سید عبدالحمید دیوانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مادر وطن جموں و کشمیر پر غیر ملکی غاصبوں کے قبضے کو ستر سال سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا ہے لیکن کشمیریوں کے جذبہ حریت میں ذرا کمی نہیں آئی بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کے جوش اور ولولے میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ آزادی کی نعمت چھیننے والے سے نفرت نسل در نسل منتقل ہوتی رہی۔ اس تحریک کو ہر دن خون سے آبیاری کر کے زندہ رکھا گیا۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب کوئی نہ کوئی کشمیری اپنی آزادی کی سحر کو قریب لانے کے لیے جان نہیں دیتا۔ اس وقت تو آزادی کے اس قافلے میں پڑھے لکھے جوانوں کی تعداد شامل ہو چکی ہے جوانوں میں انتقام کا جذبہ بھی نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔

پڑھے لکھے جوانوں کی شمولیت سے تحریک کو ایک نئی طاقت اور جہت ملی ہے۔ دشمن کوئی حربہ کرتا ہے تو وہ ناکام ہو جاتا ہے۔ دشمن جب بھی کوئی جابرانہ تسلط کی طوالت کے لیے نیا حربہ کرتا ہے تو یہ سمجھ رہا ہوتا ہے کہ اب کی بار وہ تحریک کو کچل دے گا لیکن یہ کشمیریوں کا جذبہ حریت کی آتش ہے کہ وہ دشمن کے ہر حربے کو جلا کے رکھ دیتی ہے۔ دشمن کے تمام سیکورٹی مشیروں کی قوت خرد کو مات ہو چکی ہے۔ ان کا ہر وہ حربہ جس کو وہ آخری اور طاقت ور ہتھیار سمجھ کر آزماتے ہیں لیکن کشمیری اپنے ولولے کے بل بوتے پر دشمن کے کے تمام حربوں اور چالوں کو چت کر دیتے ہیں۔

آج کی اس نوجوان کشمیری نسل میں یہ آہنی جذبہ ان کے بزرگوں کی دین ہے۔ یہ جذبہ بزرگوں کی امانت بھی ہے اور ان کی وراثت بھی ہے جو ہمیں منتقل ہوئی ہے۔ بحیثیت قوم یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس تحریک کو آزادی کے منطقی انجام تک پہنچائیں۔ نہیں تو اس جذبے کو ٹھنڈا نہ ہونے دیں یہ جذبہ اسی تاپ کے ساتھ اگلی نسل کو منتقل کر سکیں تا کہ جہاں ہم اپنے بزرگوں کی اس امانت کی حفاظت کر سکیں وہیں پر اسے اس کے منطقی انجام یعنی آزادی کی منزل تک لے کر جائیں۔

کشمیر کی طویل تحریک آزادی کو جن بزرگوں نے اپنی مسلسل جدوجہد سے زندہ رکھا۔ جن بزرگوں نے اس تحریک کو زندگیاں دیں تا کہ آنے والی نسلیں آزادی کی نعمت کو پا سکیں اور امن سے رہ سکیں۔ کشمیر فریڈم موومنٹ کے بانی سید عبدالحمید دیوانی کا شمار بھی انہی بزرگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے وقت میں نہ صرف تحریک آزادی کے لیے جدوجہد کی بلکہ اس کی قیادت بھی کی۔ انہوں نے عمر بھر ایک کمانڈر کی وردی ہی زیب تن کیے رکھی تا کہ مادر وطن کی آزادی کے لیے ان کا جذبہ ٹھنڈا نہ ہو۔ ایک کمانڈر ہی وردی دراصل ان کے ہمہ وقت پرعزم رہنے کا استعارہ تھا۔

اس وردی نے جہاں ان کو ہر وقت متحرک رکھا وہیں یہ وردی ان کے چاہنے والوں کے لیے بھی عزم تازہ کا سامان تھی۔ یہ وردی ان کے عزم صمیم کا مظہر تھی جس نے ان کی تحریکی وراثت کو وہی عزم صمیم اور عزم پختہ منتقل کیا۔ سید عبدالحمید دیوانی 17 اپریل 1938 کو بانڈی پورہ میں ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ اس بات کا کسی کو علم نہیں تھا کہ پیدا ہونے والا یہ بچہ ایک غیرمعمولی بچہ ہو گا جو آنے والے دور میں تحریک آزادی کشمیر کی قیادت کرے گا۔

وہ بچپن سے ہی ایک غیر روایتی زندگی کے قائل تھے۔ وہ حالات سے باخبر رہتے اور اکثر اپنے دوستوں کے ساتھ سیر حاصل گفتگو بھی کرتے۔ وہ ہر چیز کی تہ تک جاتے اور نہایت دقیق نظری سے تجزیہ کرتے۔ برصغیر کی تقسیم ان کے عہد نوجوانی میں ہوئی۔ انہوں نے غاصبوں کے ہاتھوں مادر وطن کی آزادی کو سلب ہوتے اپنے زمانہ ہوش میں دیکھا۔ ریاست جموں و کشمیر پر دشمن کے غاصبانہ قبضے نے ان سے ان کا چین چھین لیا وہ ہمیشہ مادر وطن کی آ آزادی اور وحدت کی بحالی کے بے تاب رہتے۔

اپنے زمانہ طالب علمی کے دوران انہوں نے ”الفتح“ نامی ایک تنظیم کی بنیاد رکھی تاکہ وہ آزادی کی منزل تک کے اس سفر کو ایک منظم طریقے سے شروع کر سکیں۔ وہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے کہ اگر آج وہ اس تس تنظیم کی بنیاد رکھتے ہیں تحریک منظم طریقے سے چلے گی تو ہی اگلی نسل میں منتقل ہو گی لیکن سید عبدالحمید دیوانی کی دوراندیش سوچ سے خائف تھا۔

دشمن کو خوف تھا کہ اگر اس حربوں اور ہتھکنڈوں کو بے اثر کرنے اور ناکام بنانے کے لیے کوئی مزاحمتی سوچ متعارف کروائی گئی تو ریاست کے تمام آزادی پسند اس ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر جابرانہ تسلط کو توڑ دیں گے لٰہذا دشمن نے اس سوچ کو قید کرنے کی کوشش کی اس کے لیے دشمن نے سید عبدالحمید دیوانی کو پس زنداں بھیج دیا ان کو پابند سلاسل کر دیا لیکن مبدا کو قید کرنے سے سوچیں کہاں قید رہ سکتی ہیں۔ سوچیں ذہن در ذہن پھیلتی جاتی ہیں اور ایک فرد سے کارواں میں ڈھلتی جاتی ہیں۔

ان کو تیرہ سال تک پس زنداں رکھا گیا لیکن زنداں نے ان کے ولولہ آزادی کو مزید بڑھا دیا۔ دشمن نے سید عبدالحمید دیوانی کو قید میں ان کو خاموش کرانے کے لیے ڈالا لیکن وہ جب جیل سے نکلے تو ان کا عزم پہاڑ سے زیادہ مضبوط تھا۔ جیل کی سلاخوں کے پیچھے کی بندشیں ان کے حوصلے کو کم نہ کر سکیں بلکہ اس کٹھن اور ابتلا کے دور نے ایسے عبدالحمید دیوانی کو جنم دیا جس کا عزم اب ناقابل شکست ہو چکا تھا۔ جیل سے رہائی کے بعد انہوں نے یہ سوچا کہ کسی طرح سے مسئلہ کشمیر کو دنیا میں اجاگر کیا جائے تاکہ اقوام عالم کی توجہ کو اس طرف مبذول کروایا جا سکے۔

اس کے لیے انہوں نے اپنے چند دوستوں کے ساتھ بھارتی دارالحکومت کی پالم ائر پورٹ سے بھارتی مسافر طیارے بوئنگ 737 کو 10 ستمبر 1976 کو اغوا کرنے کا منصوبہ بنایا جس کو وہ کسی عربی ملک میں لے کر جانا چاہتے تھے لیکن ایندھن کی کمی کی وجہ سے اسے لاہور ائرپورٹ پر اتارنا پڑا۔ حسب سابق اس وقت کی پاکستانی حکومت بین الاقوامی دباؤ برداشت نہ کر سکی اور سید عبدالحمید دیوانی کو گرفتار کر لیا گیا۔

پاکستانی عدالتوں سے سزائیں دلوائی گئیں۔ حالانکہ ان کا یہی مطالبہ تھا کہ کشمیر پر غیرقانونی غاصبانہ قبضہ ختم کیا جائے۔ لیکن ان کو الزامات لگا کر گرفتار کر لیا گیا اور اغوا کیے ہوئے طیارے کو جس پر 83 مسافر سوار تھے بھارت کے حوالے کر دیا گیا۔ بھارت میں بھی وہ طویل عرصے تک پابند سلاسل رہے اور اس کے بعد اب پاکستان میں بھی ان کو قید میں ڈال دیا گیا لیکن اپنی رہائی کے بعد انہوں نے ایک نئے جذبے کے ساتھ پھر تحریک آزادی کا رخ کیا۔

یہاں۔ وہاں کی صعوبتیں ان کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکیں۔ ان کے عزم پختہ میں ذرا بھی لغزش نہ آئی۔ رہائی کے بعد وہ ایک مہاجر کشمیری کی حیثیت پاکستانی صوبے پنجاب میں مقیم ہوئے لیکن بعد میں انہوں نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا۔ انہوں نے شعور کی روشنی کے چراغ جلانا شروع کر دیے۔ یہاں تحریک آزادی کو ایک نئی سمت دینے اور منظم طریقے سے چلانے کے لیے انہوں نے ”کشمیر فریڈم موومنٹ“ کی بنیاد رکھی۔

تنظیم سازی اور پھر کارکنان کا جذبہ بڑھانے کے لیے انہوں نے بیس کیمپ کے اضلاع کے دورے کیے۔ ان کی اور ان کے رفقاء کی شبانہ روز محنت سے کشمیر فریڈم موومنٹ خطے کی سب سے بڑی با اثر اور متحرک قوم پرست جماعت بن گئی جس نے بھارت کے خلاف کئی کارروائیاں کیں۔ تحریک آزادی کے ہراول دستے کے طور پہ کام کیا۔ کئی نام ور سیاسی کارکنان۔ مجاہدین اور سرفروش پیدا کیے۔ کشمیر فریڈم موومنٹ نے پورے آزاد کشمیر میں تحریک آزادی کو نئے سرے سے زندہ کیا۔

نوجوانوں اور اہل علم حضرات کو متحرک کیا۔ یوں کشمیر فریڈم موومنٹ بیس کیمپ اور مقبوضہ جموں کشمیر میں جبری قبضے کے خلاف ایک بھرپور مزاحمتی طاقت بن کر ابھری۔ سید عبدالحمید دیوانی کا لگایا ہوا یہ نحل آج بھی ہرا ہے کشمیر فریڈم موومنٹ اس پرخطر دور میں تحریک آزادی کشمیر کے لیے بھرپور طریقے سے لڑ رہی ہے۔

دیوانی صاحب کی سوچ اور نظریات پر قائم یہ جماعت ریاست کے دونوں حصوں میں آزادی پسندوں کے لیے نہ صرف ایک امید ہے بلکہ ایک پلیٹ فارم بھی ہے۔ کشمیر فریڈم موومنٹ کے سپریم کمانڈر اور تحریک آزادی کشمیر کے ہراول سپاہی 4 جون 1992 کو دل کا دورہ پڑنے سے داعی اجل کو لبیک کہہ گئے لیکن سوچ کو تبدیل کرنے اور اس کو غلامی کے شکنجوں سے نکالنے کے لیے جس مقدس جدوجہد کا آغاز انہوں نے کیا تھا۔ وہ سلاسل آج بھی جاری ہیں۔

نوجوانوں کو آزاد سوچنے۔ نام نہاد سیاسی قیادتوں کی غلامی سے نکلنے۔ خودی کو پہچاننے۔ مادر وطن کی آزادی اور اس کی وحدت کی بحالی کی جو شمع انہوں نے جلائی تھی وہ آج بھی جہالت کے اندھیروں میں ضیا پھیلا رہی ہے۔ کشمیر فریڈم موومنٹ کی صورت میں انہوں نے جو جس سوچ کو پیکر دیا۔ جس سوچ کو یکجا کر کے تجسیم دی۔ وہ سوچ آج بھی ریاست کو بیرونی قبضے سے آزادی دلانے کے لیے مسلسل کوشش کر رہی ہے۔ وہ دن دور نہیں جب اس پار کے نوجوان بھی حقیقی قیادت اور مصنوعی قیادت کی تفاوت کو سمجھیں گے۔

جلد ہی ادراک ہو جائے گا کس نے مادر وطن کی آزادی کے لیے مخلصانہ کردار ادا کیا اور کس نے نظام حکومت سے فوائد حاصل کیے۔ جلد ہی ریاست کا ہر نوجوان حقیقی قیادت کو پہچانیں گے جس نے ان کے شاندار مستقبل اور ان کی آزادی کے لیے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور کس نے غلاموں کا ہجوم اکٹھا کیا اور شب غلامی کو طویل کیا۔ اس وقت ضرورت بھی اس امر کی ہے سید عبدالحمید دیوانی جیسی قیادت کی شخصیت سے فیض حاصل کیا جائے۔

رہنمائی لی جائے تا کہ سوچ کو آزاد کر کے مادر وطن کی آزادی کے لیے اجتماعی کوشش کی جا سکے۔ سید عبدالحمید دیوانی کی زندگی پر روشنی ڈالنا اور ان کی شخصیت کو اجاگر کرنا آج کے حالات نہایت ضروری ہے تاکہ نوجوانوں کو اور اہل ریاست کو آزاد فکر و سوچ سے سرفراز کیا جا سکے۔ سید عبدالحمید دیوانی جیسی ہی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے دیے سے دیا جلا کر شعور کی روشنی کو عام کیا۔

Latest posts by ڈاکٹر اعجاز کشمیری (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ڈاکٹر اعجاز کشمیری کی دیگر تحریریں

Leave a Reply