امداد مانگنے والے ممالک کامیاب خارجہ پالیسی نہیں چلا سکتے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا آپ جانتے ہیں کہ یو کے ہر سال مختلف ممالک کو کتنی غیر فوجی امداد دیتا ہے؟ جواب ہے تیرہ ارب پاؤنڈ سے زائد۔ اس کا مقصد خود بقول یو کے انسانیت کی خدمت اور اپنی خارجہ پالیسیز کو تحفظ دینا ہے۔ انسانیت کی خدمات یعنی humanitarian مقاصد کے لئے صرف پندرہ فیصد خرچ کیا جاتا ہے اور باقی پچاسی فیصد کا تعلق خارجہ پالیسی کے مفادات کا تحفظ ہے۔

اور مزید حیران کن بات یہ بھی ہے کہ یو کے دنیا میں سب سے زیادہ امداد پاکستان کو دیتا ہے ….. پھر شام ایتھوپیا نائجیریا اور افغانستان کا نمبر آتا ہے۔

یہ صرف یو کے کا معاملہ نہیں، دنیا کے وہ تمام ممالک جو بین الاقوامی معاملات میں فعال ہیں، فارن ایڈ کو بطور ایک پالیسی ٹول کے استعمال کرتے ہیں۔ چین جب تک کچھ نہیں دیتا تھا، اس کی بین الاقوامی معاملات میں ویلیو دو سبب سے تھی، مضبوط معیشت اور سلامتی کونسل میں مستقل پوزیشن۔ جب اس نے پیسے دینے شروع کئے تو وہ تمام ممالک میں جو بین الاقوامی معاملات میں اپنی خدمات فروخت کرتے ہیں اس کے گرد اکٹھے ہو گئے ان ممالک کو ہم پولیٹیکل اکانومی کی زبان میں rent seekers  یا rentier ممالک کہتے ہیں۔

مسلمان ممالک میں سب سے زیادہ امداد متحدہ عرب امارات، ترکی سعودیہ اور قطر دیتے ہیں۔ ایران اپنی امداد کو پبلک نہیں کرتا مگر مختلف اندازوں کے مطابق ایران اپنی تیل کی دولت کا ایک وافر حصہ (کچھ کے نزدیک اٹھارہ ارب ڈالر) مختلف ممالک میں اپنے عزائم کی جستجو میں خرچ کرتا ہے۔ ایران کے سوا پاکستان ان تمام مسلمان ممالک سے امداد لیتا ہے۔ ایران سے لیتا ہے یا نہیں، یہ معلومات پبلک نہیں۔ یہ سب سے زیادہ امداد دینے والے وہ ممالک ہیں جن کی بین الاقوامی معاملات میں اپنی پوزیشن ہے جو لابنگ کرنے کی مضبوط پوزیشن رکھتے ہیں۔ او آئی سی دراصل سعودی ارب اور متحدہ عرب امارات کی تنظیم ہے، جسے ان کا پیسہ فارن ایڈ کی شکل میں قائم رکھے ہوئے ہے۔

کچھ دن پہلے شاہ محمود قریشی صاحب کشمیر کے لئے مختلف اسلامی ممالک کا او آئی سی سے ہٹ کر ایک علیحدہ اسلامی بلاک بنانے کی بات کر رہے تھے۔ اس پر بڑی واہ واہ بھی ہوئی۔ اور پھر نتیجہ کیا نکلا ؟ پاکستان سعودی عرب کی منت سماجت کے لئے پہنچ گیا اور اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ ایسی خبریں آ رہی ہیں کہ نائب وزیر دفاع سمیت کسی نے بھی ہمارے خارجہ پالیسی کے de facto سربراہان سے ملاقات کرنا پسند نہیں کیا اور نہ ہی پروٹوکول سے نوازا گیا… آخر ہمیں سعودی عرب سے اتنا لگاؤ کیوں ہے اور وہ کیوں اتنے نخرے دکھا رہے ہیں؟ کیونکہ ہم ان سے مختلف طرز کی مالی و سیاسی امداد لیتے ہیں اور وہ ہماری خدمات رینٹ دے کر خریدتا ہے۔

جب تک پاکستان اپنی مالی پوزیشن بہتر نہیں بناتا، اس کی معیشت اتنی ترقی نہیں کرتی کہ وہ بین الاقوامی تجارت میں اتنا اہم ہو جائے کہ ہر بڑی معاشی و سیاسی طاقت اس سے بہتر تعلق قائم رکھنے پر مجبور ہو اور وہ امداد لینے کے بجائے امداد دینے والا ملک بنے، تب تک آپ کی خارجہ معاملات میں اہمیت اتنی کم ہے کہ آپ کوئی مؤثر لابنگ نہیں کر سکتے، اپنے گرد آپ کو سپورٹ کرنے والے ممالک اکٹھے نہیں کر سکتے اور مختلف ممالک کو رینٹ دے کر ان سے خدمات نہیں خرید سکتے۔ بس یہی انٹرنیشنل ریلیشن کا سب سے بڑا سبق ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 163 posts and counting.See all posts by zeeshan