خواب اور کرامت


ایک صاحب نہایت متقی و پرہیزگار تھے۔ سارا محلہ گواہ تھا کہ وہ پکے حاجی نمازی تھے۔ ہر ایک کو نیکی کی تلقین کرتے۔ ہمیشہ سچ بولتے۔ تو ایک دن جب انہوں نے یہ اعلان کر دیا کہ وہ صاحب کرامت ولی اللہ ہیں تو پورا محلہ حیران پریشان ہو گیا۔ انہیں کبھی شبہ تک نہ ہوا تھا کہ وہ اتنے زیادہ پہنچے ہوئے ہوں گے۔ لیکن جہاں سو سجن ہوتے ہیں وہاں دو دشمن بھی ہوتے ہیں۔ ایسا ہی ایک رقیب روسیاہ بجائے اس بات کے کہ ان کے دعوے پر چوں چرا کیے بغیر یقین کر لیتا، پوچھنے لگا کہ متقی میاں یہ تو بتائیں کہ آپ کی کرامت کیا ہے؟ کیا آپ کی کرامت کسی نے دیکھی ہے یا صرف آپ نے ہی دیکھی ہے اور بے پر کی اڑا رہے ہیں۔

تس پہ متقی صاحب پہلے تو غصے سے سرخ ہو گئے کہ ان کو جھوٹا ٹھہرایا جا رہا ہے۔ پھر وہ شرم سے گلابی ہو گئے۔ کہنے لگے کہ میاں اولیا کے جتنے قصے ہم نے پڑھے ہیں، یہی پتہ چلا ہے کہ وہ اپنے راز پر پردہ رکھتے ہیں۔ وہ کرامت دکھاتے نہیں ان سے کرامت سرزد ہو جاتی ہے۔ بخدا ہم بھی صاحب کرامت ہونے کا دعویٰ نہیں رکھتے مگر کیا کریں ہم سے بھی کرامت سرزد ہو جاتی ہے اور وہ بھی عموماً تنہائی میں۔

رقیب صاحب بولے کہ یوں کہیے کہ آپ کے پاس کوئی گواہ نہیں ہے۔

متقی میاں تڑپ کر بولے کہ ایسی بات نہیں ہے۔ بخدا کرامت سرزد ہونے کے بعد میں نے بارہا بیگم کو بتایا ہے۔ بات درست ہے کہ رات کو تنہائی میں جب عبادت کرتے کرتے اونگھ آ جاتی ہے تو اس وقت عالم رویا میں عجیب و غریب حقائق سے واسطہ پڑتا ہے۔ شروع شروع میں تو ہمیں خود بھی یقین نہیں آیا تھا کہ ہم سے کرامت سرزد ہو رہی ہے، مگر جب متواتر کئی راتوں تک یہ ہوا تو تسلیم کرنا پڑا کہ ہم صاحب کرامت ہیں اور سچے خواب دیکھتے ہیں جو حقیقت بن جاتے ہیں اور جب ہم نیند سے جاگتے ہیں تو علم ہوتا ہے کہ ہماری حاجت واقعی پوری ہو چکی ہے۔

رقیب صاحب نے کہا کہ بلائیے بھابھی کو۔ ان کے سامنے بات کر دیتے ہیں۔ ہمیں علم ہے کہ وہ آپ کے اس معاملے میں ہرگز کذب و ریا سے کام نہیں لیں گی۔ آپ بالفرض محال اڑ کر بھی دکھا دیں تو وہ یہی کہیں گی کہ ٹیڑھے ٹیڑھے اڑ رہے تھے، صاحب کرامت ہوتے تو سیدھے اڑتے۔

متقی میاں نے بیگم کو بلایا اور کہنے لگے ”بیگم قسم کھاؤ کہ تم سچ کہو گی اور سچ کے سوا کچھ نہ کہو گی۔“
بیگم نے ایک ہاتھ اپنی جوتی کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ”مہمانوں کے سامنے مجھے ذلیل کرنے کو بلایا ہے؟ یعنی اب خود ولی بنے پھرتے ہو اور مجھے سارے محلے میں جھوٹا مشہور کر رہے ہو کہ میں جھوٹ بکتی ہوں؟“

متقی میاں نے فوراً ان کے پیروں کو ہاتھ لگایا اور کہنے لگے ”نہیں بیگم۔ ہمارا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں۔ یہ رقیب میاں کچھ مشکوک ہو رہے تھے کہ ہم سے کرامت سرزد نہیں ہوتی، اس لیے تمہیں بلایا ہے اور ان کی تسلی کی خاطر سچ بولنے کا کہہ رہے ہیں“ ۔

بیگم متقی نے جوتی سے ہاتھ اٹھا لیا اور کہنے لگیں ”کہو کیا کہتے ہو؟“

متقی میاں کو کچھ حوصلہ ہوا۔ کہنے لگے کہ بیگم سچ کہو کیا روز رات کے پچھلے پہر جب میں ٹائلٹ کا دروازہ کھولتا ہوں تو خود بخود ایک چاندنی جیسا نور ہر طرف نہیں پھیل جاتا اور جب میں حاجت سے فارغ ہو کر دروازہ بند کرتا ہوں تو روشنی غائب نہیں ہو جاتی؟ کیا میں نے تمہیں پچھلے ہفتے ہر صبح یہ نہیں بتایا کہ رات مجھ پر ایک قلبی واردات گزری ہے اور مجھے عجیب و غریب روحانی تجربات ہو رہے ہیں؟ تم نے ضرور یہ روشنی دیکھی ہو گی۔

بیگم متقی نے جوتی اتار لی اور کہنے لگیں ”تو وہ آپ ہیں جو روز فریج میں گند کر دیتے ہیں؟ میں ناحق منو اور چنو کو روز پیٹتی ہوں۔“
آگے کی داستان قابل بیان نہیں ہے۔ متقی میاں کے گھر کی بات ان کے گھر تک ہی رہے تو اچھا ہے۔

بہرحال نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عام بندہ اپنے خوابوں کے متعلق محتاط نہ رہے اور دنیا بھر میں انہیں بیان کرتا پھرے تو دنیا نہیں بخشتی۔ کہاں متقی میاں اپنے تئیں صاحب کرامت صوفی بننے چلے تھے، کہاں مذاق بن کر رہ گئے۔ قلبی واردات کو سینے سے لگا کر رکھنے میں ہی بچت ہوتی ہے۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar