ستو سے بھنگ تک
گزشتہ 17 اگست کو مجھے گویا اک نیا نروان اس لمحہ حاصل ہوا جب ایک کتاب تلاش کرتے ہوئے میری لائبریری کے ایک بک شیلف سے ایک پرانا اردو رسالہ گر پڑا اور میری نظر سے اس زمانے میں چھپا ایک زرعی دوا کا اشتہار گزرا جو نئی فصل کی بوائی سے پہلے گڈائی کے عمل کے دوران استعمال کی جاتی تھی۔ ایک امریکن کمپنی کی تیار کردہ اس زرعی دوا کی ڈسٹری بیوشن ایک مقامی کمپنی کے ہاتھ میں تھی۔ میرا تعلق چونکہ ایڈورٹائزنگ سے رہا ہے تو مجھے اندازہ ہے کہ اس دوا نے اس زمانے میں کتنی حیرت انگیز مقبولیت حاصل کی اور سیلز کے کتنے پرانے ریکارڈ توڑ کر کتنے نئے ریکارڈ قائم کیے۔
نروان یہ ملا کہ اس دن اس تاریخ کو تقریباً 32 سال پرانے میگزین کے اس صفحہ کے اچانک کھلتے ہی گویا کھل گئی عمر گزشتہ کی کتاب۔
Read more
