آیا صوفیا: تبصرہ بر مضمون سید مجاہد علی صاحب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مسجد آیا صوفیہ کی ”بطور مسجد بحالی“ یقیناً کئی لوگوں کے لئے باعث آزردگی ہوئی ہے۔ عیسائیوں کے متبرک مقام کو فاتح استنبول کے اس جگہ کو مسجد بنانے پر زخم لگا تھا اس پر محترم اتاترک صاحب نے اسے میوزیم قرار دے کرجو مرہم رکھا تھا اس کو اردگان نے پھر ہٹا دیا ہے۔ لیکن غیر عیسائی یا غیر دینی حلقے اور خاص طور پر فرنچ لابی کے یورپین اس کی مخالفت کسی اور وجہ سے کر رہے ہیں۔ ذیل میں مضمون نگار کا تجزیہ پڑھ لیں اس کے بعد تبصرہ عرض کیا جائے گا۔

”صدر طیب اردوان کی خواہش محض ترکی کو اسلامی ریاست میں تبدیل کرنے کی کوشش تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ سلطنت عثمانیہ کا احیا چاہتے ہیں۔ سلطنت عثمانیہ اپنے عروج میں 22 ملین مربع کلومیٹر پر پھیلی ہوئی تھی جس میں مصر، یونان، بلغاریہ، رومانیہ میسوڈونیا، ہنگری، فلسطین، اردن، لبنان، شام، بیشتر عرب علاقے اور شمالی افریقہ کے ممالک شامل تھے۔ اب ترکی کا رقبہ سات لاکھ 83 ہزار مربع کلومیٹر میں سمٹ چکا ہے۔ اور رجب طیب اردوان اس سرکاری طور پر سیکولر مملکت کے صدر ہیں، کسی شاہی خاندان کے وارث نہیں ہیں۔

آیا صوفیا کو مسجد میں تبدیل کرنے کا فیصلہ دراصل صدر اردوان کی سیاسی عزائم کا پرتو ہے۔ وہ اس فیصلہ سے ایک طرف یہ چاہتے ہیں کہ ترک عوام اقتصادی مسائل کی بجائے ماضی کی عظمت کے خواب دیکھتے ہوئے ان کی قیادت پر انگلی اٹھانے سے گریز کریں۔ دوسری طرف وہ ان حربوں سے سعودی عرب کے مقابلے میں اسلامی دنیا کی قیادت کا خواب دیکھتے ہیں۔ وہ اپنے ان مقاصد میں تو شاید کامیاب نہ ہوں لیکن ان کے ہتھکنڈے ترکی کی جدید شناخت اور سیکولر اسلام کے روشن پہلوؤں کو ضرور داغدار کریں گے“ ۔

تبصرہ:۔

اس میں جہاں تک اردگان اور ان کے چاہنے کا ذکر ہے۔ اسرائیل کا قیام۔ پاکستان کا قیام یہ سب سیاسی خواہشات ہیں جو بطور خواہش جائز ہیں۔ اصل بات ان خواہشات کو عملی جامہ پہنانا ہے۔ ہٹلر اور مسولینی کے نزدیک نیک مقصد اپنی تکمیل کے لئے غلط ذرائع کو بھی جائز کر دیتا ہے۔ مارکسی نظریہ بھی (یقین کی بدولت) خیرخواہی میں ظلم کو جائز قرار دیتا ہے۔ بالکل اسی طرح یہود اور مسلمان اپنے آپ کو خدا کے زمین پر نمائندے تصور کرتے ہوئے الوہی حکمت اور اختیار کے حامل قرار دیتے ہوئے اپنے ظلم و تشدد سے پر افعال کو جواز فراہم کر لیتے ہیں۔

نیو ورلڈ آرڈر جس کے لئے مغربی جمہوری طاقتوں نے باوجود اپنے ہی عوام کی سخت مخالفت کے جنگ عظیم دوئم کے بعد نہایت انسانیت سوز کام کئے۔ مغرب میں انسانیت نوازی پائی جاتی ہے لیکن اس انسانیت نوازی میں اتنی سکت نہیں جتنی ریاستی چیرہ دستیوں کے خلاف انصاف کے نفاذ کے لئے درکار ہے۔ ویت نام سے عرب ممالک اور افغانستان تک کارروائیوں میں باوجود مغربی انسانیت نوازوں کے احتجاج کے لکھوکھا انسانوں کا قتل ہوا۔ (یہ بات خالی از دلچسپی نہ ہو گی کہ مغرب کی انہی جارحانہ کارروائیوں پر مولانا ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کا فرمان ہے کہ جو کام صدر بش کر رہا ہے یہ مسلمانوں کے کرنے کا تھا۔ ان کی منطق کے مطابق صرف اسلام کی خاطراس طرح کے اقدامات ان کے نزدیک جائز اور جمہوریت کی خاطر ناجائز ہیں )

ترکی اور مغرب

جنگ عظیم اول میں شکست کے بعد ترکی کی شکست میں اس وقت ترکی میں رائج شدہ اسلام بھی ایک وجہ سمجھا گیا اور اتاترک نے اس میں اصلاح کی خاطر افراط سے کام لیتے ہوئے ایسے اقدامات بھی کر ڈالے جوغیر مستحسن تھے۔ انہی میں سے اس مسجد کو میوزیم میں تبدیل کرنا تھا۔ اس کے بعد ترکی مغربی تہذیب میں ڈھلتا گیا۔ سن 1961 میں ترکی اور یورپ کا معاہدہ ہوا کہ ترکی مزید ترقی کرے تو اسے یورپین یونین کا پچیس سال بعد ممبر بنایا جائے گا۔

یہی معاہدہ سپین۔ پرتگال اور یونان وغیرہ سے ہوا۔ لیکن 1986 میں سوائے ترکی کے (اس بنا پر کہ ترکی میں جمہوریت اور انسانی حقوق کی پائمالی ہوتی ہے ) بقیہ ممالک کو یورپین یونین کی رکنیت دیدی گئی۔ آج اس پر مزید پینتیس سال ہونے والے ہیں۔ اور ہر بار ایک نئی فہرست دی جاتی ہے کہ یہ اصلاحات کریں۔ ترکی نے اردگان کے دور میں ایک طرف ان اصلاحات پر پوری طرح عمل بھی کیا اور ترکی معیشت بھی بہت بہتر ہوئی۔ یہ بات قطعاً بے بنیاد ہے کہ ترکی کو اقتصادی مسائل کا سامنا ہے۔ البتہ اقتصادی مسائل یونان اور سپین وغیرہ کو درپیش رہے ہیں۔ (یہ سنی سنائی بات نہیں۔ میرے ایک قریبی پاکستانی نژاد جرمن۔ ترکی میں کئی سالوں سے رہ رہے ہیں اور دونوں ملکوں میں ان کا بزنس ہے ان کے بقول ترکی اور جرمنی کا انفرسٹرکچر کافی حد تک ایک جیسا ہو گیا ہے۔ اور یونان کے مقابلے میں تو کہیں بہتر ہے )

دوسری طرف قبرص کا وہ حصہ جو عیسائی ہے اس کو یورپی یونین میں شامل کر لیا گیا ہے لیکن ترکی کو دروازے پر روکے رکھا ہوا ہے۔ ایسی صورت میں ہر معقول انسان کی معمولی سی غیرت بھی اسے مجبور کر سکتی ہے کہ وہ ایسا قدم اٹھائے جس سے بد عہدی کرنے والے کو زک پہنچ سکے۔ یہ 2017 کی بات ہے جب یورپی یونین نے ترکی شہریوں کے لئے ویزا کی پابندی اس شرط پر ختم کرنے کا معاہدہ کیا تھا کہ ترکی مہاجرین کو یورپ میں آنے سے روکے۔ ترکی نے معاہدہ پر عمل کیا لیکن یونین نے عمل نہیں کیا اور ٹرخا دیا۔ ان بد عہدیوں کے نتیجہ میں مسجد کی بحالی یورپین یونین کے عیسائی کلب کے زخم کو تازہ کرنا ان کی انسانیت پروری پر چوٹ لگانے کے مترادف ہے۔

ترکی کے علاوہ عربوں کے ساتھ مغرب کی بد عہدیوں کی ایک الگ داستان ہے۔ ترکی اب اردگان کے دور میں مغرب سے فقط انہی کی زبان میں ان سے معاملہ کر رہا ہے۔ اگروہ زبان جو مقابل نے اختیار کر رکھی ہو اسی زبان میں معاملہ کرنا جرم ہے تو اردگان اس کا ارتکاب کر رہا ہے۔ اسی لئے اس نے کہہ دیا ہے کہ ہمیں یورپین یونین میں شمولیت کی اب کوئی حاجت نہیں رہی۔

آخری بات۔ اگر سعودی عرب کے بالمقابل ترکی ماڈل اسلامی دنیا میں اثر پذیر ہوتا ہے تو اس کا خوشدلی سے استقبال کرنا چاہیے کیونکہ سعودی ماڈل کے درد ناک نتائج عالم اسلام میں کافی بھگتے جا چکے ہیں۔ اسلامی دنیا میں سماجی ارتقاء کی سمت روشن خیالی کی طرف ہو جائے گی۔ ترکی سے اندھیرے نہیں اجالے کی امید رکھیں اس کے مذہبی تشخص میں مولوی کی جہالت کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *