خدا کی سلطنت اور ہنستی مسکراتی جاپانی لڑکی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپ تازہ تازہ یو نیورسٹی سے فارغ التحصیل ہوں، عمر ہو آپ کی محض تئیس سال، قد پانچ فٹ یعنی نریندر مودی سے بھی آدھا فٹ کم اور چڑھنا پڑے آپ کو پہاڑ تو آپ کیا کریں گی؟ اس کا جواب قحط الرجال کی طرح قحط النسا کے اس دور میں ملنا مشکل ہے لیکن اتنا ضرور ہے کہ جواب مری یا زیادہ سے زیادہ نتھیا گلی کے پہاڑ تو ہو سکتے ہیں، کوئی بھی خاتون بھولے سے بھی کے ٹو کا نام نہیں لے گی۔ (شادی شدہ خواتین تو بالکل نہیں کہ کہیں شوہر ہنسی خوشی بیگم کا سامان ہی باندھنا نہ شروع کر دے)۔

یکم اگست 2006 کو چشم فلک نے دیکھا (اتنی بلندی پر چشم فلک ہی دیکھ سکتا ہے) کہ کے ٹو کی چو ٹی پر دو جاپانی بچے پہنچ  گئے ہیں۔ لڑکا اکیس سال کا اور لڑکی یوکا کماٹسو، زندگی کی تیئس بہاریں دیکھ چکی تھی۔ بندہ پوچھے (نیچے کھڑا ہو کے) کہ اگر ایسی طویل عمر گزارنے کے بعد آپ کو خود کشی کا اتنا ہی شوق ہے اور تو پھر اتنی دور آنے کی زحمت کیوں کی؟ وہیں جاپان میں کسی بلند عمارت سے کود جاتے۔ جاپانیوں کو تو ویسے بھی خود کشی سمیت دنیا کا ہر کام نہایت سلیقے سے کرنا آتا ہے۔

اور اگر کسی پہاڑ پر ہی خود کشی کرنا تھی تو ٹوکیو سے سو کلو میٹر دور، کے ٹو کے ہم شکل کوہ فیوجی پر چلے جاتے۔ ویسے بھی کوہ فیوجی کے سائے تلے، اوکی گھارا نامی وہ جنگل ہے جو دنیا بھر میں خود کشیوں کے حوالے سے خاصا مشہور ہے۔ گزشتہ نصف صدی میں پانچ سو سے زیادہ افراد یہاں بڑے اہتمام سے خود کشی فرما چکے ہیں۔ جب اموات کی تعداد بہت بڑھ گئی تو جاپانیوں نے اپنے مخصوص مہذب انداز میں جنگل کی جانب جانے والے راستوں پر خود کشی سے منع کرنے والے سائن بورڈ آویزاں کر دیے۔ قربان جایئں جاپانیوں کی سادگی پر۔ ان سائن بورڈوں کو آویزاں کرنے کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوے اور کئی لوگوں نے زندگی کو ایک اور موقع دینے کی حکومتی درخواست کو شرف بازیابی بخشا۔

بہرحال جاپان کی کے ٹو مہم کے لیڈر نے اس مہم کی وجہ یونیورسٹی کے الپائن کلب کی پچاسویں سالگرہ بتائی۔ بندہ پوچھے، بھئی اگر خوشی منانی ہی ہے تو کسی ہوٹل میں کیک وغیرہ کاٹ کر، اخبار کے لیے تصویریں کھینچوا لیتے أللہ اللہ خیر صلا۔ سالگرہ کے موقع پر کے ٹو آ کر دو ننھی جانوں کو خطرے میں ڈالنا کہا ں کی دانشمندی ہے۔

یوکا کماٹسو کی مہم ایک اور حوالے سے بھی اہم تھی۔ اس نے پہاڑ پر چڑھنے کے لیے روایتی راستہ ابروزی روٹ کی بجائے، قریبی واقع متبادل اور زیادہ خطرناک راستہ اپنایا جو کہ سیذن روٹ کہلاتا ہے۔ یوکا کماٹسو اس روٹ سے کے ٹو سر کرنے والی دنیا کی پہلی خاتون تھی۔ یہ دونوں روٹ قریب آٹھ ہزار میٹر کی بلندی پر جا کر مل جاتے ہیں؛ جہاں سے اگلا سٹاپ یا تو چھ سو میٹر دور کے ٹو کی چوٹی ہوتی ہے یا پھر اگلے جہاں کی ون وے فلائٹ۔

یکم اگست کو شام چار بج کر پانچ منٹ پر یوکا کماٹسو کے ٹو کی چوٹی پر پہنچنے والی دنیا کی سب سے کم عمر خاتون بن گئی۔ وہ کے ٹو پر پہنچنے والی جاپان کی پہلی اور دنیا کی آٹھویں خاتون کوہ پیما تھی۔ جاپان میں کوہ پیمائی کی مناسب حوصلہ افزائی ہونے کے باوجود یوکا سے پہلے اور بعد کوئی بھی جاپانی خاتون یہ کارنامہ انجام نہ دے سکی۔ اس کا ساتھی اس سے بھی آگے کی چیز تھا جو اکیس سال کی عمر میں کے ٹو سر کر گیا۔ تاہم اس کا یہ ر یکارڈ گزشتہ برس معروف پاکستانی کوہ پیما محمد علی سد پارہ کے انیس سالہ صاحبزادے ساجد علی سدپارہ نے توڑ دالا جو قابل فخر بھی ہے اور قابل صدارتی ایوارڈ بھی۔

مہم کے تین ہفتوں بعد یوکا اور ٹیم واپس جاپان پہنچی توہ وہ ایک قومی ہیرو بلکہ قومی ہیرویئن بن چکی تھی۔ ایک انٹرویو میں اس سے چوٹی سر کر لینے کے بعد 8300 میٹر کی بلندی پر رات رکنے کے متنازعہ فیصلے پر سوال ہوا تو یوکا نے معصومیت بھرا جواب دیا تھا کہ ہماری ٹارچ کے سیل ختم ہو گئے تھے اس لیے ہم نے تین چا ر گھنٹے سورج نکلنے تک رکنا مناسب سمجھا۔ دو ہفتے بعد جہاں یوکا اور اس کا ساتھی رکے تھے عین وہاں پر دو روسی کوہ پیما ہلاک ہو گئے۔ کے ٹو کی چوٹی پر پہنچنے پر جذبات کے متعلق یوکا نے کہا وہاں پہنچ کر ایسا لگتا ہے جیسے آپ خدا کی سلطنت کا معائنہ کر رہے ہیں۔ 8300 میٹر پر شدید سردی کے متعلق اس کا معصومانہ جواب تھا کہ کے ٹو سے زیادہ سردی تو مجھے ماونٹ فیوجی پر لگی تھی۔ مستقبل کے ارادوں کے متعلق اس کا کہنا تھا میں آئندہ کسی پہاڑ پر نہیں جاوٗں گی یہ ایک مہنگا مشغلہ ہے۔

کے ٹو سر کرنے کے بعد یوکا کی زندگی نے عجیب موڑ لیا۔ اس نے پلٹ کر کوہ پیمائی اور پہاڑوں کی طرف نہیں دیکھا۔

چند برس میں وہ ایک معروف پروفیشنل فوٹو گرافر بن گئی۔ اس کی تصاویر کا موضوع لوگوں کے مسائل ہوتا۔ 2012 میں اس نے اپنی پہلی کتاب میں شامی مہاجرین کے مسائل کو بھرپور طریقے سے اجاگر کیا۔

2019 میں جاپان میں ہونے والی اس کی تازہ ترین تصویری نمائش بھی شامی مہاجرین کی مشکلات کے متعلق تھی۔

آج، جاپان میں مہم جوئی کا سب سے بڑا اعزاز پانے والی، 38 سالہ یوکا کماٹسو، گو کہ کوہ پیمائی کو بہت پیچھے چھوڑ آئی ہے لیکن اسے کہیں بھی بلایا جا ئے تو اس کا پہلا تعارف کے ٹو ہی ہوتا ہے۔

رہا سوال یہ کہ اتنی کم عمر میں دنیا کا خطرناک ترین پہاڑ سر کرنے کے بعد یوکا کماٹسو نے کوہ پیمائی کیوں چھوڑ دی؟

شاید جاپان کی اس ہنستی مسکراتی لڑکی کو کے ٹو کے بعد اپنی صلاحیتیں ثابت کرنے کے لیے کسی اور پہاڑ کو سر کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •