پاکستانی والدین موٹے اور بچے دبلے کیوں ہو رہے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زیڈ اے بخاری اپنی سوانح حیات ”سرگزشت“ کے آغاز میں لکھتے ہیں کہ مشہور تو یہ ہے کہ ”سانچ کو آنچ نہیں“ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب سچ بولو تو سننے والے کو آگ لگ جاتی ہے۔ اس وجہ سے میں اپنی سوانح حیات لکھنے سے گریز کر رہا تھا۔ اس لئے میں نے جب کچھ کہا ہے تو ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایسے لفظ نکالے ہیں کہ سننے والا تھوڑا بہت دھواں دے جائے تو دے جائے مگر اس کے تن بدن میں آگ نہ لگے۔ اس کالم میں کچھ گزارشات اسی احتیاط کے ساتھ پیش کی جائیں گی۔

پاکستانیوں کی صحت کمزور ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ صحت کی کمزوری کا یہ مسئلہ پانچ سال سے کم عمر بچوں میں زیادہ ہوتا ہے۔ یہ دیکھنے کے لئے کہ ان بچوں میں عمومی طور پر خوراک کی ضرورت پوری ہو رہی ہے کہ نہیں چند معیار مقرر ہیں۔ مثال کے طور پر عمر کے لحاظ سے قد بڑھ رہا ہے کہ نہیں یا یہ کہ عمر یا قد کے لحاظ سے وزن ٹھیک ہے کہ نہیں۔ اگر خوراک کی ضرورت پوری نہ ہو رہی ہو تو پہلے وزن بڑھنا کم ہوتا ہے اور اگر یہ سلسلہ جاری رہے تو عمر کے لحاظ سے قد بھی چھوٹا رہ جاتا ہے۔

اب یہ جائزہ لیتے ہیں کہ ہم اس لحاظ سے کہاں کھڑے ہیں؟ 2018 میں کیے جانے والے قومی سروے کے مطابق پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر بچوں میں چالیس فیصد بچوں کا قد نارمل سے چھوٹا رہ گیا تھا۔ اور تیس فیصد بچوں کا وزن عمر کے لحاظ سے تھوڑا تھا۔ یہ ایک تشویشناک صورت حال ہے۔ بہت کم ممالک میں یہ صورت حال اس حد تک خراب ہے۔

افریقہ اور جنوبی ایشیا دو ایسے خطے ہیں جہاں پر بچوں کا قد چھوٹا رہنے کا رجحان بہت زیادہ ہے۔ لیکن جنوبی ایشیا کے باقی ممالک میں یہ صورت حال پاکستان کی نسبت کچھ بہتر ہی ہے۔ لیکن کیا یہ مسئلہ یہاں تک ہی محدود ہے کہ بچے کا قد چھوٹا رہ جاتا ہے اور وہ دیکھنے میں دبلا نظر آتا ہے؟ ان کمزور بچوں کی جسم میں جراثیم سے بچنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے اور یہ بچے عام بچوں کی نسبت بیماریوں کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ اور عام بچوں کی نسبت ان کمزور بچوں میں شرح اموات زیادہ ہوتی ہے۔ اور خوراک کی کمی کا شکار ہونے والے بچے ذہانت اور تعلیمی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ یہ نقصان اتنا شدید بھی ہو سکتا ہے کہ جسمانی اور ذہنی کمی پھر کبھی پوری نہ ہو سکے۔

ایک تحقیق میں سکول جانے کی عمر سے چھوٹے بچوں کا جائزہ لیا گیا تو یہ حقیقت سامنے آئی کہ جن بچوں کا وزن یا قد نارمل سے کم رہ رہا تھا، ان میں جذباتی مسائل زیادہ پیدا ہو رہے تھے۔

میں خود ایک ریسرچ پراجیکٹ میں شامل تھا، جس میں سکول میں داخل ہونے والے بچوں کے قد اور وزن کا جائزہ لیا گیا تھا اور اس کا موازنہ ان کے اس ٹسٹ میں کارکردگی سے کیا گیا تھا جو داخلہ کے وقت لیا گیا تھا۔ سائنسی تجزیہ پر معلوم ہوا تھا کہ جن بچوں کا قد نارمل سے کم تھا ان کی کارکردگی ان بچوں سے کافی کم تھی جن کا قد نارمل تھا۔ جن بچوں کا قد نارمل تھا، ان کا اس ٹسٹ میں سکور چھوٹے قد کے بچوں سے دس فیصد بہتر تھا۔ یعنی پانچ چھ سال کی عمر سے ہی خوارک کی کمی نے ذہنی نشو نما کو متاثر کرناشروع کر دیا تھا۔

یہ تو اس وقت کی کیفیت ہے جب بچہ سکول کی زندگی میں پہلا قدم رکھ رہا ہوتا ہے۔ جب سکول کی زندگی کے دوران بچوں کا جائزہ لیا گیا تو یہ حقیقت سامنے آئی کہ جن بچوں کا قد نارمل سے چھوٹا تھا، ان کی سکول میں کارگردگی نارمل قد کے بچوں سے تو پیچھے تھی لیکن یہ بچے خاص طور پر زبانوں کے مضامین اور ریاضی میں خراب کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے تھے۔

اب ہم یہ جائزہ لیتے ہیں کہ کیا ہمیشہ سے پاکستان کے بچوں کی صحت کا یہی حال ہے یا ماضی کی نسبت یہ مسئلہ بڑھ گیا ہے۔ 1994 میں پانچ سال سے کم عمر 36 فیصد بچوں کا قد نارمل سے کم تھا۔ 2011 میں یہ شرح بڑھ کر 43 فیصد ہو گئی اور اب یہ شرح 40 فیصد ہے۔

پاکستان میں بچوں کا قد تو چھوٹا رہ رہا ہے لیکن یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ان کے قد کے لحاظ سے ان کا وزن نارمل ہے یا نارمل سے کم ہے۔ جب اس پہلو سے جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ 1997 میں یہ صورت حال بہتر تھی لیکن اس کے بعد ایسے بچوں کی شرح دوگنا ہو چکی ہے جن کا وزن ان کے قد کے لحاظ سے نارمل سے کم رہ گیا ہے۔

صورت حال تو واضح ہے۔ ہم اپنے بچوں کی صحت کی حفاظت نہیں کر پا رہے۔ لیکن آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ ہم میں سے اکثر اس کا جواب یہ دیں گے کہ اس کی وجہ ہمارے بد عنوان سیاستدان اور نا اہل حکومتیں ہیں۔ ان کی لوٹ مار نے ملک میں چھوڑا ہی کیا ہے جو بچوں کو کھلایا جائے۔ یہ حکمرانوں کی عیاشیوں کا نتیجہ ہے کہ پاکستان کے بچے فاقوں تک پہنچ گئے ہیں۔

یہ نتیجہ نکالنے سے پہلے کچھ اور اعداد و شمار برداشت فرما لیں۔ یہ دیکھتے ہیں کہ ان فاقوں کا ان بچوں کے والدین کی صحت پر کیا اثر پڑ رہا ہے؟ وطن عزیز میں پندرہ سے 49 سال کے درمیان کی عمر کی خواتین میں سے 38 فیصد کے قریب خواتین کا وزن نارمل سے زیادہ ہے۔ یعنی وہ موٹاپے کا شکار ہو رہی ہیں۔ جب کہ آج سے دس سال قبل صرف 28 فیصد خواتین کا وزن زیادہ تھا۔ آج سے دس سال پہلے 18 فیصد خواتین کا وزن کم تھا اور اب یہ شرح کم ہو کر 14 فیصد رہ گئی ہے۔ یعنی بچے دبلے ہو رہے ہیں اور ماؤں کا وزن بڑھ رہا ہے۔

اور جب چلڈرن ہسپتال ملتان میں ان بچوں کی ماؤں کا وزن کیا گیا جن کے بچوں کا وزن انتہائی کم تھا تو معلوم ہوا کہ ان میں سے 38 فیصد ماؤں کا وزن نارمل سے زیادہ تھا۔ ان جائزوں میں ماؤں کاوزن کیا گیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ باپوں کا بھی یہی حال ہے کیونکہ ورلڈ بینک کے مطابق جنوبی ایشیا میں پاکستان کے مردوں اور عورتوں میں موٹاپے کی شرح سب سے زیادہ ہے۔

سوال یہ ہے کہ وہ کون سی غربت ہے اور کس قسم کی خوراک کی کمی ہے جس کے نتیجہ میں بچوں کا وزن گر رہا ہے اور والدین کا وزن موٹاپے کی حدود میں داخل ہو رہا ہے۔ یہ اعداد و شمار ہمیں اس طرف توجہ دلاتے ہیں کہ یہ جائزہ لیں کہ کیا ہمارے معاشرے میں بچوں سے والدین کی وابستگی کم ہو رہی ہے؟ یہ دیکھا گیا ہے کہ خاص طور پر سکول جانے سے پہلے مائیں بچوں کو ناشتہ کرانے کی بجائے انہیں بسکٹ کا پیکٹ تھما دیتی ہیں یا کچھ پیسے دے دیتی ہیں کہ سکول جا کر کچھ کھا لینا۔ اکثر والدین کو یہ علم ہی نہیں ہوتا کہ ان کے بچوں کو کھانے میں کیا پسند ہے؟

جب چھ ماہ کی عمر میں بچوں کو ٹھوس غذا شروع کرنے کی عمر آتی ہے تو مائیں اتنی محنت نہیں کرتیں جتنی کرنی چاہیے۔ پھر ان بچوں میں خون اور آئرن کی کمی ان کی بھوک ختم کرنے کا باعث بن جاتی ہے۔ اور والدین اس بہانے کا سہارا لے کر کہ بچے کھاتا نہیں ہے خود محنت کرنے کی بجائے بھوک چمکانے کے شربت دینے پر اصرار شروع کر دیتے ہیں۔ اور اس کا نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلتا۔ مسائل حل کرنے کے لئے اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا پڑتا ہے۔ صرف حکومتوں کو کوسنے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •