ہمیں تصویروں کو نہیں پڑھانا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچے کچھ دن کے لیے نانی کے ہاں چلے جائیں تو کیسا لگتا ہے۔ آپ بچوں کی تصویر سے باتیں کر کے جی بہلاتے ہیں۔ کیا کبھی کوئی تصور کر سکتا تھا کہ اساتذہ اسکول جائیں، مگر بچے اسکول میں نہ ہوں۔ بنا ٹیچرز کے اسکول ہو ایسا خواب تو بچے دیکھتے ہیں۔ لیکن اسکول میں بچے نہ ہوں، ٹیچرز خواب میں بھی نہیں سوچ سکتے۔

وہ بچے جن کے شور سے اسکول کی عمارت سہمی رہتی تھی۔ جن کے بھاگتے دوڑتے قدم اسکول کی عمارت کو لرزائے رکھتے تھے۔ آج ساکت و جامد کھڑی ہے۔

اسکول کی کینٹین کا بند دروازہ قطار توڑتے اور ایک دوسرے کو دھکا دیتے بچوں کے انتظار میں وا ہونے کو بے تاب ہے۔ اسکول کی ایک ایک چیز ترتیب سے ہے۔ جس گھر میں بچے نہ ہوں جو اسکول بچوں سے خالی ہو، اس کی ترتیب میں ایک سوگ کی کیفیت ہوتی ہے۔ یوں لگتا ہے اسے جگہ پر رکھ کر مقام سے ہٹا دیا گیا ہے۔

تختۂ سفید کب سے آڑی ترچھی لکیروں کے انتظار میں ہے۔ کھیل کا سامان الگ خاک لپیٹے کونے میں پڑا ہے۔

کیمرج سسٹم کا سیشن اگست سے شروع ہوا ہے۔ آن لائن کلاسز اسکولوں میں باقاعدگی سے شروع ہو چکی ہیں۔ یقین نہیں آتا کیمرے کے سامنے بیٹھے یہ وہی بچے ہیں۔ ٹیچر کی آنکھوں کے سامنے پھدکنے والوں کو وبا نے نکیل ڈال دی ہے۔

یہ مودب بچے جن کی شرارتیں ہمیں بے ہلکان کر دیا کرتی تھیں آج تصویر بنے کیمرے کے سامنے خاموش بیٹھے ہمیں کوفت میں مبتلا کر رہے ہیں۔

ہمیں تصویروں کو نہیں پڑھانا۔

اس سے پہلے کہ بچوں کی شوخیاں بے جان کیمرے کے سامنے ساکت بیٹھے رہنے سے مدھم پڑ جائیں۔ ان کی شرارتیں ساکن ہو جائیں۔ ان کے قہقہے سمٹ جائیں۔ ان کی تالیاں سست پڑ جائیں۔ ان کی آنکھوں کی چمک اسکرین میں مدغم ہو جائے۔ ان کی ذہانت کو زنگ لگ جائے۔

خدا کے لیے اسکول جلد کھول دیے جائیں۔
ہمیں تصویروں کو نہیں پڑھانا۔ جیتے جاگتے بچوں کو پڑھانا ہے۔ تاکہ ہم بھی آکسیجن لے سکیں۔
ہمیں تصویریں نہیں چاہئیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply