بجلی آئی، بجلی گئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چائے کا مگ ابھی ختم کر کے بیٹھا ہوں اور جب کہ یہ الفاظ آپ سب لیے لکھ رہا ہوں، مطمئن ہوں کہ ”بجلی ہے“

دنیا کے کافی ممالک بجلی کو بہت بڑی نعمت بنانے کے شوق سے نکل چکے ہیں۔ ایسے ہی ایک شہر ”دبئی“ میں، میں بیٹھا تھا۔ کافی شش و پنج میں دیکھ کر میرے دوست نے مجھے خیالوں سے نکالا اور پوچھا ”عبداللہ کیا بات ہے؟ کیا آج بھی رات کوئی ڈراؤنا خواب آیا؟“

میں کہا: نہیں! میں تو اس فکر میں ہوں کہ کسی دن بجلی بند ہو اور مجھے سکون آئے۔ ۔ ۔

خیر! جتنا عرصہ میں ادھر رہا مجھے ایک بات کا احساس ہوا کہ متحدہ عرب امارات والے کسی کام کے نہیں رہے۔ گویا بجلی جیسی نایاب چیز کو آپ بنا احساس دلائے کیسے مہیا کر سکتے ہیں۔ وطن عزیز میں بجلی کے اوقات مقرر ہیں کہ جب جب بجلی آئے گی اور جب جب بجلی بند ہو گی۔ اس کے علاوہ جب بجلی جائے گی وہ اوقات جان بوجھ کر نہیں بتائے جاتے، واپڈا والوں کے بقول زندگی میں سسپنس بھی ہونا چاہیے ورنہ کیا مزہ!

سائنس کہتی ہے پسینہ آنا، انسانی صحت لیے بہت ضروری اور فائدہ مند ہے۔ مجھے امید ہے میری اس تحریر کو پڑھنے کے بعد اہل وطن الحمد بھی پڑھیں گے کہ سائنس کے فوائد کو اعلی پیمانے پر تمام اہل وطن پر اپلائی کیا جاتا ہے۔ اگر میں کسی عہدے دار سے پوچھوں تو یقیناً اس کا جواب یہ ہو گا ”ہم اپنے عوام کی صحت کا بہت خیال رکھتے ہیں“

ایک بہت مزے کا ذکر بھی کروں گا کہ جب آپ پسینے سے شرابور ہوتے ہیں اور بجلی آ جاتی ہے! وہ پنکھے کی ہوا کا احساس ”جنت کی ہوا“ کا سا احساس دیتا ہے۔

جبکہ میں تحریر کے اس کونے تک پہنچا ہوں، باہر بارش زور و شور سے شروع ہو چکی ہے۔ آگے تو اہل وطن جانتے ہی ہوں گے کہ ”بجلی جانے“ کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ میرے عزیز کہنے لگے کہ بارش، ذرہ سے ہوا جو کہ قدرت کی نعمتیں ہیں ان کو زحمت بنا دیا گیا ہے۔ فوراً بجلی بند کر دی جاتی ہے۔

میں نے ان کو سمجھایا کہ آپ دوسرے رخ سے بھی تو دیکھیں۔ ان قدرتی نعمتوں سے نقصان بھی ہو سکتے ہیں۔ جن میں سے سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ آپ بجلی کو نعمت سمجھنا چھوڑ سکتے ہیں۔ وہ تو ”پلٹ تیرا دھیان کدھر ہے“ کے لیے بجلی بند کر دیتے ہیں۔ میری اس بات پر انہوں نے خاصی ناگواری کا مظاہر کیا۔

بجلی جانے اور بجلی آنے پر گلی کے بچوں کا گانا بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ گانا ہے تو چند بول پر مبنی ہے، مگر اس میں تاثرات بے شمار ہیں۔ ”اوہ ہ ہ بجلی گئیییی“ جب گاتے ہیں تب دکھ اور مصیبت کی جھلک نظر آتی ہے۔ ہمیشہ مشاہدہ کیا ہے کہ بجلی جانے پر ایک دفعہ ہی یہ بول گائے جاتے ہیں اس کے بعد گلی کے ان گلوکاروں کی طرف سناٹا چھا جاتا ہے۔

”بجلی آ گئیییی“ اس وقت تو گویا عید کا سا سماں ہوتا ہے۔ تمام گلوکار بچے محفل رقص بھی برپا کر دیتے ہیں۔ جس کو گلی محلے کے شرفا بند کرا دیتے ہیں۔ اور ایک ایک چپیڑ لگا کر سب کو گھروں میں بھیج دیتے ہیں۔ جو کے میری نظر میں ظلم ہے۔

اس سے پہلے کے میری تحریر طوالت اختیار کرے اور آپ ہاں بجلی بند ہو جائے۔ آپ اپنے ضروری کام نپٹا لیجئیے۔ ویسے بھی بجلی پر پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے۔
ابھی مجھے پریشانی بھی ہو رہی ہے، کیونکہ بارش ہونے کے باوجود ”بجلی“ ابھی تک نہیں گئی؛ کیوں نہیں گئی؟

Latest posts by عبداللہ محمود (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •