باتیں ایسی جو سب کو پتا ہیں، ذرا دہرا لیں

بات یہ ہے کہ جن قوموں ملکوں، ریاستوں کو بغیر کسی بڑی جد و جہد کے اپنا آزاد ملک مل جائے تو اس کے پاس کوئی ایسی تنظیم نہیں ہوتی جس کی جڑیں اس ملک کے عوام میں ہوں اور وہ اس کے ساتھ خود کو وابستہ کریں۔ ایسے ملکوں میں اگر فوج واحد ایسی طاقت ہو جس کی تنظیم مضبوط ہو تو جلد یا بدیر ملکی معاملات میں اپنا اثر قائم کر لیتی ہے۔

انگریزوں اور دوسری نو آبادیاتی طاقتوں نے جب دوسری جنگ عظیم کے بعد اپنی کالونیوں کو آزادی دینا شروع کی تو دیکھا یہ گیا کہ زیادہ تر ایشیائی اور افریقی ملکوں میں آزادی حاصل کرنے والی جمہوری حکومتیں جلد فوج کی مربوط اور مضبوط انتظامی تنظیم کے آگے ہتھیار ڈالتی رہیں۔ اور پھر ایک زمانہ آیا کہ زیادہ تر نوآزاد ملکوں میں فوجی یا ملی جلی آمریتیں قائم ہونے لگیں۔

لیکن جن نو آزاد ملکوں میں جمہوری پارٹیوں نے ایک طویل جد و جہد کے بعد آزادی حاصل کی اور جن کو نوآبادیاتی دور میں محدود پیمانے پر ہی سہی صوبائی اور دوسری حکومتیں سنبھالنے کا تجربہ تھا وہ خود کو فوجی یا غیر فوجی آمریت سے بچانے میں کامیاب ہو گئیں، جس کی ایک مثال ہمارے پڑوس میں انڈیا کی ہے جس کو ہمارے ساتھ ہی آزادی ملی، جس کو انہوں نے جلد ہی پوری طرح سنبھال لیا۔ اپنے تجربے اور عوام میں جڑیں مضبوط ہونے کی وجہ سے اپنے آزاد ملک کو چلانے کے لیے آئین ترتیب دینے میں ان کو کسی خاص مشکل کا سامنا نا ہوا۔ کیوں کہ آزادی کے لیے جد و جہد کرنے والی سیاسی پارٹی تقریباً پورے انڈیا میں اپنی مضبوط تنظیم رکھتی تھی، اس کے پاس قومی اور صوبائی سطح پر، حتیٰ کہ چھوٹے قصبوں اور گاؤں میں بھی کچھ نا کچھ تنظیمی ڈھانچہ موجود تھا۔

لیکن انڈیا کے پڑوسی ملکوں پاکستان اور دوسری طرف برما، جس کو اب میانمار کہتے ہیں، مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیوں کہ یہ دونوں ملک کسی لمبی جد و جہد کے بغیر آزاد ہو گئے تھے۔ پاکستان کا مطالبہ تو ایک قرارداد کے ذریعہ 1940 میں ہو گیا تھا لیکن اس کو خود قرارداد پیش کرنے والوں نے بھی کسی خاص سنجیدگی سے نا لیا۔ اور اگر کہا بھی جائے کہ مسلم لیگ اسی وقت سے اس معاملے میں سنجیدہ تھی پھر بھی حقیقت یہ ہے کہ سات سال کا عرصہ ایسا نہیں ہوتا کہ اس میں ایسے مطالبے کے لیے سب کو قابل قبول بنایا جا سکے۔ ہاں اگر ایسی قرارداد 1930 میں پیش ہوتی اور لیگ اس پر سنجیدگی سے بھی پوری طرح فوکس ہوتی تو شاید اس کا اثر ہوتا۔

مسلم لیگ کے پاس قائدین کی بہت کمی تھی، سمجھیں کال ہی تھا۔ جناح صاحب کے ساتھیوں میں کوئی ایسا نا تھا جو پورے انڈیا کے مسلمانوں کو متاثر کرتا ہو۔ بنگال میں عوامی لیڈر تھے جن میں شیر بنگال کے نام سے مشہور فضل حق اور سہروردی جیسے بڑے نام تھے لیکن ان کا بنگال سے باہر کوئی خاص حلقہ اثر نا تھا۔ متحدہ صوبہ جات جن کو یو پی کہا جاتا تھا وہاں کے جو بھی رہنما جناح صاحب کے ساتھ تھے اپنے صوبے تک میں ایک محدود اثر زمیندار طبقے میں تو ضرور رکھتے ہوں گے لیکن عوامی سطح پر کچھ بڑے نام نا تھے، اور یہاں یہ بتانے میں کیا حرج ہو سکتا ہے کہ ان کی سیاست انگریز افسروں کو خوش رکھتے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کو ہوا کرتی تھی۔ بمبئی میں مسلم تاجر جناح صاحب کے مدد گار تھے۔ سندھ مین زمیندار طبقہ سے تعلق رکھنے والے مسلمان مین سے ایک حلقہ مسلم لیگ کو اس لیے پسند کرنے لگا تھا کہ ان کو لگتا تھا کہ اس طرح وہ ہندو ساہوکاروں اور تاجروں کے غلبے سے خود کو بچا سکتے ہیں۔

پنجاب کیوں کہ ایک مکس آبادی والا صوبہ تھا جہان مسلمان اکثریت میں تھے اور ان کو وہاں کی غیر مسلم آبادیوں سے کبھی کوئی بڑا خطرہ نا تھا اس لیے مسلم لیگ اس صوبے میں اپنی جڑیں تو دور کی بات ٹوٹی پھوٹی تنظیم بھی نہیں رکھتی تھی۔ لیکن پنجابی مسلمان رہنما کانگریس سے بھی خوش نا تھے اس لیے اپنی مقامی تنظیم اور پارٹی بنا کر مطمئن تھے۔

صوبہ سرحد کانگرس کا حامی تھا، وہاں کے لیڈر غفار خان اس صوبے میں بہت اثر رکھتے تھے اور کانگرس کے ساتھ تھے۔

جب یہ سب کو معلوم ہو چلا کہ اب انگریز جلد یہ نو آبادی چھوڑنا چاہتا ہے تو پنجاب کی مسلم لیڈر شپ کو کانگرس سے خطرہ تھا کہ وہ زمینداریوں کو ختم کر دے گی، اس لیے 1945 میں وہاں کی مسلم لیڈر شپ مسلم لیگ کے ساتھ ہو گئی۔ لیکن یہ لیڈر شپ اور خود جناح صاحب جو اس وقت تک قائد اعظم بن چکے تھے، پنجاب کی غیر مسلم آبادی خصوصاً سکھوں کو سنبھال نا سکی اور یوں پنجاب کی تقسیم جس کے بارے میں جناح صاحب نے سوچا بھی نا تھا عمل میں آئی، جو بر صغیر کے لیے ایک عظیم سانحہ بن گئی۔

کیبنٹ مشن پلان جس میں زونل سکیم دی گئی تھی جو اس وقت بہترین سیاسی حل نکال سکتی تھی، کی ناکامی کی وجہ کانگرس تھی جناح صاحب پر اس کا الزام مناسب نہیں۔ لیکن اس کی ناکامی کے بعد جناح صاحب کے راست اقدام کی وجہ سے کلکتہ میں فسادات پھوٹ پڑے، جس کے بعد بنگال کو بھی تقسیم ہونا پڑا جس کے لیے نا جناح صاحب اور نا بنگال کی مسلم لیڈر شپ تیار تھی یہ دونوں دھچکے پاکستان کو ایسے ملے کہ پاکستان معاشی طور پر سنبھالنا مشکل ہو گیا۔

قائد اعظم لیگ کے لیڈروں کی صلاحیتوں سے واقف تھے اس لیے ان کو مسلم بیوروکریٹس پر اعتماد کرنا پڑا، جو جلد ہی ملک کے اصل حاکم بن گئے اور سیاسی لیڈر ان کے پٹھو بن کے رہ گئے۔ سرکاری افسروں نے فوج کی طاقت کو اپنے ساتھ ملایا، لیکن جوں ہی فوج کو یہ سمجھ آیا کہ اصل طاقت تو ان کے پاس ہے بیوروکریٹس اس طاقت کے بل بوتے اپنی چوہدراہٹ بنائے ہوئے ہیں۔ فوجیوں نے طاقت اپنے ہاتھ لے لی اور جب سے اب تک یا تو خود حاکم رہے یا مجبوراً کبھی جمہوری نظام کو لانا بھی پڑا تو جمہوری حکومتوں کو کنٹرول کرنے کا سلسلہ رکھا، جو کبھی زیادہ کبھی کم رہا لیکن فوج حاوی رہی۔ کبھی آئین میں ایسی دفعات رکھیں کہ جمہوری حکومت کو صدر فوج کی مدد سے چلتا کرتا رہا، سیاسی رہنماؤں نے جب اس کو آئین سے نکالا تو عدلیہ کے ذریعہ منتخب وزیر اعظموں کو گھر بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا، اور آج ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان ایک گیریژن یا سکیورٹی سٹیٹ بن چکا ہے، سیاسی حکومت اس کی کٹھ پتلی بن چکی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words
صولت پاشا کی دیگر تحریریں