اپوزیشن میں بیٹھے ’’محبان وطن‘‘ کا امتحان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پیر کی صبح چھپے کالم میں یہ عرض کرنے کی کوشش کی تھی کہ عمران خان صاحب نیب قوانین میں نرمی لانے کو تیار نہیں ہوں گے۔ انہیں اس ضمن میں دبائو کی زد میں لایا گیا تو قومی اسمبلی کی تحلیل کا مشورہ دیتے ہوئے نئے انتخابات کی تیاری شروع کردیں گے۔ ان کے قریبی ساتھیوں کو کامل یقین ہے کہ ’’کرپشن پر کسی سمجھوتے کو ہرگز تیار‘‘ نہ ہونے کے سبب اگر ان کی حکومت گئی تو ’’چوروں اور لٹیرں‘‘ سے اُکتائے عوام تحریک انصاف کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہوجائیں گے۔ ایسی حمایت کی بدولت عمران خان صاحب قومی اسمبلی میں سادہ نہیں بلکہ دوتہائی اکثریت کی طاقت سے دوبارہ وزیر اعظم منتخب ہوجائیں گے۔ مذکورہ کالم کے ذریعے میں نے ایک رپورٹر کی طرح محض اطلاع دی تھی۔ اپنی رائے یا خواہش کا اظہار نہیں کیا تھا۔

یہ کالم چھپنے کے بعد مگر اپوزیشن کے چند دوستوں سے ملاقات ہوگئی۔ ان میں سے دو افراد ’’مقتدر حلقوں‘‘ تک رسائی والی شہرت کے مالک بھی ہیں۔ بہت احترام سے انہوں نے مجھے سمجھانے کی کوشش کی کہ بڑھاپے، گوشہ نشینی اور کرونا کی بدولت آئی سماجی دوری نے میرے اندر موجود رپورٹر کو ناکارہ بنا دیا ہے۔ نیب قوانین میں ترامیم لانے کے لئے حکومت اور اپوزیشن کے مابین طویل اور سنجیدہ مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ سیاست میں 1990 کی دہائی سے مشہور ہوئے ایک کائیاں اور تجربہ کار دوست نے بلکہ یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ دوسروں کی بدن بولی سے جبلی طورپر بہت کچھ جان لیتے ہیں۔ انہیں گماں تھا کہ اپوزیشن جماعتوں نے 33 کے قریب جو ترامیم حکومت کو دی ہیں ان میں سے ’’کم از کم‘‘ 60 فی صد پر اتفاق رائے ہوجائے گا۔

بتایا مجھے یہ بھی گیا کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے باہر نکلوانے کے لئے حکومتِ پاکستان کو چند قوانین ہر صورت اگست کے پہلے ہفتے تک منظور کروانا ہیں۔ سینٹ میں قطعی اکثریت کی حامل اپوزیشن کے تعاون کے بغیر یہ منظوری ممکن ہی نہیں۔ مذکورہ قوانین کی منظوری کو یقینی بنانے کے لئے حکومت نیب قوانین میں نرمی لانے کو مجبور ہوجائے گی۔ ٹھوس حقائق تک رسائی نہ ہونے کے سبب میں ان صاحب کو جھٹلا نہیں سکتا تھا۔ فقط یہ عرض کرتے ہوئے بحث سے گریز کیا کہ نیب قوانین کے حوالے سے وزیر اعظم کا جو رویہ مجھے بتایا گیا ہے وہ ٹھوس حوالوں سے منطقی اور قابل اعتبار سنائی دیا۔ یہ ’’کپتان‘‘ کی ضدی طبیعت کا حقیقی اظہار بھی محسوس ہوا۔ اسی باعث جو سنا تھا ہوبہولکھ دیا۔

پیر کی شام قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو کلبھوشن یادیو کی خاطر جاری ہوئے آرڈیننس کو ایوان سے منظوری کے لئے پیش کردیا گیا۔ بلاول بھٹو زرداری مسلسل دو روز تک اسے پیش نہیں ہونے دے رہے تھے۔ اسے روکنے کو انہوں نے دھواں دھار تقاریر بھی کیں۔ عمران خان صاحب کو ’’دہشت گردوں کا دوست‘‘ بھی پکارا۔ پیر کے روز مگر اس قانون کا مسودہ پیش ہوگیا۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے اس روز یہ عندیہ بھی دیا کہ اپوزیشن حکومت کے ساتھ وہ قوانین منظور کروانے میں بھی تعاون کرے گی جو پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے باہر نکلوانے کے لئے ضروری قرار پائے ہیں۔ بلاول صاحب کی تقریر کے بعد بیشتر صحافیوں نے دو جمع دو کیا اور فرض کرلیا کہ ایف اے ٹی ایف کے لئے ضروری شمار ہوئے قوانین کی منظوری میں تعاون کے بدلے اپوزیشن نیب قوانین میں نرمی حاصل کرلے گی۔

بظاہر ’’نج کاری‘‘ کے موضوع پر تقریر کرتے ہوئے پیر ہی کی شام مگر تحریک انصاف کے امجد خان نے جو تقریر کی اس نے ’’جنرل ضیاء کے لے پالک فرزند‘‘ کے بہت لتے لئے۔ ان کا ذکر کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کو یہ طعنے بھی دئیے کہ مذکورہ ’’فرزند‘‘ سے دوستی بڑھاتے ہوئے وہ کس منہ سے بھٹو کے وارث ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ انکی تقریر کے بعد مراد سعید ایوان میں تشریف لائے۔ ’’پوائنٹ آف آرڈر‘‘ کے بہانے دھواںدھار خطاب فرمایا۔ مسلم لیگ(نون) کے احسن اقبال پر ملتان-سکھر ہائی وے کی تعمیر کے حوالے سے کرپشن کے سنگین الزامات لگائے۔ شہباز شریف کے مبینہ ’’فرنٹ مین‘‘ -جاوید صادق- کا ذکر بھی ہوا۔ امجد خان اور مراد سعید کی تقاریر کے بعد میں نے اپنے چند متحرک ساتھیوں کو خبردار کیا کہ اپوزیشن اور حکومت کے مابین کوئی سمجھوتہ نہیں ہو پائے گا۔ وہ احتراماَ چپ رہے۔ ان کے چہرے کی مسکراہٹ اگرچہ بتا رہی تھی کہ مہاتما بدھ کی طرح جس بات کی وہ خبررکھتے ہیں میں اس سے آگاہ نہیں۔

مذکورہ بالا تناظر میں شاہ محمود قریشی صاحب کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکرگزار ہوں۔ منگل کے روز ان کی قومی اسمبلی میں آمد متوقع نہیں تھی۔ ہمیں گماں تھا کہ وہ اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہیں۔ ویسے بھی منگل کا دن اراکین اسمبلی کو ذاتی حیثیت میں قانون سازی کی سہولت کے لئے مختص ہوتا ہے۔ وزراء اس روز ایوان میں موجودگی لازمی نہیں سمجھتے۔ شاہ محمود قریشی تشریف لائے اور 40 منٹ لمبی تقریر فرمائی۔ ان کی تقریر کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ ہمارا ازلی دشمن -بھارت- پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں دھکیلنے کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہے۔ ہمارے قومی مفاد کا تقاضہ ہے کہ ہم سرعت سے چند قوانین بنا کر دشمن کی سازشوں کو ناکام بنائیں۔ اس کڑے وقت کو لیکن اپوزیشن اپنے ’’ذاتی مفادات‘‘ کے تحفظ کے لئے استعمال کرنا چاہ رہی ہے۔ وزیر خارجہ نے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت کو تحریری طورپر فراہم کردہ بیشتر ترامیم کا تفصیلی ذکر کیا۔ بہت مہارت سے تاثر یہ پھیلایا کہ نیب قوانین کو ’’معقول‘‘ بنانے کے بہانے اپوزیشن بدعنوان افراد کو کھلی چھوٹ دینا چاہ رہی ہے۔

قومی مفادات کو نظرانداز کرتی اپوزیشن کو ’’بے نقاب‘‘ کرنے کے لئے شاہ محمود قریشی صاحب نے سینہ پھلا کر اصرار کیا کہ عمران خان کی سیاست کا کلیدی ایجنڈا کرپشن کے خلاف بھرپور جنگ ہے۔ وہ اس ضمن میں کسی سمجھوتے کو ہرگز آمادہ نہیں۔ اپنے ایجنڈا پر کاربند ہوتے ہوئے انہیں اقتدار سے محروم ہونا پڑا تو وہ اس کے لئے بھی دل وجان سے تیار ہیں۔ وزیر خارجہ نے ایک طولانی تقریر کے ذریعے اپنی جماعت کے مؤقف کو بھرپور انداز میں بیان کیا۔ ان کی تقریر ختم ہوئی تو اجلاس بدھ کی صبح تک ملتوی کردیا گیا۔ اپوزیشن کو جوابی بیانیہ منظرعام پر لانے کا موقعہ ہی نہیں ملا۔ اس کے اراکین اجلاس ملتوی ہونے سے ہکابکا رہ گئے۔

سیاست بالآخر بیانیے کی جنگ ہوتی ہے۔ اس حقیقت کو نگاہ میں رکھیں تو عمران حکومت نے کمال مہارت سے یہ بیانیہ پھیلا دیا ہے کہ اپوزیشن’’خودغرض‘‘ ہے۔ ’’قومی مفادات‘‘ سے قطعاَ لاتعلق ہوئی اپنے ان رہ نمائوں کو کڑے احتساب سے بچانا چاہ رہی ہے جنہوں نے اپنے دورِ اقتدار میں قومی وسائل کو بے دریغ انداز میں ذاتی مفادات کے حصول کے لئے استعمال کیا۔ اپنے کاروبار چمکائے۔ بیرون ملک قیمتی جائیدادیں خریدیں۔ عمران حکومت انہیں معاف کرنے کو ہرگز تیار نہیں ہوگی۔ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف سے بچانے کے لئے چند قوانین کو ہر صورت نافذ کرنا ہوگا۔ اپوزیشن میں بیٹھے ’’محبانِ وطن‘‘ فیصلہ کریں کہ انہوں نے یہ قوانین پاس کروانے میں تعاون فراہم کرنا ہے یا بدستور اپنے ’’چور اور لٹیرے‘‘ رہنمائوں کی ’’غلامی‘‘ میں رہنا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *