کیا حال ہے، کیا دکھا رہے ہو؟

مرزا غالب کے بازیچہ اطفال کا سب بڑا فسانہ زندگی ہے۔ جو اپنے آپ میں تو صرف سانس کے چلنے کا نام ہے، جو سانس رک جائے تو جمود، گویا انسان ٹھنڈا اور فسانہ ختم۔ مگر جہان رنگ و بو میں زندگی ایک تلخ حقیقت ہے جو معاشرے کے بنائے اصولوں پہ چلنے کا نام ہے، اگر آپ چلنے میں ناکام ٹھہرے تو یعنی مقصد حیات کا جنازہ نکلا۔ سکول کی دہلیز پہ پہلے قدم سے لے کر موت کو

Read more

مقبوضہ کشمیر نہیں جانا صاحب

”مقبوضہ کشمیر نہیں جانا، غوری ٹاؤن جانا ہے، مناسب پیسے مانگیں۔“ راول ایکسپریس اپنے مقررہ وقت 12:30 پہ ہی لاہور ریلوے اسٹیشن سے راولپنڈی کے لیے روانہ ہوئی۔ سارا سفر خیریت سے ہوا اور ٹرین اپنے مقررہ وقت سے دس منٹ پہلے ہی، چکلالہ اسٹیشن پر پہنچی۔ ایک تو اس وقت یہ اسٹیشن بالکل سنسان تھا اور یہاں صرف گنتی کے چند مسافر ٹرین سے اترے، جو فوراً سے پہلے اپنے اپنے ٹھکانوں کی طرف نکل گئے۔ میں نے رات

Read more

سب کا اپنا اپنا چاند

سطح سمندر سے تقریباً 2100 میٹر کی بلندی پر واقع اپنے آبائی گاؤں، ارنیاں سراں میں آج کی رات ایک بار پھر چودھویں کا چاند اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا ہے، آج دسمبر 2023 کی اٹھائیسویں رات ہے اور تین دن بعد 2024 شروع ہو جائے گا، مگر میں آج اس چودھویں کے چاند میں وہ تمام چیزیں تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہوں جو بچپن میں بڑی آسانی سے دکھائی دے جاتی تھیں اور

Read more

تیسری منزل اور ابا کا باغیچہ

ہجرت شاید اپنے مقدر میں ہے۔ ابا ساری زندگی کسب معاش کے لیے آئے روز نئے شہروں کا رخ کرتے رہے اور اگر کسی ایک شہر میں بھی رہے تو آج اگر ایک جگہ دیہاڑی مکمل کی تو اگلے دن دیہاڑی لگانے کے لیے کہیں اور جانا پڑا۔ ابا بتاتے ہیں کہ 1980 کی دہائی میں جب انھوں نے باقاعدہ کام شروع کیا تو مزدور کی یومیہ اجرت پچیس روپے تھے، جو اب دو ہزار کے لگ بھگ تو ہے

Read more

میرے طلبا کا خود سے شکوہ اور دکھ کیا ہے؟

کچی عمر کے غم، نا پختہ اذہان کو بھٹکا دیتے ہیں۔ وہ نوجوان نسل جسے اپنے مقاصد کا تعین کر کے کسی منزل کی راہ لینی چاہیے، وہ کچی عمر کے عشق میں لذت کی رسیا بنتی ہے تو جینے کا سلیقہ کھو دیتی ہے اور ذہنی آزمائش یا ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتی ہے۔ آخر یہ سب کیسے ممکن ہوتا ہے کہ ایک نوجوان کسی دوسری جنس کے فرد کے ساتھ زندگی جینے کے خواب دیکھے مگر اس

Read more

ہم خودکشی کیوں کرتے ہیں؟

انسانی جسم میں نا جانے دل کیوں ایک اضافی چیز لگتا ہے۔ جہاں ایک طرف دماغ بھی کسی بھی انسان کے لیے بہت اہم ہے، جس سے زندگی گزارنے سے متعلق معیاری سوچ جنم لیتی ہے اور انسان درست اور غلط میں فرق کرتا ہے۔ دوسری جانب دل جذبات سے معمور، انسان کو کبھی خوشی اور کبھی خوش فہمی میں مبتلا رکھتا ہے، کبھی کسی کا دلدادہ اور کبھی کسی کا سامنا کرنے کے نام سے بھی بھڑک اٹھتا ہے۔

Read more

ہتھیلی سے ہاتھ کرنا

غریب مذہبی گھرانوں کی طرح ہمارے گھر کا ماحول بھی تعویذ یا دم سے علاج کرنے کی طرف زیادہ مائل تھا۔ اس کی دو بنیادی وجوہات تھیں : اولا تو گاؤں میں کوئی باقاعدہ طبیب یا طب خانہ نہیں تھا، دوم، گاؤں میں ان دنوں کچھ ایسے مخلص بزرگ موجود تھے کہ جو غربا کو عزیز رکھتے تھے اور جب کبھی خدا کا کلام پڑھ کر دم کرتے، تو سانپ کے ڈسے ہوئے مریض بھی آنکھوں کے سامنے صحت مند

Read more

کیا عورت واقعی آدھی ہے؟

جب کسی معاشرے میں افراد کے لیے ذمہ داریوں کی تکمیل اذیت بن جائے، جب عدالتیں انصاف کی فراہمی میں تاخیر کرنے لگیں، جب حفاظتی ادارے مجرموں تک رسائی میں کوتاہی کا شکار ہوں اور جب حکمران معاشرے کو درپیش مسائل حل کرنے اور عدل قائم کرنے میں دلچسپی کا مظاہرہ نا کریں، تو پھر معاشرہ جہالت کے ہاتھوں بری طرح تباہی کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہی حال قبل از اسلام عرب معاشرے کا بھی تھا کہ جہاں افراد

Read more

ریاست کشمیر سے مسئلہ کشمیر تک

تقسیم برصغیر کے وقت برصغیر میں موجود تقریباً 500 سے زائد ریاستوں کو اپنا مستقبل، دو قومی نظریے کی بنیاد پر وجود میں آنے والی ریاست پاکستان یا کہ بھارت جو ایک سیکولر ریاست ہونے کا مدعی تھا، کے ساتھ الحاق کرنے کا حق تفویض کیا گیا۔ اور یہ طے پایا کہ کسی بھی ریاست کی اکثریت اگر مسلم ہے تو وہ ریاست پاکستان کا حصہ بنے گی اور اگر اکثر شہری ہندو دھرم سے ہوئے تو ایسی ریاست کا

Read more

ریل کی سیٹی اور ادھوری کہانیاں

اب کی بار ریل سٹیشن سے روانہ ہوئی تو اب تک ایک دوسرے کو خالی نگاہوں سے دیکھنے والے اجنبی مسافر ایک دوسرے کے سامنے یوں کھلنا شروع ہو گئے جیسے کسی بوڑھے کو برسوں بعد کوئی سہارا ملا ہو۔ اب باتوں میں کچھ ایسی روانی آ چکی تھی کہ چار گھنٹے بعد اگلے سٹیشن پہ پھر سے علیحدہ ہو جانے کا احساس تقریباً مر چکا تھا اور ہر کوئی دوسرے سے یوں مخاطب تھا کہ گویا اسی در سے اس کے غم کا مداوا ہو گا۔

میں جو ہر بار کی طرح اس بار بھی ریل چلنے سے تقریباً ایک گھنٹہ پہلے سٹیشن آیا تھا اور ریل کی روانگی تک پلیٹ فارم پہ بنتی مٹتی کئی کہانیوں کو ایک کرسی پہ کسی مجسمے کی مانند بیٹھا دیکھتا رہا۔ سٹیشن کے دروازے سے داخل ہوتے لوگ، کسی ایک ڈبے کی تلاش میں دو چار قدم ادھر ادھر لپکتے اور پھر کسی دوسرے ڈبے میں گھس جاتے۔ اور کبھی کبھار کسی کو رخصت کرنے کے لیے آنے والا تھکا ہارا شخص واپس سٹیشن کے دروازے سے باہر نکل جاتا۔

حسن معراج کی کتاب ”ریل کی سیٹی“ اس بار میں دوران سفر پڑھنے کے لیے اپنے ساتھ لایا تھا۔ کتاب ریل میں سوار ہزاروں کہانیاں کہنے سے تو چپ تھی مگر پٹڑی کے اردگرد بستیوں کی لازوال داستانیں اس کے اوراق میں بکھری پڑیں ہیں۔

بٹوارے کے قصے، قبلے سے متصادم سجدے، سوچوں کے مقدس رہبر، فوجوں کے فولادی لشکر، محبتوں کے پیکر، تھکے ہارے قافلے، مٹی کی محبت اور اس جیسے کئی دیگر مضمون اس کتاب کا حصہ تھے۔ ہر مضمون اوسطا تین صفوں میں سمایا مگر بات کتاب میں ہی عنوان کے تحت مکمل ہوتی اور قاری کتاب کہیں نہ کہیں مزید کا طلب گار رہ جاتا۔

یہی حال ہماری ریل کا بھی ہے، یہاں بھی کہانیاں اور وعدے ادھورے رہ جاتے ہیں۔ جو کبھی تو سیاسی ہوتے ہیں اور کچھ نامکمل رہ جانے کے بعد سیاسی بن جاتے ہیں۔ انگریز سرکار کی یہ وراثت ہمیں اتنی محترم ہے کہ آج تک بھی تقریباً ویسی ہی ہے۔ ہم نئی ٹرینیں چلانے کے وعدے ایک نئے انجن اور کئی پرانے ڈبوں سے پورے کرتے ہیں اور تین سیٹوں والی برتھ کبھی کبھی چار سے میں تقسیم کرتے ہیں مگر ریل پھر بھی جیسے تیسے چلتی رہتی ہے۔

سامنے بیٹے ظہور احمد کی کہانی بھی ابھی آدھی تھی۔ جمال بھائی نے تو بس اپنا تعارف کروایا تھا، لیکن چچا رزاق جو ابھی تک سب سے زیادہ بولے تھے اب سو چکے تھے اور تین نوجوان ہماری باتوں سے لاتعلق اپنے موبائل فون استعمال کر رہے تھے اور سفر کے آغاز سے ہی کسی اور دنیا میں مگن تھے۔ میں بند کتاب اپنی جھولی میں تھامے اب جمال اور ظہور بھائی کی باتیں سننے میں مگن تھا کہ اتنے میں ریل کی سیٹی بجی، یہ راولپنڈی کا چکلالہ سٹیشن تھا جہاں میں نے تو اترنا تھا مگر یہاں سے حسن معراج کی ”ریل کی سیٹی“ کا آغاز ہونا تھا۔

Read more

کیا مذہبی مدارس تعلیمی ادارے شمار ہو سکتے ہیں؟

ان مدارس کی مختلف مسلکی فرقوں کے اعتبار سے تقسیم بھی ہے کہ ہر ادارہ اپنے مسلک کی ترویج یا اپنے مسلک کے مطابق تعلیمی نظام کو ڈھالتا ہے تاکہ وہ اپنے مسلک کا کام کر سکے۔ یوں ان تمام اداروں کا ایک سائبان تلے جمع ہو کر کام کرنا کافی کٹھن ہے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ ادارے بعض معاملات میں حکومتی توجہ نہ ملنے یا حکومت کی ان اداروں کے نمائندوں کو اجلاسوں میں نہ بلانے یا دیگر وجوہات کی بنیاد پر بھی اپنی الگ مسجد بنا لیتے ہیں جہاں حکومتی اداروں کے عمل کی نفی ایک طرف تو رہتی ہی ہے لیکن یہ ادارے مزید طبقاتی نظام کے بھنور میں دھنس جاتے ہیں

Read more

خوابوں کے سلسلے

نبوت کا سلسلہ اپنے اختتام کو پہنچا تو تاریخ اسلام میں خوابوں کے ایک نئے سلسلے نے اپنے سفر کا آغاز کیا۔ اکثر یہ خواب کسی شخص کی بڑھائی یا کسی بادشاہ یا فرد کے منصبی تقدس کی تائید میں ہوتے تھے یا کبھی کبھار کسی کے جہنمی یا جنتی ہونے کی روداد بڑے شوق سے خوابوں سے منسوب کر کے سنائی جاتی تھی اور خوب داد سمیٹی جاتی تھی۔ اکثر ان خوابوں کو دیکھنے والی ہستیاں نا معلوم ہوتی تھیں مگر خواب، کتابوں میں کوئی الہامی پیغام سمجھ کر ثواب کی نیت سے نقل کیے جاتے تھے۔

تعلیمات اسلام میں خواب کی تین اصناف کا ذکر ہے۔ اولاً وہ خواب جسے ”حدیث نفس“ کہتے ہیں یعنی انسان کے روزمرہ سے متعلق خواب، جو انسان دن بھر سوچتا یا کرتا ہے، وہی خواب میں بھی دیکھتا ہے۔ دوسری قسم، انسان کو ڈراؤنے خوابوں کا آنا ہے، اسلام اسے شیطانی امر قرار دیتا اور ایسا خواب آنے پر پہلو بدل کر لیٹنے، تعوذ پڑھنے یا زیادہ خوف میں دو نوافل پڑھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ تیسری قسم ایسے خواب ہیں جنھیں اللہ کی طرف سے بشارت کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ خواب کبھی علامتی ہوتے ہیں جیسے حضرت یوسف علیہ السلام کا خواب اور کبھی غیر علامتی ہوتے ہیں جیسے نبی پاک ﷺ کو اعلان نبوت سے پہلے سچے خوابوں کا آنا۔

Read more

بچوں کی تعلیم اور والدین کا رویہ

سکول کی دہلیز پہ پہلے قدم سے لے کر موت کو گلے لگا لینے تک اس دنیا میں یہاں کے بنائے سماجی ضابطوں کے عین مطابق جینا بھی موت ہے۔ جہاں آپ عقل و شعور کی رعنائیوں سے کوسوں دور ہوس کے کڑوے جام ہر وقت اپنے ہاتھ میں تھامے رکھتے ہیں اور کوشش یا دوڑ میں شمولیت کو اہمیت دینے کے بجائے بس کامیابی کے راگ الاپتے ہیں اور یہ کبھی بھی طے نہیں کرتے کہ اگر کامیاب نا

Read more

گرد میں لپٹی کتابیں اور ہوسٹل کا کمرہ

جامعہ نعیمیہ میں یہ میرا تعلیمی آخری سال تھا۔ ستمبر 2012 میں میٹرک کا امتحان مناسب نمبروں کے ساتھ پاس کرنے کے بعد والد صاحب نے مجھ سے میرے مستقبل کے بارے میں سوال کیا کہ کیا مجھے لاہور پڑھنے کے لئے بھیج دیا جائے؟ ”جی، جہاں آپ بھیجیں گے میں پڑھوں گا“ میں نے جواب دیا۔ ابا مجھے لاہور لے آئے، یہ بات نا انھیں ٹھیک سے معلوم تھی کہ وہ مجھے کہاں داخل کروائیں گے اور نا میں

Read more

ارطغرل: تاریخ کا افسانوی رنگ اور حقیقی کردار

پاکستان ایک الاسلامی ریاست ہے۔ الف لام کی اضافت اس لیے کہ یہاں اسلام کئی فلیورز میں ایک ہی وقت میں میسر رہتا ہے اور عوام بھی اپنے مطلب کے لئے کبھی اس در کبھی اس در اور کبھی در بدر ہی رہتی ہے۔ گزشتہ برسوں میں رمضان کی پرمسرت ساعتوں کو چار چاند لگانے کے لئے نجی ٹی وی چینلز خوب سر گرم رہے۔ کہیں مسلمانوں کو یقینیت سے کوسوں دور لے جا کر تکا لگانے کا خوب پیغام ملا تو کہیں دودھ، گھی، چینی اور دیگر اشیاء خورد و نوش سے ایسے گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، سونے اور دیگر قیمتی اشیاء کا خزانہ برآمد ہوا کہ ایک بار پھر سے گوروں نے سوچنا شروع کر دیا کہ گزشتہ صدی میں جہاں جہاں سے جو نکلا ہم لے آئے مگر یہ والا ذریعہ کیسے ہم سے رہ گیا۔

Read more

مذہبی تشریحات اور وبا کے دنوں کی اسلامی دنیا

مذہب انسان کو مہذب بناتا ہے اور مذہب ایک لامحدود طاقت کے تصور سے انسان کو تدبر و تفکر کی تعلیم دیتا ہے۔ وہ ذات حقیقی ہے اور تمام کائنات کی خالق بھی، لیکن اس تک رسائی ہر انسان کا بس نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ ذات اپنے نمائندوں کے توسل سے احکامات اور تعلیمات بندوں تک پہنچاتا ہے اور بندوں کو اپنے اردگرد موجود اشیا ، جو انواع میں جدا جدا، ذائقوں میں منفرد، جسامت میں مختلف ہیں، پہ غور و فکر کی تعلیم دیتا ہے اور اسے ہی کسی بھی بندے کو اپنی ذات تک رسائی کا ذریعہ بتایا ہے۔

Read more

عورتوں کے حقوق: حقیقت کا ایک پہلو

ابن آدم سہل پسند ہے بغیر تگ و دو کے میسر آنے والی ہر چیز اس کی فطرت کو خوب بھاتی ہے۔ بھوک لگنے کی صورت میں گھر بیٹھے ’فوڈ پانڈا‘ سے کھانا منگوا لینا کہیں جانے کے لیے ’کریم‘ یا ’اُبر‘ کی سہولت سے لطف اندوز ہونا یا کسی عزیز کی عیادت کے لیے جانے کی بجائے فون کال کے ذریعے طبیعت دریافت کرنا بھی اب انسان کی فطرت کا حصہ بن چکا ہے۔ لیکن یہ سہل پسندی علم

Read more