کدھر چلیں؟

اتوار کا دن بڑی خصوصیت کا حامل ہوتا ہے۔ شروع دن سے جب میں نے ہوش سنبھالی، اتوار کے دن والد صاحب گھر پر ہوتے تھے تو یہ دن خاص لگتا تھا۔ جب اسکول جانے لگے پورا ہفتہ انتظار ہوتا تھا کہ اتوار کب آئے گا؛ کیونکہ اس ایک دن کی آزادی کا اپنا ہی مزہ ہوتا تھا۔ کچھ یار لوگ اب کہتے ہیں کہ زمانہ طفل میں اسکول کا زمانہ بڑا مزیدار لگتا تھا۔ جبکہ میرا ماننا ہے کہ

Read more

شادی

شادی ایک ایسا عمل ہے جس میں آپ ایک سے دو افراد میں بدل جاتے ہیں۔ جس کمرے میں آپ سوتے ہیں اس میں ایک دوسرا انسان بھی سونے لگتا ہے۔ آپ کی تمام ”ذاتی“ اشیاء ذاتی نہیں رہتیں اور سب کچھ ”ہماری“ میں بدل جاتا ہے۔ شادی کرنی تو سب کو ہوتی ہے کیونکہ جوانی کے ساتھ ہی آپ کی امنگیں مچلنے لگتی ہیں اور پھر ان امنگوں کی تان ”میرے بچے ہوں“ پر ٹوٹتی ہے۔ انسانی جذبات پر

Read more

محنت شرط ہے

مجھے یقین ہے اس وقت جب کہ آپ میری تحریر پڑھ رہے ہیں اس بات پر متفق ہوں گے کہ ”علم حاصل کرنا بہت ضروری ہے“ اور اس علم کو حاصل فرمانے کے لیے ہمیں بچپن میں مڈل سکول لڑکپن میں ہائی سکول ذرا جوانی میں کالج اور جوانی کے عروج پر یونیورسٹی کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ گویا اس علم واسطے ہم اپنی عمر کا ایک حصہ انویسٹ کر دیتے ہیں۔ اس دوران اگر اچھے استاد ملیں تو علم بھی اچھی طرح حاصل ہوتا ہے۔

میری بچپن کی تعلیم اپنے آبائی گاؤں کی ہے۔ گورنمنٹ مڈل ہائی سکول نام کے ادارے سے میں نے کچی کلاس سے سال چہارم تک تعلیم حاصل فرمائی۔ مجھے یاد ہے دوئم کلاس کے سالانہ امتحان ہو رہے تھے اور طالب علم سکول کے احاطے میں اپنے اپنے ٹاٹ پر نیچے بیٹھ کر پرچہ دے رہے تھے۔ ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہوئے میں لفظ ”فرشتے“ لکھنا بھول گیا۔ ساتھ کی قطار میں سال ہفتم کے طالب علم کی طرف میں کن انکھیوں سے دیکھا وہ بھانپ گیا، میری بہت آہستہ آواز میں پوچھنے پر اس نے کہا کہ اپنا فٹا (پیمانہ) پھینکو!

Read more

میں اداس تھا، میں خوش ہوں

ڈیپریشن کا اٹیک ہوا اور آدھی رات، جب تک اپنے آپ آنکھ نہ لگی، مستقبل کی فکر اور پلاننگ میں وقت گزرنے کا احساس تک نہ ہوا۔ فون پر وقت دیکھا تو رات کے تین بج چکے تھے۔ تب دعا مانگ کر کروٹ لی، تو صبح گلی میں ہمسائے بچے کے گانے سے آنکھ کھلی۔ گزری رات کی فکر کا دماغ میں کوئی ٹھکانا نہ تھا۔ میں نے سوچا ”میں تو اداس تھا!“ گویا اب کیوں وہ خیالات میرے دماغ

Read more

جب فہد نے ڈراپ آؤٹ ہونے کی خبر سنی

شام کی چائے میں فہد ہاں پینے کا ارادہ کیا۔ فون کیا جواب ندارد! ایسا تو کبھی نہیں ہوا، میں نے سوچتے ہوئے دوبارہ فون کیا مگر فہد نے فون نہ اٹھایا۔ آدھے گھنٹے بعد فون کرنے پر فہد نے میری کال کاٹ دی۔ میں نے میسج کیا کہ فہد کہاں مصروف ہو؛ کم از کم مجھے بتا دیتے۔ ملنے کا دل چاہ رہا تھا۔ رپلائی آیا کہ ”میں ٹھیک نہیں ہوں ؛ پھر ملیں گے“ اب تو میرا جانا

Read more

بجلی آئی، بجلی گئی

چائے کا مگ ابھی ختم کر کے بیٹھا ہوں اور جب کہ یہ الفاظ آپ سب لیے لکھ رہا ہوں، مطمئن ہوں کہ ”بجلی ہے“

دنیا کے کافی ممالک بجلی کو بہت بڑی نعمت بنانے کے شوق سے نکل چکے ہیں۔ ایسے ہی ایک شہر ”دبئی“ میں، میں بیٹھا تھا۔ کافی شش و پنج میں دیکھ کر میرے دوست نے مجھے خیالوں سے نکالا اور پوچھا ”عبداللہ کیا بات ہے؟ کیا آج بھی رات کوئی ڈراؤنا خواب آیا؟“

Read more

چوہدری صاحب

ہر چند میں ان دنوں مصروف تھا (ذہنی طور پر) مگر میرے دوست چوہدری صاحب کے بارہا اصرار پر میں ان کے ساتھ ”برگر پارلر“ نام کے فوڈ پوائنٹ پر جا پہنچا۔ کسی کو ٹالنا آسان ہوتا ہے مگر چوہدری صاحب کو ٹالنا اتنا آسان نہیں ہوتا کیونکہ وہ ہر دو باتوں بعد پھر واٹس ایپ پر آڈیو میسج کرنے لگتے ”وڈے بندے ہو گے او تسی“ یعنی کہ آپ بڑے انسان ہو گئے اب ملنے سے رہے۔ یقین کریں

Read more

شاہکار موٹر بائیک

اس شاہکار موٹر بائیک پر بیٹھا انسان موصوف ہے۔ برنس روڈ کراچی پر کھڑا ہوں۔ اپنے پٹھان دوست میزبان کو میں نے بتایا کہ میں آج کلفٹن کی سیر پر جانا چاہتا ہوں۔ تمام فیز I۔ II۔ III گھومنے کا ارادہ ہے۔ فرمانے لگے کیوں نہیں بائیک ہے اپنے پاس، خوامخواہ پبلک ٹرانسپورٹ پر خجل ہوں گے۔ بائیک از ہئیر! میں نے بھی کہا بھلا! اور کیا چاہیے۔ قصہ جتنا مختصر ہو سکے لکھوں گا، ویسے تو اس پر کتاب

Read more