چنوا اچیبے: وطن اور جلاوطنی (4)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"nasirچنوا اچیبے نے اپنی افریقی شناخت کی بازیافت کے باقاعدہ آغاز کا سلسلہ یونیورسٹی کے ان دنوں (1952) سے جوڑا ہے جب ان کے ایک ہم جماعت نے جوائس کیری کے ناول مسٹر جونسن کے سلسلے میں کہا کہ وہ اس ناول کے صرف اس حصے سے لطف اندوز ہوا جب نائیجیریائی ہیرو مسٹر جونسن اپنے برطانوی آقا مسٹر رڈبک کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اترا۔ انگریزی کے استاد یہ طنزیہ رائے سن کر سکتے میں آگئے تھے۔ اس لیے کہ اس ناول کو ٹائم میگزین نے اپنی 20 اکتوبر 1952 کی اشاعت میں افریقا سے متعلق لکھا گیا بہترین ناول قرار دیا تھا اور پورے یورپ میں اس کی دھوم تھی۔ اچیبے نے اسے یورپ کے ام البلاد کی کینن سازی کے خلاف ایک تاریخی بغاوت کا نام دیا ہے۔ وہ ایک افریقی طالب علم کی کسی ادبی متن سے متعلق ایک تنقیدی رائے نہیں، ایک واضح، پر زور انکار تھا، اس بات کے خلاف کہ افریقا سے متعلق ایک آئرشی برطانوی مصنف کے ناول کوغیر افریقی لوگ بہترین کیوں کر قرار دے سکتے ہیں۔ یہ انکار ناول کی ہیئت اور اس کی بیانیاتی عظمت کا نہیں تھا، اس کے موضوع سے متعلق دعوے کا تھا۔ اچیبے اور ان کے ہم وطن اپنے انگریزی نصابات میں شیکسپیئر، ملٹن، ڈیفو، سوئفٹ، ورڈزورتھ، کالرج، کیٹس، ٹینی سن، ہاﺅس مین، ایلیٹ، فراسٹ، جوائس، ہیمنگوے اور کونارڈ سے متعارف ہو چکے تھے، مگر جوائس کیری کے مسٹر جونسن اور اس سے متعلق یورپی تنقیدی دعووں نے مزاحمت پرآمادہ کردیاتھا۔ آخر انگریز و امریکی مصنفین کے شعری و فکشنی متون کی بجائے، ایک آئرشی برطانوی مصنف کے ناول کے خلاف بغاوت و مزاحمت کیوں ہوئی؟ یہ سوال نہ صرف اچیبے کو بلکہ عمومی طور پر مابعد نو آبادیاتی فکر کو سمجھنے میں بھی اہم حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ تمام نو آبادیاتی ممالک میں \"resized\"انگریزی نظام تعلیم کے ساتھ ہی انیسویں و بیسویں صدی کے ممتاز مغربی تخلیق کار متعارف ہوئے۔ ڈرامے میں شیکسپیئر، شاعر ی میں ملٹن، کالرج، ورڈزورتھ، ایلیٹ وغیرہ، فکشن میں لارنس، جوائس، ہیمنگوے وغیرہ۔ ان سب کو شوق سے پڑھا گیا، ان کی تقلید بھی کی گئی۔ خود اچیبے کہتے ہیں کہ انھوں نے انگریزی فکشن نگاروں ہی سے متاثر ہوکر انگریزی میں لکھنا شروع کیا۔ ان کے خلاف ردّعمل (جو کبھی شدید نہیں ہوا) اس وقت ہوا، جب یہ احساس عام ہو ا کہ انھیں ادب کے آفاقی کینن کی صورت     پیش کیا گیا تھا اور ان کے ادبی معیارات مقامی ادبی معیارات سے نہ صرف متصادم تھے، بلکہ انھیں انتہائی خاموشی کے ساتھ تہ وبالا کرنے کا ایک داخلی میلان رکھتے تھے۔ مگر جوائس کیری کے خلاف فی الفور اور شدیدردّعمل اس لیے ہوا کہ وہ افریقا سے متعلق اس سٹیریو ٹائپ روایت کا پروردہ تھا جسے اس نے سنڈے سکول، رسائل، سفرناموں، اوربرطانوی معاشرت میں انیسویں صدی کے آخر تک رائج خیالات سے سیکھا تھا۔ اچیبے زور دے کر کہتے ہیں کہ ایک مصنف کے طور پر اسے اس روایت کو عبور کرنا چاہیے تھا اور اپنی نظر بروے کار لانی چاہیے تھی۔ کیری ایک مصنف کے طور پر ناکام نہیں تھا، مگر افریقا سے متعلق مصنف کی حیثیت میں انتہائی متنازع تھا۔ بہ ہر کیف جوائس کیری نے چنوا چیبے کے اندر ایک بھونچال سا پیدا کردیا۔ یہ بھونچال، ایک تخلیق کار کی بیداری کا نہیں تھا کہ اچیبے اس سے قبل ہی کہانی لکھنے کی طرف مائل تھا، تاہم اپنے قومی و ثقافتی وجود کی رمزوں کی طرف متوجہ ہونے کی زبردست تحریک ثابت ہوا۔ اچیبے اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:\"pix-122\"

اس [مسٹر جونسن] نے میری آنکھیں کھول دیں اور میں اس حقیقت سے آگاہ ہوا کہ میرا گھر حملے کی زد میں ہے اور میرا گھر محض ایک مکان یا قصبہ نہیں تھا، بلکہ ان سب سے بڑھ کر ایک بیدار ہوتی کہانی تھی، جس کی فضا میں میرے اپنے وجود نے پہلی مرتبہ اپنے حصوں بخروں کو ایک کل میں اور معنی مجتمع کرنا شروع کیا تھا۔ یہ وہ کہانی تھی جس سے میں اس لمحے آگاہ ہونے لگا تھا، جب میں لاری سے اترا تھاجو مجھے اوگڈی میں اپنے باپ کے مکان پر لائی تھی۔

اسی بحث کے دوران میں چنوا اچیبے کچھ بنیادی ادبی سوالات بھی اٹھاتے ہیں۔ واضح رہے کہ ان تمام سوالات کا تناظر نو آبادیات ہے۔ کوئی ادیب عظیم کیوں کر ہوتا ہے؟اچیبے یہ سوال ہیمنڈ اور جیبلو کی اس رائے کے سلسلے میں اٹھاتا ہے کہ افریقا سے متعلق لکھنے والے کونارڈ، کیری، گرین اور الزپتھ ہکسلے بڑے لکھنے والے ہیں۔ اچیبے کو اس رائے پر حیرت بھی ہے کہ ہیمنڈ اور جیبلو نے افریقا سے متعلق یورپپوں کی سیکڑوں کتابوں کے مطالعے کے بعد The Africa That Never Wasکے عنوان سے کتاب لکھی اور اس نتیجے پر پہنچے کہ ان میں افریقا کا سٹیریو ٹائپ تصور پیش کیا گیا ہے۔ اچیبے نے ان مصنفین کی یہ رائے بھی درج کی ہے:” [افریقا سے متعلق اکثر کتابوں میں ] افریقی اطوار، اداروں اور کرداروں پر نہ صرف نکتہ چینی کی گئی ہے بلکہ انھیں انسانی خصوصیات سے محروم بھی دکھایا گیا ہے۔ غلاموں کی تجارت سے وابستہ مفاد نے تخفیفی ادب پیدا کیا اور چوں کہ غلاموں کی تجارت پر تنقید کی جارہی تھی، ا س لیے افریقیوں سے متعلق انتہائی حقارت آمیز تحریریں اس [تجارت]کے ادبی حمایتیوں کی طرف سے سامنے آئیں۔ “لیکن یہی مصنفین اپنی کتاب کے ابتدایئے میں افریقا سے متعلق جدید یورپی لکھنے والوں(کونارڈ، \"chinua_th\"کیری، گرین اور ہکسلے) کو بڑے قرار دیتے ہیں۔ کیوں کہ ” ان میں سے ہر ایک کا بے خطا منفرد اسلوب ہے جس کے ذریعے وہ ادبی رسمیات کو کام میں لاتے ہیں نیز وہ افریقا سے متعلق رائج کلیشوں کے سوا باتیں کہتے ہیں۔ اس سب کو عمدگی سے پیش کرنے کی صلاحیت مستزاد ہے۔ “چنوا کے لیے اس رائے کو تسلیم کرنا ممکن نہیں۔ اس لیے کہ انھوں نے افریقا سے متعلق سٹیریو ٹائپ تصورات اورکلیشوں کو پیش کیا ہے اور اس ضمن میں ہیمنڈ اور جیبلو نے ڈنڈی ماری ہے۔ اچیبے کی جچی تلی رائے کہ جب کسی لکھنے والے کی فنکارانہ بصیرت سٹیریو ٹائپ تصورات اور بغض کو راہ دیتی ہے تو برا ادب سامنے آتا ہے اور اس قسم کا ادب اس وقت دوگنا مکروہ ہوتا ہے جب اسے تفاخر کے ساتھ کسی قوم کے سامنے اس کی کہانی بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ بلاشبہ افریقا کے جدید یورپی مصنفین پر اچیبے کی تنقید اخلاقی ہے، مگر اسے وہ ادبی تنقید میں بدلنے کی سعی کرتے ہیں۔ مثلاً جدید مغربی تنقید کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ تخلیق کار کلیشوں سے آزادی حاصل کرے؛ دنیا کو دوسروں کی بجائے، اپنی اور انفرادی نظر سے دیکھے، مگر مذکورہ مصنفین نے خود اپنے تنقیدی اصولوں کی پیروی نہیں کی، انھوں نے افریقا کے لوگوں کو اسی طرح انسانی مرتبے سے کم تربنا کر پیش کیا جس طرح انھوں نے یورپی زبانوں میں پڑھا اور سنا۔ یہی بات ان ادبا کی عظمت میں حائل ہے۔      \"885achebe\"

اچیبے کو اس حقیقت سے انکار نہیں کہ فکشن کی ایک غیر معمولی بیانیاتی طاقت ہے۔ چوں کہ یہ طاقت ہے، ا س لیے اسے کسی بھی دوسری طاقت کی طرح بروے کار لایا جا سکتا ہے۔ ”بالآخر میں نے سمجھنا شروع کیا۔ ایک ایسی شے ہے جسے بیانیے پر مطلق طاقت و اختیار کہنا چاہیے۔ جو لوگ اپنے لیے یہ اختیار حاصل کر لیتے ہیں، وہ دوسروں کے بارے میں جہاں اور جس طرح چاہیں دل نشیں کہانیاں تیار کر لیتے ہیں۔ جس طرح بدعنوان آمریتوں میں ہوتا ہے جس میں دوسروں پرحسبِ ضرورت طاقت استعمال کر کے کچھ بھی کیا جا سکتا ہے؛ احتجاجی ہجوم جمع جا سکتے ہیں۔ نائیجیریا میں انھیں کرائے کے ہجوم کہتے ہیں۔ کیا جوائس کیری نے کونارڈ کا ہجوم کرائے پر لیا؟“ اس ضمن میں بحث طلب نکتہ یہ ہے کہ کیا فکشن کی بیانیہ طاقت خود کسی قدر کی حامل ہے کہ نہیں؟ نیز آیا ادبی رسمیات یا ادبی ہیئتوں میں انسانی اقدار ہوتی ہیں کہ نہیں؟اس ضمن میں پہلی بات یہ ہے کہ بیانیہ میں طاقت ہے، قدر نہیں۔ بیانیہ، اپنی اصل میں ایک تدبیر، اسلوب اور طور ہے، جب کہ قدر کا تعلق بیانیے کے موضوع سے ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ بیانیہ خود کسی خاص موضوع سے کوئی ناگزیر تعلق نہیں رکھتا۔ چناں چہ یہ امکان رہتا ہے کہ بیانیے کی طاقت کو کسی قدر کے استحکام یا پامالی کے لیے بروے کار لایا جا سکے۔ (فی الوقت اقدار کے اضافی ہونے سے بحث نہیں)۔ \"achebe-the-flute\"جب کونارڈ قلب ظلمات میں افریقی لوگوں کا ایک ذلت آمیز تصور پیش کرتے ہیں تو وہ بیانیہ کی طاقت کو افریقی شناخت کے انہدام کا ذریعہ بناتے ہیں۔ اس سے ہمیں ایک بات کو سمجھنے میں مدد ضرور ملتی ہے کہ فکشن نگار بیانیے کی طاقت اور موضوع قدر میں سے ایک کو زیادہ اہمیت ضرور دیتا ہے۔ جب بیانیے کی طاقت مقدم ہوگی تو لازماً یہ طاقت کی ان حقیقی یا طاقت کی آرزومند صورتوں کی حلیف بنے گی جو فکشن نگار کے زمانے میں ، اس کی ثقافت میں کارفرما ہوں گی۔ فکشن اور زندگی کا یہ ایسا تعلق ہے جسے عام طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔ خود اردو فکشن میں اس امر کی کئی مثالیں ہیں۔ مثلاً نذیر احمد کے ناول انیسویں صدی کے آخرکی’ یورپی طرز پراصلاح معاشرت کے ڈسکورس‘کی صورت رونما ہونے والی طاقت کے حلیف بنتے ہیں۔

(جاری ہے)

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •