اورنگزیب: ایک شخص اور فرضی قصے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

برصغیر ہند و پاک میں مغل عہد کی تاریخ نگاری میں تعصب اس قدرسرایت کیا ہوا ہے کہ عوامی حافظے میں مغل بادشاہوں سے متعلق بہت سی فرضی داستانوں نے دستاویزی حیثیت حاصل کرلی ہے۔ چھٹے مغل بادشاہ اورنگزیب سے منسوب ایسی داستانوں کی اس قدر بہتات ہے کہ نہ صرف عوامی حافضے میں بلکہ علمی مباحث میں بھی ان کی حیثیت مسلم ہو چکی ہے اور بعض اوقات ان سے نبرد آزما ہونا مشکل ہو جاتا ہے۔ ان داستانوں نے اورنگزیب کو یا تو مقدس و متبرک شخصیت بنا دیا ہے یا تو ایک ظالم و جابر اور ہند وؤں کے کٹر دشمن۔

اور یہ بھی کہ ہند وپاک کے دانشوران موجودہ بر صغیر کے جملہ مسائل کے بانی کی حیثیت سے انہیں پیش کرتے ہیں۔ اورنگزیب کے عقیدت مندوں کا حلقہ ہو کہ ان کے مخالفین کا دونوں حلقوں کے دانشوران نے اورنگزیب کی شبیہ کو مزید مشتبہ بنا دیا ہے۔ اورنگزیب کے عہد حکومت کی تاریخ کے ساتھ کچھ مؤخین نے انصاف کرنے میں خواہ مخواہ ان کا دفاع کر نا شروع کر دیا اوراس عمل سے ان کی شخصیت کو مزید پر عناد بنا دیاہے۔

اورنگزیب پر امریکی مصنفہ آڈری ٹروشکی کی 2017 میں شائع ہوئی کتاب Auranzeb: The man and the Myth نہایت ہی متوازن اور مبنی برحقائق ہے۔ اس کتاب کو لکھنے کی وجہ سے ہندوستان کی بر سر اقتدار جماعت بی جے پی اوراس کے حامیان ٹویٹر پر آئے دن اس مصنفہ سے متصادم رہتے ہیں۔ اقبال حسین اور فہد ہاشمی نے اورنگزیب پر آڈری ٹروشکی کی اس کتاب کو اورنگزیب: ایک شخص اور فرضی قصے کے نام سے اردو میں منتقل کیا ہے۔ اس کتاب نے جہاں علمی حلقے میں اورنگزیب پر ایک نئے بیانیے کی ابتدا کی ہے وہیں اورنگزیب کی بہت سی مسموم اور مسخ شدہ تصاویر کو مٹانے کا کام بھی کیا ہے۔

کتاب کے پیش لفظ میں مصنفہ لکھتی ہیں : ’ایک مؤرخ کے نقطہ نظر سے اورنگزیب اولا ایک مغل بادشاہ ہیں جن کے بارے میں زیادہ تر لوگ افسوسناک حد تک کم جانتے ہیں۔ یہ کتاب ایک تاریخی اورنگزیب کو ان کی تمام تر پیچیدگیوں کے ساتھ قارئین کی کثیر تعداد سے متعارف کرانے کی ایک کوشش ہے‘ ۔ شایداورنگزیب کو کثیر تعداد تک متعارف کرانے کی کوشش ہی اردو میں اس کتاب کے ترجمے کا باعث بنی ہوگی۔

1658 سے 1707 تک ہندوستان پر حکومت کرنے والے بادشاہ اورنگزیب عالمگیرسے موجودہ ہندوستان میں انتہادرجے کی نفرت کی جاتی ہے۔ جدید نظریے کے حامل مفکرین نے اس بادشاہ کے بارے میں یہ مشہورکر دیا ہے کہ وہ ہندوؤں کے تئیں شدید قسم کے بغض کے شکار تھے۔ اس بیانیے کی رو سے بڑے پیمانے پر ہندوؤں کی نسل کشی کرنے، ہزارہا ہندو اور جین مندروں کو منہدم کرنے، اور اپنی انتظامیہ میں ہندوؤں کی تعداد میں کمی کرنے کے الزامات ہیں۔

اپنے بھائیوں کو قتل اور والد کو قید کروانے، آرٹ، کلچر، موسیقی، مغل رسوم و روایات کو برباد کرنے، علمی منصوبوں پر پابندی لگانے کے ساتھ ہی ساتھ ہندو تہواروں و عبارتوں پر پابندی عائد کرنے کے لئے بھی اورنگزیب کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مصنفہ نے اس کتاب میں اورنگزیب پر لگنے والے ان سبھی الزامات کا اس وقت کے دستیاب تاریخی مواد کی روشنی میں جائزہ لیا ہے اور درجنوں جگہ اس بات کو دہرایا ہے کہ جدیدپیمانوں کے مطابق عہد وسطیٰ کے اس بادشاہ کی تنقید سے تاریخ کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے۔

مصنفہ نے اورنگزیب کا جائزہ ان کے زمان و مکاں کے مطابق لیا ہے۔ بھائیوں کے قتل کے الزام سے اورنگزیب کو بری کرنے کی کوشش نہیں کی گئی ہے بلکہ مغلوں کے یہاں خلف اکبر (primogeniture) کی روایت کی غیر موجودگی کی وجہ سے ان سے پہلے جہانگیر اور شاہجہاں کے یہاں بھی پائی جانے والی ایسی مثالوں سے اس مسئلے کو سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ اپنے والد کوقید کرنے کے جرم کے لئے اورنگزیب کونہ صرف سلطنت کے قاضی القضاۃ، شریف مکہ، اور شاہ ایران کی تنقید وں کا سامنا کرنا پڑا تھابلکہ یہ نا زیباعمل تمام زندگی ان کے ضمیر پر ایک بوجھ بھی بنا رہا تھا۔

پروفیسر ٹروشکی نے اس کتاب میں یہ بھی دکھایاہے کہ اورنگزیب کے عہد میں ہزارہا کی بجائے صرف کچھ ہی درجن مندروں کو منہدم کیا گیا تھا اور ان کے انہدام کی وجہ سیاسی ہے نہ کہ مذہبی۔ 1669 میں بنارس کے وشوناتھ مندر کے انہدام میں مغل قید سے شیواجی کے فرارمیں مندر کے قریبیوں کے ملوث ہونے کاشک ظاہر کیا گیا ہے جبکہ 1670 میں متھرا کے کیشو دیو مندر کے انہدام کی وجہ کی جڑ میں وہاں کی جاٹ بغاوت اور عبدالنبی خاں کا قتل ہو سکتا ہے۔

تایخی مآخذوں میں ہندوستان میں سیاسی رنجشوں کے مد نظر خود ہندو راجاؤں کے ذریعہ ایک دوسرے کے مندروں کی لوٹ اور انہدام کے نشانات چھٹی صدی سے ہی ملتے ہیں۔ مصنفہ نے اورنگزیب کے ذریعہ مندروں اور ہندو برادریوں کو دی گئی جاگیروں اور مالی امداد کے ساتھ ساتھ ان کے تحفظ کے لئے جاری کیے گئے فرمانوں اور خطوط پر ان کی پوری تفصیلات کے ساتھ ایک تشفی بخش مباحثہ شامل کیا ہے۔

شیواجی سے اورنگزیب کی دشمنی میں مذہبی عناد کی بجائے سیاسی قوت کی رساکشی کی وضاحت کی گئی ہے۔ دوسرے مغل بادشاہوں کے مقابلے اورنگزیب کے امراء، درباریوں اور افسران میں ہندوؤں کی کثیرتعداد کا بھی ذکرکیا ہے۔ ہاں، یہ سچ ہے کہ دوسرے مغل بادشاہوں کے مقابلے اورنگزیب کا جھکاؤ مذہب کی طرف زیادہ تھا۔ انہوں نے اپنی دیکھ ریکھ میں فتاویٰ عالمگیری کے منصوبے کو آٹھ سالوں میں مکمل کروایا۔ جزیہ کو دوبارہ بحال کروایا، بادشاہ کے عوامی درشن اور کچھ خاص قسم کی موسیقی پر پابندی بھی عائد کی۔

مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اپنے سیاسی منصوبوں کے حصول میں اگر کبھی کوئی اسلامی اصول آڑے آیا تو انہوں نے وہاں اپنے سیاسی مفاد کو اولیت دی۔ کچھ جگہوں پرہولی اور دیوالی کے جشن پر پابندی لگایا تو کہیں محرم اور عید کے جشن کے ساتھ بھی ایسا کیا۔ یہاں تک کہ احمد سرہندی کی کچھ منتخب تحریروں پر بھی پابندی لگا دیا تھا۔

اورنگزیب کے تعلق سے مصنفہ کے یہ الفاظ بہت ہی قیمتی ہیں : ’کوئی ایک خواص یاعمل اورنگزیب عالمگیرکی شخصیت کا احاطہ نہیں کر سکتا ہے، جو تقریباً پچاس سالوں تک مغلیہ تخت کی زینت رہے اور ایک طویل عرصے سے لوگوں کے ذہن پر غالب ہیں‘ ۔ کتاب کا اردو ترجمہ شاندار ہے اور موضوع سے مترجمین کی لگن صاف عیاں ہے۔ لہٰذا ہر وہ شخص جسے اورنگزیب سے عقیدت، نفرت یا اس موضوع سے دلچسپی ہے اسے یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔

# منظر علی خان، دہلی کے ایک آر ٹی آئی ایکٹیوسٹ کی حیثیت سے معروف ہیں۔ ملک بھر میں اردو تعلیم کو عام کرنے کی غرض سے فعال ہیں۔ اس تعلق سے ان کے انٹرویوز اور خبریں اندرون ملک اخبارات و ٹیلی ویژن میں مسلسل شائع ہوتے ہیں۔

Latest posts by منظر علی خان، دہلی، ہندوستان (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
منظر علی خان، دہلی، ہندوستان کی دیگر تحریریں

Leave a Reply