چینیوں کا طرز زندگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

19 COVID دنیا بھر کی طرح چینیوں کے طرز زندگی پر بھی اثر انداز ہوا ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق پچھتر فی صد چینی رائے دہندگان کا کہنا تھا کہ اب وہ زیادہ ورزش کریں گے اور سونے کی عادت اور اوقات کو بہتر بنائیں گے۔ ویسے چینی لوگ ورزش کے شوقین تو ہمیشہ سے رہے ہیں۔ ہمارے وہاں قیام کے دوران صبح جب ہم گھر سے نکلتے تھے تو کوئی دوڑ لگاتا دکھائی دیتا تھا۔ کوئی تلوار کے رقص کی مشق کرتا ملتا تھا۔ کوئی بڑے میاں ہاتھ میں پنگ پانگ کی گیند جتنا چمک دارگولا گھماتے ہوئے چلے جا رہے ہوتے۔

کوئی صاحب بس اسٹاپ پر کھڑے ہاتھ پاؤں چلا رہے ہوتے لیکن اگر آپ کو کسی باغ کے کونے میں کوئی صاحب یوں ہاتھ پھیلائے کھڑے نظر آتے جیسے انہوں نے کسی نا دیدہ ہستی کو بازوؤں میں تھام رکھا ہو اور آہستہ آہستہ ادھر ادھر ڈول رہے ہوں تو گھبرانے کی بات نہیں تھی، وہ بھی ورزش فرما رہے ہوتے تھے۔ چینی ایسی ”سلو موشن“ قسم کی ورزش بہت کرتے تھے۔

پتنگ بازی کو آج بھی مقبول ترین روایتی کھیل کا درجہ حاصل ہے۔ 2019 ء میں شان دونگ صوبے میں پینسٹھ ممالک کی ستر ٹیموں کے پانچ سو پیشہ ور پتنگ باز جمع ہوئے اور اپنے کمالات کا مظاہرہ کیا۔ یہ ایونٹ 1984 ء سے منعقد ہو رہا ہے ویسے چین میں پتنگ بازی کی روایت دو ہزار سال پرانی ہے۔ پتنگ بازی کو سب سے مقبول کھیل کا درجہ حاصل ہے۔ ہم نے ہر چھٹی والے دن بیجنگ میں چینیوں کو تھین من اسکوائر جا کے پتنگیں اڑاتے دیکھا۔ اب ’پتنگ‘ کے لفظ سے آپ کے ذہن میں ہماری پاکستان والی پتنگ آ رہی ہو تو ایسی کوئی بات نہیں۔ چینی پتنگیں بہت بڑی اورخوب صورت ہوتی ہیں۔ مختلف پرندوں کی شکل میں اور اکثر پتنگوں کے ساتھ بیس تیس گز لمبی دم ہوتی ہے جو ہوا میں بلند ہونے کے بعد بہت خوبصورت دکھائی دیتی ہے۔

پتنگ بازی کے بعد چینیوں کا دوسرا شوق آتش بازی ہے۔ مختلف تہواروں کے موقع پر اتنی آتش بازی چھوڑی جاتی ہے کہ خدا کی پناہ۔ لیکن اس کے لئے جگہیں مخصوص ہوتی ہیں۔ ہماری طرح ہر جگہ آپ پٹاخے نہیں چلا سکتے۔ ایک اور شوق باریک کاغذوں سے پھول اور جھالریں تراشنا ہے۔ اس کے علاوہ بڑے اور بچے سب تصویر کشی اور خطاطی کے شوقین ہیں۔ سات آٹھ سال کے بچے تصویر کشی کے مقابلوں میں حصہ لیتے ہیں۔ اکثر چینی بچوں کی تصاویر کی بیرون ممالک بھی نمائش ہوتی ہے۔

آج کل اگر آپ انٹر نیٹ پر دیکھیں تو لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد چینیوں کی پکنک مناتے ہوئے تصاویر بہت ملیں گی۔ بیجنگ میں ہم دیکھتے تھے کہ چینی عوام تعطیل کے روز پکنک منانے ضرور نکلتے تھے۔ دیوار چین، سمر پیلس، شہر ممنوعہ، خوشبودار پہاڑی، مختلف پارکس غرض کہ کہیں چلے جائیں ہر جگہ محاورتا نہیں بلکہ سچ مچ کھوے سے کھوا چھلتا ہے۔ بیجنگ کے گردونواح میں بھی انتہائی خوبصورت پکنک اسپاٹس ہیں۔ سر سبز عمودی پہاڑ اور ان کے درمیان نیچے گہرائی میں زمردیں جھیل۔ ۔ ۔ فطری حسن جو ابھی تک ٹیکنالوجی کی چیرہ دستی سے محفوظ تھا، واقعی دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔

چین ایک بہت بڑا ملک ہے اور آمدو رفت کے ذرائع بھی اسی لحاظ سے درکار ہیں۔ اندرون شہر سفر کے لئے بس ٹرانسپورٹ کو ترجیح دی جاتی ہے۔ لوگ زیادہ تر سائیکلوں اور بسوں پر ہی سفر کرتے تھے۔ پرائیویٹ کاریں نہ ہونے کے برابر تھیں لیکن 2019 ء کے اواخر تک پرائیویٹ کاروں کی تعداد دو سو سات ملین ہو گئی تھی۔ اقتتصادی خوشحالی کے ساتھ لوگوں کا طرز زندگی تبدیل ہونا لازمی سی بات ہے۔ 1985۔ 86 ء میں کوکوکولا چین آچکی تھی لیکن مقامی لوگوں کی اکثریت مقامی مشروب ”شی شوئے“ ہی استعمال کرتی تھی۔

والز آئس کریم بھی ہمارے قیام کے دوران ہی آ گئی تھی لیکن چینی مقامی برف کی قلفیاں اور آئس کریم شوق سے کھاتے تھے۔ سڑکوں پر چلتے ہوئے، بس میں سوارہوتے ہوئے اکثر لوگوں کے دونوں ہاتھوں میں قلفیاں نظر آتی تھیں۔ صبح اکثر لوگ ناشتا بھی باہر کرتے نظر آتے تھے یعنی بس اسٹاپ پر کھڑے ہو کر یا فٹ پاتھ پر چلتے ہوئے، ہمارے بن کباب جیسے برگر یا پھر پوریاں جو لمبے لمبے رول کی شکل میں ہوتی تھیں، ان کا مرغوب ناشتا تھا۔

چینی عوام خریداری کے لئے ٹوکن استعمال کرتے تھے۔ ہمیں اس کا علم یوں ہوا کہ ایک مرتبہ جب ہم پوری نما رول خریدنے لگے تو ٹھیلے والے نے ہم سے پوچھا ”آپ کے پاس ٹوکن ہے؟“ تب پتا چلا کہ ٹوکن کی وجہ سے وہ چیز سستی ملتی ہے ورنہ کچھ زیادہ پیسے دینے پڑتے ہیں۔ چینی عوام کو تب یہ سہولت زندگی کے ہر شعبے میں حاصل تھی۔ ریلوے کا ٹکٹ ان کے لئے سستا تھا اور غیر ملکیوں کے لئے مہنگا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ تب چینی عوام کی تنخواہیں بہت کم تھیں اور غیر ملکیوں کی زیادہ، اس لئے انہیں ہر چیز رعایتی داموں پر فروخت تھی۔

ایک مرتبہ ہماری چینی ملازمہ جسے چینی میں ”آئی“ یعنی خالہ یا ماسی کہتے تھے، بیمار پڑگئی تو ہم اس کی عیادت کے لئے اس کے گھر گئے۔ دو کمروں کا صاف ستھرا فلیٹ تھا۔ فریج اور رنگین ٹی وی بھی موجود تھا۔ گویا ہماری ’آئی‘ کا معیار زندگی ویسا ہی تھا جیسا ہمارا تھا۔ اس کی دونوں بیٹیاں بھی ملازمت کرتی تھیں یعنی سارا خاندان کماؤ تھا۔ بیٹا شادی شدہ تھا اور الگ رہتا تھا۔ ہمیں اپنے شوہر کے کچھ دفتری ساتھیوں کے گھروں میں بھی جانے کا اتفاق ہوا۔

وہ لوگ بھی دو یا تین کمروں کے فلیٹ میں رہتے تھے، اس پر یاد آیا کہ وہاں ہر سال رہائشی مسئلے کو حل کرنے کے لئے ایک میلہ بھی ہوتا تھا۔ تفصیل اس کی کچھ یوں ہے کہ اکثر لوگوں کو اپنے دفتر سے دور گھر ملے ہوئے تھے تو اس میلے میں لوگ ایک دوسرے سے مل کر مکانوں کے تبادلے کی بات کرتے تھے اور یوں روزانہ بسوں میں ٹائم ضائع کرنے سے بچ جاتے تھے۔

رہائش سے بھی پہلے کھانے کا نمبر آتا ہے تو چینی کھانوں کی تو ویسے بھی ساری دنیا میں دھوم ہے۔ چینی عوام کھانے کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور اس ضمن میں طبی اصولوں کا بہت خیال رکھتے ہیں۔ گوشت کے ساتھ سبزیاں کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔ پھلیوں سے بنا ہوا پنیر، نوڈلز اور مچھلی بہت شوق سے کھاتے ہیں۔ کھانے کے اوقات کی جس قدر پابندی چینی کرتے تھے شاید ہی دنیا میں کوئی کرتا ہو۔ اگر دوپہر کو بارہ بجے ان کو کھانا نہ ملے تو تو ان کے واقعی بارہ بج جاتے تھے۔

کاروباری مصروفیت ہو یا کوئی میلہ لگا ہو، گیارہ بجے سے ہی کھانے کی خاطر کام بند کرنا شروع کر دیتے تھے اور اس کے بعد قیلولہ بھی لازمی تھا۔ اسی طرح رات کا کھانا ٹھیک چھ بجے کھا لیتے تھے۔ کچھ عرصہ پہلے تک رات کو جلدی سو بھی جاتے تھے مگر پھر نئی سماجی و ثقافتی تبدیلیوں کے باعث شنگھائی، بیجنگ اور دیگر بڑے شہروں میں دیر تک جاگنے کا رواج عام ہو گیا۔

بات کھانے کی ہو رہی تھی تو چینی دعوتیں واقعی دیکھنے اور کھانے کی چیز ہوتی تھیں۔ اتنی زیادہ ڈشز ہوتی تھیں کہ ویسے سوچو تو یقین نہیں آتا کہ ہم ایک وقت میں اتنا کھانا بھی کھا سکتے ہیں لیکن چینی بڑے اہتمام اور اطمینان سے کھاتے ہیں۔ ایک کے بعد ایک ڈش آتی جاتی تھی اور مشرقی انداز میں اصرار کر کے کھلاتے تھے۔ پاکستانی دعوتوں کے برعکس وہاں آخر میں سویٹ ڈش پیش کرنے کا رواج نہیں تھا بلکہ آخر میں سوپ اور پھل پیش کیے جاتے تھے۔

یہ جاننے کے لئے کہ جب سے اب تک چینیوں کے کھانے کی عادت میں کیا تبدیلی آئی ہے، انٹرنیٹ پر ہماری تلاش کے مطابق 2019 ء تک مڈل کلاس کے ابھرنے اور آمدنی میں اضافے کی وجہ سے چینی صارفین غذا کے معاملے میں ہیلتھ کانشس ہوتے جا رہے ہیں۔

نوجوانوں کے لئے صحت مند طرز زندگی کے حوالے سے کیمپئن شروع کی گئی ہیں تا کہ غذا اور ماحول کے باہمی تعلق کے بارے میں آگہی میں اضافہ کیا جا سکے۔ اس وجہ سے چین میں نئے کھانے اور نئی عادتیں سامنے آ رہی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اب صحتمند غذا کا تعلق مغربی کھانوں سے جوڑا جانے لگا ہے۔ ہلکی غذا کے حوالے سے مغربی طرز کی سلاد کی ڈشز مقبول ہو رہی ہیں مگر چینی ابھی بھی اپنے روایتی کھانوں کو ترک کرنے کو تیار نہیں۔ ویسے بھی چینی شروع سے اپنے کھانوں میں صحت بخش جڑی بوٹیوں کا استعمال کرتے رہے ہیں البتہ اب صحت کے حوالے سے وہ سوڈیم (اجینو موتو) اور میٹھے سے پرہیز کرنے لگے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply