ترکی میں متنازع جنسی قانون پر احتجاج


\"edit\"ترکی میں ایک متنازع قانون کے خلاف عوام کا احتجاج جاری ہے۔ آج استنبول کے علاوہ ملک کے متعدد شہروں میں ایک سرکاری بل کے خلاف مظاہرے کئے گئے جس کو بچوں سے جنسی زیادتی کو جائز قرار دینے والے قانون کا نام دیا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور مختلف گروپ سرکاری پارٹی کی طرف سے پیش کردہ قانون کی شدید مخالفت کرتے ہوئے اسے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اگرچہ حکومت کا موقف ہے کہ نئے قانون کے تحت کم عمر بچیوں کے ساتھ شادی کے مسئلہ سے نمٹنے کی کوشش کی گئی ہے۔ لیکن وزیراعظم سمیت دیگر سرکاری نمائندے یہ وضاحت کرنے میں ناکام ہیں کہ کسی کمسن بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے شخص کو اسی لڑکی کے ساتھ شادی کرنے کی صورت میں اس جرم سے کیوں کر معاف کیا جا سکتا ہے۔ اور اس سے کس طرح بچوں کے ساتھ شادیوں کی روک تھام ہو سکے گی۔ یہ مسودہ قانون گزشتہ جمعرات کو ترک پارلیمنٹ نے ابتدائی سماعت کے دوران منظور کر لیا تھا تاہم اس پر اگلے ہفتے کے دوران غور و خوض اور بحث کے بعد حتمی رائے شماری ہو گی جس کے بعد یہ قانون کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ اس قانون کی مخالفت میں ایک یادداشت پر دو روز کے دوران دس لاکھ افراد نے دستخط کئے ہیں اور عوام کے وسیع حلقوں میں شدید بے چینی اور پریشانی پائی جاتی ہے۔ اس صورتحال میں صدر طیب اردگان نے ہدایت کی ہے کہ اس بارے میں اپوزیشن سے مذاکرات کے ذریعے قانون کو بہتر بنانے کی کوشش کی جائے۔

اس قانون کا پس منظر ملک میں پائی جانے والی وہ روایت ہے جس کے تحت کمسن بچیوں کی شادیاں کر دی جاتی ہیں۔ اگرچہ ترکی میں 18 سال سے کم عمر بچیوں کی شادی کرنا جرم ہے لیکن عام طور سے مذہبی تقریبات میں ایسی شادیاں انجام پاتی ہیں اور حکام ان کے خلاف اقدام کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ تازہ بل سامنے آنے کے بعد مخالفین نے واضح کیا ہے کہ ملک کی حکومت آبادی کی شرح میں اضافہ کےلئے اس قسم کی غیر قانونی سرگرمیوں کو برداشت کرتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں حکومت ملک میں کمسن بچوں کی شادی کی ممانعت کرنے والے قانون پر عملدرآمد رکوانے کی موثر کوشش نہیں کرتی کیونکہ یہ اس کے سیاسی ایجنڈے کی تکمیل میں معاون ہے۔ تاہم گزشتہ دنوں ملک کی سپریم کورٹ نے ایک رولنگ میں 12 سے 15 سال عمر کی بچیوں کے ساتھ جنسی تعلقات کو جنسی زیادتی قرار دینے والے ایک قانون کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس طرح ان لوگوں کی حوصلہ افزائی ہوئی تھی جو کمسن بچیوں کی شادیوں کو معیوب خیال نہیں کرتے بلکہ اسے اسلامی طریقہ کے عین مطابق قرار دیتے ہیں۔ ابھی سپریم کورٹ کے اس فیصلہ پر احتجاج کی صدائیں بلند ہی ہوئی تھیں کہ حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی AKP نے متنازع مسودہ قانون پہلی سماعت میں منظور کروا لیا۔ اس کے تحت یہ قرار دیا گیا ہے کہ اگر کوئی مرد 18 سال سے کم عمر لڑکی سے اس کی مرضی سے جنسی تعلقات استوار کرتا ہے اور اس سے شادی بھی کر لیتا ہے تو اس کی سزا معطل ہو جائے گی۔ وزیراعظم بن علی یلدرم کا کہنا ہے کہ اس قانون کا اطلاق صرف 16 نومبر 2016 سے پہلے وقوع پذیر ہونے والے معاملات پر ہو گا۔ ان کے بیان کے مطابق 3 ہزار ایسے مرد اس وقت جیلوں میں ہیں جو کم عمر لڑکیوں سے شادی کرنے کی وجہ سے گرفتار ہوئے تھے۔ حالانکہ یہ شادیاں مذہبی تقریبات میں ہوئی تھیں اور اکثر صورتوں میں ایسے جوڑوں کے بچے بھی ہیں۔ حکومت ان خاندان کی مدد کرنے کےلئے یہ قانون منظور کروانا چاہتی ہے۔ کیونکہ 18 سال سے کم عمر میں شادی کے قانون سے لاعلمی کی وجہ سے لوگ بچپن میں لڑکیوں کی شادیاں کر دیتے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے بچگان نے اس قانون کو بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کو جائز قرار دینے کی کوشش کہا ہے۔ ترکی کے دانشور اور فنکار بھی اس قانون کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ملک کے مشہور اداکار نور گل نے ایک ٹویٹ پیغام میں کہا ہے کہ ہم ملک میں عورت ہونے یا مرد ہونے کی بات نہیں کر رہے بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا ہم انسان بھی ہیں یا نہیں۔ حکومتی بل کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں میں متعدد ماؤں نے بھی شرکت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا کہ ہمارے ملک میں ایک ایسا قانون ہو جو بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی پر سزا دینے کی بجائے، اس کا انعام دینے کی بات کرتا ہو۔ 18 سال سے کم عمر کوئی بھی شخص بچہ ہے۔ اس لئے یہ کہنا کہ صرف اپنی مرضی سے اس عمل میں شریک ہونے والے سزا سے مستثنیٰ ہوں گے، ناجائز اور ظالمانہ موقف ہے۔

ترکی میں کم عمر کی شادی دیگر مسلمان ملکوں کی طرح اسلامی روایات کا حوالہ دیتے ہوئے جائز سمجھی جاتی ہے۔ موجودہ حکمران جماعت خود کو اسلامی روایات کی امین سمجھتی ہے، اس لئے وہ اس سماجی علت کو ختم کروانے میں زیادہ سرگرم نہیں رہی۔ لیکن ملک کے سیکولر قوانین کو وسیع حمایت حاصل ہے، اس لئے حکومت 18 سال سے کم عمر بچیوں کی شادی کی ممانعت کرنے والے قانون کو کالعدم قرار دینے میں بھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد یہ آسان راستہ تلاش کیا گیا ہے کہ جو مرد لڑکی یا خاندان کی مرضی کے ساتھ کسی کمسن کے ساتھ جنسی عمل میں شریک ہوتا ہے، اسے درست قرار دیا جائے۔ اگرچہ یہ کہا جا رہا ہے کہ اس فیصلہ کا اطلاق ماضی میں ہونے والی شادیوں پر ہی ہوگا لیکن ناقدین کو اندیشہ ہے کہ اس قانون کو کم سن بچیوں کے ساتھ جنسی تشدد کےلئے عذر بنا لیا جائے گا۔ اس طرح بچوں کے ساتھ ریپ کو قانونی حیثیت حاصل ہو جائے گی۔ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اس بات کا فیصلہ کیوں کر ہوگا کہ کسی معاملہ میں جنسی فعل لڑکی کی رضا مندی سے ہوا تھا یا اس کے ساتھ زیادتی کی گئی تھی۔

درحقیقت اس قانون میں جو زبان استعمال کی گئی ہے، اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اگر کوئی مرد اپنی جنسی ہوس کا شکار بننے والی کمسن لڑکی کے ساتھ شادی کر لے تو اس کی سزا معاف ہو جائے گی۔ گویا بالغ اور بڑی عمر کے مردوں کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ وہ پہلے کسی کمسن لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کریں پھر انعام کے طور پر اسی لڑکی سے شادی بھی کرلیں۔ ایسے میں کم عمر لڑکی دوہرے ظلم کا شکار ہوگی۔ پہلے اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جائے گا۔ پھر اسی مجرم کے ساتھ شادی کرکے زندگی گزارنے کا حکم بھی دیا جائے گا۔ اس قانون کے اسی تکلیف دہ پیغام کی وجہ سے ترک عوام میں اس نئے قانون کے خلاف سخت غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور وہ بہرصورت اسے ختم کروانے کےلئے جہدوجہد کر رہے ہیں۔ حکومت کو بھی سخت روی کا مظاہرہ کرنے اور اپنی غلطی کو انا کا مسئلہ بنا کر ایک ظالمانہ قانون لوگوں پر مسلط کرنے کی بجائے مصالحت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے زیر بحث قانون کو واپس لینے کی ضرورت ہے۔ اس کی بجائے ملک میں جنسی جرائم کا شکار ہونے والی بچیوں کے تحفظ کے لئے خصوصی قانون بنایا جائے۔ ترک سپریم کورٹ کی حالیہ رولنگ کے بعد بچیوں کے تحفظ کےلئے نئے اور موثر قانون بنانا زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ نہ صرف ترکی بلکہ تمام اسلامی ملکوں میں کم عمر بچیوں کی شادیوں کی روک تھام کےلئے سماجی تحریک کا آغاز کیا جائے۔ اس کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ ابتدائی تعلیم کی سہولتیں عام کی جائیں۔ عوام میں شعور پیدا کیا جائے اور اسکولوں کے علاوہ مذہبی ادارے لوگوں کو غلط روایت ترک کرنے پر آمادہ کریں۔ ترک حکام کی یہ وضاحتیں ناقابل قبول ہیں کہ قانون سے لاعلمی کی وجہ سے کم عمر بچیوں کی شادیاں ہوتی ہیں۔ حکومت کا فرض ہے کہ اس قسم کے رویہ کی سرپرستی کرنے کی بجائے اس کی حوصلہ شکنی کےلئے کام کرے۔ قانون سے لاعلمی قانون شکنی کا جواز فراہم نہیں کرتی۔ اس لئے ترک حکومت کو عوام کے مظاہروں پر سیخ پا ہونے اور انہیں مسترد کرنے کی بجائے، اس اصول کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کو کسی بھی مقصد سے قانونی شکل دے کر ایک خطرناک اور افسوسناک سماجی روایت کو فروغ دیا جائے گا۔

اس حوالے سے خاص طور سے عالم اسلام کے مفکرین اور علما پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نئے عہد کے تقاضے سمجھتے ہوئے کم عمر بچیوں کی شادیوں کے خلاف رائے سامنے لائیں۔ بدنصیبی سے اکثر دینی علما قدیم روایات کا حوالہ دیتے ہوئے بچوں کی شادیوں کو جائز قرار دینے پر اپنا پورا زور صرف کرتے ہیں۔ گزشتہ سال پاکستان میں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین محمد خان شیرانی بھی اس رائے کا اظہار کر چکے ہیں کہ گیارہ بارہ برس کی بچیوں کی شادی کی جا سکتی ہے۔ ایسے ناجائز مطالبے سامنے لانے کی بجائے علمائے اسلام کو مسلمانوں کے مسائل کو سمجھتے ہوئے حقیقت پسندانہ رائے قائم کرنے کےلئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ عالمان دین ان مسائل کو سمجھنے سے قاصر نظر آتے ہیں جو دور حاضر کے مسلمانوں کو درپیش ہیں۔ جب تک اسلامی احکامات اور ایک خاص عہد میں پائے جانے والی سماجی روایات میں فرق کرتے ہوئے دلیل اور منطق پر مبنی رائے استوار کرنے کی کوششوں کا باقاعدہ آغاز نہیں ہو گا، ترکی کی طرح دیگر ملکوں میں آباد مسلمانوں کو بھی ناقابل قبول رویوں کا سامنا رہے گا۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali