وزیر خارجہ نے کشمیر آزاد کروانے کا آسان طریقہ بتا دیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مقبوضہ کشمیر کے بارے میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیر اطلاعات شبلی فراز کی پریس کانفرنس کی رپورٹنگ دیکھنے کے بعد یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ حکومت بھارت کے ساتھ کشمیر کے جبری الحاق کو تسلیم کرچکی ہے۔ اب وہ نعروں، الزام تراشی اور بیان بازی سے کشمیر کو آزاد کروانے کا دعویٰ کررہی ہے۔

 اس سلسلہ کا پہلا قدم 5 اگست کو یوم استقلال منا کر اور کشمیر ہائی وے کو سری نگر ہائی وے کا نام دے کر اٹھایا جائے گا۔ شاہ محمود قریشی کا دعویٰ ہے کہ اسی سڑک پر سفر کرتے ہوئے وہ اور دیگر پاکستانی سری نگر کی جامعہ مسجد میں نماز شکرانہ ادا کریں گے۔ دونوں وفاقی وزرا کے ہمراہ قومی سلامتی کے معاون خصوصی معید یوسف نے بھی پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ ان تینوں حکومتی نمائیندوں کا دعویٰ تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے دو برس میں کشمیر کو عالمی ایجنڈا پر لانے کے لئے ان تھک کام کیا ہے۔ وزیر خارجہ کے بقول اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اس دوران وزیر اعظم عمران خان نے کشمیر پر 120 بیانات جاری کئے، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا اور متعدد اجلاس طلب کئے۔ عمران خان نے خاص طور سے آزاد کشمیر اسمبلی سے خطاب کرکے کشمیر کی آزادی کے لئے گراں مایہ خدمات سرانجام دی ہیں۔ شاہ محمود قریشی اور شبلی فراز نے الزام لگایا کہ سابقہ حکومتیں اس مسئلہ کو دبانا چاہتی تھیں جبکہ عمران خان کی حکومت نے اسے زندہ کیا اور بقول ان کے اب دنیا کے ہر فورم پر اس معاملہ پر بات ہورہی ہے ۔

نعرے لگا کر کشمیر آزاد کروانے کی طرح سابقہ حکومتوں کو کشمیر پر سودے بازی کا ذمہ دار قرار دینا سب سے آسان کام ہے۔ لیکن کیا اس طرح کشمیر کے معاملہ پر موجودہ حکومت کا قد اونچا ہوجائے گا؟ بظاہر حکومتی وزیر اور مشیر یہی سمجھتے ہیں ، اسی لئے پریس کانفرنس میں ان کا موضوع تو کشمیر تھا لیکن وہ نشانہ اپنی سیاسی مخالف پارٹیوں کو بنانا چاہتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی بھارتی آئین میں مسلمہ خود مختار حیثیت کو ختم کرتے ہوئے اسے تین حصوں میں بانٹ کر بھارتی وفاق کے زیر انتظام علاقے بنا دیا ہے۔ اس طرح  مقبوضہ علاقے کو قانونی طور سے بھارت کا حصہ بنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ پاکستان اس سفارتی اور سیاسی چال کا کوئی مؤثر اور ٹھوس جواب دینے میں کامیاب نہیں ہؤا۔ تحریک انصاف کی حکومت کا مرغوب نعرہ یہی رہا ہے کہ ’بھارت نے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو منہ توڑ جواب دیا جائے گا‘۔ پوری دنیا اس قسم کے بیانات کی حقیقت سے آگاہ ہے ۔ اب تو پاکستانی عوام بھی ایسے بیانات کو سیاسی لیڈروں کی مجبوری سمجھ کر نظر انداز کرتے ہیں۔ کیا اسی طرح کشمیر کو پاکستان بنانے کا خواب پورا کیا جائے گا؟

شاہ محمود قریشی یوں تو ملک کے وزیر خارجہ ہیں اور خود کو پاکستانی تاریخ کا سب سے کامیاب سفارت کار سمجھتے ہیں لیکن کشمیر ہائی وے کا نام بدل کر سری نگر ہائی وے کرتے ہوئے وہ بھارت کے قبضہ سے کشمیر آزاد کروانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اگر عمارتوں اور شاہراہوں کے نام دشمن کے زیر تسلط علاقوں کے نام پر رکھنے سے ان پر قبضہ ممکن ہوتا تو دنیا میں نہ جنگیں ہوتیں اور نہ ہی سفارت کاری کی ضرورت پیش آتی ۔ بس یہ ہوتا کہ آج ایک علاقہ ہندوستان کا حصہ ہے تو کل وہ پاکستان بن جاتا۔ اس طرح تو شاہ محمود قریشی جیسے خوش گلو دہلی کے لال قلعہ اور تاج محل آگرہ کو بھی پاکستان کا حصہ بنوادینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ شاہ صاحب بھی جانتے ہوں کے کہ یہ خواب و خیال کی باتیں ہیں اور اس قسم کے دعوے کرنے سے حقیقی صورت حال تبدیل نہیں ہوتی۔

کیا ملک کے وزیر خارجہ اس حقیقت سے انکار کرسکتے ہیں کہ کشمیر جیسا اہم معاملہ حل کروانے کے لئے سب سے پہلے پاکستان کو طاقت ور ہونا پڑے گا۔ طاقت ور سے مراد عسکری صلاحیت یا زیادہ ایٹم بنانا نہیں ہے بلکہ اقتصادی طور سے مضبوط اور سیاسی لحاظ سے یک جان پاکستان مقصود ہے۔ شاہ محمود قریشی کی حکومت نے سیاسی ہم آہنگی اور قومی اتحاد کے ہر امکان کو ختم کیا ہے۔ وہ قومی مفاد کو سیاسی نعروں کی بھینٹ چڑھانا ہی سب سے اہم کارنامہ سمجھتی ہے۔ اس رویہ کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ تحریک انصاف اپنے انتخابی منشور کے کسی ایک نکتہ پر بھی عمل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ لیکن وہ اپنی ناکامی مان کر بہتر سیاسی ماحول پیدا کرنے کی بجائے سیاسی مقبولیت قائم رکھنے کے لئے گھسے پٹے سیاسی نعروں کو تواتر سے استعمال کرنا ضروری سمجھتی ہے۔ کشمیر ان میں سے سب مؤثر نعرہ ہے کیوں کہ اس کی حساسیت اور اس معاملہ سے پاکستانی عوام کی جذباتی وابستگی کی وجہ سے کوئی بھی حکومت کے کھوکھلے بیانیہ کو چیلنج نہیں کرتا۔

حکومت کے لئے اب کشمیر مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایسا رسیلا سیاسی نعرہ بن چکاہے جس کی چاشنی سے وہ اپنی ناکامیوں اور ناقص کارکردگی کی پردہ پوشی کا کام لے رہی ہے۔ تاکہ عوام کو مسلسل اس جھانسے میں رکھا جائے کہ عمران خان کی سربراہی میں تحریک انصاف بس کشمیر کو آزاد کروانے ہی والی ہے۔ جبکہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ مودی حکومت نے گزشتہ سال 5 اگست کو جو قانونی اقدامات کئے اور بعد میں جس طرح کشمیر کے ڈومیسائل قوانین کو تبدیل کرکے وادی میں غیر کشمیریوں کو آباد کرنے کے منصوبے کا آغاز کیا ہے، اس کے بعد پاکستان کشمیر پر اپنا مقدمہ پوری طرح ہار چکا ہے۔ بھارت نے کشمیر کو پارلیمنٹ کے قانون کے ذریعے تقسیم کیا اور اسے وفاق کے زیر انتظام علاقہ قرار دیا۔ یہ کسی حکومت کا کوئی سیاسی بیان نہیں تھا بلکہ مقبوضہ علاقے کو بھارت کا باقاعدہ حصہ بنانے کا پارلیمانی اقدام تھا۔ دنیا کے کسی ایک ملک نے بھی ان بھارتی اقدامات کو مسترد نہیں کیا۔ یعنی پوری دنیا نے بھارتی حکومت کے قانونی اقدام کی بالواسطہ توثیق کی ہے۔ شاہ محمود قریشی نہ جانے کون سے عالمی فورمز کی بات کرتے ہیں جہاں کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دیا جارہا ہے؟ جن فورمز پر بھی قرار داد یا مباحثہ کی صورت میں کشمیر کا ذکر آتا ہے ، وہاں یہ معاملہ کشمیریوں کے انسانی حقوق کے حوالے سے اٹھایا جاتا ہے۔ کسی بھی فورم پر کشمیر پر بھارت کے ناجائز قبضہ یا اسے غیر قانونی طور سے بھارت میں ضم کرنے کے اقدام کا حوالہ نہیں دیا جاتا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو امریکہ اور دیگر ممالک سنکیانگ کے ایغور مسلمانوں کے خلاف چینی حکام کی چیرہ دستیوں پر زیادہ سخت الفاظ میں تبصرہ کرتے ہیں لیکن کوئی یہ نہیں کہتا کہ یہ ممالک سنکیانگ کو چین کا علاقہ نہیں سمجھتے۔

عمران خان اور شاہ محمود قریشی اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر اٹھانے کو اپنی حکومت کا اہم ترین کارنامہ قرار دیتے ہیں حالانکہ پاکستان کے ہر سربراہ حکومت یا مملکت نے جنرل اسمبلی میں کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی بات کی ہے اور عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ ان قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لئے بھارت پر دباؤ ڈالے۔ ان باتوں کو ہمیشہ اتنی ہی رسمی حیثیت رہی ہے جتنی عمران خان کی جنرل اسمبلی میں کی گئی تقریر کو کہا جاسکتا ہے۔ اس روٹین اور رسمی تقریر کو ’کشمیر فتح کرنے‘ کے مترادف قرار دینا حکومت اور اس کے وزیر خارجہ کو کسی طور زیب نہیں دیتا۔ البتہ 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات کے بعد اقوام متحدہ کی قراردوں کو عملی طور سے دفن کردیا گیا ہے۔ کشمیر کی نئی حیثیت متعین کرنے کا اعلان بھارتی پارلیمنٹ کی طرف سے کیا گیا ہے۔ اس قانونی اقدام پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کسی قسم کا رد عمل دینا ضروری نہیں سمجھا۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ سلامتی کونسل بھی 70 برس قبل منظور کی گئی قراردادوں کو غیر مؤثر اور بھارتی قبضہ کو درست قرار دے رہی ہے۔ اس صورت حال میں شاہ محمود قریشی نہ جانے کہاں اور کیسے پاکستان کو سفارتی سطح پر کامیاب اور سرخرو سمجھ رہے ہیں۔

گزشتہ برس اگست میں کئے گئے بھارتی اقدامات کے بعد پاکستان کو غیر روائیتی اور انقلاب آفریں سفارتی اقدام کرنا چاہئے تھے۔ تحریک انصاف کی حکومت اس حقیقت کو سمجھنے اور کوئی حوصلہ مندانہ فیصلہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ کیوں کہ پاکستان کی کشمیر پالیسی روائیتی طور سے عسکری اداروں کی حکمت عملی اور خواہشات کی محتاج رہی ہے۔ سیکورٹی اداروں کی پالیسی کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے سوال پر جنگ کرنا مسئلہ کا حل نہیں ہے لیکن اس مسئلہ کو زندہ رکھ کر عسکری اداروں کو ملکی سلامتی کے لئے اہم قرار دینا ضروری ہے۔ اس طرح قومی وسائل میں معقول حصہ اور پالیسی معاملات میں مداخلت کا حق حاصل کیا جاتا ہے۔ عمران خان انہی اداروں کی پشت پناہی کی وجہ سے اقتدار میں آئے ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ ان کی حکومت کشمیر پر کھینچے گئے چوخانہ سے باہر نکلنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ اس چوخانہ میں رہتے ہوئے تو شاہراہوں کے نام تبدیل کرکے ہی کشمیر آزاد ہوسکتا ہے۔

پاکستان کو موجودہ حالات میں اپنی کشمیر پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے یہ اصول تسلیم کرنا ہوگا کہ کشمیر پر بھارت کی طرح پاکستان کا بھی کوئی استحقاق نہیں ہے۔ اس لئے سب سے پہلے ’کشمیر بنے گا پاکستان‘ کے بے مقصد اور گمراہ کن نعرے کو ترک کیا جائے۔ اس کے بعد کسی بھی علاقے کے لوگوں کے حق آزادی کے اصول کی بنیاد پر کشمیری عوام کے حق خود اختیاری کی جد و جہد کا ساتھ دینے کے لئے پالیسی تیا رکی جائے۔ یہ کام کشمیریوں کا سفیر بننے اور کشمیر کے لئے خون کا آخری قطرہ تک بہا دینے کا دعویٰ کرنے سے نہیں کیا جاسکتا۔ بلکہ ا س کے لئے کشمیریوں کو خود اقوام عالم میں اپنا مقدمہ پیش کرنے کا موقع فراہم کرنے میں کردار ادا کیا جاسکتا ہے۔ کشمیری عوام خواہ وہ آزاد کشمیر میں آباد ہوں یا مقبوضہ علاقے میں رہتے ہیں، نے عمران خان یا شاہ محمود قریشی کو اپنا سفیر مقرر نہیں کیا۔ پھر وہ کس بنیاد پر خود ہی ان کی نمائیندگی کرنے کو ہی کشمیریوں کی سب سے بڑی خدمت سمجھتے ہیں؟

پاکستان اپنے زیر انتظام کشمیری علاقوں کو زیادہ خود مختاری دے کر اور سفارتی سطح پر اپنا مقدمہ پیش کرنے کا موقع فراہم کرکے کسی حد تک کشمیریوں کے حقوق پر بھارتی شب خون کا جواب دے سکتا تھا۔ لیکن بدقسمتی سے اسلام آباد بھی اپنے زیر انتظام کشمیر کے بارے میں وہی رویہ رکھتا ہے جو نئی دہلی کی حکومت مقبوضہ کشمیر کے بارے میں اختیار کئے ہوئے ہے۔ پاکستانی قیادت خواہ یہ تصویر نہ دیکھنا چاہتی ہو لیکن پوری دنیا بلکہ کشمیریوں کی بڑی تعداد اب اس حقیقت کو جان چکی ہے ۔

 ہمہ قسم کشمیری قیادت کشمیر پر بھارتی اور پاکستانی تسلط کے خلاف ہے۔ پاکستان اس مطالبے کو تسلیم کرکے بھارتی سفارت کاری کا جواب دے سکتا تھا ۔ لیکن اسٹیٹس کو توڑنا عمران خان یا تحریک انصاف کے بس کی بات نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1575 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *