جشن آزادی مبارک مگر…

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپ نے سرکاری دفتروں کے اندر سرکاری اہلکاروں کے اوپر قائداعظم کی تصویر تو دیکھی ہوگی۔ آپ نے اسی تصویر کے نیچے سرکاری اہلکاروں کو بھی دیکھا ہوگا اور آپ نے اسی دفتر کے اندر سرکاری اہلکاروں کے لئے موجود سہولیات بھی دیکھی ہوں گی۔ میں جب بھی کسی سرکاری دفتر جاتا ہوں تو میری نظریں سب سے پہلے قائد اعظم کی تصویر پر پڑتی ہیں۔ میں ذاتی طور پر قائد اعظم سے انتہائی متاثر ہوں اور کبھی کبھی ان کی تصویر دیکھ کر بہت سارا وقت آنکھوں اور چہرے کے دیدار پر صرف کرتا ہوں۔

میں نے قائد اعظم کی زندگی کا بھرپور مطالعہ کیا ہے جس میں ہم سب کے لئے بے شمار سبق موجود ہیں۔ میرے ساتھ ایک مسئلہ ہے کہ جب بھی کسی سرکاری دفتر کے اندر قائد اعظم کی تصویر دیکھتا ہوں تو نہ جانے کیوں مجھے اپنی سماعتوں میں قائد کی آواز سنائی دیتی ہے جس میں زبان حال سے ہزار شکوے ہوتے ہیں کہ آخر کیوں مجھے صرف دفتروں کے اندر رکھا جاتا ہے اور میرے اصول میری تصویر کے سامنے ہی پامال ہوتے ہیں۔ میری بصارتیں نہ جانے کیوں قائد اعظم کی آنکھوں میں مجھے بے شمار سوال دکھاتی ہیں۔ میں خود کو ہر بار ٹٹولنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن ہر بار ناکام ہوجاتا ہوں اور قائد اعظم مجھے بس پریشان ہی دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی پریشان آنکھوں میں ہزار ایسے سوال ہوتے ہیں جن کے جواب ڈھونڈتے ڈھونڈتے میری بے بسی ہر بار خود مجھے ہی گھیر لیتی ہے۔

ہم سب اب پھر یوم آزادی جوش و خروش سے منارہے ہیں اور جوش و خروش کیا ہے آتش بازیوں کی روشنیوں میں صرف وقت کا ضیاع ہے۔ جوش و خروش کیا ہے بس انسانوں کے جم غفیر کے سامنے ہزاروں بے کار دعوے ہیں جن کے حصول کے لئے انفرادی اور اجتماعی طور پر کوشش کہیں پر بھی نظر نہیں آتی۔

جوش وخروش کیا ہے بس خود کو ہر سال دھوکہ دینا ہے۔ بولنے والے بھی سمجھتے ہیں کہ جو ہم بول رہے ہیں یہ سب جھوٹ ہی ہے سننے والوں کو بھی پتا ہوتا ہے کہ جو ہم سن رہے ہیں یہ ایک سراب ہے لیکن پھر بھی ہر سال یوم آزادی پر صبح سے لے کر شام تک جھوٹ ہی جھوٹ ہوتا ہے۔

ہم ہر سال کی طرح اس سال بھی 14 اگست کو بلند وبانگ ارادوں کا تہیہ کریں گے لیکن ہماری بدقسمتی ملاحظہ ہو یوم آزادی کے تقریبات کے بعد چند گھنٹوں کے اندر ہی ہمارے اندر کا وہ حیوان پھر جاگ جاتا ہے جس کی وجہ سے ہم نے استحصال کے نت نئے ریکارڈز بنائے ہیں۔

آپ اگر اس ملک کو رحمت خداوندی نہیں سمجھتے تو کسی دن دنیا کی ان لٹی پٹی اقوام کا جائزہ لیجئیے جہاں روز انسانی لاشوں کے انبار لگتے ہیں۔ آپ اگر پاکستان کو حقیقت میں رحمت خداوندی سمجھنے سے قاصر ہیں تو چند لمحوں کے لئے ذہن میں غلام قوموں کے صبح و شام لائیے آپ کو لگ پتا جائے گا کہ جہاں انسان اپنے ہی گھر میں پابند سلاسل ہو وہاں زندگی گزارنا اذیت ہی ہوتا ہے۔

آپ بے شک ان تقریبات میں شرکت کیجئیے کہ یہی دن خوشی کا دن ہوتا ہے لیکن ساتھ ساتھ خود سے یہ سوال ضرور کیجئیے کہ کیوں سات عشرے گزرنے کے باوجود ہم آج تک معیشت کا رونا رو رہے ہیں۔ ہم ابھی تک کیوں انسانی رویوں کو ٹھیک نہیں کر سکے۔ آپ اندازہ لگائیے سات عشرے گزرنے کے باوجود ہم آج تک سرکاری دفتروں کے اندر سرکاری اہلکاروں کے رویوں کو ٹھیک نہیں کرسکے۔ آپ ایک بار سوچئیے یہ کفران نعمت نہیں تو اور کیا ہے کہ آج تک ہم اس مملکت خداداد کے اندر محرومیوں کے طوفان میں مرتے انسانوں کی تعداد کم نہ کر سکے۔

آپ ذہن پر ایک بار زور ڈال کر سوچئیے آج تک پاکستان کی حکومتیں بجلی کے بحران سے نجات حاصل نہ کرسکے۔ آپ بے شک ان تقریبات میں بولنے والوں کے لفظ لفظ پر تالی بھی بجائیے لیکن ایک بار سوچئیے ضرور کیا ہم حقیقت میں کام کر رہے ہیں۔ اگر آپ کا جواب ہاں ہے تو پھر کیوں غربت دن بہ دن بڑھ رہی ہے۔ کیوں کرپشن کا ناسور کم نہیں ہورہا۔ کیوں ادارے دم توڑ رہے ہیں۔ کیوں بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ کیوں خارجہ محاذ پر ہم اپنی بات نہیں منوارہے۔ کیوں حکومت کی رٹ کسی بھی جگہ ہر قائم نہیں ہورہی۔

ہم ہر سال جشن آزادی مناتے ہیں لیکن ایک بار ہمارے ارباب اختیار اور ہم خود اس دن سوچنے کی زحمت گوارا ہی نہیں کرتے کہ آخر ہمیں کون سا حق حاصل ہے جو اپنے ہی ملک کو داؤ پر لگارہے ہیں۔

سات عشرے گزرنے کے باوجود آج بھی ویران سڑکوں پر انسانی جسموں کے چھیتھڑے اڑتے ہیں اور لواحقین زندگی بھر در در کی ٹھوکریں مارتے پھرتے ہیں۔ ہم نے سات عشرے گزرنے کے باوجود مہنگائی کے عفریت سے نجات نہیں پائی۔ ہمارے ملک میں سنجیدہ فکر رکھنے والوں کا قحط اتنا شدید ہے کہ پالیسی بنانے والوں نے آج تک اپنی ذات سے ہٹ کر کبھی سوچا ہی نہیں۔ ہمارے اپنے ہی وزیر آج بھی پوری دنیا کے سامنے کھلے عام اپنے اداروں کا مذاق اڑاتے ہیں اور جگ ہنسائی کے بعد معافی بھی مانگتے ہیں کہ یہ تو مجھ سے بھول ہوگئی تھی۔

ہماری سنجیدگی کا لیول یہ ہے کہ آج تک ایک بھی سرکاری ادارہ ایسا نہیں بنا کہ جہاں پاکستان کی عزت کو داؤ پر نہیں لگایا جاتا۔ آپ کسی دن ایک کلرک سے لے کر حکمران تک سب کا جائزہ لیجئیے آپ کو پاکستان کے نام پر محبتوں کے بلند وبانگ دعوے تو ضرور نظر آئیں گے لیکن حقیقت میں استحصال کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آئے گا۔

ہم جشن آزادی منانے کا حق ضرور رکھتے ہیں کہ ہم ایک آزاد ملک میں زندگی بسر کر رہے ہیں لیکن گریبانوں کے اندر جھانکنے کی فرصت اور سخت خود احتسابی کا عمل جہاں نہیں ہوتا وہاں آزادی کے دن صرف چیخ و پکار سے کیا فائدہ۔

پاکستان ہمارا ملک ہے اور اس پاکستان کے بغیر ہم کچھ بھی نہیں یہ بات حقیقت میں پلے باندھنی ہوگی ورنہ میری طرح ہر ایک کو قائد اعظم کی تصویر میں ان کے چہرے پر صرف پریشانیاں ہی نظر آئیں گی۔

جشن آزادی کی مبارکباد دیتے وقت وعدہ کرنا ہوگا کہ آج کے بعد اس ملک کے لئے تن من دھن سے ایمانداری کے ساتھ کام شروع کریں گے۔ اس بار کیوں نہ جشن آزادی کو ہی یادگار بنا لیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •