ستو سے بھنگ تک

گزشتہ 17 اگست کو مجھے گویا اک نیا نروان اس لمحہ حاصل ہوا جب ایک کتاب تلاش کرتے ہوئے میری لائبریری کے ایک بک شیلف سے ایک پرانا اردو رسالہ گر پڑا اور میری نظر سے اس زمانے میں چھپا ایک زرعی دوا کا اشتہار گزرا جو نئی فصل کی بوائی سے پہلے گڈائی کے عمل کے دوران استعمال کی جاتی تھی۔ ایک امریکن کمپنی کی تیار کردہ اس زرعی دوا کی ڈسٹری بیوشن ایک مقامی کمپنی کے ہاتھ میں تھی۔ میرا تعلق چونکہ ایڈورٹائزنگ سے رہا ہے تو مجھے اندازہ ہے کہ اس دوا نے اس زمانے میں کتنی حیرت انگیز مقبولیت حاصل کی اور سیلز کے کتنے پرانے ریکارڈ توڑ کر کتنے نئے ریکارڈ قائم کیے۔

نروان یہ ملا کہ اس دن اس تاریخ کو تقریباً 32 سال پرانے میگزین کے اس صفحہ کے اچانک کھلتے ہی گویا کھل گئی عمر گزشتہ کی کتاب۔

Read more

اور آخر ابا مر گیا!

آج 21 اگست 2020ء ہے اور یکم محرم بھی۔ آج کے دن ہماری سماجی و سیاسی زندگی کا ’حاصل‘ رزق خاک ہوا۔ وہ اپنے قریبی دوستوں میں ’ابا‘ کہلاتا اور اس پر ناز بھی کرتا تھا۔ ہماری مادر علمی یعنی جامعہ کراچی نے یکم جولائی 1982ء کو گویا پہلی بار ہمیں ابا کے درشن کرائے۔ وہ نئے تعلیمی سال کا پہلا دن تھا اور ہم نوواردان جامعہ کراچی کا بھی جامعہ کراچی میں پہلا قدم۔ ایک عجیب منظر تھا سلورجوبلی

Read more

کوے کے لئے غلیل

اس دن فجر کی نماز کے لئے جب میں گھر سے نکلا تو مؤذن صدا لگا رہا تھا ”حی علی الفلاح حی علی الفلاح“ دوسری آواز جو مجھے سنائی دی وہ اپنے پیچھے گیٹ بند ہونے کی آواز تھی جو میرے زور سے دھکا دے کر گیٹ بند کرنے کی عادت کی وجہ سے پیدا ہوا کرتی تھی اور یہ میرے لئے معمول کی ایک بات تھی۔ لیکن اس دن کی غیر معمولی بات تھی مسجد جانے کے لئے معمول

Read more