باتیں ایسی جو سب کو پتا ہیں، ذرا دہرا لیں

بات یہ ہے کہ جن قوموں ملکوں، ریاستوں کو بغیر کسی بڑی جد و جہد کے اپنا آزاد ملک مل جائے تو اس کے پاس کوئی ایسی تنظیم نہیں ہوتی جس کی جڑیں اس ملک کے عوام میں ہوں اور وہ اس کے ساتھ خود کو وابستہ کریں۔ ایسے ملکوں میں اگر فوج واحد ایسی طاقت ہو جس کی تنظیم مضبوط ہو تو جلد یا بدیر ملکی معاملات میں اپنا اثر قائم کر لیتی ہے۔

انگریزوں اور دوسری نو آبادیاتی طاقتوں نے جب دوسری جنگ عظیم کے بعد اپنی کالونیوں کو آزادی دینا شروع کی تو دیکھا یہ گیا کہ زیادہ تر ایشیائی اور افریقی ملکوں میں آزادی حاصل کرنے والی جمہوری حکومتیں جلد فوج کی مربوط اور مضبوط انتظامی تنظیم کے آگے ہتھیار ڈالتی رہیں۔ اور پھر ایک زمانہ آیا کہ زیادہ تر نوآزاد ملکوں میں فوجی یا ملی جلی آمریتیں قائم ہونے لگیں۔

Read more