مریم چغتائی کے نام کھلا خط

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈیئر میڈم مریم چغتائی

شنید ہے۔ کہ آپ اک قومی نصاب پر کام کر رہی ہیں۔ جو پورے ملک کے تمام سکولوں میں یکساں رائج ہو۔ اس عظیم مگر کٹھن کام میں ہماری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔

اس تحریر کے ذریعے آپ کی توجہ ایک ایسے ایشو کی جانب مبذول کروانا مقصود ہے۔ جس کے بارے میں یا تو ہم سوچتے نہیں ہیں۔ یا شاید ہم اس کی اہمیت سمجھ نہیں پا رہے ہیں۔

پاکستان میں تعلیمی سال اپریل سے شروع ہوتا ہے۔ بچے کچھ ہفتے نئی کتابوں سے مانوس ہونے لگتے ہیں۔ جب کہ کچھ کاپیاں بھی ان سے کالی کروائی جاتی ہیں۔ اور پھر جون میں گرمیوں کی چھٹیاں آ جاتی ہیں۔ جن میں بچوں کو وہ سب دوبارہ سے لکھ کر لانے کا حکم صادر ہوتا ہے۔ جو انہوں نے ابھی تک پڑھا ہو۔

یعنی جو کتاب میں پہلے سے لکھا ہوا ہے۔ اس کو دوبارہ چھاپ کر لاؤ۔ منطق اس کی یہ بتائی جاتی کہ اس سے بچہ کتاب سے جڑا رہے گا۔ اور جو پڑھا ہوگا۔ وہ بھولے گا نہیں۔

دوسری جانب بچہ بھی ”پاکستانی“ DNA لے کر پیداہونے کا ثبوت کچھ ایسے دیتا ہے۔ کہ وہ یا تو چھٹیاں ہونے سے پہلے ہی سب چھاپ چکا ہوتا ہے۔

یا پھر بچہ چھٹیاں ختم ہونے کے آخری ہفتے کا انتظار کرتا ہے۔ جب وہ یا تو آڑھی ترچھی لکیریں چھاپ کر ٹیچر کے متھے مار دیتا ہے۔ یا پھر ”میرا چھٹیاں کا کام ہماری بکری کھا گئی“ ٹائپ بہانے سوچتا ہے۔

اس بیچ والدین علٰیحدہ سے اک عجیب و غریب مصیبت کا شکار رہتے ہیں۔ کیونکہ والدین کی کوشش رہتی ہے کہ بچہ چھٹیوں کے دوران دیا گیا ہوم ورک وقت پر مکمل کرلے۔ سو وہ بچے کو مسلسل تنبیہ کرتے رہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے والدین اور بچے کے درمیان گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران اک نہ ختم ہونے والی ”لکا چھپی“ لگی رہتی ہے۔ یا پھر بچے کو کسی ٹیوشن سینٹر میں بھرتی کروا دیا جاتا ہے۔ جہاں بچہ پھر وہی روز سکول جانے والی ”ذلت“ محسوس کر کے چھٹیاں ”ایجاد“ کرنے والے کو کوستا ہے۔

پھر ان نان۔ریگولیٹڈ ٹیوشنز اکیڈمیز میں کیا گل کھلتے ہیں۔ وہ اپنی جگہ ایک علٰیحدہ بحث ہے۔ اور ہم جیسے بھیڑ چال چلنے والے عوام کو ابھی اس بحث میں جا کر آپ کا قیمتی وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ کہ سنا ہے کہ پرویز ہود بھائی نے بھی آپ کا کافی وقت لیا ہے۔ ویسے آدمی وہ بھی کافی دلچسپ ہیں۔

خیر، اس سے پہلے کہ فروعی معاملات پر ڈی۔ ٹریک ہو جاؤں۔ تو عرض یہ کہ بچے جب گرمیاں کی چھٹیاں گزار کر ماہ ستمبر میں واپس سکول لوٹتے ہیں۔ تو اکثر کی ہوم ورک کی کاپیاں گھر رہ گئی ہوتی ہیں۔ جس کے لئے بچہ وعدہ کرتا ہے کہ کل لازمی لے آئے گا۔ اور یہ تو ہم سب کو پتہ ہے کہ ”کل کبھی نہیں آتی۔“

دوئم یہ کہ جن بچوں سے ہوم ورک سرزد ہو بھی گیا ہو۔ تو ان کو چیک ایسے ہی کیا جاتا ہے۔ جیسے اسکیورٹی اہلکار عوام کے ہجوم کو اندر جانے سے پہلے چیک کر رہا ہے۔

ویسے ٹیچر بھی کیا کرے۔ وہ کتاب سے چھپا ہوا سب کی کاپیاں اٹھا کر دوبارہ سے پڑھے۔ یا بچوں کو آگے پڑھائے؟

قصہ مختصر، ہمارے ہاں دیگر بہت معاملات کی طرح تعلیمی سال کا آغاز بھی غلط وقت پر کیا جاتا ہے۔ اور اس کا بڑا نقصان یہ کہ بچہ اوائل عمری سے ہی ”چھوٹی موٹی کرپشن“ سیکھنے لگتا ہے۔ جھوٹ بولنا سیکھتا ہے۔ کام کو ٹالنا یا نیم دلانہ طریقے سے کرنا سیکھتا ہے۔ اور یہ سب آگے چل کر بچے کی شخصیت پر کتنا منفی اثر ڈالتے ہیں۔ اس سے ہم سب بخوبی آگاہ ہیں۔ مزید یہ کہ والدین پر بھی مالی بوجھ پڑتا ہے۔ جب ان کو بچوں کے لئے ”چھٹیوں کے کام“ کے رجسٹر علٰیحدہ سے لے کر دینے پڑتے ہیں۔ اور بیشتر والدین کو تو ٹیوشن فیس بھرنے کے لئے بھی اپنا بجٹ بھی بنانا پڑتا ہے۔

مزید یہ کہ ٹیچر بھی مندرجہ ذیل لایعنی مشقوں میں پھنسے رہتے ہیں۔ چھٹیوں کا کام دینا اور چھٹیوں کا کام چیک کرنا۔ چھٹیوں سے پہلے جو پڑھایا تھا۔ اس کو دوبارہ سے پڑھانا۔ کہ اکثر بچے چھٹیوں کے دوران نانی کے گھر کے پکوان کھاتے کھاتے سب بھول چکے ہوتے ہیں۔

عرض یہ ہے کہ جہاں نصاب بدل رہا ہے۔ وہاں ہمت کرکے تھوڑی سی عقل اور کر لی جائے۔ اور ملک خدادا میں تعلیمی سال کو ستمبر سے جون تک رائج کیا جائے۔ اوائل جون میں امتحانات کا انعقاد ہو۔ اور وسط جون سے لے کر وسط اگست تک ٹیچر سالانہ رزلٹ تیار کریں۔ جبکہ بچے اور والدین دو ماہ سکھ کا سانس لے کر ”بریک“ انجوائے کریں۔ وسط اگست یعنی یوم آزادی والے دن سالانہ متحان کے نتائج کا اعلان کیا جاوے۔ اور بچوں کو یکم ستمبر سے واپس اسکول آنے کا کہا جائے۔ سو اگست کے باقی کے پندرہ دنوں میں بچے اپنی نئی کتابوں اور یونیفارم کا انتظام کرکے تازہ دم ہو کر حاضر ہوں۔

اس ایک چھوٹے سے بالکل فری بدلاؤ سے بچوں، والدین اور ٹیچزز سب کو فائدہ ہو گا۔
۔ بچے اپنی چھٹیاں انجوائے کر کے اگلے سال کے لئے تازہ دم ہو سکیں گئے۔
۔ والدین کی جیب اور وقت کو سکھ ملے گا۔
۔ ٹیچرز صیح طرح سے سالانہ نتائج بنا پائیں گئے۔ اوراگلے تعلیمی سال کی تیاری بھی کر سکیں گئے۔
ٹیچرز کے لئے سالانہ چھٹیاں اور ریفریش کورسز بھی انہی گرمیوں کے دنوں میں ایڈجسٹ کیے جا سکتے ہیں۔

ٹیچرز کانفرنسز بھی انہی دنوں میں کروائی جا سکتی ہیں۔ سو ٹیچرز کو ایک دوسرے سے میل جول اور سیکھنے کا موقع ملے۔

موجودہ نظام میں ان سب باتوں کا تصور بھی محال ہے۔

جبکہ بچوں کے لئے اس بریک کے دوران مختلف غیرنصابی سرگرمیوں کا انعقاد بھی کیا جا سکتا ہے۔ جس میں بچے پوری فراغت اور دلجمعی کے ساتھ حصہ لے سکتے ہیں۔ جو ان کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کرے گا۔

اور بچے ”چھٹیوں کا کام“ والی ڈرامہ بازی کی بجائے حقیقی ڈرامہ میں حصہ بھی لے سکتے ہیں۔

آپ سب قارئین سے عرض ہے کہ اس تحریر کو پھیلائیں۔ شاید ارباب اختیار تک یہ بات پہنچ جائے اور ان میں سے کوئی صحیح سمت قدم اٹھائے۔ اس تجویز پر عمل کروائے اور ہماری آنے والی نسلوں کے لئے نجات دہندہ بن جائے۔ میری طرف سے اس تجویز کا کریڈٹ بھی خود ہی لے لیں۔

خیراندیش،
سلمان شبیر خان (لندن)


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سلمان شبیر خان کی دیگر تحریریں