قوم کی تعلیمی اور معاشی ترقی کیسے ہو؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہو اور قوم کے ہاتھ میں کشکول ہو تو ایسے ملک میں صرف جذباتی داستانیں، لفاظی تقریریں سنا کر اور نغمے گا کر ہم نہ کشمیر فتح کر سکتے ہیں نہ ملک کے حالات بہتر کر سکتے ہیں۔ دنیا میں اپنا مقام بنانے اور باوقار قوم بننے کے لئے ہمیں عملی طور پہ کچھ کر کے دکھانا پڑتا ہے۔ اس کے لئے ہمیں اپنے ملک میں تعلیمی، سماجی، معاشرتی اور معاشی انقلاب لانا ہوگا جس کے لئے سب سے پہلے ملک میں ایک مثالی جمہوری نظام کا ہونا ضروری ہے کیونکہ آج کے دور میں جمہوریت ہی ایک جامع اور بہترین نظام ہے۔ اس کو کمزور کرنے یا اس پر شب خون مارنے کی بجائے اس کو مضبوط کیا جائے، ہماری عدالتیں آزاد ہوں، کوئی بھی شہری نامعلوم اور لاپتہ نہ ہو، ان کے بنیادی حقوق کا خیال رکھا جائے اور ان کے ساتھ انصاف ہو۔ ایک مثبت تنقیدی سوچ معاشرے کو آگے بڑھانے اور اس کی اصلاح کے لئے بہت ضروری ہے۔

صحت اور تعلیم معاشرے کے ہر فرد کی بنیادی ضرورت ہے۔ اس کے بجٹ میں اضافہ کریں۔ اس کو فری اور عام کیا جائے۔ ہمارے ملک میں پچیس کروڑ لوگو ں کے لئے محدود ہسپتال ہیں جو اتنی بڑی آبادی کے لئے ناکافی ہیں۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بہتر سہولتیں دینے کے لئے ہسپتالوں کی تعداد بڑھا دی جائے۔ ملک میں لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے اور غر بت کی تفریق ختم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ وڈیرہ ازم اور جاگردارانہ سسٹم کے خاتمہ کے لئے حکمت عملی مرتب کی جائے۔ یہی وہ ناسور ہے جن کی وجہ سے لوگوں میں نہ شعور پیدا ہو تا ہے نہ ہی انہیں آگے بڑھنے کے مواقع ملتے ہیں بلکہ ملک میں ایک طبقہ ساری عمر ان کی غلامی میں گزار دیتا ہے۔ اس با ا ثر طبقے کے سٹیٹس کو ختم کرنے کے لئے ملک کے سارے ادارے مل کر قومی سطح پر گفت و شنید کریں اور قانون پاس کریں۔

ہمارے ملک میں ایک طرف تو ایک طبقہ ایسا ہے جو ماچس کی ڈبی سے لے کر ضرورت کی ہر چیز پر جی۔ایس۔ ٹی ٹیکس دینے پر مجبور ہے اور خود کھانے کے لئے دو وقت کی روٹی بھی پوری طرح نصیب نہیں ہو تی ہے دوسری طرف وہ مراعات یافتہ طبقہ ہے جن کو مراعات کے نام سے بڑی بڑی گاڑیاں، بنگلے، پلاٹ سیکورٹی سے نوازا جاتا ہے جو قومی خزانے پر ایک بوجھ ہے۔ غریب اور متوسط طبقات پر بوجھ ڈالنے کی بجائے مراعات یافتہ طبقہ یعنی وزیراعظم، صدر، وزاء، گورنر، بیوروکریٹس اور جنرلز کی غیرضروری مراعات میں کمی لائی جائے۔ ملک میں ایسے ساز گار حالات پیدا کیے جاییں کہ باہر سے سرمایہ کاری آئے اور ملک خوشحال ہو۔

ہمارے وزیراعظم بھی دو سال سے ملک اور قوم کے لئے کچھ کرنے کی بجائے کہہ رہے ہیں کہ قوموں پر مشکل وقت آ جاتے ہیں اور ہمیں ہمت سے ان کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ یہ قوم 75 سال سے عزم و ہمت سے جی جی کر تھک چکی ہے۔ اب یہ باتیں اور داستانیں قوم کے لئے اذیت کے سوا کچھ نہیں۔

اگر دنیا میں ہمیں اپنے مقاصد حاصل کرنے ہیں اور اپنی عزت کروانی ہے تو پہلے اپنی کمزوریوں اور حقیقتوں کو تسلیم کرنا ہوگا پھر ان خرابیوں اور کمزوریوں کو دور کرنے کے لئے عملی اقدامات کرنے ہونگے۔ آج کے دور میں قوموں کی ہار، جیت کا فیصلہ جنگوں اور ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اس کی معاشرتی، سماجی، تعلیمی اور معاشی ترقی سے ہوتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •