پاکستان کی سیاسی تحریکیں اور پی ٹی آئی کی تحریک

موجودہ ہائی برڈ سیاسی بندوبست میں آئین کی حکمرانی، قانون کی عملداری، پارلیمانی بالادستی، اظہار رائے اور اجتماع کی آزادی، اور عدلیہ کی خودمختاری پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ جمہوری عمل اور جمہوری اقدار پر یقین رکھنے والے حلقے حکومتی معاملات میں مقتدرہ کی مسلسل پیش قدمی اور سول نمائندہ اداروں کی پسپائی کو زوال پذیر جمہوریت سے تعبیر کر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی حمایت پر کھڑی نون لیگی حکومت اور حکومت کے شراکت دار ایم کیو

Read more

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بورے والا

جون 1981 تک میجر صاحب اپنی رہائش بوریوالا میں منتقل کر چکے تھے اور سکولوں میں گرمیوں کی تعطیلات کی وجہ سے میں بھی اُن کے ساتھ وہیں پر ہی قیام پذیر تھا۔ ایک دن صبح ہی مجھے بلایا اور کہا کہ، گاڑی کا بندوبست کرو۔ ہم لوگ سی ایم ایچ ملتان جا رہے ہیں۔ کیوں کہ مجھے صبح سے ہی سینے میں درد محسوس ہو رہا ہے۔ میجر صاحب بھی کیا درویش صفت انسان تھے۔ فوج میں سروس کے

Read more

خواب، محبت اور زندگی 45

راجا پاکستانی کی انٹری رسم و رواج کے مطابق رشتہ مانگنے کے لئے احفاظ نے اپنے دوست حسن امام کی اہلیہ کو میرے والدین کے پاس بھیجا۔ اور اس کے بعد امی اور خالہ احفاظ کا گھر دیکھنے گئیں۔ اس ملاقات نے سب کچھ بدل دیا۔ بس یوں سمجھ لیجیے کہ یہ ملاقات قیامت ڈھا گئی۔ راجا ہندوستانی طرز کی نہیں بلکہ راجا پاکستانی طرز کی قیامت۔ احفاظ کا چھوٹا سا گھر محنت کش طبقے کے محلے میں واقع تھا۔

Read more

نیم حکیم، کامل شاعر

حلقہ اربابِ ذوق فیصل آباد کے تنقیدی اجلاس میں اشرف یوسفی کی غزل پر تند و تیز گفتگو ہو رہی تھی۔ قواعد کے مطابق صاحب تخلیق کو خاموش رہنا پڑتا ہے۔ اشرف یوسفی پہلو بدلتے رہے۔ کسی نے کہا کہ فلاں شاعر کا رنگ جھلکتا ہے، ایک اور صاحب بولے ”فلاں شاعر کو بھی شامل تصور کیا جائے“ اجلاس ختم ہوا تو کہنے لگے ”جن دو شعرا کا رنگ دکھایا جا رہا ہے ان کا اپنا کوئی رنگ نہیں ہے،

Read more

پاکستان کا انقلابی ضمیر کون؟

یہ مردِ آہن سنہ 1928 ء میں ہوشیار پور، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے اور تقسیم کے بعد پاکستان میں آباد ہوئے۔ ان کی شاعری نے ان کو جنوبی ایشیا کے بے باک عوامی شاعر طور پر منوا لیا۔ ان کے الفاظ محض شعر نہیں بلکہ مزاحمتی نعرے تھے جو ملک بھر کے اسکولوں، عدالتوں، جیلوں، اور احتجاجی اجتماعات میں گونجتے تھے۔ وہ صرف ایک شاعر ہی نہیں، بلکہ ایک طاقتور سیاسی آواز تھے۔ انہوں نے پاکستان کے عام شہریوں

Read more

پانچ جولائی اور بھینس کے آگے بین

وسعت اللہ خان نے ایک بار لکھا تھا: ”کچھ زمینیں آمریت کے لیے زرخیز ہوتی ہیں، بھلے آمریت کسی بھی شکل میں ہو“ اگر پاکستان، بالخصوص پنجاب کے معروضی حالات پر نگاہ ڈالی جائے تو یہ بات پوری طرح سچ محسوس ہوتی ہے۔ پانچ جولائی وہ دن ہے جسے تاریخ نے پاکستان کی سیاسی، سماجی اور نظریاتی ساخت کے ایک سنگین موڑ کے طور پر محفوظ کر رکھا ہے۔ آج سے ٹھیک 48 برس قبل، ملک کو ایک ایسی سازش

Read more

کہاں گئے وہ لوگ“ اور عباس اطہر”

”کہاں گئے وہ لوگ؟“ عباس اطہر کے کچھ کالموں کا مجموعہ ہے۔ اگر ان کالموں کو بغور اور صاف دل سے پڑھا جائے تو یہ مکمل طور پر بلھے شاہ کے اس مصرع کی تفسیر ہیں کہ ”کیہہ جاناں میں کون؟“ ۔ یادِ رفتگاں پر مشتمل یہ تمام تحریریں ایسی ہیں کہ ان کی خواندگی کے دوران بار بار احمد مشتاق کا مندرجہ ذیل شعر جیسے یاد آ کر رک سا جاتا ہے۔ رہ گیا مشتاق دل میں رنگِ یادِ

Read more

جس کی لاٹھی اُس کی بھینس

چک بیدی میں میس کا نظام درست ہونے سے زندگی معمول پر آ گئی تھی۔ رہائش ہماری سکول کے سائنس روم میں تھی۔ سردیوں میں یہیں سو جاتے اور گرمیوں میں چارپائیاں سکول کی عمارت کے سامنے کھلی جگہ پر بچھا کر پیڈسٹل فین لگا لیا کرتے تھے اور رات آرام سے کٹ جاتی کیوں کہ اس وقت لوڈشیڈنگ کی علت موجود نہیں تھی۔ شام کو میں اور بودلہ سکول میں کھیلے جانے والے والی بال کے کھیل میں شرکت

Read more

آپریشن فیئر پلے یا فاؤل پلے

ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے عہد وزارت عظمی میں جس زیریں جنرل کو چار اعلی جنرلز پر فوقیت دیتے ہوئے پاک فوج کا سربراہ بنایا تھا اسی جنرل ضیاء الحق نے 5 جولائی 1975 کو ان کی حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لاء لگا لگا کر جمہوریت پر شب خون مارا گیا جو 11 برس پر محیط رہا۔ اس وقت بھی آج کی طرح ساری سیاسی جماعتیں ایک سیاسی جماعت کے خلاف اتحادی بن گئیں تھیں جنھوں نے کھل

Read more

ن لیگ کے جدِ امجد کا فرمان

کہتے ہیں کہ جاتی عمرہ میں دنیا کی ہر نعمت موجود ہے سوائے کتاب کے۔ نون لیگ کے حامی نامور صحافی مجیب الرحمان شامی بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ کتاب سوچنا سکھاتی ہے۔ مرد و زن کے مادی وجود کو انسان کا اخلاقی وجود عطا کر دیتی ہے۔ معاشرے میں کتاب سے دوری اور فتوے سے قربت پیدا کرنے والے نون لیگ کے جد امجد ضیاءالحق فرماتے تھے کہ میں استادوں اور شاعروں سے بہت تنگ ہوں۔ یہ بہت

Read more

ٹرمپ عاصم ملاقات پر شکوک و شبہات

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 18 جون 2025 کو وائٹ ہاؤس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے اعزاز میں لنچ کئی لحاظ سے تاریخی ہے۔ پاک امریکہ تعلقات کی تاریخ میں پہلی بار کسی امریکی صدر نے پاکستانی آرمی چیف کو باقاعدہ سرکاری دعوت پر مدعو کیا۔ اس سے قبل پاکستان کے متعدد سربراہانِ مملکت اور سربراہانِ حکومت اور آرمی چیفس امریکہ کے دورے پر جاتے رہے لیکن جو پذیرائی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ملی

Read more

ڈونلڈ ٹرمپ فیلڈ مارشل عاصم منیر ملاقات۔ کیا پاکستان ایک بار پھر امریکی راڈار پر آ گیا

18 جون کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے مابین ہونے والی ملاقات کو پاکستان میں بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس ملاقات کی دعوت چند ہفتے قبل امریکی صدر کی طرف سے دی گئی تھی لیکن ایران اسرائیل جنگ کے آغاز کی وجہ سے اس کی اہمیت میں مزید اضافہ ہو گیا اور عالمی دنیا اور انڈیا اپنے اپنے تناظر میں اس ملاقات کے نتائج پر گہری نظر رکھے

Read more

جغرافیائی سیاست اور پاکستان کی خارجہ حکمتِ عملی

پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے خطے میں وقوع پذیر جغرافیائی و نظریاتی تغیرات کے زیرِ اثر تشکیل پاتی رہی ہے۔ 1979 میں سوویت یونین کی افغانستان پر لشکر کشی کو پاکستان نے محض ایک علاقائی مسئلہ نہیں، بلکہ اپنے تزویراتی مفادات کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ تصور کیا۔ اگرچہ روس نے پاکستان کے خلاف کوئی براہِ راست اقدام نہیں اٹھایا تھا، تاہم ایک عالمی طاقت کا افغانستان میں مستقل وجود پاکستان کی مغربی سرحدوں، داخلی استحکام اور نظریاتی شناخت

Read more

ٹرمپ، فیلڈ مارشل ملاقات: ’’عاشقان‘‘حقائق سمجھنے سے قاصر

امریکہ میں مقیم عاشقان عمران خان کو اپنے گھر تک محدود ہوا یہ قلم گھسیٹ دیوانوں کی طرح اس کالم کے ذریعے سمجھاتا رہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ سے پاکستان میں ’’اصل جمہوریت‘‘ کی بحالی کے لئے اپنے قائد کی رہائی یقینی بنانے کی توقع نہ باندھیں۔ مجھے مگر نہایت رعونت سے یہ بتایا گیا کہ جو عاشقان اپنے محبوب کی رہائی کے لئے متحرک ہیں وہ امریکہ کے سیاسی نظام اور اس پر اثرورسوخ کی حامل قوتوں اور افراد کو

Read more

پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے والی 5 شخصیات۔(2)

11 مئی 1998 ء کو سابق وزیر اعظم نواز شریف الماتے ( قازقستان ) میں ای سی او کانفرنس شرکت کے لئے گئے ہوئے تھے کانفرنس کے اختتام پر نواز شریف اور مشاہد حسین الماتے کے پہاڑوں جو مری کے پہاڑوں سے خاصی مشابہت رکھتے ہیں کی ٹھنڈی ہواؤں سے لطف اندوز ہونے کے لئے ہائیکنگ کرنے چلے گئے اس زمانے میں موبائل فون کی سہولت نہیں تھی وائرلیس پر پیغام موصول ہوا کہ ”وزیر اعظم کا ملٹری سیکریٹری بار

Read more

قوم پرستی، بھٹو ازم اور وکلا: سندھ کے مستقبل کی تین راہیں

کہتے ہیں تاریخ صرف کتابوں میں نہیں، زمین پر بھی لکھی جاتی ہے۔ سندھ کی زمین ایسی کئی کہانیوں کی گواہ ہے۔ موہنجو دڑو کی مٹی سے لے کر دریا بادشاہ کے کناروں تک، اور بھٹو کے قافلے سے لے کر آج کی وکلا تحریک تک۔ یہ وہی سندھ ہے جہاں کبھی جنرل ضیا الحق کے خلاف چوکوں اور چوراہوں پر نفرت انگیز نعرے لکھے جاتے تھے، جہاں ایک وقت تھا کہ محمد خان جونیجو کے خلاف دیواروں پر ”نہ

Read more

تنقیدی جائزہ: ”اپنا گریباں چاک“ از جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال

مصور پاکستان علامہ محمد اقبال کے صاحبزادے جسٹس (ر) ڈاکٹر جاوید اقبال اپنے روشن خیال نظریات، بے باک انداز گفتگو اور تحقیقی اور تعمیری افکار کی بدولت علمی و فکری دنیا میں بہت مقبول تھے۔ ان کی آپ بیتی ”اپنا گریبان چاک“ چھپی تو ان کی شہرت میں بہت اضافہ ہوا۔ یہ آپ بیتی سنگ میل پبلی کیشنز لاہور سے 2002 ء میں شائع ہوئی۔ آپ بیتی لفظ کے معانی ”سرگزشت“ یا ”جگ بیتی“ کے ہیں۔ آپ بیتی اصل میں

Read more

راجہ انور بطور ادیب اور مصنف

راجہ انور کو میں نے اپنے کالج کے زمانے میں ان کی بھرپور جوانی میں دیکھا تھا۔ 70 کی دَہائی کے وسط کی بات ہے۔ ہم تین دوست بینک روڈ راولپنڈی صدر میں گھوم رہے تھے۔ ہمارا ایک دوست زور سے چلایا۔ ”وہ دیکھو! راجہ انور!“ دراز قد، لمبے اور گھنے سیاہ بال، سیاہ ریش، سفید شلوار قمیض میں ملبوس سرخ و سفید رنگ کے راجہ انور دو تین ساتھیوں سمیت اُسی طرف چلے آرہے تھے، جہاں ہم کھڑے تھے۔

Read more

گمشدہ لوگوں کے قصے

ساز اگروال کی کتاب ”سندھ :اسٹوریز فرام اے لوسٹ ہوم لینڈ“ (سندھ: گمشدہ وطن کے فسانے ) آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی طرف سے 2013 میں شائع کی گئی ہے۔ یہ کتاب ہندستان میں ایک مختلف نام ”سندھ: اسٹوریز فرام اے وینشڈ مدرلینڈ“ ( سندھ : غائب کردہ مادرِ وطن کے فسانے ) کے نام سی چھپی۔ مس اگروال کے بقول، آکسفورڈ پاکستان نے انہیں کہا کہ ’سندھ کو تاحال غائب نہیں کیا گیا۔‘ اس لیے پاکستانی ایڈیشن کے لیے انہوں

Read more

خواب، محبت اور زندگی (32)

حصہ دوم۔ دی لیفٹ یہ حصہ بنیادی طور پر میرے لیفٹسٹ آدرشوں اور خوابوں سے لے کر عملی جدوجہد کا حصہ بننے تک کے سفر کی کہانی ہے۔ میں کیسے نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن NSFکا حصہ بنی۔ میں نے کیسے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کے کامیاب انتخابی مہم چلائی اور کراچی یونیورسٹی کے سب سے بڑے ڈپارٹمنٹ کی اکنامکس سوسائٹی کی پہلی ترقی پسند لیفٹسٹ خاتون نائب صدر منتخب ہوئی۔ اور بہت سے فیصلہ کن لمحات اور واقعات کے ساتھ

Read more

ٹک ٹاکر ثنا یوسف کا قتل: یہ 2025 ہے یا پتھر کا زمانہ؟

دنیا مریخ پر قدم رکھنے کی تیاری کر رہی ہے، مصنوعی ذہانت انسانی زندگی میں نئی آسانیاں پیدا کر رہی ہے، اور افریقہ جیسے خطے جہاں کبھی بھوک و جہالت کا راج تھا، آج وہاں انسانی حقوق، نفسیات اور سائنسی شعور کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جا چکا ہے۔ مگر افسوس! پاکستان جیسے ملک میں 2025 کے سال میں بھی ایک 17 سالہ لڑکی کو صرف ”نہ“ کہنے پر قتل کر دیا جاتا ہے۔ ٹک ٹاکر ثنا یوسف کا

Read more

راجہ گدھ کا موضوعاتی مطالعہ اور تجزیہ

1۔ تعارف اور کہانی کا خلاصہ مشہور کتابوں کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ان کو سمجھا کم جاتا ہے اور انہیں سجاوٹ اور دکھاوے کے لیے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک کتاب کے لیے ایک عام رائے خواہ وہ غلط ہی کیوں نہ ہو، بن جائے تو تبدیل نہیں ہو سکتی۔ کچھ ایسا ہی معاملہ راجہ گدھ کے ساتھ ہوا۔ راجہ گدھ سب سے پہلے 1981 میں شائع ہوا اور اپنی پہلی اشاعت سے ہی مقبول ہو گیا۔

Read more

چائلڈ میرج اور چائلڈ لیبر قوانین کا آغاز کب اور کہاں ہوا

دس برس پہلے کی بات ہے چائلڈ میرج کے خلاف ایک ایڈووکیسی ایونٹ میں تقریر کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کی ایک خاتون ایم پی اے نے انکشاف کیا کہ وہ خود چائلڈ میرج کا شکار ہوئی تھیں۔ ان کا تعلق ایک امیر گھرانے سے تھا اور ظاہر ہے کہ وہ ایک امیر خاندان کی بہو بن کر جا رہی تھیں لیکن وہ اتنی خوف زدہ اور صدمے کی حالت میں تھیں کہ سارے راستے صرف خودکشی کے علاوہ کچھ نہ

Read more

”ثنا“ کا بلیدان یا قربانی

لگتا ہے کہ اس دیس کے لوگ نابینا اور بے جان بتوں کی طرح سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں سے محروم کر دیے گئے ہیں، 77 برس کے آمرانہ جبر اور نظام نے یہاں کے لوگوں میں ”فرسودہ عقیدے“ کی غلاظت اور تعفن سے لبریز ایسی چادر عوام کے ذہن و وجود پر لاد دی ہے جو انہیں کسی خانقاہ کے متولی کی طرح وحشی بننے سے بھی نہیں روک پا رہی ہے، لگتا ہے کہ اس سماج کے لوگوں میں

Read more

پروفیسر خورشید احمد: زندگی اور خدمات

پروفیسر خورشید احمد ( 1932۔ 2025 ) پاکستان کے ایک نامور ماہرِ معاشیات، فلسفی، اور سیاستدان تھے جن کی خدمات نے علم، اسلامی معیشت اور عوامی خدمت کے شعبوں کو محیط کیا۔ آپ گزشتہ دنوں طویل علالت کے بعد 93 سال کی عمر میں برطانیہ میں وفات پا گئے۔ آپ کا شمار ان مایہ ناز مفکرین میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلامی اقتصادیات کو باقاعدہ ایک علمی شعبہ بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ جماعت اسلامی میں آپ کی قیادت

Read more

انا پرست سیاستدان

پاکستانی سیاست میں انا پرستی کی جڑیں بہت گہری اور پرانی ہیں۔ اکثر سیاستدان اپنی ذات کو قوم کے مفاد سے بلند تر سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف جمہوری اداروں کو کمزور کرتا ہے بلکہ عوام کے مسائل کو بھی نظر انداز کر دیتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں ہمیں کئی مثالیں ملتی ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں شخصی حکمرانی اور ”میں ہی سب کچھ ہوں“ کا تاثر ابھرا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں یہ

Read more

پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے والی 5 شخصیات

27 مئی 1998 ء کی شام سورج اپنی تمام رعنائیاں سمیٹ کر مارگلہ کے پہاڑوں کی اوٹ میں غروب ہو رہا تھا۔ سائے تیزی سے بڑھ رہے تھے۔ دن کے اجالے تاریکی میں ڈوب رہے تھے۔ شہر اقتدار میں قومی سلامتی کے حوالے سے اہم فیصلے کیے جا رہے تھے۔ مجھے ڈاکٹر کیو خان لیبارٹریز سے انجنیئر فاروق کی کال موصول ہوئی کہ ڈاکٹر عبدالقدیر آپ سے فوری طور پر ملنا چاہتے ہیں۔ میں سینئر صحافی سہیل عبدالناصر مرحوم کے

Read more

نئے صحافی کیا پڑھیں

بہت سے نوجوان یہ خواہش رکھتے ہیں کہ وہ ایک نام ور صحافی بنیں اور نام کے ساتھ بہت سارے پیسے بھی کمائیں۔ اس سلسلے میں وہ مدد اور تعاون کی درخواست بھی کرتے ہیں اور اپنی تحریریں بھی ارسال کرتے ہیں۔ یہاں میں اپنی چند گزارشات نئے صحافیوں کی خدمت میں پیش کرنا چاہوں گا۔ ایک اچھے صحافی یا میڈیا میں کام کرنے والے کسی بھی کارکن کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ خود اخبارات پڑھنے کی

Read more

اصغر ندیم سید کی افسانوی نثر کا اجمالی جائزہ

ادبی دنیا میں شاہ جی کے نام سے پہچانے جانے والے اصغر ندیم سید کا پہلا بڑا حوالہ ڈراما نگاری ہے مگر محض ڈراما نویسی تک محدود کرنے سے ان کے مقام و مرتبے کی تصویر مکمل نہیں ہو پاتی۔ اس مختصر مضمون میں شاہ جی کے ناولوں اور افسانوی مجموعے کا اجمالی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ آدھے چاند کی رات ”آدھے چاند کی رات“ اصغر ندیم سید کا اولین ناولٹ ہے جو پہلی بار 1993 ء میں منظرِ

Read more

لیاری۔ مارا ماری سے کانا یاری تک

ملک کے ناخداؤں نے لیاری میں دانستہ خون ریزی برپا کی۔ جب ایک ہی دسترخوان پر کھانا کھانے والے ساتھیوں میں ایسے اختلافات پیدا کیے گئے کہ بچھے ہوئے دسترخوان پر ہی دوست کے ہاتھوں دوست قتل ہوئے اور پھر دوستی سے دشمنی کی داستان نسل در نسل چلتی چلی گئی۔ جی ہاں بالکل گینگ آف واسع پور کی طرح لیاری کی گینگ وار بھی ایک ایسی ہی فلمی کہانی لگتی ہے لیکن یہ کوئی فلمی کہانی نہیں بلکہ رونگٹے

Read more

جمہوری قدروں کو ڈستا ہوا ”بیانیہ“

پاکستان کی سیاسی تحریک پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں تو ہمیں اکثریتی عوام ریاستی بیانیے کی حامی لگتی ہے، جس میں اہم بات ریاستی بیانیے کا جذباتی نکتہ نظر ہے جس کے تحت قومی سلامتی کی مذہبی تفہیم کے تحت حب الوطنی کا حقائق سے برعکس بیانیہ پیش کیا جاتا ہے، جبکہ اس کے مقابل بائیں بازو کی ترقی پسند یا کمیونسٹ/ سوشلسٹ سوچ کے مطابق باشعور سیاسی و جمہوری نکتہ نظر کمزور نظر اتا ہے یا اسے ریاستی مشینری

Read more

سیاست محروم الارث کیسے ہوتی ہے؟

لسان العصر اکبر الٰہ آبادی کے اقبال کے نام 133 خطوط حال ہی میں ڈاکٹر زاہد منیر عامر نے شائع کیے ہیں۔ قبلہ ڈاکٹر صاحب پنجاب یونیورسٹی میں اردو کے صدر شعبہ رہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف اردو لینگوئج اینڈ لٹریچر کے پہلے ڈائریکٹر ٹھہرے۔ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات میں مسند ظفر علی خان پر فائز رہے۔ جامعہ الازہر میں اردو اور مطالعہ پاکستان پڑھایا۔ ان دنوں ایران کی تہران یونیورسٹی میں پاکستان چیئر پر رونق افروز ہیں۔ علامہ اقبال

Read more

تحریک انصاف کی مزاحمتی سیاست: ایک موقع یا مغالطہ؟

پاکستان تحریک انصاف گزشتہ دو برس سے مقتدر حلقوں کے زیرِ عتاب ہے۔ اگرچہ بظاہر یہ جماعت اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے کے ساتھ سامنے آئی ہے، لیکن اس کے اندرونی رویے میں فوج مخالف جذبات کی کوئی گہرائی نظر نہیں آتی۔ ”حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف آج بھی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بھرپور مزاحمت اور اقتدار کے حصول میں اس کے کردار کو مکمل طور پر مسترد کرنے کے لیے ذہنی طور پر آمادہ نہیں ہے۔ 1979 میں ذوالفقار علی بھٹو

Read more

ایٹمی دھماکوں میں ڈاکٹر قدیر خان کا کردار ۔۔۔ نذیر ناجی کے تاریخی انکشافات

ستائیس برس قبل 28 مئی 1998 کو پاکستان نے چاغی کے پہاڑوں میں ایٹمی دھماکے کئے تھے۔ اس موقع پر ڈاکٹر قدیر خان کو بوجوہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کا بانی اور ہیرو قرار دیا گیا۔ ٹھیک پندرہ برس بعد مئی 2013 میں ملک کے معروف صحافی نذیر ناجی مرحوم نے ان دھماکوں میں ڈاکٹر قدیر خان کے کردار کا پول کھول دیا۔ واضح رہے کہ 1998 میں نذیر ناجی وزیر اعظم نواز شریف کے اندرونی حلقے کا حصہ تھے

Read more

کیا جمہوریت خطرے میں ہے؟

حال ہی میں پاکستان پر بھارت کی طرف سے مسلط کی ہوئی جارحیت کے نتیجہ میں ہونے والی جنگ کے بعد ملک میں جمہوریت کے مستقبل کے بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اندیشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ ان جھڑپوں میں فوج کی کامیابی اور اسے ملنے والی عوامی تائید اور سرکاری ہمدردی کے بعد ملک میں جمہوری نظام حکومت کے لیے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس بارے میں مختلف خیال آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ بعض

Read more

نسلوں کے گھن چکر

سوشل میڈیا کی بدولت جہاں ہمیں پوری دنیا کے بدلتے رجحانات، نئی تحقیقات، ان گنت مسائل، تعلیم اور روزگار کے مواقعوں سے آگاہی ملی ہے وہیں ہم پاپولر کلچر، برانڈنگ، لیبلنگ اور ورچول زندگی سے بھی روشناس ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا کے توسط سے آج ہمیں ان باتوں کا علم بھی ہو جاتا ہے جو ہمیں آج سے ڈیڑھ دو دہائی قبل پتا ہی نہ تھیں۔ مثلاً ہم میں سے کتنوں کو یہ معلوم تھا کہ ہم کس جنریشن سے

Read more

کامریڈ چودھری فتح محمد کی پانچویں برسی

کامریڈ چودھری فتح محمد ایک انقلابی سیاسی رہنما، کسان تحریک کے بانی اراکین میں سے ایک اور پاکستان کے محکوم طبقات کے حقوق کے لئے زندگی بھر جدوجہد کرنے والے سپاہی تھے، جو پیر، 25 مئی 2020 کی صبح انتقال کر گئے۔ چودھری فتح محمد 16 مئی 1923 کو ضلع جالندھر کے نزدیک ایک چھوٹے سے گاؤں ”چاہڑکے“ میں نچلے متوسط طبقے کے گھرانے میں پیدا ہوئے۔ بی اے کے امتحان کے بعد انہوں نے برطانوی فوج میں کیڈٹ افسر

Read more

سول سوسائٹی اور دانشوروں کا کردار

پاکستان میں ساٹھ اور ستر کے عشرے میں بائیں بازو کے ایکٹوسٹس کی رہنمائی  کے لئے سبط حسن جیسے دانشور، شوکت صدیقی جیسے ادیب اور منہاج برنا اور نثار عثمانی جیسے صحافی موجود تھے۔ سید محمد تقی داس کیپیٹل کا ترجمہ کر رہے تھے، فیض احمد فیض تھے جنہوں نے ضیا الحق کی آمریت کے سیاہ دور میں ہمیں یقین دلایا کہ ”ہم دیکھیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے“ مگر ہم کیا دیکھتے کہ چاروں طرف جہالت اور انتہا

Read more

عزیز دوست کے نام ایک اختلافی کالم

برادرم یاسر پیرزادہ سے رشتہ مودت پر دو دہائیاں گزر چکیں۔ اچھی دوستی کی بنیادی شرط ہم دونوں میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہے یعنی مجموعہ اضداد۔ یاسر بھائی اعلیٰ سرکاری افسر ہیں، خوش شکل، خوش لباس، خوش اطوار، شگفتہ طبع، دوست نواز، مہمان نواز، صاحب مطالعہ، صاحب فکر، معاملہ فہم، صاحب طرز نثر نگار اور۔۔۔ کشمیری نژاد لاہوری ہونے کے باوصف اچھے پکوان کا ذوق ضرور ہے، اناج کے مگر دشمن نہیں ہیں۔ سررشتہ قضا و قدر نے مقدرات

Read more

ایف سولہ سے روسی طیاروں کی تباہی اور جے ٹین سے رافال کی تباہی تک

ہم سب پر ایک تحریر پڑھی جس میں پاکستان کے جہاز جے ٹین سی کا نام ٹین جے ایف (یا جے ایف ٹین) پڑھا تو ہنسی آئی۔ درحقیقت پاکستانی فضائیہ کی موجودہ شان ”جے ٹین سی“ جس کے ذریعے فرانس کی شان ”رافال“ طیارے گرائے گئے ہیں (عام طور پر لوگ اسے صدر ضیاء الحق کے ساتھ سی 130 میں مارے جانے والے امریکی سفیر آرنلڈ رافیل کے نام کی طرز پر رافیل طیارہ پکار رہے ہیں ) ۔ کچھ

Read more

کچھ نہیں بدلا

خواتین ایکٹوسٹس اچھی طرح جانتی ہیں کہ ضیا الحق کے بنائے جانے والے امتیازی قوانین کے خلاف شروع ہونے والی خواتین کی تحریک کا جب بھی ذکر ہو گا مہتاب چنہ (اب مہتاب اکبر راشدی) کا نام ضرور آئے گا۔ جب ضیا الحق کی آمریت کے تاریک دور کا آغاز ہوا تو مہتاب پاکستان ٹیلی ویژن پر نوجوانوں کا ایک مقبول پروگرام ”فروزاں“ کرتی تھیں۔ آمر کا فرمان جاری ہوا کہ خواتین ٹی وی اینکرز کو سر پر لازمی ڈوپٹہ

Read more

نہروں کا معاملہ: ناکامی کے طعنے سہنے والی پارٹیاں پھر ناکام ہوئیں؟

گزشتہ کئی دنوں سے سندھ میں نہروں کا معاملہ تمام معاملات پر چھایا رہا ہے اور اس کی بنیادی وجہ گرین انیشیٹو کے تحت کارپوریٹ فارمنگ کے منصوبے کے لیے دریائے سندھ پر چھ نئی نہروں کی تعمیر بنی۔ جس کے بعد سندھ میں اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں نے اسے زندگی اور موت کا مسئلہ بنا کر میدان گرماتے ہوئے سندھ میں روزمرہ زندگی کا کاروبار ہی ٹھپ کر دیا۔ بے شک پانی کا معاملہ زندگی اور موت کا مسئلہ

Read more

مودی ایڈونچر: ستم پر ستم جو مچایا ہے تو نے

پہلگام میں، 22 اپریل کو 26 سیاحوں کا قتل اور درجن بھر زخمی ہوئے۔ سانحہ پہلگام منطقی نتیجہ ہے جعفر ایکسپریس پر حملے کا۔ شیخ مجیب الرحمان، اندرا گاندھی، راجیو گاندھی کے قاتل کون تھے، حسینہ واجد کا تختہ الٹنے والے، بھارت میں جاری علیحدگی کی تحریکیں، بھارت کے لئے سوہان روح ہیں۔ بھارت نے پاکستان کے خلاف مذموم حرکات پہلے بھی کیں، کلبھوشن یادیو جیسے ہرکاروں، بی ایل اے جیسے کرداروں یا ٹی ٹی پی جیسے فتنے متعارف کروائے۔

Read more

پیپلز پارٹی کی غلطیوں کا تسلسل

سندھ ہمیشہ سے دیگر صوبوں کے مقابلے میں پرامن خطہ رہا ہے، مگر سیاسی جدوجہد کے معاملے میں سندھ ہمیشہ آگے رہا ہے۔ چاہے وہ ون یونٹ کے خلاف تحریک ہو، جنرل ضیاء الحق کی آمریت ہو یا ایم آر ڈی کی تحریک، سندھ کے عوام نے ہر دور میں مزاحمت کی ہے۔ پانی کے مسائل پر بھی سندھ کے لوگ ہمیشہ سڑکوں پر نکلے ہیں، اور سندھ کی قوم پرست تحریکوں کی ایک طویل تاریخ رہی ہے۔ اس تاریخ

Read more

اپریل انقلاب: جس کے رد کے لئے پاکستان کو جدید ترین اسلحہ اور 5 ارب ڈالرز ملے

اپریل یا ثور انقلاب 27 اپریل 1978 میں نور محمد تراکئی اور حفیظ اللہ امین کی رہنمائی میں برپا ہوا جس نے افغانستان کی معیشت اور سماج کو نئے سرے سے بیان کیا۔ نور محمد تراکئی کسی پہلو سے بھی اتاترک یا لینن سے کچھ مختلف نہ تھے مگر نئی افغانی تاریخ میں ثور انقلاب اور تراکئی کا نام اسی طرح ختم کیا جا رہا ہے جیسے مودی نے مغلوں کا، پاکستان نے مقامی سکھوں اور ہندوؤں کا، اور ہمارے

Read more

طالبان کے قدموں تلے کچلا افغانستان

پاکستان کی مقتدرہ نے ہمیشہ افغانستان کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست ماننے کے بجائے اسے اپنا پانچواں صوبہ سمجھا ہے۔ موجودہ سیاسی لیڈرشپ میں آدھے تو ضیاء الحق کو اپنا پدر تسلیم کرتے ہی ہیں۔ ہم نے ان لوگوں کے پدر خانوں میں بھی ضیاء کا نام دیکھا ہے۔ جو اپنا امام ذوالفقار علی بھٹو کو مانتے ہیں۔ خیر یہ بات کسی سے ڈکی چھپی تھوڑی ہے۔ کہ حکمت یار، ربانی اور مسعود کن کی حکومت کے دوران مملکت

Read more

طنز و مزاح کے آئن سٹائن معین اختر

ٹی وی، سٹیج کے نامور مزاحیہ اداکار، میزبان، نقیب، نقال، گلوکار اور فلمی اداکار، معین اختر نے 24 دسمبر 1950 کو کراچی میں جنم لیا۔ ان کے والد کا نام محمد ابراہیم محبوب تھا۔ 6 ستمبر 1966 کے یوم دفاع پر انہوں نے اپنی پہلی ادا کاری کے جوہر دکھائے۔ ضیاء محی الدین شو میں اپنے فن کا جادو جگایا۔ انہوں نے پاکستان کی تمام بڑی زبانوں اردو، پنجابی، سندھی، گجراتی، میمنی اور بنگالی میں ادا کاری کی۔ وہ مزاحیہ

Read more

قصہ ڈاکٹر ہارون اور ان کے آشرم کا

                                    پروفیسر ہارون احمد صاحب سے پہلی ملاقات ایک کالج کے طالبعلم کی حیثیت سے لگ بھگ 4 دہائیوں قبل ہوئی، 80 کی دہائی، ملک بھر میں جنرل ضیاء کے آمرانہ دور کی سیاہ پرچھائیاں قومی تشخص پر مذہبی جماعتوں، افغان جہاد کی جنونیت اور ریاستی جبر کے تسلط کا ماسک چڑھانے کی کوششیں، معاشرے کے گرد گھٹن کے جالے جنھوں نے تعلیمی

Read more

ذہانت پر ”دیدہ وروں“ کی اجارہ داری

سیاست کے بارے میں ان دنوں ایک لفظ لکھنے کو بھی دل مائل نہیں ہوتا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ جسے 1970 ء کی دہائی سے ”سیاست“ سمجھتا رہا وطن عزیز میں عرصہ ہوا ختم ہو چکی ہے۔ 1980 ء کی دہائی کے وسط میں جنرل ضیاء نے حبیب جالب کے بتائے ”یہ جو دس کروڑ ہیں۔ جہل کا نچوڑ ہیں“ یعنی گلی محلوں میں رینگتے ”عوام“ کے منتخب نمائندوں کو غیر جماعتی انتخاب کے نتیجے میں اقتدار و

Read more

پاکستان کی سیاست اور جیلیں!

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہمیشہ انتخابات کے نتیجوں میں ایسی حکومتیں آنی چاہئیں جو ملک کے عوام کی اُمیدوں، ضرورتوں اور خواہشات کو نہ صرف سمجھیں بلکہ ان سب چیزوں کا مداوا بھی کریں۔ پاکستان میں متعدد انتخابات ہوتے رہے مگر صرف مراعات یافتہ طبقے ہی کے افراد کامیابی کے زینوں پر چڑھتے رہے۔ پاکستان کی سیاست کا منظر نامہ ہمیشہ ہی سے ہنگامہ خیز رہا ہے۔ پاکستان کی مختصر سی سیاسی تاریخ کو پڑھنے سے پتا چلتا

Read more

دس اپریل اور حسنِ اتفاق

دو دن قبل 10 اپریل کی تاریخ گزری ہے۔ 10 اپریل کی تاریخ دنیا بھر میں بہت سے واقعات کے اعتبار سے اہم ہے۔ آئیے اِن واقعات کا مختصر مطالعہ کرتے ہیں جو دلچسپی سے بھرپور ہیں۔ کیلنڈر کا 100 واں دن دس اپریل کہلاتا ہے جس کے بعد سال میں 265 دن رہ جاتے ہیں۔ اپریل کی دس تاریخ نیوکلیئر ٹیسٹ کے حوالے سے نمایاں مقام حاصل کرچکی ہے۔ یہ محض اتفاق تھا یا کوئی اور وجہ کہ سوویت

Read more

پروفیسر پری شان خٹک اور ڈاکٹر اسرار احمد

2009 اور 2010 کے ماہ اپریل میں پاکستان کی دو نامور ہستیاں اس دار فانی سے کوچ کر گئیں تھیں۔ ایک ماہر تعلیم اور ماہر اقبالیات پروفیسر پری شان خٹک اور دوسرے ڈاکٹر اسرار احمد جو ایک ماہر مبلغ اسلام اور مفسر قرآن تھے۔ ان دونوں شخصیات کی حیات و خدمات کا تذکرہ مندرجہ ذیل ہے۔ پروفیسر پری شان خٹک۔ 1932۔ 2009 پاکستان کے نامور سپوت اور فرزند، ماہر تعلیم، محقق، ادیب، دانشور، شاعر، اقبالیت کے ماہر، جامعات اور مقتدر

Read more

بلوچستان میں بد امنی کے اسباب اور حل

بلوچستان، جو رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، ترقی کے لحاظ سے باقی ملک سے کافی پیچھے ہے۔ یہاں کے عوام طویل عرصے سے احساسِ محرومی کا شکار ہیں، جس کی بنیادی وجوہات میں بنیادی سہولیات کی کمی، تعلیمی اور معاشی پسماندگی اور سیاسی عدم استحکام قابل ذکر عوامل ہیں۔ اسی طرح بلوچستان کی سیاست میں روایتی قبائلی نظام کا گہرا اثر رہا ہے۔ یہاں کے سردار اور نواب تاریخی طور پر طاقت کے مراکز

Read more

کچھ پروفیسر خورشید احمد کے بارے میں

’ بڑے لوگوں کی صحبت انسان کو بڑا بنا دیتی ہے‘ ۔ اس مقولے کو مجسم دیکھنا ہو تو پروفیسر خورشید احمد کو دیکھئے۔ ان کے آبا و اجداد جالندھر کی خاک سے اٹھے اور دلی کے ہو گئے پھر رشتوں ناتوں کا سلسلہ ترکی تک دراز ہو گیا، یوں اس خاندان میں وہ کیفیت پیدا ہوئی جسے اقبال نے سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے کہہ کر بیان کیا ہے۔ پروفیسر خورشید کے والد نذیر احمد قریشی

Read more

بال نوتے اور نائی

بال، کھال، نوتے اور نائی کا گٹھ بندھن صدیوں پرانا ہے، کہنے کو تو ”بال کی کھال نکالنے“ کے محاورے کی پیدائش بھی کم و بیش صدیوں پرانی کہی جا سکتی ہے اور قوی خیال یہی ہے کہ نائی کے کام کے طریقے اور سلیقے کے عیوض نائیوں کے ہاتھ کی صفائی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے ضمن میں ہی ”بال کی کھال“ والا محاورہ وجود میں آیا ہو گا، اس محاورے کی پیدائش کی علت و علل کو

Read more

اوجڑی کیمپ واقعہ

ایک واقعہ سر زمین پاکستان پر 10 اپریل 1988 بروز اتوار نو بج کر پچاس منٹ کو ہوا۔ یہ واقعہ راولپنڈی اور اسلام کے سنگم پر فیض آباد میں ہوا۔ جسے اوجڑی کیمپ حادثہ یا واقعہ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ واقعہ کچھ یوں تھا کہ فیض آباد میں اوجڑی کیمپ کے اندر اسلحہ ڈپو میں آگ لگنے کے باعث بم پھٹنے لگے۔ اسلحہ ڈپو کے اندر مزائل، راکٹ لانچرز بارود کا بڑا ذخیرہ تھا۔ جس میں

Read more

پاکستان کی سیاست اور جیلیں

ہونا تو یہ چاہیے کہ ہمیشہ انتخابات کے نتیجوں میں ایسی حکومتیں آنی چاہئیں جو ملک کے عوام کی اُمیدوں، ضرورتوں اور خواہشات کو نہ صرف سمجھیں بلکہ ان سب چیزوں کا مداوا بھی کریں۔ پاکستان میں متعدد انتخابات ہوتے رہے مگر صرف مراعات یافتہ طبقے ہی کے افراد کامیابی کے زینوں پر چڑھتے رہے۔ پاکستان کی سیاست کا منظر نامہ ہمیشہ ہی سے ہنگامہ خیز رہا ہے۔ پاکستان کی مختصر سی سیاسی تاریخ کو پڑھنے سے پتا چلتا ہے

Read more

سیاسی انبوہ میں تنہا، تاج حیدر

ستر کے عشرے میں کراچی یونیورسٹی میں این ایس ایف (رشید حسن خان گروپ) کے طلبہ کراچی کے جن نوجوان رہنماؤں اور دانشوروں سے متاثر تھے۔ ان میں سر فہرست معراج محمد خان اور تاج حیدر تھے۔ تاج حیدر کی شادی اسی زمانے میں ہوئی تھی اور ہمارے گروپ کے طلبہ ان کے ولیمے میں مدعو تھے۔ مجھے یاد ہے میں نے ریگل چوک سے انہیں تحفے میں دینے کے لئے داس کیپیٹل کا تین جلدوں پر مشتمل سیٹ خریدا

Read more

ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل

ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے عہد وزیر اعظم میں بہ لحاظ عہدہ جس زریں جرنیل کو فوج کا سربراہ بنایا اسی ضیاء الحق نے 5 جولائی 1975 کو اس کی حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لاء لگا دیا جو 11 برس پر محیط رہا۔ اس وقت بھی ایک سازش کے تحت آج ہی کی طرح تقریباً ساری سیاسی جماعتیں پی پی کے خلاف اتحادی بن گئیں تھیں جنھوں نے کھل کر ضیائی مارشل کی حمایت کی تھی، مٹھائیاں بانٹیں

Read more

حبیب جالبؔ کی بتیسویں برسی

اور سب بھول گئے حرف صداقت لکھنا رہ گیا کام ہمارا ہی بغاوت لکھنا لاکھ کہتے رہیں ظلمت کو نہ ظلمت لکھنا ہم نے سیکھا نہیں پیارے بہ اجازت لکھنا نہ صلے کی نہ ستائش کی تمنا ہم کو حق میں لوگوں کے ہماری تو ہے عادت لکھنا اشتراکیت پسند، جمہوریت پسند، انقلابی اور عوامی شاعر حبیب جالب جن کا اصل نام حبیب احمد اور تخلص جالبؔ ہے۔ حبیب جالبؔ کی پیدائش عید الفطر کے دن یعنی 24 مارچ 1928

Read more

شہید ذوالفقار علی بھٹو – ایک عہد ساز شخصیت

ذوالفقار علی بھٹو کا نام پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک ایسے رہنما کے طور پر درج ہے جس نے ملک کو ایک نئی سمت دی۔ 4 اپریل 1979 کو انہیں ایک متنازع عدالتی فیصلے کے نتیجے میں شہید کر دیا گیا، لیکن ان کے نظریات اور خدمات آج بھی عوام کے دلوں میں زندہ ہیں۔ ان کی برسی نہ صرف ان کی یاد تازہ کرنے کا موقع ہے قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو ایک سحر انگیز شخصیت ذاتی قابلیت

Read more

4 اپریل اور شہید ذوالفقار علی بھٹو کی خدمات، قربانی، جمہوریت اور پاکستان

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسے رہنما کم ہی ملتے ہیں جو عوام کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو بھی انہی میں سے ایک ہیں۔ وہ نہ صرف ایک سیاستدان تھے بلکہ ایک مدبر، مداح اور وژنری لیڈر بھی تھے، جنہوں نے پاکستان کو جدید بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے انقلابی اصلاحات کیں۔ میں سوچتا ہوں کہ کاش اسے شہید نہ کیا ہوتا، کاش 4 اپریل تاریخ میں نہ آیا ہوتا، کاش بھٹو شہید کا

Read more

جو قتل ہوا، وہ زندہ ہے

ذوالفقار علی بھٹو برصغیر کی تاریخ میں مخلوق خدا، مسلمانوں اور پھر ان دونوں میں موجود اکثریتی تعداد یعنی غریب، کمزور، بے بس، مقہور، مظلوم، بدبختیوں کے شکار انسانوں کے مایوس صحرا میں ان کے لئے صدائے ایمان و یقین، صدائے عزم و جہد، صدائے وقار و احترام بن کے ابھرا، گونجا، چمکا، تھرتھرایا، لوگوں نے اسے جئے بھٹو کے جھنکار آمیز نعروں کی یلغار میں کندھوں پہ اٹھا کے اعلان کیا، ہم ذلت کے مارے لوگوں کی صف میں

Read more

’بھٹو کی پھانسی‘ : ٹونی عثمان کا نیا اسٹیج ڈرامہ

پاکستانی نارویجئن ڈائریکٹر، کہانی نویس اور اداکار ٹونی عثمان پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت کے بارے میں اسی عنوان سے ایک اسٹیج ڈرامہ پیش کرنے والے ہیں۔ پروگرام کے مطابق اس ڈرامہ کا پریمیم 9 اکتوبر کو اوسلو کے ایک تھیٹر میں ہو گا۔ 4 اپریل کو ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر ’کاروان‘ نے بھٹو کو سزائے موت کے موضوع اسٹیج ڈرامہ پیش کرنے کے حوالے سے ٹونی عثمان سے بات

Read more

عوام ناخواندہ ہو سکتے ہیں جاہل نہیں

” پاکستان ایک نازک دور سے گزر رہا ہے لیکن اس میں نئی بات کیا ہے ؔ؟“ جب یہ طنزیہ جملہ، بڑے پیمانے پر لکھا، بولا اور سنا جانے لگے تو اس سے لطف لینے کی بجائے اپنی لاچارگی پر ماتم کرنا چاہیے۔ اس طرح کی کڑوی اور زہر میں بجھی باتیں مفلس عوام کم، دانشور، متوسط و خوش حال طبقات کے لوگ زیادہ کرتے ہیں۔ ایسی باتیں کرنے والوں سے جب ملک کے اس حال تک پہنچنے کا سبب

Read more

مظلوم کا محضر نامہ

چار جنوری 2011 کی اداس شام یاد کے حجرے میں ہمیشہ کے لئے مقید ہو گئی۔ سوریا کے انگارے زمستانی موسم کی لپیٹ میں تھے، اندھیرے کا فتور یخ بستہ ہواؤں سے لبریز تھا ایسے میں میرے گاؤں کا ڈیرہ لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ آتش دان میں پڑی لکڑیاں سلگ رہی تھیں بذلہ سنجی اور قصہ گوئی کا دور دورہ تھا کہ اچانک ایک دبلا پتلا سا نوجوان بھاگتا ہوا آیا اور بولا، تم یہاں قہقہے لگا

Read more

ذوالفقار علی بھٹو اور نشانِ پاکستان

وطن عزیز پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو پاکستانی سیاست کا ایک ایسا نام ہیں جن کی سیاست سے آپ اختلاف کریں یا اتفاق لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ پاکستانی سیاست نہ صرف ان کے ذکر کے بغیر نا مکمل ہے بلکہ انہوں نے پاکستانی سیاست پر اتنے گہرے نقوش چھوڑے ہیں کے آج بھی پاکستانی سیاست میں ان کے نام کی گونج سنائی دیتی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ہی پاکستانی سپریم کورٹ نے ذوالفقار

Read more

شہنشاہ جذبات ادا کار محمد علی کا 19 واں یوم وفات

پاکستانی فلمی صنعت کی مختصر تاریخ ادا کار محمد علی کے ذکر کے بغیر بالکل ہی ادھوری رہے گی۔ انہوں نے 33 برس تک پاکستانی فلمی صنعت پر راج کیا۔ 1962 ء میں ہدایت کار فضل کریم فضلی کی، فلم چراغ جلتا رہا، سے اپنا فلمی عہد شروع کیا۔ اس فلم کا افتتاح محترمہ فاطمہ جناح نے کیا اور یہ فلم کراچی کے نشاط سنیما میں نمائش پذیر ہوئی۔ چراغ جلتا رہا اتنی کامیاب فلم ثابت نہ ہوئی لیکن یہ

Read more

جمہوری شین قاف اور آمریت کا لام کاف

23 مارچ کو یوم جمہوریہ کی مرکزی تقریب سے حسب روایت سربراہ مملکت آصف علی زرداری نے خطاب کیا۔ کل بارہ منٹ کی تحریری تقریر پڑھنے میں ایک دو جگہ پر انہیں الفاظ کی ادائیگی میں کچھ دقت پیش آئی۔ اس بے معنی قضیے کو لے کر سوشل میڈیا پر بیٹھے انقلابی چوزوں نے ہڑبونگ مچا رکھی ہے۔ پاک پتن کی جامعہ ’رحونیت‘ میں ہوش و خرد کا زر خالص ادا کر کے بے سمت دیوانگی کا سودا کرنے والا

Read more

23 مارچ

گزشتہ کچھ دنوں سے! نہیں ہفتوں سے طبیعت ویسی نہیں جیسی کہ ہوتی تھی یا ہونی چاہیے۔ اس میں طبیعت کا کوئی قصور نہیں غلطی یا غلطیاں ساری کی ساری ہماری خود کی ہیں۔ 99 ٹمپریچر کو دنوں خاطر میں نہ لانا۔ 100 یا اس سے اوپر ہو تو دو پیناڈول کھا کے نامعلوم فتوحات کے لئے گھر سے نکل پڑنا۔ آخری بار گھر سے 8 مارچ کی شام اپنے بچوں جیسی فے فے کے جنم دن کی بدھائی دینے

Read more

شناخت پریڈ

وضاحت: پاکستان کے قانون شہادت کی دفعہ 22 ہائی کورٹ سندھ کے مختلف سرکلرز اور سپریم کورٹ کی جاری کردہ ہدایات کے مطابق ملزم کی گرفتاری کے پندرہ دن کے اندر اس کی شناخت ہوگی۔ اس شناخت کی بنیادی احتیاط یہ ہے کہ گواہ یا مدعی نے ملزم کو دوران حراست دیکھا نہ ہو، تاکہ عمل شناخت کا تقاضا غیر جانبدار اور شفاف رہے۔ اس کارروائی کی مزید تفصیل پولیس رولز مجریہ 1934 کی دفعہ 26.32 کی ذیلی شقوں سی

Read more

وفاداری بشرط استواری

ہمارے بچپن کی یادوں میں پرائمری جماعت کے درس عمر کے کسی حصے میں بھی فراموش نہیں ہوتے، ان نصابی اسباق میں اکثر سماجی برائیوں کے نقصانات کو سبق یا کہانی کی صورت میں پیش کیا جاتا تھا، ہمیں سبق کے ذریعے دھوکہ دہی اور جھوٹ کی لعنت سے دور رہنے کی تلقین کی جاتی تھی تاکہ ہمارے اندر سماجی تہذیب و شائستگی کے ساتھ سماج کے برتاؤ میں ایماندار رہنے پر ترجیح دی جائے اور ہمیں جھوٹ اور دھوکہ

Read more

شہاب کی روحانیت کیا تھی

یہ بھی حقیقت ہے کہ قدرت اللہ شہاب نے اپنے روحانی پہلو کو ہمیشہ چھپا کر رکھا۔ دوران ملازمت تو خاص طور سے اسے پوشیدہ اور لو پروفائل رکھا۔ اس کے دو تین انتہائی قریبی دوستوں ممتاز مفتی، اشفاق احمد وغیرہ کے سوا شاید ہی کسی کو علم ہو۔ اس کے قریبی دوستوں میں احمد بشیر جیسا مارکسسٹ اور ابن انشا، جمیل الدین عالی وغیرہ بھی شامل تھے جو تصوف میں دلچسپی رکھتے تھے۔ سوشل میڈیا پر ایک الزام شہاب

Read more

تحریک نظام مصطفیٰ کا شہرہ آفاق کمالیہ نکیل کیس

21 مارچ 1977 کو پنجاب کے تاریخی شہر کمالیہ میں وقوع پذیر ہونے والے اس شرم ناک مگر شہرہ آفاق کمالیہ نکیل کیس کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی حکومت کی میعاد ختم ہونے سے قبل ہی عام انتخابات کا اعلان کر دیا۔ ان کا خیال تھا کہ اپوزیشن جماعتوں نے اپنی ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی الگ الگ مساجد بنا رکھی ہیں، لہذا وہ دو تہائی اکثریت کے ساتھ آسانی سے یہ انتخابات جیت

Read more

بلوچستان میں سیاسی مذاکرات کی تاریخ اور انجام

سانحہ جعفر ایکسپریس کے بعد بلوچستان میں موجود علیحدگی پسندوں سے نمٹنے کے لیے دو نظریات پر بہت زوروشور سے بحث ہو رہی ہے۔ پہلا یہ کہ اس مسئلے کے سیاسی حل کی طرف جایا جائے اور مذاکرات کی راہ اختیار کی جائے۔ دوسرا یہ کہ اس مسئلے کا حل صرف فوجی آپریشن ہی ہے۔ یہ دونوں نظریات نئے نہیں ہیں کیونکہ بلوچستان میں علیحدگی پسندی کا رجحان پاکستان بننے کے فوراً بعد سے ہی شروع کروا دیا گیا تھا۔

Read more

کیا ہم نئی سوچ کو اپنانے کے لیے تیار ہیں؟

پاکستان کو اپنی تاریخ کے بد ترین معاشی بحران پر قابو پانے کا امتحان درپیش ہے۔ معاشی تنزلی کے رکنے پر بحالی کا مرحلہ آئے گا جس کے بعد ترقی کی شرح میں اضافے کی کوئی امید پیدا ہو گی۔ ان مشکل حالات میں دہشت گرد حملوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً دو گنا زیادہ کا خطرناک اضافہ ہوا ہے۔ ملک بالخصوص، پچھلے چھیالیس سالوں سے جن حالات سے گزر رہا ہے موجودہ معاشی بحران اور بڑھتی ہوئی

Read more

مولانا کوثر نیازی

ایک اعلیٰ پائے کے سیاست دان، عالم دین، خطیب و مقرر، شاعر، صحافی، ادیب اور دانشور تھے۔ فروری 1934 ء کو میانوالی کے مردم خیز علاقہ موسیٰ خیل میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے۔ ان کے والد فتح خان نیازی اور چچا مظفر خان نیازی اپنے علاقے کی پر اثر شخصیات تھیں۔ کوثر نیازی کا پیدائشی نام محمد حیات خاں تھا۔ مدرسہ کی ابتدائی تعلیم کے دوران ہی شعر و شاعری شروع کر دی تو اپنا

Read more

کیا جنید حفیظ کو انصاف مل سکے گا؟

لاہور ہائی کورٹ نے ملتان کی بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کے سابق لیکچرر کی سزائے موت کے خلاف اپیل سننے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہیں 2013 میں توہین مذہب کے الزامات میں گرفتار کرنے کے بعد 2019 میں دیگر سزاؤں کے علاوہ موت کی سزا دی گئی تھی۔ اب 6 سال بعد اس یک طرفہ سزا کے خلاف اپیل سماعت کے لیے مقرر ہوئی ہے۔ جنید حفیظ کا معاملہ ملک میں توہین مذہب کے قوانین اور اس بارے میں پھیلائی

Read more

دیپ جلتے رہے: عفت نوید کی کتاب

2024 کے نومبر میں کراچی کے ایک ہوٹل کی لابی میں میری ملاقات عفت نوید سے ہوئی۔ مجھے اعزاز بخشا اور ملنے آئیں۔ ملاقات بہت مختصر رہی۔ تنگی وقت نے سیراب نہ ہونے دیا۔ لوگ دوچار ملاقاتوں میں کھلتے ہیں ہم اتنے کم وقت میں ہی کھل گئے۔ عفت سے مل کر یوں لگا جیسے کوئی سہیلی بچپن کی۔ ہم نے باتیں بھی کیں اور ہنسے بھی۔ عفت نے اپنی کتاب بھی مجھے دی۔ عفت کو جانے کی جلدی تھی

Read more

قومی زوال کے تین غیر ریاستی کردار ( 4 )

کسی قوم میں تعلیمی صورتحال نہ صرف اس کی معیشت سے جڑی ہے بلکہ سیاسی اور تمدنی ارتقا بھی علمی معیار اور تعلیم کے پھیلاؤ سے متعین ہوتا ہے۔ نو آبادیاتی ہندوستان میں مقامی باشندوں کے لیے جدید تعلیم کی آواز 19 ویں صدی کے ابتدائی برسوں میں راجہ رام موہن رائے نے اٹھائی۔ عین اس وقت جب برطانوی حکومت فورٹ ولیم کالج قائم کر رہی تھی، رام موہن رائے نے قدیم علوم کے احیا کی بجائے جدید علوم بالخصوص

Read more

شکرگزاری کے مریض

آج کل ہماری سیاست نسلوں سے منتقل کی گئی ”شکرگزاری“ کے لا علاج مرض میں اس قدر مبتلا ہے کہ علم اور دانش کی منتقلی کے بجائے اب ہم ”دہشت گردوں“ کی امریکا حوالگی یا منتقلی پر پھولے نہیں سما رہے اور ہمارے حکمران اور اپوزیشن کہلائی جانے والی جماعت تحریک انصاف کا بس نہیں چلتا کہ وہ صدر ٹرمپ کی قدم بوسی کر کے ”شکر گزاری“ پہ سجدہ ریز ہو جائیں اور اس وقت تک نہ اٹھیں جب تک

Read more

جارج حباش الحکیم: ٹائیگر آف زرقا

جارج حباش الحکیم 1926 کو فلسطین کے شہر لِدّا میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک آرتھوڈوکس مسیحی عرب گھرانے سے تھا۔ بچپن میں حباش مقامی چرچ میں کوائر ممبر بھی تھے۔ وہ ایک فلسطینی سیاستدان، مزاحمتی انقلابی رہنما، گوریلا جنگجو اور میڈیکل ڈاکٹر تھے۔ 1948 میں اسرائیل کے قیام اور عرب۔ اسرائیل جنگ کے دوران حباش کے خاندان سمیت شہر کی عرب فلسطینی آبادی کو جبری طور پر بے دخل کر دیا گیا۔ جبری بے دخلی کے دوران حباش

Read more

دہشت گردی کا عفریت:ہر ایک سمت موت ہی رقصاں ہے دوستو!

ہزار دام سے نکلا ہوں ایک جنبش میں جسے غرور ہو آئے کرے شکار مجھے مصطفی خان شیفتہ کا یہ شعر ایسے بے نفسوں کی طرف توجہ مبذول کراتا ہے کہ بے غرض لوگ کیسے اہل غرض کو شرمندہ کر دیتے ہیں ایسی مثالیں تاریخ میں خال خال ہی نظر آتی ہیں۔ مولانا عبدالحق اکوڑہ خٹک سے جمعیت علمائے اسلام کے ٹکٹ پر 1970 ء کے انتخابات میں اجمل خٹک کو شکست دے کر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ 1973

Read more

نیکی کسی کی میراث نہیں ہے۔ ( آپ بیتی)

میں اور میری اہلیہ 2013 میں آسٹریلیا سے فریضہِ حج ادا کرنے کے لئے گئے۔ اس غرض سے ہمیں پاسپورٹ، تصاویر، حفاظتی ٹیکے لگوانے کا میڈیکل سرٹیفکیٹ، نکاح نامے کی تصدیق اور کسی امام مسجد سے مسلمان ہونے کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ضروری تھا۔ اس سلسلے میں ایک ہندو لیڈی ڈاکٹر، ایک عیسائی پولیس افسر اور ایک امام مسجد کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہو گا۔ ڈاکٹر شیلا برسوں سے ہماری فیملی ڈاکٹر ہے۔ ڈاکٹر شیلا اور اس کے

Read more

تشدد کی نئی لہر کا محرک کون ہے؟

پچھلے 45 سال سے دو بڑی افغان جنگوں کے دوران جہادی کارکنوں کے سرچشمہ کی حیثیت رکھنے والے دارالعلوم حقانیہ نوشہرہ میں خودکش دھماکہ میں ممتاز عالم دین مولانا حامد الحق سمیت چھ افراد کی شہادت بڑی پالیسی شفٹ کا شاخسانہ دکھائی دیتی ہے۔ چار دہائیوں پہ محیط عالمی طاقتوں کی ”گریٹ گیم وار فیئر“ کے دوران مدرسہ حقانیہ ہمارے نیشنل سیکورٹی بیانیہ کا نقاب ابہام ہونے کی وجہ سے خاصی اہمیت کا حامل رہا چنانچہ جامعہ حقانیہ تک خود

Read more

جرنلزم اور جرنلسٹ

ہماری نسل کے وہ صحافی جنہوں نے پرنٹ میڈیا کے عروج کے زمانے میں اس پیشے کو اپنایا اور میڈیا پر پابندیوں کے خلاف تحریکیں چلائیں، اب پرنٹ میڈیا کا زوال اور ڈیجیٹل انقلاب برپا ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ وقت کا پہیہ ہمیشہ آگے ہی چلتا ہے اور تبدیلی کا عمل ناگزیر ہے لیکن نئی نسل کو اپنے زمانے کی کہانیاں سنانا اور زندگی کے سفر میں ان کی رہنمائی کرنا بھی ضروری ہے۔ مقبول خان ہم سے کچھ

Read more

بھٹو کی مقبولیت کے اسباب – ڈاکٹر مہدی حسن کی یادداشتیں

65ء کی جنگ کے دوران قوم کی قوت مزاحمت سے ڈاکٹر مبشر حسن بہت متاثر ہوئے۔ 66ء میں اپنے ہاں انہوں نے ماہانہ میٹنگ شروع کی، جس میں وکلاء، صحافی اور سیاستدان شریک ہوتے۔ میں بھی وہاں باقاعدگی سے جاتا۔ میں ان سے کہتا، آپ جس قسم کی باتیں کرتے ہیں یہ سب میں اسکول کالج کے زمانے میں ٹک شاپ میں کرتا تھا، اس سے مسائل حل نہیں ہوں گے، موجودہ پارٹیوں میں مسائل حل کرنے کی اہلیت نہیں،

Read more

ڈاکٹر مہدی حسن: ایک متمدن شخص کی یادیں

ڈاکٹر مہدی حسن کا شمار پنجاب یونیورسٹی کے ان چند اساتذہ میں ہوتا تھا جو اپنی بات کھلے اور واشگاف انداز میں کرنے کے عادی تھے۔ ان کا تعلق بائیں بازو کے ساتھ تھا۔ ترقی پسند ہونے کے دعوے دار تو بہت سے تھے لیکن صرف مہدی صاحب تھے جو ہر قسم کی مصلحت شناسی سے بالاتر تھے۔ انھوں نے اس کی قیمت بھی ادا کی لیکن اپنے اصولوں سے کبھی انحراف نہیں کیا۔ یہ بڑی بد قسمتی کی بات

Read more

چلے چلو کہ وہ منزل ابھی آئی نہیں

فیض میلہ سج چُکا ہے بلکہ زور و شور سے جاری و ساری ہے۔ فیض احمد فیض صاحب پر بات کرنا یا کچھ لکھنا جیسے سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ فیض صاحب کی شاعری محبت، مزاحمت اور اُمیدوں کے ملے جُلے نرم جذبات کے دھاگوں سے بُنی ہوئی ہے۔ فیض صاحب نے اپنے شعری اسلوب میں بہت دل کشی سے وہ سادہ باتیں کیں جن میں اتنی گہرائی ہے کہ وہ قاری کے دل میں اُتر کر لبوں

Read more

چیف جسٹس کی ’سیاسی‘ ملاقاتیں

وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت اور تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی کی سربراہی میں اپوزیشن کے وفود نے یکے بعد دیگرے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقاتیں کی ہیں۔ بظاہر یہ ملاقاتیں عدالتی اصلاحات کے ایجنڈے پر مشاورت اور تجاویز لینے کے لیے چیف جسٹس کی درخواست پر کی گئی ہیں۔ لیکن عدالت عظمیٰ کے سربراہ کی سیاسی لیڈروں سے ہونے والی ایسی ملاقاتوں کے ملکی سیاست اور معاملات پر اثرات کو نظر انداز نہیں

Read more

آکاش کی میراث: آخری سانس تک جدوجہد

ڈاکٹر آکاش انصاری کی زندگی اور موت ایک ایسی داستان ہے جس میں شاعری، سیاسی سرگرمیاں، اور انسانی خدمات باہم منسلک ہیں۔ 25 دسمبر 1956 کو سندھ کے ضلع بدین کے ایک گاؤں سعید پور میں پیدا ہونے والے آکاش کا سفر ایک سادہ پس منظر سے شروع ہو کر ایک مشہور شاعر اور سماجی کارکن تک پہنچتا ہے، جو ان لوگوں کے لیے ایک مثال ہے جو سماجی بہتری کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی کہانی صرف ذاتی کامیابی

Read more

زبانوں میں بٹا ہوا آدمی۔ حصہ دوم

اہل خانہ کا کھیتی باڑی سے ملازمت کا سفر گاؤں سے شہر تک کا سفر تو بنا مگر یہ اندازہ نہ تھا کہ یہ پنجابی سے اردو میں انتقال کا سبب بن جائے گا۔ انتقال دونوں طرح کا سمجھا جا سکتا ہے۔ میں پڑھتا تو بائیس روپے مہینہ کے سرکاری اسکول میں تھا مگر اسکول فوجی چھاؤنی میں واقع تھا، کیونکہ گاؤں چھاؤنی سے ملحق تھا۔ اسکول مخلوط بھی تھا اور مربوط بھی۔ مرد مومن ضیا الحق کے آخری سال

Read more

بیچارے یوکرینی

یہ 37 برس پہلے 15 مئی 1988 ء کا دن تھا جب سوویت یونین کے جدید آرمرڈ پرسونل کیریئرز نے دریائے آمو پر ہیراتن پُل کراس کر کے واپس ماسکو کی راہ لی۔ افغانستان سے سوویت یونین کی فوجوں کے انخلاء کا یہ پہلا دن تھا اور یہ عمل 9 ماہ بعد یعنی آج سے 36 برس قبل 15 فروری 1989 ء کو مکمل ہوا۔ سوویت یونین کی فوجوں کی واپسی کی کمانڈ کرنل جنرل بورِس گروموو کر رہے تھے۔

Read more

راجہ انور کی ماضی کی یادوں کا حمام

راجہ انور کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ ہم انھیں اپنے زمانہِ طالب علمی سے جانتے ہیں اور انہی دنوں میں راولپنڈی میں ایک دفعہ ان سے ملاقات بھی ہوئی تھی۔ بہت عرصہ بعد دوسری ملاقات برمنگھم میں اُن کے کالموں کی کتاب ”بازگشت“ کی تقریب رونمائی میں ہوئی۔ 2022 ءمیں برطانیہ میں قیام کے دوران ایک دن سدرہ بیٹی نے ایک کتاب کی تقریب رونمائی میں چلنے کی دعوت دیتے ہوئے بتایا کہ اس کی سہیلی انیتا

Read more

عورت مارچ فروری میں کیوں؟

2018 سے عورت مارچ ہر سال 8 مارچ کو عالمی یومِ خواتین کے موقع پر منعقد کیا جاتا ہے۔ اس سال عورت مارچ لاہور 8 مارچ کی بجائے 12 فروری کو پاکستان کے قومی یومِ خواتین پر ہے۔ عورت مارچ 2025 کا موضوع فیمنسٹ ہسٹری ہے۔ جس کا مقصد پاکستان میں ماضی اور حال کی فیمنسٹ شخصیات اور تحریکوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔ ان کا تعلق آل پاکستان ویمنز ایسوسی ایشن (APWA) سے ہو، سندھیانی تحریک سے، لیبر

Read more

اپنا آئین اپنی مرضی: سامنے آئینہ رکھ لیا کیجئے

عمر ایوب نے شکوہ کیا ہے کہ پاکستان میں آئین پر عمل نہیں ہو رہا۔ تحریک انصاف کے لیے آئین 10 اپریل 2022 کے بعد معرض وجود میں آیا۔ اس سے قبل صحافت پابند سلاسل، سوشل میڈیا اور میڈیا پر قابو پانے کے سو سو ٹوٹکے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، قانون کی عملداری جبکہ لاپتہ افراد ریاست کے باغی اور ہزارہ لاشیں بلیک میلر قرار پائیں۔ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت میں اشتراک کے سُنہرے دن، ہائبرڈ دور کی چاندنی راتیں

Read more

ڈاکٹر عبدالسلام کی وجد آفریں زندگی کے 29 خرد افروز واقعات

عالم اسلام کے پہلے نوبل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام ( 1926۔ 1996 ) نے ہر پہلو سے بڑی کامیاب و کامران زندگی گزاری۔ راقم ان خوش نصیب انسانوں میں سے ہے جس نے آپ جیسے قد آور طبیعات دان سے 1982 میں وسکانسن ریاست کے شہر میڈیسن میں لمبی پر مغز ملاقات کی تھی۔ وہاں آپ نوبل انعام ملنے کے بعد یونیورسٹی میں لیکچر دینے کے لئے تشریف لائے تھے۔ اس ملاقات کا حال راقم کی کتاب ”ڈاکٹر عبدالسلام،

Read more

ٹرمپ کا غزہ فارمولا: تدبیر کند بندہ تقدیر زند خندہ

دنیا میں کبھی کوئی دوسری جنگ، ایسی نہیں لڑی گئی جس میں 20 فیصد آبادی محض ڈیڑھ سال میں فنا کر دی گئی ہو۔ غزہ میں کھنڈرات کا ایک مہیب سلسلہ شمال سے جنوب تک پھیلتا چلا گیا ہے۔ ٹرمپ نے جنگ بندی کرائی ہی اس لئے کہ غزہ اور اس کے بعد مغربی کنارہ فلسطینیوں سے پاک کرایا جا سکے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ مصر اور اردن اہل غزہ کو پناہ دیں تاکہ مشرق و سطیٰ میں امن

Read more

محمد صدیق الفاروق مرحوم

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما محمد صدیق الفاروق طویل علالت کے باعث گزشتہ ماہ 15 دسمبر 2024 بروز اتوار اپنے خالق حقیقی سے جا ملے اور دوسرے روز پیر کی صبح 11 بجے ایچ الیون  قبرستان اسلام آباد میں نماز جنازہ کے بعد ان کے جسد خاکی کو سپرد خاک کر دیا گیا۔ مرحوم ایک عرصے سے دل اور گردوں کی بیماریوں کا شکار تھے جس نے انہیں بہت لاغر اور کمزور کر دیا تھا۔ مرحوم نے ایک

Read more

Colonial Lahore: A Post-dated Letter for Future Generations

In this book, “Colonial Lahore”, Professor Aziz ud Din Ahmad has encapsulated a transformational century of Lahore in a rhapsodic note which is simultaneously a panegyric tribute and a pyrrhic elegy. The city of Lahore is to this part of the world what cities like Paris, St. Petersburg, London, Delhi, Shanghai, Vienna and New York are to their respective lands. John Milton included Lahore in his inventory of the finest cities of the world in “Paradise Lost”. Lahore has had

Read more