پیادہ وزیر بن گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شطرنج کا کھیل اس وقت اور بھی دل چسپ ہو جاتا ہے، جب پیادہ آہستہ آہستہ چال چلتے چلتے وزیر بن جاتا ہے۔ پیادے کو وزیر بنانے کے پیچھے خاصی لمبی پلاننگ اور قربانیاں دی جاتی ہیں تاکہ مخالف چال کو بھانپ نہ سکے اور وہ بچ بچا کہ اس مقام تک پہنچ جاوے۔ مخالف کا دھیان بٹا کر پیادے کو آہستہ آہستہ وزیر کی کرسی پر بٹھانا خاصا مشق طلب ہنر ہے۔

شطرنج کے کھیل کی یہ خوبی ہے کہ ہر مہرے کا ایک زور ہوتا ہے، وزن ہوتا ہے۔ اور اسی خاص تناسب کی بنیاد پر چالوں کا جال بچھاتے ہؤے کھیل کھیلا جاتا ہے۔ لیکن پیادے کے وزیر بن جانے کے بعد ایک نیا کھیل شروع ہوتا ہے۔ جس میں صرف وزیر کا امتحان نہیں ہوتا بلکہ کھلاڑی کی مہارت کا درست اندازہ ہی تب ہوتا ہے۔ وزیر بن جانے کے بعد وزیر کو وزیر بن کے دیکھانا پڑتا ہے۔ وزیری چال چلن اپنانا پڑتا ہے۔ تبھی بازی کھیلنے اور کھلانے والے کی مہارت کا اندازہ ہوتا ہے۔ لیکن اگر پیادہ وزیر بننے کے بعد بھی پیادے کی طرح ہی سوچے گا۔ اسی کی طرح چال چلے گا تب شہ مات کے لئے مخالف پیادہ ہی کافی ہے۔ اور پھر ہارنے پر صرف پیادے کی کمزوری کو قصور وار ٹھرانا درست نہیں بلکہ کم زور منصوبہ سازی گیم ٹیکٹک اور اسٹریٹجی کا بھی باغور اینالسز کرنا ناگزیر ہے۔ اور کھیل کے نتیجہ کا دارمدار اسی تجرباتی تجربہ کاری پر منحصر ہے۔

اب جب کھیل ہی کمپیوٹر کا لیول سیٹ کر کے سیکھا جائے گا تو اس کمپیوٹر مشق سے گرینڈ سلام کھیلنے والا تو پیدا نہیں ہو گا اور نا ہی کسی مشکل میچ میں جیت کی توقع کی جا سکتی۔ اس کمپوٹری تجربہ سے حقیقی معرکے میں منصوبہ بندی کی کم زوری بھی دیکھے گی اور کم زور وزیر ہر فیصلے سے پہلے پیچھے دیکھے گا پھر خود کو دیکھے گا پھر آگے دیکھے گا اور اتنے میں درست وقت پر درست چال چلنے کا موقع ہاتھ سے نکل جاوے گا۔

ماہر شاطر بننا ہے تو شاطروں کے ساتھ مقابلہ کرنا ہو گا۔ چیلنج دینے سے پہلے چیلنج لینا ہو گا۔ ۔ کھلاڑی کو کھیل کھیلنے کی آزادی دینا ہو گی۔ ہار برداشت کرنا ہو گی اور ہار سے سیکھنا ہو گا۔ تا کہ کھیل کا معیار بھی بلند ہو اور ما ہر شاطر بھی جنم لے سکے جو عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو اور گرینڈ سلام میں اپنے آپ کو منوا سکے۔ مضبوط مخالف کے ساتھ کھیلنے سے ہی کھیل کا معیار بلند ہوتا ہے۔ ماہر شاطر وہی ہے جو ہار کر جیتنا سیکھے۔ اور ہار کر جیتنے والے کو بازی گر کہتے ہیں۔

ویسے بھی وڈیو گیم کھیل کر جہاز نہیں اڑیا جا سکتا۔ اور ڈرون اڑانے والے لڑاکا طیارہ کے پائلٹ نہیں ہوتے۔

سوچو اور سمجھو۔ ۔ ۔ پیادہ وزیر بن کر وزیر تبھی بنے گا جب با اختیار ہو گا۔ اسے اپنی چال چلنے سے پہلے ادھر ادھر دیکھنا نہ پڑے۔ پرچی بوٹی یا خلائی اشارے کا انتظار کرنا نہ پڑے۔ اپنا کھیل اپنی چالوں سے کھیلے۔ اور جب پیادہ کو وزیر بنانے والا حقیقی کھلاڑیوں کے ساتھ کھیل کر کھیل کھیلنا سیکھے گا تبھی حقیقی وزیر بنے گا۔ ورنہ کمپیوٹر کے ساتھ اپنی مرضی کا لیول سیٹ کر کے کھیلتے رہو اور اگر چال غلط ہو جاوے تو ان ڈو کر دو۔ پیادے تو ملتے رہیں گے پر وزیر نہیں۔

آخر میں ایک بے تکی بات: ایسے ہی خیال آ گیا جس کا اس تحریر سے تعلق تو نہیں ہے۔
مضبوط جمہوریت کے لئے مضبوط حزب اختلاف ناگزیر ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عمران نسیم چغتائی کی دیگر تحریریں

Leave a Reply