بیکار کے شغل اور عزت کا میٹر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ ہی دن پہلے کی بات ہے کہ ایک دوست کا فون آیا جنہوں نے رسمی دعا سلام کے بعد جھٹ سے نہ ملنے کا شکوہ کر ڈالا، بڑے ہی مان اور لاڈ سے۔ ایک لمحے کو تو سوچ میں پڑ گئے کہ آخر پہلے بھی کون سا انہی کی گود میں براجمان رہتے تھے۔ عید بکر عید کے سوا ملاقات ہوتی ہی کتنی تھی۔ ویسے بھی قبلہ، ہماری آدم بیزاری تو اپنی مثل آپ ہی ہے۔ امید ہے کہ جلد ہی فیروز اللغات میں ہماری اس بینظیر صلاحیت کے اعزاز میں کوئی اصطلاح آنے ہی کو ہے۔ اجی ہم تو ایک دو منٹ کی کال پر بھی پانچ منٹ کے میسج کو فوقیت دیتے ہیں کہ مبادا زبان کو تکلیف نہ ہو۔ کسی ذی روح کی حقیقی آواز کان میں نہ پڑ جائے۔ ملنا تو کفر جانئے۔

خیر صاحب اپنی حیرت کو بھیجا گھاس چرنے اور بنانے لگے طرح طرح کے بودے بہانے۔

وقت نہیں ملا۔ (ایک وقت ہی تو ہے ہمارے پاس)

کچھ دنوں سے میرا پیٹ خراب ہے۔ (مسئلہ تو دماغ میں ہے)

وہ چچی کی نند کی بیٹی بچوں سمیت آگئیں تھی۔ (ہمارے منہ میں سات چولہوں کی خاک) ان کو دبئی بھی تو گھمانا تھا۔

تمہارے بھائی جان کو جانے کیا ہوا ہے۔ آج کل گھر جلدی آنے لگے ہیں اور گھر گھستے ہی ہمارے ہاتھ کے خستہ پکوڑوں کی فرمائش کرنے لگتے ہیں (قسم لے لیجئے جو کبھی نو پجے سے پہلے گھر گھسے ہوں۔)

اور یوں ہم نے ان کے شکوے کے جواب میں اس قدر طویل جواب شکوہ تحریر کر ڈالا کہ امرتسر کے بارڈر کو پھلانگتا ہوا سری لنکا جا دھمکا۔ ‘اس قدر’ پر زبان لڑکھڑائی تو یقیناََ ہو گی۔ لیکن ہمارا قومی سلوگن تو ‘سانوں کی’ ہے نا؟

جناب یہ مشاقی صرف ہمارا ہی خاصہ نہ تھی۔ ان خاتون نے بھی کوئی کچی گولیاں نہ کھیلی تھیں۔ جھٹ سے توپوں کا رخ ہمارے لکھنے لکھانے کی جانب موڑ دیا۔ کہ ہاں اب تو تم بہت بڑی آدمی ہو گئی ہو۔ چار جگہوں پر نام کیا چھپنے لگا ہے۔ اب ہم سے کہاں ملو گی۔ ایسا بھی کیا مصروف رہنے لگی ہو۔ اس شغل میں وقت ہی کتنا لگتا ہے۔ یہ چار لفظ لکھے اور چھاپ دیے کسی عقل کے مارے نے۔ ہم سے تو نہیں ہوتا یہ جوڑ توڑ اور وقت کا زیاں۔ بہت لکھا ہے ہم نے بھی اسکول کے وقت میں پرچوں پر۔ اب تو لکھنے پڑھنے جیسے بیکار کے کام سے بہتر ہے کہ اپنی کپڑوں کی الماری سمیٹ لیں۔

یہ سنتے ہی ہماری آنکھوں کے سامنے پہلے تو اندھیرا آیا۔ اور پھر یہی ڈائلاگ سوپ کے کلائمیکس سین کی طرح تین بار زناٹے سے فلیش کیا۔ ہم جو اپنے سیاسی اور غیر سیاسی مراسلوں پر دن رات سوشل میڈیا رسپانس دیکھتے خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے جھٹ اوقات میں لوٹے۔ اسکول کے زمانے میں لکھے جانے والے مضامین ‘میرا بہترین دوست’ اور ‘صبح کی سیر’ یکے بعد دیگرے نگاہوں کو خیرہ کرنے لگے۔ وہی بہترین دوست جو پوری جماعت کا ہوتا تھا، صوم و صلاۃ کا پابند، والدین کا فرمانبردار وغیرہ وغیرہ۔ وہی صبح کی سیر جو غالباََ تمام جماعت ششم کے طلبہ ایک ہی محلے کے ایک ہی گراؤنڈ کے میں ایک ہی وقت پر اپنے کاربن کاپی ذہنوں کے ساتھ فوجیوں کی طرح پریڈ کی صورت میں کیا کرتے تھے کہ کہیں مضمون میں فرق نہ آ جائے۔ نقل ہو تو دل کھول کر ہو۔ ماسوائے چند نالائقوں کے جن کا رٹا کمزور تھا سب ہی کے جواب میں چنداں فرق نہ ہوتا۔ یعنی گدھے گھوڑے سب ایک۔ بالکل ایک ہی صف میں کھڑے محمود ایاز کی طرح۔ بندہ اور بندہ نواز بالکل ہم شکل۔

ہک ہا۔۔۔ تخلیق کا یہی تو المیہ ٹھہرا ہمارے معاشرے میں۔ کہ جسے ترقی یافتہ اقوام میں خدا کی دین کہا جاتا ہے وہی ہمارے معاشرے میں بیکار کا دھندہ۔۔۔ ارے نہیں نہیں شغل سمجھا جاتا ہے۔ دھندہ تو پھر کسی عزت کا حقدار لفظ ہے۔ کوڑیوں کے بھاؤ بکتی ہے یہ غریب تخلیق کی ریکھا۔ سچ کہتے ہیں کہ ایک لکھاری کو لکھنے کے لیے نہ تو کوئی دفتر درکار ہے اور نہ ہی دفتری اوقات۔ یہ خیالات تو بس نزول کے انتظار میں رہتے ہیں۔ بس ایک دفعہ دھارا چل نکلے تو بہنے کا راستہ بھی مل ہی جاتا ہے۔ مانا کہ ایک مصور اپنی تصویر بنانے کے لیے مہنگے ساز سامان کا محتاج نہیں کہ اس کے فن کی معراج تو توے کی سیاہی بھی پا لے۔ مانا کہ ایک شاعر کے شعر باہر آنے کو ایک آکاش وانی کے منتظر ہیں نہ کہ چمکتے ہوئے فرنیچر اور سوٹ بوٹ کے۔ مانا کہ گلوکار کی آواز تو کسی بھی جدید ایئر کنڈشنڈ سٹوڈیو کی شرط نہیں مانتی۔ یہ تو سرسوں کے کھیت میں تپتی دوپہر کو بھی رانجھے کی بانسری بن جاتی ہے۔ مانا کہ چولستان میں ایک کھجور کے پتوں سے بنی کٹیا میں بیٹھی کڑھائی کرتی یہ سانولی سلونی ناری تو بس سوئی ، کپڑا اور رنگ برنگے دھاگے ہی مانگتی ہے۔ اسے کیا لگے رنگ برنگی شیشے کی دیواروں والی بوتیک سے؟ لیکن کیا انسان کے دفتر کا ساز و سامان اور بینک بیلنس ہی اس کی صلاحیتوں کی عزت کا میٹر ہے؟

اگر ہاں تو صاحب یاد رکھیے گا کہ یہ کائنات ایک خالق کی تخلیق کا ہی شاخسانہ ہے۔ یہ وہ عشق ہے کے جس کے بنا نہ تو زمین پر پھول کھلتے اور نہ ہی سورج کی روشنی املتاس کے پتوں سے یوں چھن کر مٹی کا گہنا بنتی۔ فن اور تخلیق کو عزت نہ دی گئی تو یہاں گولے بارود کی لیلا ہی پڑھی جائے گی۔ محبت کے گیت تو نہ مانگے۔ لیکن کوئی بات نہیں کہ محبت تو یوں بھی جرم ٹھہری اور تخلیق حقیر۔ صحتمند معاشروں کو ہم لولی لنگڑی بستیوں کے ہجوم سے یہی فرق تو ممتاز کرتا ہے۔ کہ وہاں فنکار کو سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا ہے اور ہمارے ہاں اس بیکار کے شغل کا کوئی کام نہیں۔ ہم زندہ قوم کی پابند روایات کے امین جو ٹھہرے۔

چلتے ہیں۔ لکھنے کی رو آئی ہے۔ روٹھ کر چلی نہ جائے یہ نازنین۔ سلام صاحب


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments