‘ ڈانٹ کے بعد پرچے تو دے دیے لیکن اپنا رول نمبر لکھنے کی بجائے فرضی رول نمبر لکھتے رہے جو کہ اتفاق سے بلال احمد کا تھا۔ بورڈ کا عملہ اس باریک غلطی پکڑنے میں ناکام رہا اور یوں ان کی غلطی طے شدہ تقدیر کو اتفاقی طور پر درست کرنے کا سبب بن گئی۔

خبر: بیوی اپنی تمام تر کوشش کے باوجود شوہر کی طے شدہ دوسری شادی نہ رکوا سکی۔

(نمائندہ خصوصی) منیر اسلم کی مورخہ 30 اپریل 2019 ء کو دوسری شادی طے تھی۔ چند ماہ پہلے ہی ان کا دوسرے گاؤں کی ایک مٹیار کے ساتھ اکھ مٹکا ہوا۔ ان کی پہلی بیوی کو اس بات کا علم ہوگیا اور اس نے اپنے پانچ بھائیوں کو بلا کر جبرا شادی رکوانے کی عملی کوشش کی۔ پہلی بیوی کے بھائیوں نے دولہا کو گھر سے نکلنے کی کوشش پر پھینٹی بھی لگائی۔ بہرحال ہونی ہو کر رہی۔ دولہا کا ایک دوست اسے ملنے آیا اور شادی کے وقت سے پندرہ منٹ پہلے اسے ایک ’غیر طے شدہ‘ دل کا دورہ پڑا۔ دولہا اپنے دوست کو لے کر ہسپتال کے لیے نکلا اور دوسری دلہن کے گھر جا کر دم لیا۔ جہاں پر طے شدہ مہمانوں اور گواہوں کی موجودگی میں دوسری شادی رچائی گئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *