کوے کے لئے غلیل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


اس دن فجر کی نماز کے لئے جب میں گھر سے نکلا تو مؤذن صدا لگا رہا تھا ”حی علی الفلاح حی علی الفلاح“ دوسری آواز جو مجھے سنائی دی وہ اپنے پیچھے گیٹ بند ہونے کی آواز تھی جو میرے زور سے دھکا دے کر گیٹ بند کرنے کی عادت کی وجہ سے پیدا ہوا کرتی تھی اور یہ میرے لئے معمول کی ایک بات تھی۔

لیکن اس دن کی غیر معمولی بات تھی مسجد جانے کے لئے معمول سے ہٹ کر ایک دوسرے راستے کا انتخاب۔ رات خاصی بارش کے سبب چونکہ معمول کا راستہ بارش اور ابلتے گٹروں کی غلاظت میں ڈوبا ہوا تھا مسجد جانے کے لئے یہی دوسرا راستہ مناسب تھا لہٰزا کچھ دیر توقف کے بعد میں نے تیزی سے قدم مسجد کی طرف بڑھانے شروع کر دیے۔ دو گھروں کے بعد ہی بائیں ہاتھ کو مڑنے پر مجھے احساس ہوا اگرچہ اللہ کے گھر حاضری کے لئے بائیں ہاتھ والا یہ راستہ نسبتاً طویل ضرور تھا لیکن تھا بالکل سیدھا اور کسی بھی قسم کی غلاظت سے پاک۔

میں نے سوچا اس سے پہلے یہ راستہ اختیار کرنے کا خیال میرے ذہن میں کیوں نہ آیا شاید میں بھی اکثریت کی طرح سہل پسند اور اسٹیریو ٹائپ زندگی گزارنے کا عادی ہوچکا ہوں پھرخیال آیا ویسے بھی ہمارے جیسے معاشروں میں بائیں بازو والے راستہ پر چلنا آسان کہاں ہوتا ہے اور نجانے کیوں میں اپنی ہی سوچ پر مسکرا دیا۔

اس راستے پر خاصے پرانے درخت بڑی تعداد میں موجود تھے گھنے اور سایہ دار۔ ۔ ۔ لیکن یہ وقت چونکہ حضوری کا تھا لہٰزا درختوں تلے گزرتے وقت درختوں سے شب گزار پرندوں کی تسبیح کا ایک مانوس سا شور جاری تھا جو صرف اس وقت کے لئے مخصوص ہوتا ہے اب میں تقریباً مسجد پہنچ چکا تھا۔

نماز سے فارغ ہوکر گھر واپسی کے لئے میں نے دوبارہ اسی راستے کا انتخاب کیا۔ حضوری کا وقت ختم ہو چکا تھا اس لیے شاید پرندے بھی اپنے معمول میں مگن ہوگیے تھے اسی لئے ان کی تسبیح کا شور بھی مدھم پڑ چکا تھا اگر کسی پرندے کی آواز اب بھی نمایاں سنائی دے رہی تھی تو وہ کوؤں کی آواز تھی۔ ۔ ۔ بے سری اور کرخت۔ پرندوں کی تسبیح میں جانے کتنے سریلے پرندوں کے صوتی ترنگ کا آہنگ ہوتا ہے مگر کوے کی آواز کا اسکیل مجھے ہمیشہ سے مختلف ہی محسوس ہوا ہے اونچا، بھونڈا اور جمالیاتی طور پر کسی بھی ترنم سے عاری۔ ۔ ۔ جیسے دور کہیں بجنے والے کسی اسکاؤٹ بینڈ کے ڈرم کی آواز یا رات کے اندھیرے میں کسی سنسان سے راستے پہ معمول کے برخلاف لگے ناکے کے دوران ”ہالٹ“ کہ کر اچانک سامنے آ کر لیٹ نائٹ ڈیوٹی سے گھر واپس ہوتے موٹر سائیکل سوار کو تلاشی کے لئے روکتے بندق بردار سنتری کا تحکمانہ لہجہ!

میں جوں جوں اپنے گھر سے قریب ہوتا جا رہا تھا کوؤں کا بے ہنگم شور بھی بڑھتا چلا جا رہا تھا سمجھ نہ آتا تھا کہ ماجرا کیا ہے۔ اچانک میرے کانوں نے محسوس کیا کوئی شے اتنی ہی سرعت سے میرے سر کے انتہائی قریب سے گزری ہے جیسے فسادات میں کسی اناڑی کی چلائی پستول کی گولی اور میں لرز کے رہ گیا۔ میں نے قدم اور تیز اٹھانے چاہے لیکن میں نے محسوس کیا میری رفتار کے ساتھ کوؤں کا شور بھی بڑھتا جا رہا ہا اور اب ایک دو نہیں بہت سے کوے کائیں کائیں کرتے گویا مجھ پر جھپٹ رہے ہیں مجھے ”ہالٹ“ کر رہے ہیں گھور رہے ہیں اڑ رہے ہیں میرے آگے پیچھے

پھر ایک کوے کی میرے سر پر اپنی ٹھونگ آزمائی کے نتیجے میں میری ٹوپی گر پڑی۔ ٹوپی اٹھاتے ہوئے میں نے ایک زوردار گالی نکالی اور سخت اشتعال کے عالم میں کوئی پتھر تلاش کرنے لگا اور پکی گلی میں پتھر کی ناموجودگی پر میں نے عبادت کے لئے پانی کی ناموجودگی والی منطق لگا کر اپنے تھیٹرکے تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے پتھر مارنے کی مائمز (mimes) شروع کر دیں اب میرا پورا وجود پاکستانی اخباری تصاویر میں اسرائیلی یا بھارتی ٹینک کے سامنے پتھر برساتے کسی نہتے فلسطینی یا کشمیری بچے کی مانند لگ رہا تھا۔

اس کا فوری فائدہ یہ ہوا کہ وہ دو جنگجو کوے جو کسی نچلے رینک کے سپاہی کی طرح میرا راستہ روکنے میرے بالکل سامنے سڑک پہ آ بیٹھے تھے اور گویا شوق شہادت میں خود کو کوے کی جگہ اقبال کا شاہین تصور کر کے مجھ دشمن پر جھپٹنے ہی والے تھے ایک لمحے کو ٹھٹکے ان میں سے ایک نے خود کو شاہین کی جگہ کوا ہی تسلیم کرنے کا سائنسی فیصلہ کیا اور دوسرا اس وقت تک مجھ پر جھپٹ پڑنے والی پوزیشن میں ہی اپنی جگہ پہ ساکت ہو کر مجھے گھورتا رہا جب تک اس کے قریب ایک آدھا خالی جوس کا ڈبہ آکر نہ گر گیا۔

نتیجے میں اس نے بھی اڑان بھر لی اور میں نے اسی پوزیشن میں نظر اوپر اٹھائی تو دیکھا کہ قریب والے بنگلے کی بالکونی میں کھڑے صاحب میری حالت زار پہ ہنس رہے ہیں میں جھینپ کر جتنی دیر میں فلسطینی یا کشمیری سے دوبارہ پاکستانی بنا انہوں نے کہا ٍ۔ ”اس سے کچھ نہیں ہونے والا بھائی۔ آپ نے غور نہیں کیا شاید۔ ۔ ۔ رات بجلی کے تاروں سے کرنٹ لگ کر ان کا ساتھی ایک کوا ہلاک ہو گیا ہے دیکھئے وہیں پڑا ہے سامنے۔ یہ اس پہ غضبناک ہو کر ہر آنے جانے والوں پر حملہ کر رہے ہیں۔ راہ گیروں پر اس ظرح کے حملے کرنا ان کا طریقہ ہے صاحب۔ آپ بس جلدی سے گزر جائیے اور شکر کیجئے کہ ٹھونگ سے سر زخمی ہونے سے بچ گیا“ ۔

ان کی اس بات پر میرا ردعمل بالکل ویسا ہی تھا جیسے چند دن پہلے میں نے دن دھاڑے بیچ سڑک پر دو مسلح موٹر سائیکل سواروں کے ہاتھوں اپنا والٹ چھننے پر جب قریبی رینجرز کی چوکی پر شکایت کی تو مجھے انہوں نے کہا ”شکر کریں آپ نے مزاحمت نہیں کی ورنہ وہ آپ پر فائر بھی کر سکتے تھے اور آپ کی جان بھی جا سکتی تھی“

میں نے ان صاحب کا شکریہ ادا کیا اور گویا بقول فیض احمد فیض جسم و جاں چرا کے چلا اور گھر آ گیا۔

وہ پورا دن میرے لئے ایک عجیب سا دن گزرا کبھی کبھی تو مجھے لگتا ہے اس دن مجھے گوتم بدھ کی طرح نروان ملا ہے۔ اپنے ہی وطن میں زندگی گزارنے کا نروان۔ مٰیں سارا دن سوچتا رہا کوے کی ہلاکت میں میرا قصور کیا تھا۔ ۔ ۔ میرے پرانے محلے ممیں ایک بچہ اسکول واپسی پر بارش کے بعد پانی میں پڑی بجلی کی تار سے پھیلنے والے کرنٹ سے ہلاک ہو گیا تھا۔ ایک دو نہیں سیکڑوں ایسے واقعات ہمارے سامنے روز ہوتے ہیں لیکن ہم تو کبھی کچھ نہیں کہتے۔

کسی انجانے کو کیا متئلقہ محکمے کے کسی افسر کو بھی ٹھونگ نہیں مارتے۔ ہم میں کوؤں کی ظرح ظلم پر یا اپنے سماجی مفادات پہ ضرب پڑنے پر ردعمل کا حوصلہ کیوں نہیں۔ وہ صاحب اس دن کیسے کہ رہے تھے ”راہ گیروں پر اس طرح حملے کرنا ان کا طریقہ ہے صاحب۔ آپ بس جلدی سے گزر جائیے اور شکر کیجئے کہ ٹھونگ سے سر زخمی ہونے سے بچ گیا“ ۔ ہو سکتا ہے فیض صاھب کے مدھم لہجے میں ڈوبی اپروچ کو ہم غلط سمجھے ہوں جو کہتے ہیں :

نثار میں تری گلیوں پہ اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے
جو کوی چاہنے والا طواف کو نکلے
نظر جھکا کے چلے جسم و جاں چرا کے چلے

مجھے یقین ہوتا جا رہا ہے کہ ہم فیض صاحب کی اپروچ کو غلط ہی سمجھے ہیں۔ اسی لئے ہم نے ہر ہرے بھرے درخت پرکوؤں کے تسلط کو گویا قبول کر لیا ہے اور وہاں سے نظر جھکا کے گزر جانے کی ہمیں عادت ہو گئی ہے۔ ہم ان کے تسلط کو نہ صرف جائز بلکہ ان کا حق سمجھتے ہیں کہ ان کے مفادات پہ ضرب پڑنے کی صورت میں وہ ہمارے مفادات کو روند کر رکھ دیں۔ آہنی ٹھونگوں سے لہولہان کرنے کے بعد بھی شکر کا مشورہ دیں۔ یہ ہر سرسبز ٹھکانے سے بلبل اور طوطے جیسے بے ضرر پرندوں کی نسل کشی میں ملوث ہیں۔ اپنے سے کمزور پرندوں کے گھونسلوں سے ان کی مدہ کو بھگانے کے لئے مصروف عمل رہتے ہیں تاکہ ان کے انڈے بچوں سے استفادہ کر سکیں۔ اپنی ٹھونگوں کو دفاعی ہتھیار کے بجائے غاصبانہ قبضوں اور چڑیا جیسے معصوم و کمزور پرندوں کے شکار کے لئے استئمال کرتے ہیں۔ ۔ ۔ یہ دن رات کھاتے ہیں لیکن ان کی سیری نہیں ہوتی۔

تو میں بات کر رہا تھا اس دن کے واقعے سے ملنے والے نروان کی۔ تو وہ نروان یہ ہے کہ کوؤں کا تسلط ختم کرنے کے لئے ہمیں بیدار ہونے کے لئے آتی مؤذن کی حی علی الفلاح پر لبیک کہنا ہوگا اور کوؤں کے رویے کے شکار افراد کو اپنے بچوں کو ترغیب دینی ہوگی کہ وہ اپنے ہاتھوں میں فیض کے کلام کی بجائے غلیلیں پکڑیں کیونکہ کوے اگر کسی چیز سے گھبراتے ہیں تو یہ وہ غلیل بردار بچے ہیں جن کو کوؤں کے خوف کے بجائے اپنے نشانے پہ ناز ہوتا ہے اور ان کا مائنڈ سیٹ شروع دن سے ہی حبیب جالب سا ہوتا ہے جو کہتا ہے :

ایسے دستور کو صبح بے نور کو
میں نہیں جانتا میں نہیں مانتا


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
معین قریشی کی دیگر تحریریں