مجھے یقین ہے اس وقت جب کہ آپ میری تحریر پڑھ رہے ہیں اس بات پر متفق ہوں گے کہ ”علم حاصل کرنا بہت ضروری ہے“ اور اس علم کو حاصل فرمانے کے لیے ہمیں بچپن میں مڈل سکول لڑکپن میں ہائی سکول ذرا جوانی میں کالج اور جوانی کے عروج پر یونیورسٹی کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ گویا اس علم واسطے ہم اپنی عمر کا ایک حصہ انویسٹ کر دیتے ہیں۔ اس دوران اگر اچھے استاد ملیں تو علم بھی اچھی طرح حاصل ہوتا ہے۔
میری بچپن کی تعلیم اپنے آبائی گاؤں کی ہے۔ گورنمنٹ مڈل ہائی سکول نام کے ادارے سے میں نے کچی کلاس سے سال چہارم تک تعلیم حاصل فرمائی۔ مجھے یاد ہے دوئم کلاس کے سالانہ امتحان ہو رہے تھے اور طالب علم سکول کے احاطے میں اپنے اپنے ٹاٹ پر نیچے بیٹھ کر پرچہ دے رہے تھے۔ ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہوئے میں لفظ ”فرشتے“ لکھنا بھول گیا۔ ساتھ کی قطار میں سال ہفتم کے طالب علم کی طرف میں کن انکھیوں سے دیکھا وہ بھانپ گیا، میری بہت آہستہ آواز میں پوچھنے پر اس نے کہا کہ اپنا فٹا (پیمانہ) پھینکو!
Read more