اذیت ناک دوستوں سے پیچھا چھڑائیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سب انسان یقینی طور پر ایک ہیں۔ پیدائش کے اعتبار سے ایک جیسی عزت اور تکریم کے لائق ہیں۔ نسلی بڑائی یا حسب نسب کی اتراہٹ قطعی طور پر بے معنی اور فضول باتیں ہیں۔ اگر آپ اتفاق سے کسی اونچی ذات کے گھر میں پیدا ہو گئے ہیں تو اس میں آپ کی کیا بڑائی ہے؟ اور اگر نچلی ذات میں پیدا ہوئے تو اس میں آپ کا کیا قصور ہے؟ ہاں یہ بات درست اور سچی ہے کہ ایک ہوتے ہوئے بھی ہم سب مختلف ہیں۔

ہماری زندگیاں مختلف ہیں، ہمارے عقیدے الگ ہیں، ہماری اقدار الگ ہیں، ہمارےخیالات، جذبات اور تعلقات بھی الگ ہیں۔  مختلف صورت حال میں ہمارے رد عمل بھی مختلف ہوتے ہیں۔ ہم اپنے بچوں کی تربیت بھی اپنے ہی طور پر کرتے ہیں۔ ہمیں کوئی قدر مشترک دوسروں سے پیوستہ تو کر سکتی ہے لیکن اپنی اپنی جگہ ہم سب مختلف اور انوکھے ہیں۔

کچھ لوگ جانے انجانے میں خود کو منفرد ہی نہیں، درست بھی سمجھنے لگتے ہیں۔ وہ صحیح ہیں اور ان کی سوچ اور راستہ بھی دوسروں سے بہتر اور صحیح سمت میں ہے۔ اور یہ بات انہیں حیران پریشان کیے دیتی ہے کہ لوگ کیوں ان کی بات نہیں مانتے؟ کیوں ان کی بتائی ہوئی باتوں پر عمل نہیں کرتے؟ اور کیوں ان پر تنقید ہوتی ہے؟

یہ بات جان اور سمجھ لیں کہ آپ ہر ایک کو خوش نہیں کر سکتے۔ یہ نا ممکنات میں سے ہے۔ آپ کتنے ہی اچھے اچھے جذبات کا اظہار کر لیں، پیاری پیاری باتیں کر لیں کوئی نا کوئی آپ کو تنقید کا نشانہ ضرور بنائے گا۔ آپ کے رنگ میں بھنگ ضرور ڈالے گا۔ اور کچھ نہیں تو آپ کے لباس کے انداز اور رنگوں کے انتخاب پر آپ کا ٹھٹا اڑائے گا۔ کوئی آپ کی ڈرائیونگ اور شاپنگ پر کچھ کہہ دیں گے۔ آپ کی فضول خرچی یا کنجوسی پر کمنٹ کریں گے۔

یہ بات اتنی مشکل کیوں ہے؟ ہر ایک خوش کیوں نہیں ہو سکتا۔ اتنے آپ اچھے ہیں، خوش مزاج بھی ہیں اور انکساری تو آپ پر ختم ہے۔ تو پھر یہ گڑبڑ کیوں ہے؟ بہتر ہے کہ دوسروں کو خوش کرنے اور اپنے حلقہ میں رکھنے کی کوشش ترک کر دیں۔ ایسا کرنے سے نہ صرف یہ کہ آپ اپنی اقدار سے گر جایں گے بلکہ آپ اس سعی ناکام سے خود اپنی خوشیوں کو کہیں اور دھکیل دیں گے۔ سب کے سب خوش نہیں ہوں گے۔ اس لیئے عقلمندی یہی ہے کہ ہر ایک کو خوش کرنے کے بجائے اپنی خبر لیں ۔

آپ کچھ بھی کر لیں کیسا بھی کریں لوگ آپ کے بارے میں رائے ضرور قائم کریں گے۔ اچھی یا بری یہ آپ کی قسمت ہے۔ کچھ کھل کر بولیں گے، کچھ پیٹھ پیچھے اور کچھ اشاروں کنایوں میں۔ آپ چاہیں تو ان کو نظر انداز کر دیں لیکن جب آپ اپنی تعریف پر کورنش بجا لاتے ہیں، آداب پہ آداب کیے جاتے ہیں شکرگذاری سے آپ کی کمر دہری ہونے لگتی ہے تو یہ توقع بھی بنتی ہے کہ آپ تنقید کا سامنا بھی کریں گے۔ زیادہ تر لوگ تنقید کو اپنی ذات پر حملہ تصور کرتے ہیں۔ تعریفیں تو حق سمجھ کر رکھ لیتے ہیں لیکن تنقید کا برا مانتے ہیں۔

انسان ناطق جانور ہے۔ بولتا ہے۔ اور زیادہ تر دوسروں کے بارے میں ہی بولتا ہے۔ وقت گذاری کے لیئے گوسپ کرنا ایک انتہائی درجہ کا فضول کام ہے۔ وقتی طور پر یہ آپ کو کچھ مزا ضرور ملے گا لیکن اگر آپ باقاعدگی کے ساتھ اپنی زندگی کا قیمتی وقت اس پر صرف کر رہے ہیں تو آپ اپنی زندگی میں منفیت کو جگہ دے رہے ہیں۔ آپ کا گوسپ کرنے کا مشغلہ آپ کو وقتی ہنسی ٹھٹھا دے سکتا ہے لیکن کبھی خوشی نہیں دے سکتا۔ کیونکہ یہ حقیقت بھی آپ جانتے ہیں کہ جیسے ہی آپ نے فون رکھا یا کمرے سے باہر نکلے گوسپ کی ان توپوں کا رخ آپ کی پیٹھ کی طرف ہو جائے گا۔

کچھ اتنے اچھے لوگ بھی ہیں جو دوسروں کے بجائے صرف اپنے ہی بارے میں بولتے ہیں۔ ان کی ہر بار میں سے شروع ہوتی ہے اور میں پر ہی ختم ہوتی ہے۔ یہ اگر نرگسیت نہیں تو کم سے کم ایک انتہائی درجے کی خود پسندی ضرور ہے۔ وہی بات جو کبھی شفیق الرحمن نے کہی ” آو ہم دونوں مل کر میرے بارے میں باتیں کریں” ان کی کمپنی میں رہنا ایک اذیت ہے۔ وہ بولیں اور سنا کرے کوئی۔ آپ سے رسمی احوال پرسی کے بعد وہ صرف اپنے ہی بارے میں گفتگو کرنا پسند کرتے ہیں۔ آپ ذرا سا موقعہ پا کر کچھ کہہ بھی دیں تو بات پلٹ کر وہ اپنے پہ ہی لے آیں گے۔ آپ نے کہا” کل میرے سر میں درد تھا” وہ فورا کہیں گے” ارے سر درد تو میرا تھا جو مجھے پرسوں ہوا۔ پورے دو دن رہا۔ اتنا شدید کہ لگتا تھا جان نکل جائے گی” اب بات آپ کے سر درد سے ہٹ کر ان کے سر درد پر چلی گئی۔ بلکہ اس ساتھ ہی ان کی انتہائی پیچیدہ اور نا سمجھ میں آنے والی بہماریوں کا ایک لمبا ذکر چھڑ جاتا ہے۔ اب آپ خاموشی سے ان کی بات سن رہے ہیں۔ سوچ رہے ہیں کہ ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں۔

آپ کی مسلسل چپ سے ذرا متاثر ہو کر وہ پوچھ لیں گے” اور سناو کیا ہو رہا ہے؟ آپ تھوڑا سی توجہ پا کر زبردستی گفتگو میں اپنی جگہ بناتے ہیں۔ ” میرا پروجیکٹ بہت کامیاب رہا۔ ترقی ہو گئی ہے” وہاں چند لمحوں کی خاموشی کے بعد جواب آئے گا۔

” ہم جس پراجیکٹ پر کام کر رہے ہیں وہ زبردست ہے۔ میری بہت محنت اس میں شامل ہے۔ اور مجھے یقین ہے اس پر مجھے ضرور بونس ملے گا۔ میرے پاس اتنے آیئڈیاز ہیں کہ کیا بتاوں۔ سب ایک سے ایک”۔ اور ایک بار پھر وہی میں میں میں۔ اور آپ اس میں میں کہیں نہیں ہیں۔ اور موضوع کا رخ ذرا سا آپ پر ہوتا ہوا پھر دیر تک ان پر ٹک جائے گا۔

ایسے دوست کی آپ کو کوئی ضرورت نہیں جو آپ کو اور آپ کی خوشی کو یوں نظرانداز کر دے۔ ان کا وجود زہریلا ہے۔ بچ کر رہیئے۔

کچھ ایسے کرم فرما بھی ہیں جو آپ کو خود ترسی میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ آپ کی ہر بات پر وہ افسوس سا کریں گے۔

” ارے ابھی تک وہی چار سال پرانی گاڑی رکھی ہوئی ہے؟” ” اچھا تو اس سال بھی کہیں چھٹیوں پر نہیں جا رہے؟”

” بھئی اب تم لوگ بھی ذرا ترقی کر لو۔ برسوں سے اسی محلے میں رہ رہے ہو۔ کسی اچھی جگہ گھر لے لو۔ “

جتنی جلدی ہو سکے ایسے دوستوں سے نجات حاصل کر لیں۔ یہ آپ کو ذہنی مریض بنا دیں گے۔

جب آپ جانتے ہیں کہ ہر ایک کو خوش نہیں رکھا جا سکتا تو اس کوشش کو ترک کر دیجئے۔ اپنا وقت کسی اور مشغلہ میں صرف کیجئے۔ دوسروں کو خوش کرنا گویا اپنی قربانی دینا ہے۔ جب آپ ہر ایک کو خوش کرنے کی کوشش اور چاہت میں لگے رہتے ہیں تو اپنے آپ کی نفی کر رہے ہوتے ہیں۔ آپ خود کیا ہیں؟ کون ہیں؟ کیا کر رہے ہیں؟ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ یہ سب پیچھے رہ جاتا ہے۔ دوسروں کی خوشنودی کی پرواہ کرنا چھوڑ دیجئے۔ وہ کیجئے جو آپ کو اچھا لگتا ہے۔ جس میں آپ کا دل لگتا ہے۔ اپنے خواب پورے کیجئے۔ خود کو اہمیت دیجئے۔ خود اپنے سے دل لگایئے۔ کچھ اچھے دوست آپ کے ضرور ہوں گے بس کافی ہیں۔ ناکافی ہوں تو کچھ دانا دشمن بنا لیجیئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *