تعلیم سب کے لیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسان کی عظمت کو ترازو میں نہ تولو
انسان تو ہر دور میں نایاب رہا ہے

یہ ایک ایسا سبق ہے جو ہم سب کو ہمارے بچپن میں پڑھایا جاتا ہے۔ لیکن ہوش سنبھالا تو اندازہ ہوا کہ صرف الفاظ یاد کر لینے سے خیالات عمل کا حصہ نہیں بنتے۔ ہم ایک ایسے معاشرے کا حصہ ہیں جہاں انسان رنگ، نسل، زبان، اعتقاد، معاشی و معاشرتی مقام جیسے عوامل کی بنیاد پر منقسم ہیں۔

ایسا ہی ایک تصور ”خصوصی افراد“ یا افراد باہم معذوری بھی ہے۔ جسمانی یا ذہنی صلاحیتوں میں اختلاف کی بنیاد پر خالق کائنات کی سب سے اعلیٰ تخلیق کو اس کے ہم جنس ہی تعصب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان کی صلاحیتوں کے بجائے ان کی دیکھنے سننے یا چلنے کی صلاحیت کو ان کی قابلیت کا معیار بنا دیا جاتا ہے۔ کھیل کود، تعلیم، ملازمت، ہر مرحلے پر ان کو ترقی کے یکساں مواقع نہیں مل پاتے۔

اکثریت سے مختلف ہونے کی وجہ سے افراد کو نارمل سے مختلف قرار دینا قدیم زمانے کی روایت تو ہو سکتا ہے۔ لیکن آج کے دور میں انفرادی اختلافات کی وجہ سے بچوں کو یکساں تعلیمی اور تربیتی سہولیات سے محروم رکھنا کسی طور قابل قبول نہیں۔

تعلیم و تحقیق نے افراد باہم معذوری کے بارے میں قدیم سوچ کو بدل کے رکھ دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے کنوینشن برائے افراد باہم معذوری کے مطابق، معذوری کو معاشرتی اور ماحولی رکاوٹیں مجبوری میں تبدیل کرتی ہیں۔ اگر ماحول میں مناسب تبدیلیاں کر لی جایئں تو کسی صلاحیت کی کمی انسان کی کامیابی میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ مثلاً اگر ایک بلڈنگ میں ریمپ موجود ہوں تو وہیل چئر استعمال کرنے والا شخص بھی یکساں آسانی سے وہاں گھوم پھر سکتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی ریلوے اسٹیشن میں تمام معلومات تحریری طور پر بھی چسپاں کی گئی ہوں، تو سماعت سے محروم فرد بھی اپنی مطلوبہ ٹرین آسانی سے تلاش کر سکتا ہے۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ معذوری اور معاشی بدحالی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ معذوری کا تناسب معاشی طور پر بدحال معاشروں میں زیادہ ہوتا ہے۔ معذوری مزید غربت کا باعث بنتی ہے۔ اس طرح حالات مزید خراب اور ترقی کے مواقع مدقوق ہوتے جاتے ہیں۔ تعلیم ایک واحد راستہ ہے جس سے حالات میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔

متنوع صلاحیتوں کے حامل طلبہ کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کا سب سے موثر طریقہ شمولیاتی تعلیم ہے۔ شمولیاتی تعلیم کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ ”تمام بچوں کو ان کے انفرادی اختلافات سے قطع نظر، قریبی سکول میں ان کے بہن بھائیوں کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں“ ۔

شمولیاتی تعلیم کوئی غیرملکی ایجنڈا نہیں ہے جس کو ہم پر مسلط کیا جا رہا ہے۔ بلکہ یہ تو مسلمانوں کی میراث ہے۔ معلم اعظم حضرت محمد ﷺ نے بلا امتیاز رنگ، نسل، مذہب، قابلیت، صنف حق کی روشنی سب تک پہنچائی۔

ہماری مسجد ہمیشہ سے علم کا ایک شمولیاتی مرکز رہی اور اگر آج کے تعلیمی حالات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو سادہ دیہی ماحول میں پائے جانے والے سکول اور ایسے تعلیمی ادارے جہاں فروغ تعلیم کو مذہبی فریضہ سمجھ کر ادا کیا جاتا ہے وہاں ہمیں متنوع طلبہ کے لیے زیادہ قبولیت اور کشادہ دلی نظر آتی ہے۔

خصوصی بچوں کے بارے میں ناکافی معلومات بسا اوقات اساتذہ اور عام لوگوں کے شمولیاتی تعلیم کے بارے میں مثبت رویہ اپنانے میں مانع ہوتی ہیں۔ آپ تصور کریں کے ایک ذہین بچہ جو وہیل چیئر استعمال کرتا ہے، اس کو سکول میں لانے کے لیے آپ کو کتنی محنت درکار ہے؟ اگر ریمپ فراہم کر دی جائے اور واش روم کے دروازے کو کھلا کر دیا جائے، تو وہ سکول اس بچے کے لیے مناسب بن جائے گا۔ اسی طرح اگر ایک بچے کی بصارت بہت کمزور ہے، تو اس کو کلاس میں کھڑکی کے قریب اگلی لائنوں میں جگہ دے کر اور بورڈ پر بڑا اور واضح لکھ کر آسانی سے پڑھایا جا سکتا ہے۔ کلاس کا ایک قابل بچہ اگر اس کے ساتھ اس کی آسانی کے لیے بٹھا دیا جائے اور والدین مناسب عینک اور بصری معاونات فراہم کر دیں تو وہ اپنی کلاس کے بہترین بچوں میں سے ایک بھی ہو سکتا ہے۔

یہ تمام مثالیں اس بات کی غماز ہیں کہ تمام خصوصی بچے شدید جسمانی، دماغی یا طرزعمل کے مسائل کا شکار نہیں ہوتے۔ سکول کی بلڈنگ میں مناسب تبدیلی اور تدریسی معاونات کی موجودگی میں وہ کامیابی سے اپنے قریبی سکول میں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔

شمولیاتی تعلیم کی کامیابی کے لیے اساتذہ کی رضامندی اور آمادگی سب سے زیادہ اہم ہے۔ اگر اساتذہ کو ان کی پیشہ وارانہ تعلیم اور ٹریننگ میں شمولیاتی تعلیم کی مناسب آگاہی دی جائے تو لاکھوں خصوصی بچے جو اس وقت سکول سے باہر ہیں، ان کے لیے تعلیم کے دروازے کھل سکتے ہیں۔

ابتدائی سالوں میں زیادہ تر تعلیم عملی سرگرمیوں کے ذریعے دی جاتی ہے جس میں متنوع سامان تدریس استعمال کیا جاتا ہیں۔ اگر اساتذہ کوخصوصی بچوں اور شمولیاتی تعلیم کے بنیادی تصورات اور اصولوں کے بارے میں عملی تربیت دے دی جائے تو اس لیول پر شمولیاتی تعلیم کا آغاز جلد اور قدرے آسانی کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply