خوابوں کے سلسلے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نبوت کا سلسلہ اپنے اختتام کو پہنچا تو تاریخ اسلام میں خوابوں کے ایک نئے سلسلے نے اپنے سفر کا آغاز کیا۔ اکثر یہ خواب کسی شخص کی بڑھائی یا کسی بادشاہ یا فرد کے منصبی تقدس کی تائید میں ہوتے تھے یا کبھی کبھار کسی کے جہنمی یا جنتی ہونے کی روداد بڑے شوق سے خوابوں سے منسوب کر کے سنائی جاتی تھی اور خوب داد سمیٹی جاتی تھی۔ اکثر ان خوابوں کو دیکھنے والی ہستیاں نا معلوم ہوتی تھیں مگر خواب، کتابوں میں کوئی الہامی پیغام سمجھ کر ثواب کی نیت سے نقل کیے جاتے تھے۔

تعلیمات اسلام میں خواب کی تین اصناف کا ذکر ہے۔ اولاً وہ خواب جسے ”حدیث نفس“ کہتے ہیں یعنی انسان کے روزمرہ سے متعلق خواب، جو انسان دن بھر سوچتا یا کرتا ہے، وہی خواب میں بھی دیکھتا ہے۔ دوسری قسم، انسان کو ڈراؤنے خوابوں کا آنا ہے، اسلام اسے شیطانی امر قرار دیتا اور ایسا خواب آنے پر پہلو بدل کر لیٹنے، تعوذ پڑھنے یا زیادہ خوف میں دو نوافل پڑھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ تیسری قسم ایسے خواب ہیں جنھیں اللہ کی طرف سے بشارت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ خواب کبھی علامتی ہوتے ہیں جیسے حضرت یوسف علیہ السلام کا خواب اور کبھی غیر علامتی ہوتے ہیں جیسے نبی پاک ﷺ کو اعلان نبوت سے پہلے سچے خوابوں کا آنا۔

یہاں یہ امر قابل توجہ ہے کہ انبیاء کے علاوہ کسی بھی شخص کا خواب، صرف تیسری صورت میں بشارت تو ہو سکتا ہے لیکن کسی بھی امر کے لیے حجت یا دلیل نہیں بن سکتا۔ لیکن ہمارے ہاں لاکھوں ایسے خواب ہیں جنھیں کسی نا معلوم شخص نے دیکھا اور وہ کسی فقہی، کسی محدث، کسی ولی اور کسی مفسر کے اعلیٰ مرتبے کے بیان میں بطور دلیل پیش کیے جاتے ہیں اور بعض اوقات ایسے خواب کسی کی جان تک لے لیتے ہیں۔

ویسے علامہ اقبال کا پاکستان بنتا دیکھنے کا خواب خواب ہی رہا۔ اگرچہ 1947 میں برصغیر کی تقسیم تو ہوئی مگر پاکستان نا بن سکا۔ اب یہاں فیصلے اور معاملے عدل و انصاف یا میرٹ پہ ہونے کے بجائے خوابوں کی مدد سے ہوتے ہیں۔ بس فرق اتنا ہے کہ کوئی پہلے خواب دیکھتا ہے تو کسی کو بعد میں خواب سنانے کا موقع ملتا ہے۔

المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر برائی حقیقت مگر ہر اچھائی خواب ہے۔ بچوں کو شعور دیتی تعلیم خواب ہے، انصاف کی علمدار عدالتیں خواب ہیں، منصب کے لائق ذمہ دار حاکم خواب ہے، مذہب کا اصل چہرہ اور مخلص مذہبی راہنما خواب ہیں، دن دیہاڑے کسی لٹنے والے کے لیے انتظامیہ اور حفاظتی ادارے خواب ہیں، ہزاروں سفید پوش خاندانوں کے لیے عوام دوست حکومتی پالیسیاں خواب ہیں اور معاشرے کے نظم کو برقرار اور پر امن رکھنے والے ذمہ دار اور مخلص شہری خواب ہیں۔

لاکھوں بے بس اور لاچار آہیں حقیقت ہیں جو کسی گمشدہ کی تلاش میں ہر روز سینے کی تہہ سے اٹھتی ہیں، تعلیم کے نام پہ کاروبار حقیقت ہے، منصف کا دوہرا کردار حقیقت ہے، مذہب کا منفی اوتار حقیقت ہے، انصاف کی تلاش میں برسرپیکار عوام حقیقت ہیں، بھوک سے مرتے افراد حقیقت ہیں اور خاکم کی بکتی دستار حقیقت ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ آخر کب تک اچھائی خواب رہے گی، آخر کب تک نظام کی حدود سے باہر ہم خواب کی دنیا میں تسکین کا سامان ڈھونڈتے رہیں گے، آخر کب تک منصف کی لاپرواہی کے باعث کوئی کسی کا فیصلہ کرتا رہے گا، آخر کب تک ہم ایک دوسرے سے شکوے کرتے رہیں گے، کسی کو مارتے اور مرتے رہیں گے۔ اگر نظام نے عدل و انصاف کی راہ نا اپنائی تو ایسے خوابوں کی سلسلے جاری رہیں گے، جو کہ در اصل نظام کا کھوکھلا پن ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply