کل ہماری باری بھی ہوسکتی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی قوم کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنی ہو تو اس قوم کے نوجوانوں کے ذہنوں کو مذہبی جنونیت سے بھر دو، اس کے سوچنے اور سوال کرنے کی قوت سلب ہو جائیں گی اور وہ ذہنی مرض کے اس صورت میں مبتلا ہو جائیں گے جو نہ تو خود اپنے آپ کو غور و فکر کے اہل سمجھے گے اور نہ دوسرے کو غور و فکر کرنے دیں گے۔

پاکستان میں مذہبی جنونیت کی ابتدا تو شروع ہی سے تھی۔ اگر ہم پاکستان کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ہمیں کچھ ایسے واقعات ملتے ہیں جن سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ شروع ہی سے پاکستان میں مذہبی جنونیت کو پروان چڑھایا گیا لیکن اسے لیگل پروٹیکشن ضیاء کے دور سے ملی۔

افغانستان میں ثور انقلاب آنے کے بعد لبرل دنیا نے اپنے مفادات کے لیے پاکستان میں مذہبی جنونیت کو پروموٹ کرنے کے لیے اربوں ڈالر کی فنڈنگ کی اور آج کل کے لبرلز کے وہ نشریاتی ادارے جو اس خطے میں امن اور برداشت پیدا کرنے کے لئے خصوصی نشریات کر رہے ہیں وہی نشریاتی ادارے اس خطے میں مذہبی جنونیت کو پروموٹ کرنے کے لئے بنائے گئے تھے۔

توہین مذہب اور غدار وطن کا الزام لگا کر مخالف کو راستے سے ہٹانے، اکثریت کی سوچ سے الگ سوچ رکھنے والوں کا خاتمہ کرنے کا عمل، لوگوں کو کنٹرول کا ایک جدید آلہ ہے۔ جو کہ ریاست کے پاس ہوا کرتا تھا۔ لیکن ضیاء الحق نے اگر ایک طرف لبرلز کے ساتھ مل کر اس خطے میں مذہبی جنونیت کو مختلف طریقوں سے پروان چڑھایا تو دوسری طرف اسے لیگل پروٹیکشن دیا اور اس طرح یہ اختیار ایک مخصوص طبقے کے پاس چلا گیا جو کہ اب ایک خطرناک صورت اختیار کر رہا ہے۔

پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کا اپنے سیکورٹی گارڈ کے ہاتھوں قتل، عبدالولی خان یونیورسٹی جو کہ ایک جدید یونیورسٹی ہے میں ایک منظم گروہ کے ہاتھوں ایک طالب علم مشال خان کا قتل اور آج سے کچھ روز پہلے پشاور کے ایک کورٹ روم میں ایک خالد نام کے لڑکے کے ہاتھوں طاہر نسیم نامی شخص کا قتل۔ ایسے سینکڑوں واقعات ہیں جو اس مذہبی انتہا پسندی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر جو کہ اپنے ہی سیکورٹی گارڈ کے ہاتھوں قتل ہوئے ان کا قصور صرف یہ تھا کہ اس نے اس قانون پر سوال اٹھایا تھا جس کے زد میں آ کر بے گناہ لوگ اپنے مخالفین کے بغیر ثبوت الزام کی وجہ سے سال ہا سال جیل میں سڑتے رہتے ہیں۔ سلمان تاثیر کے قتل سے ایک مخصوص طبقہ یہ پیغام دینا چاہتا تھا کہ اگر آپ سوال اٹھاؤ گے تو پھر چاہے آپ کسی بھی رتبہ پر فائز ہو آپ بچ نہیں سکتے۔

اس کے بعد ایک جدید یونیورسٹی میں مشال خان کا قتل اس بات کا ثبوت ہے کہ مذہبی انتہا پسند صرف مدرسوں میں نہیں پائے جاتے بلکہ جدید یونیورسٹیوں میں بھی اس قسم کے لوگ موجود ہیں۔

اب آتے ہیں طاہر نسیم کے قتل کے واقع کی طرف۔ طاہر نسیم جس پر یہ الزام تھا کہ اس نے توہین رسالت کی ہے اور نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ ہم یہاں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتے کہ اس نے کیا کیا تھا اور کیوں کیا تھا۔ پہلے ہم چند سوالات پر نظر ڈالتے ہیں۔

کیا وہ کسی ذہنی مرض میں مبتلا تھا یا نہیں؟
اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ کس طرح اسے بھری عدالت میں گولی مار دی گئی؟
اور کیوں اس ایک مخصوص طبقہ سمجھتا ہے کہ وہ جب چاہے، جس کی چاہے جان لے سکتے ہیں؟

یہاں یہ بات کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اس مذہبی جنونیت کو ریاست کی پشت پناہی حاصل ہے اور ضیاء الحق کے تسلسل کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہاں ایک اور اہم سوال یہ بھی ہے کہ چونکہ اس دن جس دن طاہر نسیم کو قتل کیا گیا اس کے کیس کا فیصلہ آنے والا تھا۔

تو پھر کیوں جج کا فیصلہ کے آنے سے پہلے طاہر نسیم کو قتل کیا گیا؟
ظاہری بات ہے وہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ ہم جب بھی چاہے، جس کا بھی چاہے، جہاں بھی چاہے فیصلہ سنا سکتے ہیں۔

اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو کوئی تعجب نہیں کہ جس طرح حافظ فاروق سجاد کے ساتھ ہوا تھا یا جس طرح مشال خان کے ساتھ ہوا تھا ہم بھی اپنے کسی مخالف کے توہین مذہب کے الزام کی زد میں آ جائیں۔ اور اگر ریاست اسی طرح ان لوگوں کی پشت پناہی کرتی رہی تو وہ دن بھی دور نہیں جب یہی لوگ ریاست کے وجود کے لئے خطرہ بن جائیں۔

ایک معاشرے کی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اس معاشرے میں برداشت پیدا نہ ہو اور ہر قسم کی جنونیت کا خاتمہ نہ ہو۔ ہمیں اپنے معاشرے کی ترقی کے لیے ہر قسم کی جنونیت کے خلاف آواز اٹھانا چاہیے اور اس بات کے لیے کہ اگر کل ہمارے ساتھ ایسا ہو اور ہم کسی کی بے بنیاد الزام کی زد میں آ جائیں تو کم سے کم ہمارے لئے آواز اٹھانے والا کوئی تو ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
اعجاز الرحمان، بونیر کی دیگر تحریریں