لمحہ موجود

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

واصف علی واصفؒ کا قول ہے، کہ حال مومن ہو جائے تو ماضی بھی مومن ہو جاتا ہے، کیا ہی خوبصورت بات اور دو ٹوک الفاظ میں اک نہایت پر اثر جملہ کہا گیا، اگر اس جملے کو سمجھ لیا جائے اور اس کی گہرائی میں اترا جائے تو انسان اضطراب کی کیفیت سے چھٹکارا حاصل کر سکتا ہے، لمحہ موجود یا حال ایک ایسی کیفیت کا نام ہے کہ جو آپ کے اندر زندگی کے احساس کو جلا بخشتی ہے، ماضی کو انسان توبہ کے ذریعے پاکیزہ کر کے اور پھر توبہ پر قائم اور دائم رہنے کے نتیجے میں ہی انسان اپنے مستقبل کو پاک اور صاف رکھ سکتا ہے، اب اگر دیکھا جائے تو توبہ جس لمحہ میں کی جا رہی ہے وہ لمحہ لمحہ موجود ہے، اور جس دور میں توبہ پہ قائم رہنا مقصود ہے وہ وقت بھی لمحہ موجود کہلاتا ہے۔ گویا لمحہ موجود اور عین زندگی ہے۔

انسانی دماغ کمپیوٹر کی ہارڈ ڈرائیو کے مشابہ ہے جو ساری عمر بغیر کسی وقفہ کے انسانی زندگی میں رونما ہونے والے واقعات کو ہر لحظہ نہ صرف محفوظ کیے جا رہا ہوتا ہے، بلکہ وقت اور حالات کی مناسبت سے ہمارا دماغ ہمیں پیغامات اور احکامات بھی فراہم کرتا ہے۔ ہم بیک وقت بہت سی چیزوں اور معاملات سے جڑے رہتے ہیں، انسانی زندگی میں ہمہ وقت بہت سی وابستگی اور وارفتگی کار فرما رہتی ہے، مختلف خدشات، ماضی سے جڑی یادیں اور مستقبل سے متعلق ہماری بیکلی، بے قراری اور اضطراب کبھی ہمیں سکون کا سانس نہیں لینے دیتے، جیسے ہی ہم لمحہ موجود سے نکل کر ماضی یا مستقبل کے منجھدھار میں داخل ہوتے ہیں تو اس لمحہ وقت، کیفیات اور احساسات ہماری سوچوں کے تابع ہو جاتے ہیں وقت اور حالات پر ہماری گرفت کمزور پڑ جاتی ہے، اس وقت ہم صاحب حال نہیں رہتے صاحب کمال نہیں رہتے، اور صاحب حال نہ رہنے کی صورت میں اضطراب اور تشویش جیسی کیفیات جنم لیتی ہیں۔

ہیکارٹ ٹولے اک جرمن مفکر اپنی تصنیف دی پاور آف نؤ ”The power of now“ میں لکھتے ہیں کہ ہم نے اپنے آپ کو اپنے دماغ کے ساتھ منسلک کر کے بہت بڑا ظلم کیا، ہم یہ سمجھ بیٹھے کہ ہم دماغ ہیں یا ہمارا دماغ اصل میں ہم خود ہی ہیں، ایسی سوچ ہمیں یکسر لمحہ موجود سے نکال کر ماضی یا مستقبل کے دشت لامکاں میں دھکیل دیتی ہے اور ہم اپنے حال کو کبھی محسوس نہیں کر پاتے، یہ بات تحقیق سے ثابت ہو چکی ہے کہ انسان کی سوچیں اس کو کسی ایک مقام پہ ٹکنے نہیں دیتی ہیں، ماضی اور مستقبل دونوں ادوار کی اثرانگیزی انسانی زندگی پر کسی نہ کسی حوالے سے مسلط رہتی ہے، انسانی سوچ بندر کی مانند ہوتی ہے جس طرح بندر کبھی ٹک کر ایک شاخ پر نہیں بیٹھ سکتا ٹھیک اسی طرح انسان کا دماغ کسی ایک نقطہ پر مرکوز نہیں رہ پاتا، سوچوں کامنتشر ہونا انسانی دماغ کو مبتلائے تکلیف کر دیتا ہے۔

ایسا ہرگز نہیں کہ اک نقطہ پر رکنا اپنی سوچوں پر گرفت اور پکڑ رکھنا ناممکن امر ہے، مگر اس کے لیے اپنی تمام تر توانائی کو بروئےکار لاتے ہوئے ہمیں لمحہ موجود میں رہنے کی عادت کو اپنانا ہوگا، ہم شعوری اور لا شعوری طور پر کسی نہ کسی طرح اپنی سوچوں کے غلام ہوتے چلے جاتے ہیں، انہی سوچوں کے پیش نظر کبھی ہم ماضی کی تلخیوں اور غموں سے اپنے آپ کو نڈھال کرتے ہیں اور کبھی مستقبل کے حصار میں خود کو قید کر کے محدود کر لیتے ہیں، ان دونوں صورتوں میں ہم کبھی صاحب حال نہیں بن پاتے، روحانیت کی اصطلاح میں صاحب حال اس کو کہا جاتا ہے جس کو اپنی سوچوں پر گرفت ہوتی ہے، جو حال میں رکتا ہے، قیام کرتا ہے، صاحب حال کو وقت پر دسترس اور پکڑ حاصل ہوتی ہے، وہ زمان و مکاں ”time and space“ کی قیود سے آزاد ہوتا ہے، صاحب حال کی زندگی میں بہت ہی زیادہ ٹھہراؤ اور سکون پایا جاتا ہے، وہ کسی بھی واقع کو اپنے ساتھ لے کر نہیں چل سکتا اس کو حال میں جینے کی عادت ہوتی ہے، اور لمحہ موجود ہی اس کا اصل مسکن اور منزل ہوتی ہے۔

آپ کسی ایسے شخص کے ساتھ زیادہ وقت نہیں گزار سکیں گیں جو ہمیشہ اپنے ماضی پر روتا رہے یا پھر مستقبل کے حوالے سے مسلسل خدشات کا شکار ہو، جو لمحہ موجود یا حال سے یکسر عاری ہو، ایسا انسان ماحول اور کیفیات پر نہ صرف اپنی ذات کے حوالے سے بوجھ ہوتا ہے، بلکہ اپنے اطراف پر بھی منفی اثرات مرتب کرتا ہے، دکھ اور غم کے ساتھ ہم آہنگی اختیار کرنے کے نتیجے میں وہ اپنے وجود اپنے احساسات اور فطرت کی رنگیں مزاجی کو محسوس کرنے سے قاصر رہتا ہے۔

لمحہ موجود میں عدم موجودگی انسان کو کمزور بنا دیتی ہے، گزرے ہوئے کل پہ ہمارا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا اور نہ ہی ہم مستقبل پر کوئی قدرت رکھتے ہیں ہمیں ہر حال میں اپنی تمام تر سوچوں اور توانائی کو اکٹھا کر کے لمحہ موجود میں لانا ہوگا، تاکہ زندگی جیسی عظیم اور انمول نعمت کو بھرپور طریقہ سے جی سکیں، زندگی کے لمس کو محسوس کر سکیں، قدرت اور فطرت سے ہمکنار ہو سکیں، اپنے آپ سے ملاقات کر سکیں، حال میں موجودگی درحقیقت زندگی میں موجودگی کے مترادف ہے کیونکہ جب آپ حال میں موجود نہیں ہوتے تو آپ کہیں بھی موجود نہیں ہوتے،

ویلیم جیمز کے مطابق بیسویں صدی کی سب سے کامیاب ایجاد یا دریافت یہ ہے کہ آپ کے ساتھ ہونے والا واقع آپ کے مستقبل کی نشان دہی نہیں کرتا بلکہ اس واقع کے نتیجے سے پیدا ہونے والے رد عمل سے آپ کے قد کا اندازہ ہوتا ہے،

بڑی منزلوں کا مسافر کبھی بھی اپنے آپ کو چھوٹے چھوٹے مسائل کے اندر قید نہیں کرتا، سوچ کی غلامی انسان کو لاچارگی سے خوگر کرتی ہے، انسان اپنے آپ کو دکھوں اور غموں کا ساتھی سمجھنے لگتا ہے، اگر آپ زندگی میں کبھی اپنے قد کو ماپنا چاہئں تو آپ اپنے مسائل ایک کاغذ پر تحریر کریں آپ کو اپنے مسائل سے اپنے قد کا اندازہ ہو جائے گا۔

انسان ہمہ وقت ماضی کے دکھ اور مستقبل کے خدشات میں محصور رہتا ہے، ایسے میں لمحہ موجود میں عدم موجودگی رنج اور آزاری جیسی کیفیات کو انسان کی زندگی کا حصہ بنا دیتی ہیں، اگر آپ حال میں موجود نہیں تو آپ کبھی بھی خدائے برتر کی رحمت کو محسوس نہیں کر پائیں گیں، ہوا، روشنی، دھوپ، بادل، بارش، لمس، رنگ سب کی سب خدائے برتر کی رحمتیں ہیں، جو مسلسل لمحہ موجود میں اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہیں مگر انسان کی لمحہ موجود میں عدم دستیابی کی بدولت وہ ان کو محسوس کرنے سے قاصر رہتا ہے، لمحہ موجود میں جینا ہی اصل جینا اور زندہ ہونے کی نشانی ہے،

Latest posts by وسیم اعوان، ہری پور (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
وسیم اعوان، ہری پور کی دیگر تحریریں

Leave a Reply