انفراسٹرکچر کیا ہوتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں پسماندہ پاکستان کے انتہائی پسماندہ ضلع مظفر گڑھ کی ایک زرخیز تحصیل علی پور کے صدر مقام ”شہرعلی پور“ میں پیدا ہوا تھا۔ جب میں چار برس کا تھا تب بھی میں گھر سے سڑک تک پہنچنے کے لئے اپنی ناک پر ہتھیلی رکھ کر گلی کے پچیس تیس قدم بھاک کر کے طے کیا کرتا تھا کیونکہ گلی کی بدرو غلیظ، پھوٹ پڑتی ہوئی اور متعفن ہوا کرتی تھی، نالی کی صفائی کے لیے جمعدار ایک بانس کے آگے دھجی اٹکا کے دھکیلتے ہوئے لے جاتے تھے اور گند نکال نکال کر نالی کے کناروں پر ڈھیر کر دیا کرتے تھے جو بعد میں پترے سے سینچ کر ٹوکری میں بھرتے اور آگے جا کر بڑا ڈھیر لگا دیا کرتے تھے۔

آج میں ستر برس کا ہونے کو ہوں، جب بھی گھر جاتا ہوں، ناک پر رومال رکھ کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا گلی کو پار کرتا ہوں، کبھی رومال بھول جاؤں تو سانس بند کرکے تیزی سے وہاں سے کھلی سڑک پر جاتا ہوں۔ گلی میں آنے جانے والے لوگ، تب مجھ بچے کی نازک مزاجی پر مسکراتے تھے اور آج ایک بڑے کو ایسا کرتے دیکھ کر حیران سے دکھائی پڑتے ہیں کیونکہ انفرا سٹرکچر بارے تب بھی عام لوگوں کا دھیان نہیں تھا اور آج بھی نہیں ہے۔

اگر ہوتا تو لاہور کی مال روڈ اور کراچی کا صدر دھوئیں سے نہ اٹا ہوتا۔ انفرا سٹرکچر یا ریاست کا زیریں ڈھانچہ ان اداروں، شعبوں، ان میں متعین افسروں اور اہلکاروں کو کہا جاتا ہے جن کا کام لوگوں کی زندگی کو سہل، صحت مند، صاف، موزوں اور پر آسائش بنانا ہوتا ہے اور اس میں حفظان صحت سے لے کر ماحولیات کے تحفظ اور صفائی کے ادارے، قدرتی آفات سے محفوظ بنانے اور آفت کے دوران بچانے اور متبادل سہولتوں کی فراہمی کے ذمہ دار ادارے، نظم و ضبط برقرار رکھنے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے، عدالتیں اور تفتیش سے متعلق شعبہ جات سبھی آتے ہیں۔

سڑکیں، نہریں، گلیاں، نالیاں، پارک، ہسپتال، ایمبولینس سروسز اور تدفین کا بندوبست، ان سب کو بہتر سے بہتر کرنا، یہ سب انفراسٹرکچرکے زمرے میں آتا ہے لیکن کیا عام لوگوں کو گلیوں کی بدحالی، نالیوں کی گندگی، سہولتوں کے فقدان سے کوئی علاقہ ہے؟ ا گر ہوتا تو تمام شہر اور قصبے ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹیوں سے بہتر نہ ہوتے تو کمتر بھی نہ ہوتے۔ آپ یقیناً سمجھ گئے ہوں گے کہ ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹیاں تعمیر کرنے والوں کا انفراسٹرکچر ترقی یافتہ ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ فوجی نہ تو بغاوت کرتے ہیں اور نہ ہی ”آوے ای آوے، جاوے ای جاوے“ کا شور مچاتے ہیں۔ پھر ہمارے ڈھیلے ڈھالے انفراسٹرکچر کے کسے کسائے کرتا دھرتا جن ”سول“ علاقوں میں مقیم ہوتے ہیں ان کی جانب بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔

کیا انفراسٹرکچر کے بدتر ہونے کی وجہ لوگوں کی بے توجہی اورافسروں کی نا اہلی ہی ہے؟ صرف یہی نہیں بلکہ یہ ریاست کے بالائی ڈھانچے کی ایک سوچی سمجھی پالیسی ہے کیونکہ اگر لوگوں کو بہتر اور معیاری سہولتیں میسر آ جائیں تو ان کی بدعنوانیوں سے حاصل ہونے والی آمدنیاں کم پڑنے لگیں گی اور لوگ ”گڈگورننس“ کی بجائے ”بیٹر مینیجمنٹ“ یعنی بہتر انتظام وا نصرام کا مطالبہ کرنے لگیں گے، بہتر سیاست اور بہتر سرکاری معاونت کا تقاضا کرنے لگیں گے۔

یہ تو سب کو اچھی طرح معلوم ہے کہ بڑے بڑے زمیندار اور وڈیرے اپنے علاقے میں سکول نہیں بننے دیا کرتے تھے کیونکہ انہیں خدشہ ہوتا تھا کہ پڑھ لکھ کر لوگ منہ کو آنے لگیں گے، ہسپتال نہیں تعمیر کرنے دیتے تھے، کسی طرح تعمیر ہو بھی جاتا تو اسے چلنے نہیں دیتے تھے کہ صحت بہتر ہو گئی تو سوچ بھی طاقتور ہو جائے گی، بالکل وہی رویہ بدتر افسرشاہی کے ہاتھوں میں کھیلنے والی ریاست اختیار کر لیتی ہے۔

انفراسٹرکچر کا مضبوط ہونا جہاں عوام کے مفاد میں ہوتا ہے وہاں یہ حکومت کی نیک نامی اور استحکام کا بھی موجب بنتا ہے لیکن ایسا ان ملکوں میں ہوا کرتا ہے جہاں سیاسی ادارے راسخ اور جمہوری ہوں اور سیاسی اداروں کا رسوخ اور جمہوری ہونا سماجی حلقوں کے نظم وضبط سے مربوط ہوا کرتا ہے لیکن جہاں سماج ہی شکست و ریخت کا شکار ہونے لگے وہاں یہ پورا سلسلہ ہی متزلزل اور منتشر ہو جایا کرتا ہے، سماجی شکست و ریخت کی بڑی وجہ معاشی بدحالی اور آمدنیوں کا عدم توازن قرار پاتا ہے، اور اس بنیادی برائی کا موجب ”انفراسٹرکچر“ کے نقائص ہی ہوتے ہیں جن کے باعث معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ یہ ایسا گھن چکر ہے جس سے نکلے بغیر قوموں کے آگے نکلنے کی راہ مسدود ہی رہتی ہے۔

آیا انفرا سٹرکچر کی بہتری کے ضمن میں عام لوگ بھی کردار ادا کر سکتے یا پھر محض ”سپرسٹرکچر“ کی صوابدید سے ہی اسے بہتر بنایا جا سکتا ہے؟ سپرسٹرکچر یعنی حکام بالا کے کان پر تو غیر جمہوری اور غیر مستحکم ریاستوں میں ویسے ہی جوں نہیں رینگتی لیکن جب کبھی جمہوری عمل رینگنے لگے تو ”عوام“ انفراسٹرکچر کی بہتری اور مضبوطی کی خاطر ایک بہت بڑا کردار ادا کر سکتے ہیں، ہاں البتہ اگر ان میں سماجی شعور بلند کیا جا چکا ہو تب۔

سماجی شعور کو بلند کرنے کا کام ہمیشہ پڑھے لکھے نوجوان اور ان کی سماجی بھلائی کی تنظیمیں کیا کرتی ہیں۔ اگر ہفتے میں دو روز اپنی گلیوں اور نالیوں کی صفائی، حفظان صحت کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ لے کر نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے گروہ در گروہ اپنے بڑوں کو بھی ساتھ لے کر اپنے علاقے کے منتخب کردہ اراکین اسمبلی کا دروازہ کھٹکھٹانے لگیں اور نعرہ بازی کی بجائے ان سے سنجیدہ بحث کریں تو وہ قائل یا کم از کم زچ ہو کر اس سلسلے میں پیشرفت کریں گے ہی۔ پھر یہی سماجی شعور سے مسلح نوجوانوں کے گروپ ذمہ دار محکموں اور افسروں تک بلا شورو شغب لیکن تسلسل سے عرض داشتیں پیش کر سکتے ہیں۔ انتخابات کے مواقع پر زور دے سکتے ہیں کہ صرف انہی امیدواروں کو ووٹ دیں گے جو مقامی سماجی مسائل کے سلسلے میں مسلسل آواز بلند کرنے کا تحریری ضمانت نامہ دیں۔

بجلی کی بندش، گیس کی کمی، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور سٹریٹ کرائمز ان سب کے خلاف متشدد اور محض نعرہ بازی پر مبنی مظاہرے کرانا بھی حکام اور خودغرض سیاسی دھڑوں کی سازش ہوتی ہے یوں لوگوں کی توانائی کو بنیادی مسئلے یعنی انفراسٹرکچر کی خرابیوں کو دور کرنے کے مطالبے سے ہٹا دی جاتی ہے۔ فروعی مذہبی مسائل اور سیاسی منافرت کو ہوا دینا بھی در حقیقت اسی بنیادی سقم سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کی خاطربرتا جاتا ہے، تاکہ ڈیفنس سوسائٹیاں اور بحریہ ٹاؤن بنتے رہیں۔

یقین جانیے اگر انفراسٹرکچر بہتر ہو تو سپرسٹرکچر کو فکر کرنی ہی پڑے گی کہ خود کو بہتر کرے کیونکہ سپرسٹرکچر تو بغیر منظم اور متشدد سیاسی قوت کے توسط سے خونی انقلاب لائے بغیر تبدیل نہیں کیا جا سکتا جبکہ انفراسٹرکچر کی بہتری کے لئے نوجوانوں کی سرکردگی میں ہزارہا منظم جتھے مرتب ہو سکتے ہیں جو ایک وقت متحد ہو کر جمہوری پر امن انقلابی قوت بھی بن سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply