احسان فراموش: پیٹر پین کے مصنّف جیمز میتھیو بیری کی ایک کہانی

میں بیس سال سے اشرافیہ کے اس رئیسانہ اور منفرد کلب کا ممبر ہوں۔ باقی ممبران کی طرح مجھے بھی کبھی اس بات میں دلچسپی نہیں رہی کہ نچلے طبقے کے لوگ کیسے رہتے ہیں۔ یہ بیرے اور خانسامے کس طرح اپنی زندگی بسر کرتے ہیں۔ ولیم ایک طویل مدت سے ہمارے کلب میں بیرا گیری کر رہا تھا۔ مجھے تو یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ وہ نیچے باورچی خانے میں سوتا ہے یا رات کو گھر اپنے بیوی

Read more

سگمنڈ فرائڈ کے تیسرے لیکچر کی تلخیص اور ترجمہ

خواتین و حضرات! جب ہم نفسیاتی مریضاؤں کا علاج کر رہے ہوتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ مریضہ کے لاشعور میں دو متضاد طاقتیں بر سر پیکار ہوتی ہیں ایک طرف وہ طاقت ہوتی ہے جو لاشعور میں دبی اور چھپی یادوں اور باتوں کو شعور میں لانے کی کوشش کرتی ہے اور دوسری طرف وہ طاقت ہوتی ہے جو اس کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کرتی ہے اور لاشعور میں چھپی اور دبی یادوں اور باتوں کو

Read more

والدین بچوں کو جنسی شعور دیں

دنیا میں بچے سب سے زیادہ والدین کے قریب ہوتے ہیں۔ جتنی قربت والدین اور بچوں کے رشتے میں ہوتی ہے اتنی قربت دنیا کے کسی رشتے میں نہیں ہوتی۔ اس اعتبار سے بچوں کی حفاظت کی ذمے داری بھی سب سے زیادہ والدین پہ عائد ہوتی ہے، خاص کر ماں پہ۔ ماں اگر بچے کے جسمانی تحفظ کی ذمے دار ہے تو اس کے جنسی تحفظ کی ذمے داری بھی اسے نبھانی چاہیے۔ ماں بچے کے کھانے پینے کا

Read more

اپنی بیٹی کو قتل کرنے والے ایک جوڑے کی الجھن، جھوٹ اور فریب سے بھرپور ڈرامائی زندگی کی کہانی

یہ کہانی کونسٹینس مارٹن اور مارک گورڈن کے ملاپ، پھر انتشار کا شکار ہونے اور بالآخر ایک سانحے پر جا کر ختم ہوئی۔ اس کا آغاز دوسری عالمی جنگ کے کچھ عرصے بعد ہوتا ہے۔

Read more

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بورے والا

جون 1981 تک میجر صاحب اپنی رہائش بوریوالا میں منتقل کر چکے تھے اور سکولوں میں گرمیوں کی تعطیلات کی وجہ سے میں بھی اُن کے ساتھ وہیں پر ہی قیام پذیر تھا۔ ایک دن صبح ہی مجھے بلایا اور کہا کہ، گاڑی کا بندوبست کرو۔ ہم لوگ سی ایم ایچ ملتان جا رہے ہیں۔ کیوں کہ مجھے صبح سے ہی سینے میں درد محسوس ہو رہا ہے۔ میجر صاحب بھی کیا درویش صفت انسان تھے۔ فوج میں سروس کے

Read more

انٹری ٹیسٹ کی تیاری یا خوابوں کی سوداگری

تعلیم صرف ایک خواب نہیں، بلکہ والدین کی پلکوں پر رکھا ایک چراغ ہے۔ ایک ایسی تمنّا ہے، جو ہر ماں باپ کے دل میں اپنے بچوں کے لیے پنپتی ہے۔ دن رات کی مشقت، آرام و سکون کی قربانی، اور محدود وسائل کے باوجود اسکول، کالج، یونیورسٹی تک اپنے بچوں کی تعلیم کا سفر محض اس ایک امید پر جاری رکھتے ہیں کہ بچے پڑھ لکھ کر ایک دن ضرور کچھ بن جائیں گے اور ان سے بہتر زندگی

Read more

معاشرتی مردانگی: جب میں خود سے دور ہوا

میں نے اپنے بچپن کا ایک اہم حصہ ہسپتال کے اِک کمرے میں لیٹے پردوں میں پڑی سلوٹوں کو گنتے بِتایا۔ اس عرصے میں، میں نے مرد کے نام پر صرف اپنے باپ کو دیکھا جو کہ ایک نہایت شریف آدمی تھے اور میرا مردوں کے بارے میں یہ نظریہ قائم ہو گیا کہ شاید تمام مرد ایسے ہی بھلے ہوتے ہیں۔ اسی نظریہ کو ساتھ لیتے ہوئے میں نے اپنا بچپن گزارا۔ شاید میرا نظریہ اب تک اس لیے

Read more

تنہا۔ سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا اثر انگیز ناول۔ قسط نمبر17

کمرے میں پھیلی مدھم سی زرد روشنی میں اس نے دادی ماں کو دیکھا، وہ چوک پر بچھی نرم چٹائی پر دراز سکون کی نیند سوتی دکھائی نہیں دے رہی تھیں۔ چہرے پر بے چینی سی تھی۔ اس نے دوسری نظر دادو پر ڈالی، وہ کروٹ بدلے لیٹے تھے۔ لالٹین کو اس نے پھونک ماری اور اس کے بجھتے ہی کمرے میں گھپ اندھیرا پھیل گیا۔ اندر اندھیرے کا طوفان تھا اور باہر باد و باراں کا۔ آہستہ آہستہ چلتا

Read more

خاتون کا جسم تو شوہر کی ملکیت ہوتا ہے

میں تمہیں سٹے یعنی جوئے میں ہار چکا ہوں اس لیے تمہیں فلاں شخص کے ساتھ رات بسر کرنی ہے ورنہ میں تمہیں طلاق دے دوں گا۔ یہ ایک جواری کی اپنی شریک حیات کو دھمکی ہے، یہ واقعہ ہمارے شہر کے نزدیک ایک گاؤں میں پیش آیا، خاتون کا موقف تھا کہ بھلے مجھے طلاق دے دو لیکن میں رات کسی نامحرم کے ساتھ نہیں گزاروں گی۔ سوال یہ ہے کہ کیا خاتون کوئی پراڈکٹ ہوتی ہے، جسے جب

Read more

اناطولیہ کہانی: یشار کمال کا مزاحمتی استعارہ اور دیہی انسان کی ازلی تڑپ

اناطولیہ کہانی کو ترکی کے جنوبی علاقے چکروا کے تناظر میں تحریر کیا گیا ہے۔ اس ناول کو نہ صرف ترکی کے ادب کا ایک اہم سنگ میل سمجھا جاتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ظلم کے خلاف مزاحمت اور کسانوں کی جدوجہد کی ایک علامتی داستان ہے۔ پہلی بار یہ ناول 1955 میں ترکیہ زبان میں شائع ہوا۔ انگریزی میں اس کا ترجمہ 1961 میں ایڈوارد رودیتی نے کیا جب کہ اسے اردو میں ڈھالنے کے فرائض نسرین

Read more

”پدر شاہی سماج“ کا گریبان اور حمیرا

کھوج اور تڑپ زندگی کا ایک ایسا جوالا ہے جس میں کچھ پانے کی ”ہوک“ ہمیشہ اتھل پتھل کرتی رہتی ہے اور یہی جوالا اپنے مکمل جوبن میں آنے سے ہمیشہ کتراتا ہے کہ اس کا جوبن کہیں کسی کے لئے تکلیف کا باعث نہ بن جائے، انسانی وجود کو بچانے کا یہی لمحہ اسے پورے جوبن میں آنے سے روکے رکھتا ہے مگر سہما ہوا سا نظر آنے والا یہ شخص تلاش کی دھن اور کسک میں جستجو کے

Read more

خود سے ایک نامہ

دن کی روشنی دفتر کے شیشوں سے چھن کر علی کے چہرے پر پڑ رہی تھی، مگر اس کی آنکھوں میں اجالا کہیں کھو چکا تھا۔ چائے کا کپ اس کے ہاتھوں میں تھرتھرا رہا تھا، جیسے کسی طوفانی رات میں درخت آخری بار لرز رہا ہو۔ کلائیوں میں ایک ایسی کسک تھی جو نہ زخم دکھاتی تھی، نہ دوا مانگتی، بس ہر رات خوابوں کی دہلیز پر بیٹھ کر اس کی نیند کو زہر کرتی رہتی۔ دفتر کے خاموش،

Read more

مونا لیزا کی مسکراہٹ جیسی بیٹیاں – مکمل کالم

انڈیا میں ایک بیٹی کو باپ نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا اور پاکستان میں ایک باپ نے بیٹی کی لاش وصول کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ دو خبریں ہر کچھ دیر بعد میرے سامنے آ جاتی ہیں، میں اِن کی تفصیل پڑھتا ہوں اور لرز اٹھتا ہوں۔ رادھیکا کی عمر پچیس سال تھی، وہ ٹینس کھیلتی تھی، اپنے علاقے میں ٹینس کی اکیڈمی بھی چلا رہی تھی، انسٹا گرام پر مقبول ہو رہی تھی، کچھ پیسے بھی

Read more

دسترخوان: تہذیب، روایت اور رشتوں کی زنجیر

دسترخوان ایک قدیم روایت جو صرف کھانے کے لیے بچھائے جانے والے کپڑے تک محدود نہیں، بلکہ مشرقی تہذیب کی جڑوں میں پیوست ایک علامت سمجھی جاتی تھی۔ وہ وقت تیزی سے رخصت ہو رہا ہے جب دستر خوان محبت، سلیقے اور خاندان کو اپنے دامن میں سمیٹ لیا کرتے تھے۔ اس پر صرف کھانا نہیں بلکہ تعلقات، جذبات، قربتیں اور نسلوں کی تربیت رکھی جاتی تھی۔ جب دسترخوان بچھایا جاتا تھا تو اس کے گرد صرف خاندان کے افراد

Read more

وربل شاک تھراپی۔ ایک نئی نفسیاتی اصطلاح

انسانی ذہن اور نفسیات صدیوں سے تحقیق و تجزیے کا مرکز رہی ہے۔ وقت کے ساتھ نئی اصطلاحات اور طریقۂ علاج سامنے آتے رہے ہیں جنہوں نے انسانی رویوں، نفسیاتی الجھنوں اور شعوری و لاشعوری تضادات کو بہتر انداز میں سمجھنے اور سلجھانے میں مدد دی۔ ان ہی کوششوں میں ایک نئی اصطلاح ”وربل شاک تھراپی“ (Verbal Shock Therapy) بھی شامل ہے، جو اس عاجز سعد مکی شاہ کی جانب سے وضع کی گئی ہے یہ اصطلاح ایسے حالات اور

Read more

معاصر روسی افسانوں کے اردو ترجمہ کے بارے میں

( اکادمی ادبیات کی جانب سے شائع کردہ اپنی کتاب منتروس کی منتخب کہانیاں جسے میں نے ”11 معاصر روسی افسانے نام دیا تھا ) روس میں کوئی امریکی ادارہ سائنسی لغات لکھوا رہا تھا۔ مجھ سے رجوع کیا تو میں نے فی لفظ زیادہ سے زیادہ معاوضہ طلب کیا تھا، جو وہ مان گئے تھے۔ بحث کے دوران یہی تاثر دیا گیا کہ اس کہنہ لغت کی درستی بھی کرنی ہے۔ میں نے حیاتیات سے متعلق لغت چن لی

Read more

فیمنسٹ عورتو، عقل کے ناخن لو!

اپنے جیسی کا حشر دیکھ کر ہوش ٹھکانے آئے کہ نہیں؟ ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا، وقت ہے بگڑی تگڑی عورتو، توبہ تلا کرو اور پدرسری کے راستے کو فوراً اختیار کرو۔ تمہیں توبہ کرنے کا ایک موقع دیا گیا ہے ، تاکہ تم اس انجام سے بچ سکو جو حال ہی میں ایک فنکارہ کا ہوا۔ کیا تم نہیں جانتیں کہ ہمارے سائے میں رہنے والیوں کو ایک پورا پیکج ملتا ہے جس میں باعزت ٹھہرائے جانے سے لے

Read more

میں نے انسانیت کو سرحدوں سے آزاد پایا

ہم سیاست کر کر کے تھک چکے ہیں جس کو سنو۔ اصل میں، حقیقت میں۔ میں سمجھتا ہوں سارے فساد کی جڑ فلاں شخص ہے۔ اور میں ان سب کو اس طرح سمجھتا ہوں کہ جو ملک یا افراد یہ زہر کی گولیاں دوسروں کو مارنے کی توقع پہ دیے جا رہے ہیں یا چلائے جا رہے ہیں تو خاطر جمع رکھیں یہ دوسروں کو مارنے کی سوچ والا نسخہ سب سے پہلے آپ پہ اثر کرے گا۔ جو دوسروں

Read more

خواب، محبت اور زندگی 46

شیما کرمانی کا فیصلہ کن ووٹ بہر صورت یہ واضح ہو گیا تھا کہ اب ہماری شادی کا خواب اس طرح سے پورا نہیں ہو گا جس طرح ہم نے سوچا تھا۔ ابی کو پہلے سے ہی اس علاقے کے بارے میں تحفظات تھے جہاں احفاظ کی رہائش تھی اور اب امی اور خالہ کے ان کے گھر جانے کے بعد اور احفاظ کے جذباتی ابال نے معاملہ اور بھی بگاڑ دیا تھا۔ لیکن میں ان سے شادی کے فیصلے

Read more

اداکارہ حمیرہ اصغر کی پراسرار موت

کراچی کے ڈیفنس کے علاقے میں ایک چھوٹے سے فلیٹ سے معروف ماڈل اور اداکارہ حمیرہ اصغر کی چھ ماہ پرانی لاش برآمد ہوئی ہے۔ حیران کن طور پر چھ مہینے تک نہ کسی دوست نے اسے تلاش کیا، نہ ہی خاندان کے کسی فرد نے اس کی خبر لی۔ نہ کوئی اسے یاد کرتا رہا، نہ کسی نے سوال کیا کہ وہ زندہ بھی ہے یا نہیں۔ جب میڈیا پر حمیرہ اصغر کی لاش ملنے کی خبر سامنے آئی،

Read more

ماحولیاتی آفات: 2025 میں بھی 2022 والا خوف

  جس سرزمین پر کبھی بارشوں کی رم جھم خوشحالی کی نوید ہوا کرتی تھی، آج وہی بارشیں ہماری بقا کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔ موسم کی تبدیلی اب محض ایک موسمی رجحان نہیں بلکہ ایک مکمل انسانی، معاشرتی اور زرعی بحران کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ پاکستان جس تیزی سے ماحولیاتی دباؤ کی لپیٹ میں آیا ہے، اس نے نہ صرف لوگوں کی زندگیاں متاثر کی ہیں بلکہ ان کے کھانے کے ذائقے، صحت کی بنیاد اور

Read more

خاموشیوں میں ڈوبتا معاشرہ، تنہائی، بیٹیاں اور بکھرتے رشتے

گزشتہ دنوں چند المناک واقعات نے ہمیں نہ صرف چونکایا، بلکہ روح تک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ کبھی سینئر اداکارہ عائشہ کی تنہائی میں بے بسی سے موت، کبھی نوجوان باصلاحیت لڑکی ثنا یوسف کا سفاکانہ قتل، کبھی فنکارہ حمیرا اظہر کی خاموش رخصتی، اور کبھی ایک ٹک ٹاک ویڈیو بنانے پر ایک معصوم بچی کی جان کا چلے جانا۔ یہ سب محض خبریں نہیں، بلکہ ایک مردہ ہوتے معاشرے کی گونجتی ہوئی آہیں ہیں۔ ہم ایک ایسے دور

Read more

میں نے انسانیت کو سرحدوں سے آزاد پایا

ہم سیاست کر کر کے تھک چکے ہیں جس کو سنو۔ اصل میں، حقیقت میں۔ میں سمجھتا ہوں سارے فساد کی جڑ فلاں شخص ہے۔ اور میں ان سب کو اس طرح سمجھتا ہوں کہ جو ملک یا افراد یہ زہر کی گولیاں دوسروں کو مارنے کی توقع پہ دیے جا رہے ہیں یا چلائے جا رہے ہیں تو خاطر جمع رکھیں یہ دوسروں کو مارنے کی سوچ والا نسخہ سب سے پہلے آپ پہ اثر کرے گا۔ جو دوسروں

Read more

سگمنڈ فرائڈ کے دوسرے لیکچر کی تلخیص اور ترجمہ

خواتین و حضرات! جب آسٹریا کے شہر ویانا میں ڈاکٹر جوزف برائر گفتگو سے نفسیاتی مریضاؤں کا علاج کر رہے تھے اور TALKING CURE متعارف کروا رہے تھے ان ہی دنوں فرانس کے شہر پیرس میں ایک ڈاکٹر شارکو بھی اسی طرح کی مریضاؤں کے علاج میں تحقیق کر رہے تھے۔ میں نے جب ڈاکٹر برائر کے ساتھ مل کر ہسٹیریا کے بارے میں مقالہ لکھا تو ہم نے شارکو کے تجربات و مشاہدات سے استفادہ کیا۔ اس مقالے میں

Read more

جو نہیں ہے، وہ خوبصورت ہے

ہم نے دیکھا تو ہم نے یہ دیکھا جو نہیں ہے وہ خوبصورت ہے جون ایلیا نے یہ شعر چالیس سال پہلے کہا تھا، مگر ہم نے اسے آج تک زندہ رکھا ہے اور شاید ہمیشہ زندہ رکھیں گے۔ کیونکہ یہ صرف ایک شعر نہیں، بلکہ ہمارے معاشرتی رویوں کا عکاس ہے۔ ہم کسی کو اُس کے جانے کے بعد ہی کیوں یاد کرتے ہیں؟ اگر ہم اتنی ہی قدر زندگی میں کر لیں، جتنی موت کے بعد کرتے ہیں،

Read more

وہ مظلوم نہیں، بس تھکی ہوئی ہے

”خوش قسمت ہو تم، تمھارا شوہر باہر کماتا ہے“ یہ جملہ اکثر ان عورتوں کو سننے کو ملتا ہے جن کے شوہر بیرونِ ملک کام کے لیے گئے ہوتے ہیں۔ بظاہر یہ جملہ حسد سے لبریز تعریفی لگتا ہے، مگر اس کے پیچھے چھپی کہانی اکثر دکھ، تنہائی اور ذہنی اذیت سے بھری ہوتی ہے، خاص طور پر جب عورت سسرال کے گھر میں اپنے بچوں سمیت رہتی ہے۔ سسرال میں رہنے کا فیصلہ اکثر مالی مجبوری یا سماجی دباؤ

Read more

ٹاکسک پیرنٹنگ : کاش ماں باپ نئے سانچوں میں ڈھالے جائیں

  ہر نئی نسل کے بچوں کی تمنا خالد کاش ماں باپ نئے سانچوں میں ڈھالے جائیں (ڈاکٹر خالد سہیل) ”والدین“ ہمیشہ اولاد کا بھلا چاہتے ہیں۔ یہ معاشرے کا وہ جنرلائزڈ جملہ ہے جس سے والدین کی ہر طرح کی نا انصافی اور رویوں کی بدصورتی کو چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ماں باپ کے اتنے فضائل بیان کیے جاتے ہیں کہ اگر وہ اولاد کو تباہ کر دیں، ڈپریشن کا مریض بنا دیں تب بھی ان سے

Read more

نسلوں کا پھل

بازار کی گہماگہمی میں آج کچھ عجب سا سکوت گھل گیا تھا۔ چھٹی کا دن عموماً گھر کے سودا سلف کی خریداری کا ہی ہوتا ہے۔ گرمی کی تپش اور حبس میں سبزی والے کے ٹھیلے پر رش لگا تھا اور میں جو ہمیشہ کی طرح جلدی میں تھا، اُسی عجلت سے اپنی سبزی کا تھیلا پکڑ کر پلٹا ہی تھا کہ پیچھے سے ایک غیر مانوس مگر پراعتماد سی نسوانی آواز نے مجھے رکنے پر مجبور کر دیا۔ ”سر!

Read more

نینو کار۔ پہیوں پر ایک خواب جو بکھر گیا

‎ایک دن ہندوستان کے سب سے بڑے صنعتی اور تجارتی ادارے کے روح رواں، رتن ٹاٹا بارش میں بھیگتے ہوئے ایک خاندان کو موٹر سائیکل پر سفر کرتا دیکھتے ہیں۔ باپ کے سامنے ایک بچہ، پیچھے ماں اور دوسرا بچہ۔ ان کا دل بے چین ہو جاتا ہے۔ یہی منظر ٹاٹا کے دل میں ایک سوال ابھارتا ہے : ”کیا کار صرف امیروں کا حق ہے؟“ اس سوال کا جواب دینے کے لیے جو سفر شروع ہوتا ہے، اس نے

Read more

دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

ہم سب کو اپنی پیشہ ورانہ تربیت کے دوران اکثر یہ سننے کو ملتا ہے کہ کام کے دوران پروفیشنل رویہ اپناتے ہوئے، جذباتیت سے احتراز کرنا چاہیے۔ یہ بات بہت حد تک درست بھی ہے کیونکہ جذبات درست اور بروقت فیصلہ لینے کی راہ میں مانع ہو سکتے ہیں۔ لیکن کیا ہمیشہ ایسا ہو پاتا ہے؟ میرا تجربہ کہتا ہے کہ ایسا نہیں ہوتا۔ ہم کسی بھی پیشہ سے تعلق رکھتے ہوں، ہم نہ صرف اپنے گرد لوگوں کے

Read more

مریم کی مرہم اور چراغوں کے گرد بڑھتا ہوا اندھیرا

پاکستان میں تعلیم کو قوم کی ترقی کا ستون کہتے ہوئے حکمران اور دانشور تھکتے نہیں مگر آج تک کسی حکمران نے صحیح طرح تعلیمی شعبے کی طرف توجہ نہیں دی صرف اشتہارات تک محدود ہیں ہاں وزیر اعظم پاکستان جب وزیر اعلیٰ پنجاب ہوا کرتے تھے تعلیمی شعبہ جات کے لیے متحرک دکھائی دیتے تھے میاں محمد شہباز شریف نے بطورِ وزیر اعلیٰ پنجاب دانش سکول سسٹم متعارف کرایا اب وہ دانش یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کرچکے ہیں

Read more

تنہا۔ سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا اثر انگیز ناول:قسط نمبر 16

یہ میرے بابا ہیں۔ سرجیکل وارڈ کے اس کمرے میں جہاں تیز دواؤں کی بو پھیلی تھی۔ انہیں اُجلے بستر پر سفید پٹیوں میں جکڑے جکڑائے دیکھ کر ابھی اسے اپنی آنکھوں پر اعتبار نہ تھا۔ ” کیا انہیں ایسی حالت میں دیکھنے کی مجھے توقع نہ تھی؟“ سوچتے ہوئے وہ ان پر جھکا، ان کے ہاتھ اس نے پکڑنے چاہے، پر وہ مجروح تھے۔ ان کے سینے پر اس نے سر رکھنا چاہا، پر وہ زخمی تھا۔ اس کا

Read more

نئے پاکستان کی تلاش۔ اک شہری کا کھویا ہوا خواب

مجھے آج بھی وہ وقت یاد ہے جب ہوا بھی تبدیلی کے نعروں سے گونج رہی تھی۔ نئے پاکستان کے خواب کی جھلک ہر آنکھ میں دکھائی دے رہی تھی۔ وہ خواب جو ہم سب کو دکھایا گیا اور ہم نے آنکھیں بند کر کے اس پر یقین کر لیا۔ ہر گلی، ہر چوراہا، ہر دفتر، ہر طالب علم، ہر مایوس باپ، ہر تھکی ہوئی ماں میں آج بھی نئے پاکستان کے خواب کا عکس دکھائی دیتا ہے لیکن وہ

Read more

رمّو کا گدھا

رمّو میرا مالک! جی ہاں، وہی رمّو جو ملیر ندی کے پاس کچے پکے مکان میں رہتا ہے۔ میں اس کا گدھا ہوں، اس کا ساتھی، اس کی مجبوری، اور شاید اس کا ہمزاد بھی۔ لیکن ہم دونوں کی زندگیوں میں بس انیس بیس کا ہی فرق ہے کہ وہ دو پیروں پر چلتا ہے، میں چار پر۔ مگر دونوں ہی پستے ہیں، دونوں ہی تھکتے ہیں، اور دونوں ہی ایک دوسرے کے رحم و کرم پر ہیں۔ میرا رمّو

Read more

ناگہانی تا ناگہانی: طاہرہ کاظمی کی زبانی وجود، وبا اور کہانی

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی میری پسندیدہ ادیب ہیں۔ اس سے پیشتر میں ان کی کتابوں، ”کنول پھول اور تتلیوں کے پنکھ“ ، ”مجھے فیمینسٹ نہ کہیو“ اور ”جتی“ پر اپنی گزارشات پیش کر چکا ہوں۔ ”ناگہانی تا ناگہانی“ ایک ناولٹ، دو خطوط اور کچھ کہانیوں پر مشتمل ہے۔ ادب، محض الفاظ کی آرائش نہیں، ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہم اپنی ان دیکھی صورتوں، انجانی کیفیات اور غیر فہم ناگہانی سچائیوں کا عکس دیکھ سکتے ہیں۔ ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کا

Read more

زرعی ملک، بھوکے بچے، ایک تلخ قومی سچائی

پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود غذائی قلت جیسے سنگین مسئلے کا شکار ہے، جو ایک قومی المیہ بن چکا ہے۔ زرعی معیشت کا حامل ملک، جہاں زمینیں زرخیز ہیں، نہریں بہتی ہیں، فصلیں اگتی ہیں، وہاں چالیس فیصد سے زائد بچے غذائی قلت کا شکار ہوں، یہ صرف ایک تضاد نہیں بلکہ ایک ناقابلِ معافی اجتماعی غفلت کی علامت ہے۔ ایسی صورتِ حال میں جہاں ایک طرف کھیتوں میں گندم، چاول، مکئی اور سبزیاں اگائی جا رہی ہوں،

Read more

آخری نمبر پر کھڑی عورت: صنفی برابری کے دعوے اور پاکستان کی حقیقت

پاکستان میں عمومی طور پر یہ بیانیہ عام ہے کہ ہمارا معاشرہ عورت کو بہت عزت دیتا ہے، یہاں عورت ماں، بہن اور بیٹی کے روپ میں محفوظ ہے۔ مذہبی اور ثقافتی تناظر میں اس عزت کو اکثر ایک مثالی معیار کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ مگر جب ہم عالمی سطح پر خواتین کی حیثیت سے متعلق اعداد و شمار پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ دعویٰ نہایت کمزور اور بے بنیاد محسوس ہوتا ہے۔ حالیہ دنوں میں

Read more

زیب داستاں : آذربائیجان کے شہر باکو میں چند دن (پہلی قسط)

چند ماہ پہلے میں جاپان میں تھی۔ آذربائیجان کی ایک یونیورسٹی سے ڈاکٹر لطیفہ کی ای میل موصول ہوئی۔ انہوں نے مجھے ایک علمی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ ٹھیک ایک سال پہلے بھی مجھے یہ دعوت نامہ ملا تھا۔ اس وقت میں نے خوشی خوشی ویزہ لگوایا۔ دیگر تیاریاں بھی مکمل تھیں۔ تاہم آذر بائیجان کا سفر میری قسمت میں نہیں تھا۔ آخری وقت پر کوئی رکاوٹ آڑے آ گئی اور میں باکو نہیں جا سکی۔ کانفرنس

Read more

‎حسینی برہمن، ضمیر کے قافلے کا ایک خاموش مسافر

‎رات کا پچھلا پہر تھا آسمان پر چاند ہچکیاں لے رہا تھا اور زمین پر انسانیت بے حس سو رہی تھی لیکن وہ جاگ رہا تھا۔ وہ کون تھا؟ وہ تھا وقت کا مورخ، ایک سچ کا متلاشی، جو تاریخ کے اوراق سے گرد جھاڑنے بیٹھا تھا۔ اس نے بڑی بڑی سلطنتوں کو گرتے دیکھا تھا، بڑے بڑے ناموں کو مٹتے پایا تھا مگر ایک نام تھا، جو وقت کی خاک سے چمکتا رہا۔ حسینؑ۔ ‎ ”یہ کیسے ممکن ہے؟“

Read more

بس اب بہت ہو گئی

خبریں سب ہی سنتے، پڑھتے اور سمجھتے ہیں۔ ہر خبر کی تاثیر مختلف ہوتی ہے۔ ہر خبر مختلف ڈھنگ سے سماج کو متاثر کرتی ہے۔ خبر کے لیے وقت اہم ہوتا ہے۔ وقت گزرنے کے بعد وہی خبر ردی کا ٹکڑا بن جاتی ہے۔ یہ وقت فیصلہ کرتا ہے کہ خبر بریکنگ نیوز بنتی ہیں، یا اخبارات کے صفحوں میں گم ہو جاتی ہیں یا پھر دلوں کو چیر جاتی ہیں۔ یہ خبر سب نے سنی کہ اراکین پارلیمنٹ کی

Read more

خوش فہمی کا پنجرہ: جہاں مرد کی طاقت اس کا سب سے بڑا بوجھ بن جاتی ہے

ہمارے معاشرتی شعور میں یہ بات ایک ناقابلِ تردید حقیقت بن چکی ہے کہ یہ سماج مرد کے قبضے میں ہے، جہاں عورت ایک مظلوم اور بے بس مخلوق ہے جو اس کے ظلم و ستم کا شکار ہے۔ یہ ایک ایسی سچائی ہے جس سے انکار ممکن نہیں، مگر اس تصویر کا ایک اور رخ بھی ہے جو اکثر نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ یہ تصویر اس مرد کی ہے جو خود اسی نظام کا ایک قیدی ہے، ایک

Read more

نہ میں ماں اور نہ میں بیٹی ہوں

کتنی عجیب بات ہے کہ اس معاشرے میں تالیاں بجانے والے ہاتھوں کی آواز تو سب کو سنائی دیتی ہے، مگر ان ہاتھوں کی کہانی کوئی نہیں سنتا۔ ہماری گلیوں بازاروں میں رنگ برنگی ساڑھیوں میں لپٹے، کاجل میں ڈوبی آنکھوں والے یہ خواجہ سرا جب تالی بجاتے ہیں تو لگتا ہے جیسے پورا سماج ان کی بے بسی پر قہقہہ لگا رہا ہو۔ ان کی ہنسی، ان کا ناچ، ان کی مانگے تانگے کی دعائیں دراصل ہماری اجتماعی بے

Read more

تنہا۔ سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا اثر انگیز ناول۔ قسط نمبر 15

چلتے چلتے وہ رک گیا۔ جھک کر نگاہ اس نے اپنے پاؤں پر ڈالی۔ آج یہ کچھ زیادہ ہی گندے ہور ہے تھے۔ پیچھے خالی دھان کے پانی سے بھرے کھیتوں سے جو گزر آیا تھا۔ باڑی (مکان) اب قریب ہی تھی۔ بائیں ہاتھ میں پکڑی جوتے کی جوڑی دیکھ کر اس کا خوشگوار موڈ ایک ہی دم خراب ہو گیا۔ جُو کے کنارے بیٹھ کروہ غصے سے خود سے بولا: اتنے سالوں کا ہو گیا تو ڈھنگ کا جوتا

Read more

سمندر، جزیرے اور جدائیاں

پچاس کی دہائی میں سمندر کے ذریعے پاکستان سے برطانیہ جانے کا سفر شروع ہو گیا تھا بلکہ اس سے بھی قبل برصغیر پاک و ہند کے افراد بحری جہازوں میں ملازم ہو کر برطانیہ پہنچتے۔ ان میں سے کچھ واپس لوٹ آتے اور کچھ وہیں آباد ہو جاتے تھے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد برطانیہ کو اپنے ملک کی تعمیر نو کے لیے سستی افرادی قوت کی ضرورت محسوس ہوئی تو اس نے اپنی نو آبادیوں سے رابطہ کیا۔

Read more

چین یاترا، لوٹا اور مسلم شاور

ایک دفعہ پھر ہم چین یاترا کی تیاری کر رہے ہیں۔ ہم نے چین کا پہلا سفر 1995 میں کیا تھا۔ اس کے بعد کاروبار کے سلسلے میں تواتر سے چین جانا ہوتا ہے۔ پچھلے 30 سالوں میں چین بالکل بدل گیا۔ آج چین میں سب کچھ ہے چمکتی دمکتی موٹرویز کا جال، آسمان سے باتیں کرتی ہوئی عمارتیں۔ بلٹ ٹرین۔ ہوٹل میں روبوٹ بیرا۔ کیو آر کوڈ کے ذریعے خیرات لینے والا فقیر۔ ہر جگہ وائی فائی ہوٹل کے

Read more

مال گاڑی میں امانتیں

  ہماری تاریخ بالعموم تلوار، تاج اور تخت کے گرد گھومتی رہی ہے اور بڑے بڑے نام، فتوحات، معاہدے اور اِنقلابات ہمارے حافظے کا حصّہ ہیں، جبکہ اصل تاریخ اکثر اُن گمنام کرداروں کے اردگرد پروان چڑھتی ہے جو زمین کی خاموش رگوں میں خون کی طرح رواں دواں رہتے ہیں۔ اُنہی خاموش کرداروں میں سے ایک نام چودھری محمد اسمٰعیل کا ہے جن کی بے مثال قربانی، فرض شناسی اور دِیانت داری کو محمد حنیف بندھانی نے اپنی کتاب

Read more

بڑھاپے کی تنہائی اور ہمارے مشاغل

عرصہ قبل جب میری شادی بھی نہیں ہوئی تھی، میں مانچسٹر اپنے بھائی کے گھر پاکستان سے گھومنے کی غرض سے آئی تھی۔ ایک دن کسی اسٹور میں میرے برابر میں کھڑی ایک بہت بزرگ خاتون، غالباً اسی پچاسی سال عمر ہوگی، شیشے کے اندر رکھی جیولری دیکھ رہی تھیں۔ بڑھاپے سے کمزور اور کمر خمیدہ۔ وہ سرخ لباس میں ملبوس تھیں اور ان کے رخسار گلابی اور لبوں پہ لال رنگ کی لپ اسٹک تھی۔ اس وقت بحیثیت پاکستانی

Read more

ایکو فیمینزم: عورت، فطرت اور وجودی بقا کا مکالمہ

ایکو فینیزم جسے ماحولیاتی نسائیت کہا جاسکتا ہے۔ ایک فکری تحریک ہے جو عورتوں اور فطرت کے استحصال کے بارے میں معلومات دینے کے ساتھ آواز بلند کرتی ہے۔ اس نظریے کی بنیاد یہ تصور ہے کہ پدرشاہی نظام نے صدیوں سے نہ صرف عورت کو تسلط میں رکھنے کی کوشش کی ہے، بلکہ اسی طاقت ور ذہنیت نے قدرتی ماحول کو بھی ذاتی مفاد، استحصال اور قابض رویوں کے تحت برباد کر ڈالا۔ یہ نظریہ عورت اور فطرت کو

Read more

ہمارے اساتذہ کی تذلیل اور ہائی پیشیا آف اسکندریہ کا قتل

چند واقعات ایسے بھی نظروں سے گزرے اور سماعتوں سے ٹکرائے، کہ کسی جامعہ میں شرپسند طلبہ نے پروفیسر حضرات کو زد و کوب کیا مارا پیٹا یا تشدد پر آمادہ ہوئے یا کبھی انفرادی طور پر کسی طالب علم نے طاقت کے نشے میں اپنے استاد کی تذلیل کی۔ مگر اب تو یہ عفریت جامعات اور کالجوں سے نکل کر اسکولوں کی سطح تک پہنچ گیا ہے۔ یعنی اساتذہ بچوں کے ساتھ ساتھ ان کے والدین کے ہاتھوں تذلیل

Read more

بکری ذبح کے لیے تیار ہے

*سیلاب صرف پانی نہیں بہاتا*۔ وہ اپنے ساتھ کچھ ضمیر، کچھ مستقبل، اور کئی بے نام ہستیوں کو بھی بہا لے جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا موقع بن جاتا ہے جہاں کچھ لوگوں کی چاندی ہو جاتی ہے، حکومتیں عالمی امداد کے لیے کشکول اٹھا لیتی ہیں، اور سیاسی گروہ چوراہوں پر گدائی میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ مگر ان سب کے بیچ، کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی جیبیں خالی سہی، مگر دل انسانیت کے درد سے لبریز

Read more

ہان کانگ اور انسانی اعمال

2024 ء میں اپنے ناول ”دی ویجیٹیرین“ کے سبب بلا شرکتِ غیرے ادب کا نوبل انعام حاصل کرنے والی پہلی ایشیائی خاتون اور جنوبی کوریا کی معروف مصنفہ ہان کانگ کو ان کے منفرد اندازِ تحریر، انوکھے موضوعات، انسانی نفسیات کی داخلی پیچیدگیوں، شاعرانہ اسلوب اور انسانی درد و کرب کو حساس کو لفظوں میں سمو لینے کی حیرت انگیز صلاحیت کے سبب ایک خاص عالمی شہرت حاصل ہے۔ ان کے لکھنے کی ابتداء کہانی ’اسکارلٹ اینکر‘ ( 1993 ء

Read more

پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز: دور جدید کے غلام

پچھلے دنوں کسی کام سے گزرتے ہوئے ایک مسجد کے دروازہ پر ایک افسوس ناک منظر دیکھا کہ کمپنی کی نیلی وردی میں ملبوس ایک پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈ مالی امداد کی اپیل کا کتبہ اٹھائے اپنے اہل خانہ کے لئے لوگوں سے بھیک مانگ رہا ہے۔ ہمیں تجسس ہوا تو اس سے بات چیت کر کے حالات دریافت کیے کہ آخر یہ نوبت کیسے پہنچی۔ اس نے بتایا کہ وہ کراچی کے ایک صنعتی علاقہ میں واقع فیکٹری میں ڈیوٹی

Read more

کربلا اور آج کا سندھ

کربلا صرف ایک تاریخی سانحہ نہیں بلکہ ایک ابدی سوال ہے۔ سچ کے ساتھ کون کھڑا ہے؟ امام حسینؑ کا انکار فقط اقتدار کے خلاف نہیں تھا، وہ ہر اس نظام کے خلاف تھا جو انسان کو غلام، حق کو جرم، اور ظلم کو قانون بناتا ہے۔ سندھ جیسے خطے، جو صوفیوں، شعرا اور مزاحمت کی زمین رہا ہے، کربلا کی بازگشت کو آج بھی محسوس کرتا ہے۔ لیکن آج کا سندھ۔ خاموش ہے۔ شاہ لطیف، سچل سرمست، شیخ ایاز

Read more

عمر رسیدہ شہریوں کے لیے میرپور شہر ایک جنگل

No country for old man مشہور امریکی ناول نگار کارمیک مکارتھی کے 2005 میں چھپنے والے ناول کا نام ہے جس پر 2007 میں ہالی ووڈ میں فلم بھی بنی۔ اس فلم کو سال کی بہترین فلم سمیت چار آسکر ایوارڈ ملے۔ ”بوڑھے مردوں کے لیے کسی ملک میں جگہ نہیں“ یہ ایک سوال ہے کہ کیا دنیا میں واقعی اچھائی اور برائی کے درمیان توازن موجود ہے۔ ناول کے مرکزی کرداروں میں پولیس افسر ایڈٹام بیل ملک میں اخلاق

Read more

ایک شخصیت دو نسبتیں

پاکستان میں صنفی تفریق محض گھریلو یا سماجی مسئلہ نہیں، ایک ریاستی و انتظامی حقیقت بھی ہے جس کے اثرات عالمی سطح پر بھی ظاہر ہوتے ہیں۔ 2025 کے گلوبل جینڈر گیپ انڈیکس میں پاکستان کا شمار مسلسل بدترین کارکردگی والے تین ممالک میں ہوا ایک ایسی فہرست جس میں پاکستان کے اعداد و شمار سوڈان اور چاڈ جیسے قحط اور جنگ زدہ ممالک کے اعداد و شمار کے برابر کھڑے ہیں۔ معمولی رد و بدل کے ساتھ گزشتہ کئی

Read more

قاتل ریلا اور معصوم چیخیں

سوات کے دریا نے ایک بار پھر اپنا رنگ دکھایا لیکن اس بار صرف پانی کا بہاؤ نہیں بڑھا بلکہ اس بار ایک پورا خاندان بہہ گیا وہ خاندان جو صرف سیر کے لیے نکلا تھا، وہ بچے جو اپنے کھلونے ساتھ لائے تھے، وہ ماں جو اپنے ہاتھ سے پراٹھے بنا کر لائی تھی اور وہ باپ جو ہر لمحے کو کیمرے میں قید کر رہا تھا۔ دریا کی ایک طوفانی لہر نے سب کچھ ختم کر دیا۔ آپ

Read more

ظاہری شان کا فریب

وہ خطبہ جو انسانیت کا ضمیر تھا آج نصابی حوالہ بن کر رہ گیا۔ پیغام بھول گیا اور رسمیں نبھاتے نبھاتے زوال کی اتھاہ گہرائیوں میں جا گرے۔ میری ایک درد بھری پکار پہ پلیز خاموش نہ رہنا، ساتھ دینا، جو لوگ مجھے ذاتی طور پہ جانتے ہیں وہ میری التجا پہ ضرور عمل کریں جو نہیں جانتے اور مجھ ناچیز کی فریاد کو وہ اہمیت نہیں دیتے وہ اپنے دل و دماغ میں وہ آخری خطبہ ضرور زندہ کریں

Read more

چوری پکڑی گئی

آفس میں داخل ہوا تو دھواں دھار بحث جاری تھی۔ جس طرح صحافت اور سیاست کا چولی دامن کا ساتھ ہے اسی طرح خبروں کے دفتر میں خبروں پر حاشیہ آرائی لازم و ملزوم ہے۔ خبر گرم تھی کہ پاکستان تحریک انصاف کی سیٹیں چوری ہو گئی ہیں۔ ہر ایک اسی پر طبع آزمائی کر رہا تھا۔ کوئی سچ تو کوئی جھوٹ ثابت کرنے میں اپنے اپنے دلائل کے انبار لگا رہا تھا۔ لازم تھا کہ سیاسی معرکہ آرائی میں،

Read more

قیدی نمبر 804 کی قیدی: خیبر پختونخوا حکومت

19 لوگ سوات کے سیلابی ریلے میں نہیں ڈوبے 24 کروڑ پاکستانیوں سمیت دنیا بھر میں درد دل رکھنے والے ڈوب گئے، اتنی بے حسی، درجنوں لوگ 19 افراد کی دریائے سوات کے بپھرے پانی کے سامنے بے بسی دیکھ رہے تھے، لوگوں نے ریسکیو اداروں کو جگانے کے لئے کئی فون کیے مگر بے حس اور مردہ ضمیر سرکاری اہلکاروں نے کوئی جواب نہ دیا، پھر پانی کا بہاؤ انتہائی تیز ہو گیا اور پانی کی سطح بھی بلند

Read more

اپنی دوست سکوگاگ جھیل سے سگمنڈ فرائڈ کی باتیں

آج کینیڈا میں موسم گرما کا پہلا دن ہے۔ سورج کی روشنی میں کسی مہربان کے جذبات کی گرمی موجود ہے۔ میں سکوگاگ جھیل سے ملنے آیا ہوں۔ یہ جھیل میری دیرینہ دوست ہے جو میرے گھر سے تیس میل شمال میں رہتی اور بہتی ہے۔ میں ہر سال گرمیوں کے موسم میں اس سے ملنے آتا ہوں اور اس کے قریب ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر اس کے ساتھ ایک سہ پہر گزارتا ہوں۔ میں نے پچھلے چالیس

Read more

ننھے فواد کی مسکراہٹ

  ”صاحب! میرا فواد مرجھا گیا ہے۔ کوئی دیکھنے والا نہیں۔ کوئی سننے والا نہیں۔“ زندگی بعض اوقات ایسی گتھیاں بُن دیتی ہے جنہیں صرف آنسوؤں سے سلجھایا جا سکتا ہے۔ ہرے بھرے باغوں میں بھی کبھی کبھار خزاں اتر آتی ہے اور ماں کی ممتا سے محروم بچے کے لیے تو پوری کائنات ہی سنسان صحرا بن جاتی ہے۔ ایسے ہی کسی دن جب شہر کی عدالت کے در و دیوار پر ویرانی اور امید کی کشمکش بکھری ہوئی

Read more

جدید ناہید خان: اقتدار کے سائے اور رویوں کی بدلتی دنیا

دنیا میں جو لوگ اقتدار پہ قابض لوگ ہوتے ہیں ان کے قریبی ساتھی پہلے اقتدار کے مزے لیتے ہیں پھر ان کی یاد مین کتاب لکھ کر اپنے آپ کو اچھا اور ان کو ننگا کرتے ہیں، پاکستان مین بھی اور باہر بھی، بعض اوقات لوگ اقتدار کے اتنے قریب آ جاتے ہیں کہ وہ خود کو اقتدار سمجھنے لگتے ہیں۔ پھر ان کا چلنا، بولنا، دیکھنا اور برتاؤ۔ سب کچھ بدل جاتا ہے۔ بات صرف کسی وزارت یا

Read more

سوشل میڈیا کے ”پائیڈ پائیپر

مجھے یقین ہے کہ آٹھ سو سال سے بھی پرانے بچوں کے لیے لکھی جرمنی کی ایک لوک کہانی the Pied Piper of Hamelin (دی پائیڈ پائپر آف ہملین) کے مشہور کردار پائیڈ پائپر سے بہت سے لوگ واقف ہوں گے۔ کہانی کچھ اس طرح ہے کہ جرمنی کے ایک قصبہ ہملین میں 1284 ءمیں چوہوں کی یلغار سے بچنے کے لیے وہاں کے میئر نے ایم پائیڈ (رنگ برنگ لباس میں ملبوس) پائپر کو اجرت پہ چوہوں سے نجات

Read more

سوات کے آنسو، دریا کی گواہی، ریاست کی غفلت

جب سوات کی وادی میں بہار آتی ہے تو پہاڑوں پر برف پگھلتی ہے دریا شور مچاتے ہیں اور سرسبز وادیاں زندگی کا نغمہ گاتی ہیں۔ مگر افسوس کہ آج وہی وادی ایک اور بھیانک سانحے سے لرزاں ہے۔ سوات جہاں پہاڑ آسمان سے باتیں کرتے ہیں، دریا گنگناتے ہیں، اور زندگی ایک خوبصورت خواب کی مانند رواں دواں رہتی ہے۔ لیکن جون 2025 کا اختتام اس خواب کو خوفناک حقیقت میں بدل گیا۔ وہی دریا جو سیاحوں کے لیے

Read more

کشمیر بنا درد کی تصویر

گزشتہ دنوں مجھے ”یومِ یکجہتی کشمیر“ پر خصوصی تحریر کا پیغام موصول ہوا۔ خیر جواب تو دیا۔ اور میں سوچ میں پڑ گئی کہ کیا لکھوں؟ یوِمِ یکجہتی کشمیر آ گیا ہے ہر سال کی طرح ایک عام تعطیل اور محض رسمی نعروں تقریروں سے پھر رخصت کر دیا جائے گا ہمیشہ کی طرح۔ ہماری عمر کے نوجوان بلکہ ہمارے ماں باپ بھی آزادی کے بعد کی نسل ہیں اور کشمیر کی خونی و سیاہ تاریخ اس سے بھی قدیم

Read more

تاریخ کا سیاہ باب اور ایک پاکیزہ کردار

تاریخ کبھی کبھی ایسے موڑ پر آ کھڑی ہوتی ہے جہاں قومیں آزمائش کے کٹھن مرحلوں سے گزرتی ہیں۔ کچھ کردار بکتے، جھکتے اور مصلحتوں کی چادر اوڑھ لیتے ہیں، اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو وقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سچ بولنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ پاکستان کی حالیہ تاریخ کا ایک ایسا ہی سیاہ باب، اور اس میں ایک بے داغ، پاکیزہ کردار، سید منور حسنؒ۔ ایک الگ پہچان بن کر ابھرتا ہے۔ امریکی جنگ،

Read more

زندگی تیرے انجام پہ رونا آیا

دنیا بھر سے آئی ہوئی خبریں آج کل اس قدر دل دکھاتی ہیں کہ سارے جہاں کے کاموں کے ساتھ ساتھ بس یہی ایک خیال بار بار دل میں آتا رہتا ہے کہ زندگی جیسے بھی گزرے لیکن موت کا پتہ ہی نہیں ہوتا کہ کیسے آئے گی کس انداز سے آئے گی اور کس گھڑی ہمیں اٹھا لے جائے گی۔ اور اس کے بعد ہم صرف ایک خواب ہوں گے خیال ہوں گے۔ ابھی چند ہی دن پہلے کی

Read more

بچوں کی تربیت اور نشو و نما کے تین مختلف مراحل

عام طور پر ایک انسانی بچے کی تربیت اور نشو و نما کو تین مختلف مراحل میں تقسیم کیا جاتا ہے یہ وہ دورانیہ تصور کیا جاتا ہے جس میں زیادہ تر بچے اپنے والدین کے پاس وقت گزارتے ہیں سوائے ان بچوں کے جو کیڈٹ کالج یا اس قسم کے رہائشی اداروں میں داخلہ لیتے ہیں اور والدین سے ان کی ملاقات ایک ماہ بعد دو ماہ اور بعض حالات میں تین ماہ بعد ہوتی ہے۔ پہلا مرحلہ پیدائش

Read more

عشق، دھرم اور دربار کے درمیان پسی ہوئی لڑکیاں

درازہ شریف کے صحن میں شام اتر رہی تھی۔ فقیر دھمال ڈال رہے تھے، ڈھولک کی تھاپ پر وجد کی کیفیت میں صوفیانہ صدا بلند ہو رہی تھی: ”جنھن دل پیتا عشق دا جام، سا دل مست و مست مُدام۔ حقّ موجود، سَدا موجود! ”(سچل سرمست) یہ صدا فضا میں گونج رہی تھی، جیسے وقت رک گیا ہو، جیسے دربار نے کسی گہری خاموشی کو آواز دی ہو۔ دربار کی آخری سیڑھی پر ایک عورت بیٹھی تھی، کویتا، جو اب

Read more

معاشرے میں مرد کا استحصال اور جنسی گھٹن

عمومی طور پر اس معاشرے کو ”مرد کا معاشرہ“ کہا جاتا ہے اور یہی تاثر دیا جاتا ہے کہ عورت ایک انتہائی مظلوم مخلوق ہے جو مرد کی زیادتیوں اور اس کے ظلم و ستم کا شکار ہے۔ اس پدر سری سماج نے عورت کے حقوق غصب کر لیے ہیں اور اسے محض خدمت کرنے اور بچے پیدا کرنے کی مشین بنا دیا گیا ہے۔ عورت پر ظلم و ستم کی داستانیں کچھ اس انداز میں پیش کی جاتی ہیں

Read more

سوال اور سیکھنے کا رشتہ

  ہمارے ایک بزرگ استاد کہا کرتے تھے، ”جس دن تم نے سوال کرنا چھوڑ دیا، سمجھو کہ تم نے سیکھنا چھوڑ دیا۔“ یہ جملہ میں نے ایک سنسان سی دوپہر میں سنا تھا، لیکن اس کی گونج آج تک دل و دماغ میں موجود ہے۔ سوال وہ دروازہ ہے جو ہمیں لاعلمی کے اندھیرے سے نکال کر آگہی کی روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔ استادِ محترم کا یہ جملہ صرف ایک خیال نہیں بلکہ سیکھنے کا وہ بنیادی

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 45 : نئی زمیں، نیا آسماں

” شوہر بیوی کے ساتھ اپنی فرض شناسی پوری کرے اور بیوی بھی شوہر کے ساتھ ویسا ہی کرے۔ بیوی اپنے بدن کی مالک نہیں بلکہ شوہر ہے، اور اسی طرح شوہر بھی اپنے بدن کا مالک نہیں بلکہ بیوی ہے۔ “ 1۔ کرنتھیوں 7 : 3۔ 4 چٹاگانگ کے لیے پی آئی اے کی پرواز آدھے راستے سے زیادہ طے کرچکی تھی۔ عارف نے اپنے اور مریم کے لیے سب سے پچھلی قطار میں سیٹیں لی تھیں تاکہ پرائیویسی

Read more

ڈاکٹروں کی سیاست!

ڈاکٹری کا شعبہ ویسا ہی ہے جیسے وطن عزیز کے باقی سب شعبے۔ انتظامی اور تکنیکی امور میں تو گڑبڑ ہے ہی مگر ڈاکٹروں کے بیچ سفارش، فیورٹزم، دھینگا مشتی، جونیئرز ابیوز، سینئیرز کی آمریت اور بہت کچھ شامل ہے۔ ہم مشاہدات کی نہیں ان تجربات کی بات کر رہے ہیں جس کے بعد ہم نے یہ پلان بنایا کہ بس بہت ہو گئی۔ ٹیچنگ ہسپتال کے ہر وارڈ میں ایک بادشاہ ہوتا ہے جسے پروفیسر کہتے ہیں، اس کے

Read more

”کڑوا سچ“ ۔ میکسم گورکی کی کہانی

18 جون 1936 کو روس کے دارالحکومت کی فضا میں اداسی گھلی ہوئی تھی۔ اس کی پتھریلی گلیوں میں خاموشی، سوگ کی شکل اختیار کر چکی تھی۔ ایک بڑا ہجوم ایک جنازے کے ساتھ رواں دواں تھا، مگر یہ کوئی عام جنازہ نہ تھا۔ یہ ایک ایسے شخص کا الوداعی سفر تھا جس کے لفظ مزدور کے لہو میں گونجتے تھے، جو ظلم پر برستا نہیں تھا، صرف لکھتا تھا، اور اس شدت سے لکھتا تھا کہ تخت لرز اٹھتے

Read more

عائشہ خان: مُردوں کو کچھ نہیں چاہیے

منجھی اور خود میں ایک ادارہ، عائشہ خان اس جہان سے رخصت ہو گئیں۔ فنی دنیا کا ایک اور نقصان۔ پہلے پہل یہ خبریں آئیں۔ کبھی سوشل میڈیا پر، سبھی ٹی وی چینلز پر پھر یہ تفصیلات کہ کس حالت میں مردہ پائی گئیں؟ کیسے معلوم ہوا؟ کتنے دن بعد پتہ چلا؟ کیسی بے خبری، کسمپرسی اور تنہائی میں وقت نزع آیا اور ان کی روح قبض کر کے لے گیا؟ کس کو سب سے پہلے خبر ہوئی؟ کس نے

Read more

مشترکہ فیملی نظام ایک خوبرو اور حساس نوجوان کی جان لے گیا

حادثاتی طور پر ملنے والی یہ انمول سی زندگی جسے اپنے حساب سے جینا تو درکنار سوچنا بھی جرم ٹھہرا، کس قدر روایتی زنجیروں میں جکڑی ہوتی ہے، بظاہر آزاد پیدا ہونے والے انسان پر اس دنیا میں قدم رکھتے ساتھ ہی آبائی مذہب کی مہر چپکا دی جاتی ہے، بلوغت کی دہلیز تک پہنچتے سمے وہ کسی ایک مذہب کی تعلیمات کو حتمی سچائی کے طور پر تسلیم کر چکا ہوتا ہے، یہ جانے بغیر کہ کل کلاں کو

Read more

تنہا اور غیر شادی شدہ افراد کا مستقبل کیا ہے؟

ڈاکٹر خالد سہیل رضوانہ شیخ رضوانہ شیخ کا خط تسلیمات، ڈاکٹر خالد، امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ ہمارے درمیان سابقہ خط و کتابت کافی مثبت رہی ہے اور اس بنا پر لکھے گئے مضامین سے کئی لوگوں کو رہنمائی ملی ہو گی۔ کچھ دنوں سے میں ایک اور معاشرتی مسئلے پر غور کر رہی ہوں اور اس کے بارے میں پڑھ کر اور دیکھ کر افسوس بھی ہوا ہے۔ میرے ذاتی مشاہدے میں بھی یہ بات آئی

Read more

ہندو لڑکے کیوں محبت نہیں کرتے؟

ہر طرف خوف ہے کہ کب کس کی بچی اغوا ہو جائے اسی سبب بچیوں کو اسکولوں سے نکال کر گھر بٹھا لیا گیا ہے۔ خوف صرف مسلط نہیں بلکہ مارکیٹ کیا گیا ہے۔ سوہانہ شرما عدالت نے کم عمر سوہانہ شرما کو شیلٹر ہوم بھیجنے کا حکم صادر کیا۔ عدالت کے فاضل جج کے دل کو نہ سوہانہ کی سسکیاں اور نہ اس کے باپ کی آہ و زاریاں پگھلا سکیں کیونکہ انھیں کامل یقین ہے کہ بچی اغوا

Read more

بچے کی تربیت کا آغاز کب ہوتا ہے؟

ماں بننے کے آغاز کے ساتھ ہی بچے کی ذہنی اور روحانی تربیت کا آغاز ہو جاتا ہے۔ اس لیے یہ وقت بہت اہم ہے۔ اِس وقت کو عام طور پر تربیت کے سلسلے میں نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اور خیال کیا جاتا ہے کہ تر بیت کا آغاز پیدائش کے بعد یا بچے کے سکول داخلے کے ساتھ ہوتا ہے۔ جب کہ ایسا نہیں ہے۔ ماں بننے کا آغاز اور تربیت ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ دوران حمل جو

Read more

الوداعی پیغام: آصف حمید صاحب کی خدمات کا اعتراف اور قومی فریضہ

جب بھی کوئی سفارتی نمائندہ، خواہ وہ کسی بھی منصب پر فائز ہو، اپنی ذمہ داریاں مکمل کر کے رخصت ہوتا ہے، تو یہ محض ایک تقرری یا تبادلہ نہیں ہوتا۔ یہ لمحہ درحقیقت اس جذبہ خدمت کا اعتراف ہوتا ہے جو وہ اپنے ساتھ لاتا اور اپنی محنت سے چھوڑ جاتا ہے۔ آصف حمید صاحب کا ناروے میں بحیثیتِ ویلفیئر اتاشی کی ذمہ داریاں انجام دینا، صرف ایک سرکاری فریضہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسے رشتے کی تکمیل تھی

Read more

پرانی یادیں: ایوب خان بمقابلہ فاطمہ جناح

1965 پاکستان کی تاریخ کے اہم ترین سالوں میں سے ایک تھا۔ اس سال کے دوران دو ایسے اہم واقعات رونما ہوئے جنہوں نے پاکستانی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ 1965 کے آغاز میں، میں آٹھویں جماعت میں تھا لیکن اپنے ارد گرد اس وقت رونما ہونے والے واقعات کے بارے میں اپنے خیالات اور جذبات بہت واضح انداز میں یاد ہیں۔ اس مضمون کا مقصد 1965 میں وقوع پذیر ان تاریخی واقعات کو اپنے نقطہ نظر سے بیان

Read more

عائشہ خان کی رخصتی اور تنہائی کی اذیت

چند روز قبل پاکستانی اداکارہ عائشہ خان اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ ایک نامور فنکارہ، جنہوں نے کئی برسوں تک ڈرامہ انڈسٹری میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا، اب خاموشی سے اس جہانِ فانی کو چھوڑ گئیں۔ مگر اس رخصتی میں جو پہلو سب سے زیادہ دل کو چھو گیا، وہ تھا اُن کی آخری دنوں کی تنہائی، وہ سناٹا جو اُن کے اردگرد تھا، وہ چہرے جو نہیں آئے، وہ رشتے جو پیچھے رہ گئے۔ یہ صرف ایک

Read more

یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے

ہمارے حج پر جانے کا قصہ بھی بہت دلچسپ ہے۔ نسیم کو تو کب سے حج پر جانے کا شوق تھا اتنا کہ اسی شوق میں ڈبل سٹوری گھر اونے پونے بیچ ڈالا اور معاہدے کی پہلی شق شرط یہی رکھی کہ اس سال تمثیل حج کے لیے پیسے جمع کروائیں گے مگر با وجوہ یہ معاہدہ پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا مجھے حج سے پہلے عمرہ کرنے کا شوق تھا اب سوچتی ہوں تو اپنی نادانی پہ ہنسی

Read more

ابا جی کی یاد میں

میں تقریباً پیدائشی یتیم ہوں۔ پانچ چھ برس کا تھا جب سایہ پدری سے محروم ہو گیا تھا۔ مجھے ابا جی کا ہلکا سا ہیولا یاد ہے۔ ابھرے ہوئے رخسار، بڑی آنکھیں، چھوٹی داڑھی، سر پر پگڑی، کرتا اور تہبند میں ملبوس، کمزور جسم۔ ابا جی گاؤں میں تو کافی خوشحال اور فکر معاش سے آزاد تھے۔ لیکن اچھے مستقبل کے لیے جوں ہی گاؤں سے شہر نقل مکانی کی تو ان کی خوشحالی ختم ہو گئی۔ شہر میں آ

Read more

پاکستانی عوام کی حسرتیں اور بجٹ

جالب بدل سکے گی نہ حالت عوام کی ابھرے گی جب تلک نہ حکومت عوام سے پاکستانی عوام کی حسرتیں تو بہت ہیں لیکن بدقسمتی کا یہ عالم ہے کہ عوام حسرتیں ہی پال سکتی ہے، ان کی حسرتیں پوری کرے کون کیونکہ ان کی حسرتوں پر اک اژدھا رکھوالی پہ بیٹھا ہے اگر وہ اپنی حسرتوں کا اظہار بھی کریں تو وہ ان کی حسرتوں کو نگل جاتا ہے۔ پاکستانی عوام کی حسرتیں بھی بہت چھوٹی چھوٹی ہیں جیسا

Read more

چومکھی میں پھنسا ہوا امریکہ

مجھے ایسا کیوں لگتا ہے کہ غزہ کے بے گھر اور در بدر ہونے والے خاندان اپنی بے کسی پر اور معصوم بچوں کے لاشے اٹھانے والے ماں باپ حماس اور اسرائیل کی ہٹ دھرمی اور غزہ کے قتل و غارت پر اسرائیل کے قہر کا ساتھی حماس کو بھی سمجھ رہے ہوں گے، جبکہ بے گھر ہونے اور جوان لاشے اٹھانے والوں کی نظر میں اسرائیلی ظلم اور بمباری کے مجرم حماس اور اسرائیل ایک ہی صف میں کھڑے

Read more

خون سے کھیلتی جنگ یا سیاست

دنیا کی فضا میں آج بھی بارود کی بو بسی ہوئی ہے۔ ہوا میں گولہ بارود کی سیٹیاں، ماؤں کے آنسو اور بچوں کی معصوم آنکھوں میں خوف کے شعلے یہ سب کچھ ایک ایسی المناک داستان بیان کرتے ہیں جس کا ہر لفظ خون سے لکھا جا رہا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان تناؤ نے ایک بار پھر انسانیت کو سب سے بڑے امتحان میں لا کھڑا کیا ہے یہ جنگ نہیں ایک اجتماعی انسانی المیہ ہے جہاں

Read more

جاپان کا تاج محل ”نکو شرائن کی چندھیا دینے والی الوہی روشنی کے سامنے“ (آخری قسط)

سیکوسن میرے کہنے پر رک گئی اور میں قدم روک کر عظیم الشان عمارت کو دیکھنے لگا۔ جو اس قدر شاندار اور عظیم الشان تھی اور اس کا حسن اور جلال اتنا مسحورکن تھا کہ مجھے تیز بارش اور اس کے تند و تیز تھپیڑوں کا کوئی ہوش نہیں رہا۔ میں نہ جانے کتنی دیر تک بارش سے بے پرواہ ہو کر اس کو دیکھتا رہا۔ گیٹ کے باہر دونوں طرف گارڈین دیوا کے مجسمے ایستادہ تھے جو اس کا

Read more

ہندو لڑکے کیوں محبت نہیں کرتے؟

ہر طرف خوف ہے کہ کب کس کی بچی اغوا ہو جائے اسی سبب بچیوں کو اسکولوں سے نکال کر گھر بٹھا لیا گیا ہے۔ خوف صرف مسلط نہیں بلکہ مارکیٹ کیا گیا ہے۔ عدالت نے کم عمر سوہانہ شرما کو شیلٹر ہوم بھیجنے کا حکم صادر کیا۔ عدالت کے فاضل جج کے دل کو نہ سوہانہ کی سسکیاں اور نہ اس کے باپ کی آہ وزاریاں پگھلا سکیں کیونکہ انھیں کامل یقین ہے کہ بچی اغوا نہیں بلکہ اپنی

Read more

جس کا نکاح ہو چکا تھا…

وہ لڑکی میرے آفس آئی۔ نقاب میں لپٹی، چہرہ ڈھکا ہوا مگر لہجہ ایسا دھیما اور مدھم جیسے کوئی کان کے قریب چپکے سے کہہ رہا ہو: ”سر، میں اس لڑکے سے نکاح کر چکی ہوں۔ مگر اب وہ انکاری ہے۔“ شہر کے شمالی حصے میں ایک شام ایسی بھی آئی تھی جس نے سورج سے روشنی چھین لی تھی اور گھروں کے اندر قفل لگے چہروں پر صرف اندھیری دھوپ اتری تھی۔ دل کے موسموں میں بھی کبھی کبھی

Read more

ماں بولی کے ساتھ پنجابیوں کا سوتیلی ماں جیسا سلوک

مجھے نہیں معلوم کہ لغت کو پنجابی زبان میں کیا کہتے ہیں چنانچہ میں نے ایک پنجابی پیارے سے پوچھا اُنہوں نے جواب میں ’پنجابی اُردو لُغات‘ کے مُرتّب جمیل احمد پال کی لُغات کا وہ صفحہ وٹس ایپ کیا جس صفحے میں لفظ ’لغت‘ کے سامنے ’ڈکشنری‘ لکھا ہوا تھا! (ڈکشنری انگریزی زبان کا لفظ ہے نہ کہ پنجابی زبان کا ) ۔ ایک تنظیم جو پنجابی زبان کی ترقی و ترویج کی کوششوں میں مصروفِ پیکار ہے اُن

Read more

بھٹو کی پنکی کی سالگرہ: قربانی، جمہوریت اور جرات کی روشن علامت

 21 جون ہے وہ دن ہے جب وقت نے تاریخ کا دروازہ کھولا، اور ایک بیٹی نے جنم لیا، جو صرف ذوالفقار علی بھٹو کی پنکی نہیں تھی، بلکہ وہ ہر مظلوم کی امید، ہر جمہور پسند کی آواز، اور ہر ظالم کے لیے للکار بن کر ابھری۔ محترمہ بینظیر بھٹو ایک نام نہیں، ایک نظریہ تھا۔ ایسی بیٹی، جو تخت و تاج کی خواہش لے کر نہیں، قربان گاہ کا وعدہ لے کر پیدا ہوئی تھی۔ ان کی زندگی

Read more

بچوں میں ہونے والے ممکنہ حادثات، احتیاطی تدابیر اور ان کی روک تھام ( حصّہ اوّل)

بچپن زندگی کا وہ دور ہوتا ہے جس میں بچّہ دنیا کو سمجھنے، سیکھنے اور دریافت کرنے میں مصروف ہوتا ہے۔ تاہم یہی دور بّچوں کے لیے خطرات سے بھی بھرپور ہوتا ہے، کیونکہ ان کی حرکات غیر محتاط، تجسس سے بھرپور اور غیر متوازن ہوتی ہیں۔ بچّوں کی چھوٹی سی غلطی کسی بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے، جو جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے لیکن اچّھی بات یہ ہے کہ زیادہ تر حادثات مناسب احتیاطی

Read more

ثنا یوسف – والدین کی ایک غفلت

جب بھی کسی لڑکی کو جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے، تیزاب پھینکا جاتا ہے یا اسے قتل کیا جاتا ہے، تو ہمارا معاشرہ فوری طور پر ایک طرف مذمت کرتا ہے اور دوسری طرف لڑکی کے کردار، اس کے لباس، یا اس کے سوشل میڈیا استعمال کو مورد الزام ٹھہرانے میں مصروف ہو جاتا ہے۔ مگر بہت کم لوگ یہ سوچتے ہیں کہ ان واقعات کے پیچھے جو سوچ کارفرما ہے، وہ ایک گہری سماجی بیماری کی علامت

Read more

حجاج بن یوسف۔   (حصہ اول)

ظلم تباہی کی بنیاد ہے اگرچہ چھوٹا ظلم ہی کیوں نہ ہو اور پھر چھوٹا ظلم بڑے ظلم تک لے جاتا ہے۔ اور پھر یہ عادت بن جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں ملک اور عوام دونوں تباہ و برباد ہو جاتے ہیں۔ روایات میں آیا ہے کہ جب وہ پیدا ہوا تو اس نے اپنی ماں کا دودھ نہ پیا۔ ہر جتن اور کوشش کی گئی مگر سب بیکار۔ آخر کسی دانا نے مشورہ دیا کہ اس کو

Read more

“ایران میں رجیم چینج آپریشن: خود ”اندھیرے“ میں ہیں دُنیا کو دِکھاتے ہیں ”چراغ

نیتن یاہو اور امریکہ ایران میں، ”رجیم چینج“ (منتخب حکومت کی تبدیلی) کے لیے ایک عرصے سے امریکہ اور اسرائیل نے سر دھڑ کی بازی لگا رکھی ہے۔ قسم، قسم کی سازشیں، خفیہ حملے اور ہر ممکن پابندیوں کے علاوہ ایرانیوں کی ذہن سازی کے لیے ڈالروں کی برسات۔ لیکن اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود انہیں ہر بار ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ ایران کے اپوزیشن گروپس بھی موجودہ رجیم کا خاتمہ چاہتے ہیں لیکن ایرانی عوام اس مقصد

Read more

وہ شخص نہیں تھا

کہنے کو وہ اک شخص تھا لیکن شخص نہیں تھا۔ کوئی فرشتہ، کوئی درویش، کوئی دانا معلوم نہیں کیا تھا۔ مجازاً وہ بڑا بھائی تھا لیکن حقیقتاً اک نایاب اور قابل بھروسا دوست تھا۔ عمر کا ایک بہت بڑا گیپ ہونے کے باوجود اس سے ہم جولیوں اور ہم عمروں جیسی گپ شپ رہتی۔ ایسی باتیں جو ماں سے کرنی ہوتی ہیں میں اسی سے کرتا تھا۔ میں کالج سے گھر آتا تو اس کی جپھی میری پورے ہفتے کی

Read more

دروازہ کھلتا ہے از ابدال بیلا

میں نے اردو کے زیادہ تر شاہکار تو پڑھے ہیں مگر سب نہیں، اس لیے مصنف اور ناشر کے اس دعوے پر کچھ نہیں کہہ سکتا کہ ”دروازہ کھلتا ہے“ اردو کا سب سے ضخیم ناول ہے۔ اس کے کل اٹھارہ سو صفحات پڑھ کر ضخامت کا، احساس تو ضرور ہوتا ہے مگر ناول کہیں بھی بوجھ نہیں بنتا۔ ابدال بیلا کی کتاب ”بندہ“ پڑھی تو اس کی اور کتابیں بھی پڑھنے کا من کیا، آپ جانتے ہیں کہ یہ

Read more

تخلیق کا کرب

تیز ہوا کا ایسا جھونکا آیا کہ ننھی کلی کی باغ عدن میں آنکھ کھلی۔ اُسکے پیر ٹہنی پر جم نہیں رہے تھے۔ کبھی دائیں اور کبھی ہائیں گرتی پڑتی۔ تیز ہوا میں سورج کی کرن ایک طرف پتوں کی اوٹ سے کیاری میں داخل ہو رہی تھی۔ سب پودے اپنی اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ جیسے ہی شعاع ان کے وجود سے ٹکراتی پھول تو انگڑائیاں لیتے کھل جاتے اور ہوا میں جھومنے لگتے۔ یہ کلی ابھی

Read more

ہٹی دا ٹائم

’یار چھمے میرا ہٹی دا ٹائم ہو گیا اے، ہن چلیے، (یار چھمے میری دکانداری کا وقت ہو گیا ہے، اب چلیں)۔ ڈاکٹر انور سجاد میرے ٹی وی کے دفتر کوئی اڑھائی تین بجے آتے اور لمبی گپ شپ کرنے کے بعد ٹھیک ساڑھے چار بجے میز پر رکھی ہوئی اپنی گھڑی اور کار کی چابیاں اٹھا کر بغیر کسی علیک سلیک کے باہر نکل جاتے، میں ان کو ان کی نیلی فوکسی میں بیٹھتے دیکھتا جو تیزی سے چونا

Read more