خواجہ محمد اکرام الدین: ہمہ جہت علمی و ادبی شخصیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فروغ اردو زبان و ادب میں کوشاں شخصیات میں ایک فعال اور نہایت اہم نام خواجہ محمد اکرام الدین کا ہے۔ ڈاکٹر صاحب جواہر لعل نہرو یونیورسٹی ’نئی دہلی‘ انڈیا میں پروفیسر ہیں اور درس و تدریس کے عمل کو تیزی سے تبدیل ہوتی دنیا کے نت نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی کے بھرپور استعمال میں مہارت رکھتے ہیں۔ میرا ڈاکٹر خواجہ اکرام الدین سے باقاعدہ تعارف 2006ء میں اس وقت ہوا جب وہ شعبہ اردو کی دعوت پر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے زیر اہتمام منعقد کی جانے والی پہلی تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے لیے فیصل آباد تشریف لائے۔

یہ کانفرنس تنقید و تحقیق کے موضوع پر تھی۔ میں اس وقت بطور لیکچرار شعبہ اردو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں فرائض انجام دے رہی تھی۔ کانفرنس کی نظامت اور مہمان مقالہ نگاروں کی میزبانی کے فرائض بھی میری ذمہ داریوں میں شامل تھے۔ اس کانفرنس میں ڈاکٹر صاحب نے اردو تحقیق کے سلسلے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے نہایت عمدہ مقالہ پیش کیا تھا۔ اس کے بعد متعدد کانفرنسوں اور سیمیناروں میں شرکت کے لیے ہندوستان جانے کا موقع ملتا رہا جہاں میں نے ڈاکٹر خواجہ محمد اکرام الدین کو فروغ اردو کے سلسلے میں نہایت سنجیدہ عملی اقدامات کرتے ہوئے دیکھا۔

ڈاکٹر صاحب اپنے شاگردوں میں بے حد مقبول ہیں اور اس مقبولیت کی ایک بنیادی وجہ یہی ہے کہ وہ اردو تدریس و تحقیق کو فرسودہ طور طریقوں سے نکال کر اس میں جدت اور تازگی پیدا کرچکے ہیں جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک کے ریسرچ سکالرز اردو کو نہایت توجہ اور دلچسپی سے سمجھتے ہوئے اپنی تخلیقات و تحقیقات میں مشغول ہیں۔ ڈاکٹر خواجہ محمد اکرام الدین قومی کونسل برائے فروغ اردو دہلی ’ہندوستان کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں اور اس عرصے کے دوران میں انھوں نے پاکستانی اور ہندوستانی ادیبوں‘ شاعروں ’نقادوں اور محققین کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور نوجوان نسل سے ان کے مکالمے کو ممکن بنانے کے لیے موثر عملی اقدامات کیے۔

ڈاکٹر صاحب اردو کے اچھے استاد ہونے کے ساتھ ساتھ تنقید‘ تحقیق اور سفرناموں کے حوالے سے درجن بھر کتب کے مصنف بھی ہیں۔ اردو کی چند ہمہ جہت شخصیات میں ڈاکٹر خواجہ محمد اکرام الدین کا نام سر فہرست ہے۔ آپ ورلڈ اردو ایسوسی ایشن ’نئی دہلی‘ انڈیا کے سرگرم سرپرست ہیں اور کرونا کے سبب محدود ہوتی علمی و ادبی سرگرمیوں کے باوجود اردو کے اہم ادیبوں ’شاعروں اور محققین کے تعارف اور ان سے مکالمے کے آن لائن سلسلے کو نہایت مستعدی سے جاری رکھے ہوئے ہیں جو فروغ اردو کے ضمن میں نہایت مثبت اور خوش آئند پیش رفت ہے۔

اس سلسلے سے پوری اردو دنیا لیپ ٹاپ اور موبائل کی سکرین پر جلوہ گر ہو رہی ہے اور نوجوان نسل کو کتابوں کے ساتھ ساتھ اپنی محبوب شخصیات کی گفتگو اور ان سے مکالمے کے ذریعے بہت کچھ سیکھنے کے مواقع بہم ہو رہے ہیں بلاشبہ ان تمام سنجیدہ علمی و ادبی کاوشوں کے ذریعے اردو کا دائرہ کار وسیع سے وسیع تر ہو رہا ہے اور بین الاقوامی سطح پر بھی اردو کی مقبولیت اور پسندیدگی میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔ ڈاکٹر خواجہ محمد اکرام الدین اردو زبان و ادب کا بیش قیمت اثاثہ ہیں اور یہ بھی سچ ہے کہ ایسی ہمہ جہت اور سنجیدہ فکر شخصیات روز روز دنیا میں نہیں آتیں۔ میں ڈاکٹر خواجہ محمد اکرام الدین کے لیے دل کی گہرائیوں سے دعاگوہوں کہ وہ فروغ اردو کے حوالے سے مزید موثر بعملی اقدامات کرنے میں کامیاب ہوں کہ ہماری بقا اور ترقی، اردو کی بقا اور ترقی سے مشروط ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments