اب کی بار ریل سٹیشن سے روانہ ہوئی تو اب تک ایک دوسرے کو خالی نگاہوں سے دیکھنے والے اجنبی مسافر ایک دوسرے کے سامنے یوں کھلنا شروع ہو گئے جیسے کسی بوڑھے کو برسوں بعد کوئی سہارا ملا ہو۔ اب باتوں میں کچھ ایسی روانی آ چکی تھی کہ چار گھنٹے بعد اگلے سٹیشن پہ پھر سے علیحدہ ہو جانے کا احساس تقریباً مر چکا تھا اور ہر کوئی دوسرے سے یوں مخاطب تھا کہ گویا اسی در سے اس کے غم کا مداوا ہو گا۔
میں جو ہر بار کی طرح اس بار بھی ریل چلنے سے تقریباً ایک گھنٹہ پہلے سٹیشن آیا تھا اور ریل کی روانگی تک پلیٹ فارم پہ بنتی مٹتی کئی کہانیوں کو ایک کرسی پہ کسی مجسمے کی مانند بیٹھا دیکھتا رہا۔ سٹیشن کے دروازے سے داخل ہوتے لوگ، کسی ایک ڈبے کی تلاش میں دو چار قدم ادھر ادھر لپکتے اور پھر کسی دوسرے ڈبے میں گھس جاتے۔ اور کبھی کبھار کسی کو رخصت کرنے کے لیے آنے والا تھکا ہارا شخص واپس سٹیشن کے دروازے سے باہر نکل جاتا۔
حسن معراج کی کتاب ”ریل کی سیٹی“ اس بار میں دوران سفر پڑھنے کے لیے اپنے ساتھ لایا تھا۔ کتاب ریل میں سوار ہزاروں کہانیاں کہنے سے تو چپ تھی مگر پٹڑی کے اردگرد بستیوں کی لازوال داستانیں اس کے اوراق میں بکھری پڑیں ہیں۔
بٹوارے کے قصے، قبلے سے متصادم سجدے، سوچوں کے مقدس رہبر، فوجوں کے فولادی لشکر، محبتوں کے پیکر، تھکے ہارے قافلے، مٹی کی محبت اور اس جیسے کئی دیگر مضمون اس کتاب کا حصہ تھے۔ ہر مضمون اوسطا تین صفوں میں سمایا مگر بات کتاب میں ہی عنوان کے تحت مکمل ہوتی اور قاری کتاب کہیں نہ کہیں مزید کا طلب گار رہ جاتا۔
یہی حال ہماری ریل کا بھی ہے، یہاں بھی کہانیاں اور وعدے ادھورے رہ جاتے ہیں۔ جو کبھی تو سیاسی ہوتے ہیں اور کچھ نامکمل رہ جانے کے بعد سیاسی بن جاتے ہیں۔ انگریز سرکار کی یہ وراثت ہمیں اتنی محترم ہے کہ آج تک بھی تقریباً ویسی ہی ہے۔ ہم نئی ٹرینیں چلانے کے وعدے ایک نئے انجن اور کئی پرانے ڈبوں سے پورے کرتے ہیں اور تین سیٹوں والی برتھ کبھی کبھی چار سے میں تقسیم کرتے ہیں مگر ریل پھر بھی جیسے تیسے چلتی رہتی ہے۔
سامنے بیٹے ظہور احمد کی کہانی بھی ابھی آدھی تھی۔ جمال بھائی نے تو بس اپنا تعارف کروایا تھا، لیکن چچا رزاق جو ابھی تک سب سے زیادہ بولے تھے اب سو چکے تھے اور تین نوجوان ہماری باتوں سے لاتعلق اپنے موبائل فون استعمال کر رہے تھے اور سفر کے آغاز سے ہی کسی اور دنیا میں مگن تھے۔ میں بند کتاب اپنی جھولی میں تھامے اب جمال اور ظہور بھائی کی باتیں سننے میں مگن تھا کہ اتنے میں ریل کی سیٹی بجی، یہ راولپنڈی کا چکلالہ سٹیشن تھا جہاں میں نے تو اترنا تھا مگر یہاں سے حسن معراج کی ”ریل کی سیٹی“ کا آغاز ہونا تھا۔
Read more