قبلہ بڑے حاجی صاحب: تذکرہ ایک سچے خادم ملک و قوم کا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھے ابھی دفتر سے گھر پہنچے چند منٹ ہی ہوئے تھے کہ مین گیٹ کی گھنٹی یوں بجائی گئی گویا کوئی بہت ہی ایمرجنسی میں ہے۔ جلدی سے باہر نکلا تو قبلہ بڑے حاجی صاحب کے معتمد خاص چہرے پر گہری مسکراہٹ لئے میرے منتظر تھے۔ مجھے دیکھتے ہی آگے بڑھے، مصافحہ کیا اور بڑے رازدارانہ انداز میں بتایا کہ قبلہ بڑے حاجی صاحب گزشتہ کئی دنوں سے آپ کو یاد فرما چکے ہیں۔ آپ کا موبائل فون بھی مسلسل آف جا رہا تھا، چنانچہ یہ اطلاع لے کر میں خود حاضر ہوا ہوں کہ قبلہ بڑے حاجی صاحب اپنے اکیسویں حج مبارک کی ادائیگی کے لئے چند یوم کے بعد کوچ فرمانے والے ہیں، لہذا آپ کو ان کی زیارت کے لئے جلد حاضر ہو جانا چاہیے، ایسا نہ ہو کہ بعد میں ان کی ناراضی کا سدباب کرنا آپ کے لئے مشکل ہو جائے۔

اگرچہ قبلہ نے تمام بڑے قومی اخبارات اور ٹی وی چینلز پر اپنے اکیسویں حج مبارک پر جانے کی خبریں بھی چلوا دی ہیں، تاکہ مصیبتوں، مایوسیوں، محرومیوں اور گردش دوراں کے مارے دعاؤں کے طالب زیادہ سے زیادہ ضرورت مند آپ کی قدم بوسی کر کے دعاؤں کی التجائیں کر سکیں، جس پر قبلہ خود بھی بہت سکون قلب محسوس کرتے ہیں۔ آپ سے چونکہ میرا ایک ذاتی تعلق بھی ہے، لہذا آپ کو خود مطلع کرنا میرا فرض اولین تھا، جو کہ میں نے بخوبی ادا کر دیا ہے۔

اس پر میں نے قبلہ کے معتمد خاص کا تہ دل سے شکریہ ادا کیا اور یہ بتا کر ان کے علم میں اضافہ بھی کر دیا کہ میں قبلہ سے ملاقات کا شرف حاصل کرنے کے لئے رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں حاضر ہوا تھا تو مجھے قبلہ کے ناجائز قبضہ کر کے بر لب جو بنائے گئے ایکڑوں پر محیط وسیع و عریض ڈیرہ کے انچارج نے بتایا کہ قبلہ بڑے حاجی صاحب اپنے ایک سو گیارہویں اور آپ اپنے تیسرے عمرہ مبارک کی ادائیگی کے لئے حجاز مقدس تشریف لے کر گئے ہوئے ہیں۔

بہرحال میں انشا اللہ قبلہ کے اکیسویں حج مبارک پر روانگی سے پہلے ضرور حاضر ہو جاؤں گا۔ دو دن کے وقفے سے میں جیسے ہی قبلہ کے ڈیرے پر پہنچا تو معتمد خاص نے آگے بڑھ کر میرا پرجوش استقبال کیا اور بتایا کہ قبلہ بڑے حاجی صاحب اس وقت ایک اعلٰی سطحی بزنس اجلاس کی صدارت فرما رہے ہیں، جس میں ان کی دنیا بھر میں پھیلی ہوئی بزنس ایمپائر کے تمام شعبوں کے سربراہان شریک ہیں، لیکن میں آپ کی تشریف آوری کی اطلاع ابھی کیے دیتا ہوں۔

چند ہی لمحوں بعد میری حیرت کی انتہا نہ رہی، جب قبلہ بڑے حاجی صاحب سر پر سفید کپڑے کی موریوں والی ٹوپی پہنے، دائیں ہاتھ میں بڑے بڑے سبز منکوں والی تسبیح گھماتے، اجلاس روک کر بہ نفس نفیس میری عزت افزائی کے لئے باہر تشریف لائے۔ ایک زور دار معانقہ فرمایا اور میرا ہاتھ تھامے اجلاس میں ہی لے گئے اور کمال شفقت سے مجھے اپنی صدارتی کرسی کے برابر ہی بٹھا لیا اور اپنی بزنس ایمپائر کے مختلف شعبوں کے سربراہان سے یوں مخاطب ہوئے، آج ہم سب کے لئے یہ بڑے اعزاز کی بات ہے کہ ملک کے معروف کالم نگار میاں اشرف کمالوی صاحب ہمارے درمیان موجود ہیں جن کا لکھا ہوا ایک ایک لفظ اقتدار کے ایوانوں میں اپنا نقش چھوڑ جاتا ہے۔

اس پر شرکاء اجلاس نے ڈیسک بجا کر میرا خیر مقدم کیا۔ بعد ازاں قبلہ نے بتایا کہ آج کے اس اعلٰی سطحی اجلاس میں میرے بزنس کے جن شعبوں کے سربراہان شریک ہیں، ان میں شعبہ منشیات فروشی برائے بیرون ملک، شعبہ جعلی ڈگریاں برائے اندرون ملک، شعبہ ملاوٹ، شعبہ قبضہ مافیا، شعبہ جعلی ادویات، شعبہ رینٹ اے قاتل، شعبہ کنٹرول پالیٹکس، شعبہ جعلی ویزے، شعبہ انعقاد تقریبات خورد و نوش برائے انتظامیہ و عدلیہ و وڈیو بنانا، شعبہ سمگلنگ، شعبہ بھتہ خوری، شعبہ اغواء برائے تاوان، شعبہ سٹاک ڈالرز، شعبہ جعلی بنک اکاؤنٹس، شعبہ منی لانڈرنگ اور شعبہ فروختگی ڈیزل شامل ہیں۔

میرے چہرے پر ناگواری کے تاثرات کو بھانپتے ہوئے قبلہ بڑے حاجی صاحب نے نہایت پیار و محبت سے میرے گھٹنوں کو دباتے ہوئے فرمایا، دیکھو کمالوی صاحب، ہم اپنے ان تمام شعبوں کے ذریعے صرف اور صرف خلق خدا کی فلاح و بہبود پر فوکس کرتے ہیں۔ منشیات ہم بیرون ملک سمگلنگ کرتے ہیں، جس سے پاکستانی عوام اس لعنت سے محروم رہتی ہے، ملک میں زر مبادلہ الگ سے آتا ہے۔ کم قیمت جعلی ڈگریاں فراہم کر کے ہم عوام کو تعلیم کے تاجروں کی بھاری فیسوں سے نجات دلانے کے ساتھ ساتھ ان کے وقت کی بچت بھی کرتے ہیں۔

کھانے پینے کی چیزوں میں ملاوٹ کر کے ہم یہ چیزیں غریب مزدور، ضرورت مند عوام کو ارزاں نرخوں پر فراہم کرتے ہیں۔ جن پلاٹوں، مکانوں، دکانوں کے مالکان فوت ہو جاتے ہیں، ہم ان پر زبردستی قبضہ کر کے ان پر بڑے بڑے فلاحی منصوبے جیسے ہسپتال، ڈسپنسریاں، سستے شادی ہالز، لنگر خانے وغیرہ بناتے ہیں، جہاں کم وسائل رکھنے والوں سے برائے نام چارجز لئے جاتے ہیں جبکہ امیروں کی خوب کھال اتاری جاتی ہے۔ جعلی ہی سہی لیکن کچھ نہ کچھ اثر کرنے والی ادویات مارکیٹ میں فراہم کر کے ادویات کی کمی نہیں ہونے دی جاتی تاکہ اصلی ادویات کی قیمتیں بڑھنے نہ پائیں۔

جن ظالموں، جابروں نے غریب، مزدور، مظلوم عوام کا جینا حرام کر رکھا ہے، ہم مناسب فیس لے کر رینٹ اے قاتل کا کام بھی کرتے ہیں، جس سے ان لوگوں کی دعائیں بھی ہمارے حصہ میں آتی ہیں جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ جعلی ویزے فراہم کر کے ہم قوم کے نوجوانوں کو بیرون ملک بھجوا کر ان کے خاندانوں کو مالی آسودگی فراہم کرتے ہیں، یوں بیروزگاری کے خاتمے کے سلسلہ میں ہماری خدمات سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہیں۔ شعبہ کنٹرول پالیٹکس کے ذریعے ہم ہر الیکشن میں اپنے مخصوص گھوڑوں پر بھاری رقوم خرچ کر کے ان کو پارلیمنٹ میں پہنچاتے ہیں، جہاں وہ ہمارے بظاہر غیر قانونی بزنس کو بھر پور تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

اگر کوئی سابق حکمران محض اپنی انا کی تسکین کے لئے کسی بے قصور چیئرمین سینٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرتا ہے تو ہم اپنے گھوڑے فروخت کر کے اپنے وارے نیارے کر لیتے ہیں۔ اسی طرح شعبہ انعقاد تقریبات خورد و نوش برائے انتظامیہ و عدلیہ و وڈیو بنائی، شعبہ سمگلنگ، شعبہ بھتہ خوری، شعبہ اغواء برائے تاوان، شعبہ سٹاک ڈالرز سے حاصل ہونے والی اربوں کی آمدنی سے صرف نوے فی صد ہمارے استعمال میں آتی ہے، بقایا کی خطیر رقم سے دنیا بھر کے غریب عوام کے لئے لاتعداد رفاہی و فلاحی منصوبے بنائے جاتے ہیں۔

جہاں تک شعبہ جعلی بنک اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ کا تعلق ہے تو اس سلسلہ میں ہمیں ناجائز بدنام کیا جاتا ہے جبکہ ہم کھربوں روپے وطن عزیز میں واپس لا کر ملکی معیشت کو استحکام بخشتے ہیں۔ قبلہ بڑے حاجی صاحب مزید گویا ہوئے کہ مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتا کہ شعبہ فروختگی ڈیزل میرے تمام شعبوں میں ایک سفید ہاتھی کا درجہ رکھتا ہے۔ اس شعبہ میں بھی ہم نے صرف پی ٹی آئی کے جلسوں کی وجہ سے مار کھائی ہے، کیونکہ ان جلسوں میں ڈیزل، ڈیزل کے نعرے سن کر ہم یہ سمجھے کہ ملک میں ڈیزل کی مانگ میں بہت اضافہ ہو گیا ہے، لہذا ہم نے بغیر کچھ سوچے سمجھے شعبہ ڈیزل قائم کر کے اربوں کا ڈیزل سٹاک کر لیا، یہ عقدہ تو بعد میں ہم پر کھلا کہ عوام ڈیزل کی ڈیمانڈ نہیں بلکہ اس دو نمبر ڈیزل کو تہتر کے آئین کے تناظر میں بری طرح ریجیکٹ کر رہے تھے، جو انہیں گزشتہ اکتیس سالوں سے ایک سیاسی سازش کے ذریعے فراہم کیا جا رہا تھا۔

قبلہ بڑے حاجی صاحب کے اس انوکھے فلسفۂ خدمت خلق خدا نے میرے چودہ طبق روشن کر دیے، میں نے اپنی حیرانی و پریشانی پر قابو پاتے ہوئے مودبانہ عرض کی کہ قبلہ اگرچہ مجھے آپ کے اس انداز خدمت عوام سے تو ہرگز اتفاق نہیں ہے لیکن پھر بھی آپ مجھ سے چاہتے کیا ہیں؟ انہوں نے ایک بار پھر نہایت اپنائیت سے میرے دائیں گھٹنے کو دباتے ہوئے کہا، کمالوی صاحب، گزشتہ دو سال سے آپ اپنے کالموں کے ذریعے جس طرح وزیر اعظم عمران خان صاحب کو گرانقدر صائب مشورے دے رہے ہیں، مجھے یقین ہے کہ آپ کی عمران خان صاحب سے بہت کھلی ڈلی گل بات ہے۔

ہم پچھلے ایک سال سے اپنے بزنس کی وجہ سے بہت پریشان ہیں۔ ہمارے سو فی صد خدمت خلق کے کاموں کو شک بھری نگاہوں سے دیکھا جا رہا ہے، ہمارے سراپا خدمت بہت سے لوگوں کو نیب نے ناجائز گرفتار کر لیا ہے، کئی ایک آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کی پاداش میں جیلوں میں بند ہیں، کئی جسمانی و جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں، انہیں طبی سہولتیں، گھر کا کھانا، ٹیلی ویژن، اخبارات، میٹرس اور مشقتی تک فراہم نہیں کیے جا رہے۔ کارکنان سے ملاقاتوں پر سخت پابندی ہے، صرف فیملی کے چند افراد بمشکل مل پاتے ہیں۔

خود میرے جیسے متقی، پرہیزگار، حاجی، نمازی پر گرفتاری کی تلوار ہر وقت لٹکتی رہتی ہے۔ کمالوی صاحب، آپ مجھے برسوں سے جانتے ہیں، ہمارا ان تمام شعبوں کو چلانے کا مقصد صرف اور صرف خدمت خلق خدا کر کے آخرت میں اپنے پروردگار کے سامنے سرخرو ہونا ہے لیکن وزیراعظم عمران خان ہمیں مسلسل چور، ڈاکو، منی لانڈرز، لٹیرے اور نہ جانے کیا کیا کچھ کہتا رہتا ہے۔ لیکن کمالوی صاحب، دنیا جانتی ہے، ہم اگر لوٹتے ہیں تو لگاتے بھی ہیں، کھاتے ہیں تو کھلاتے بھی ہیں۔

کل بھی ہمارا مقصد بائیس کروڑ عوام کے لئے آسانیاں پیدا کرنا تھا اور آج بھی ہم اسی عظیم مقصد کے لئے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں تاکہ جنت الفردوس میں اپنے دائمی محلات تعمیر کر سکیں۔ ہمیں اپنی تو کوئی پرواہ نہیں ہے کیونکہ ہم نے تو گزشتہ چالیس برسوں میں اندرون و بیرون ملک انگنت جائیدادیں اور بے شمار دولت جمع کر لی ہوئی ہے، ہماری تو آئندہ بائیس نسلیں بغیر ہاتھ پاؤں ہلائے عیش و عشرت کی زندگی بسر کر سکتی ہیں، ہمارا تو ہر بچہ پیدا ہوتے ہی ارب پتی ہوتا ہے جبکہ بائیس کروڑ آبادی میں پیدا ہونے والا ہر بچہ ڈیڑھ لاکھ کا مقروض ہوتا ہے۔

اپنی بات ذہن نشین کروانے کے لئے قبلہ نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر مزید سمجھایا، اب دیکھو ناں کمالوی صاحب، اگر میرے یہ تمام شعبے دن رات خدمت خلق نہ کر رہے ہوتے تو میں ہر سال عیدالاضحی پر قربانی کا عظیم فریضہ ادا کرنے کے لئے طاق ہندسوں میں سترہ اونٹ، سترہ بچھڑے اور ستائیس بکرے کس طرح خرید سکتا تھا۔ آپ خود سوچیں، اتنے جانوروں کا گوشت میں نے اکیلے تو نہیں کھا لینا، ضرورت مندوں، غریبوں، مزدوروں، بے سہارا بیواؤں، یتیموں، مسکینوں، قیدیوں، کم وسائل رکھنے والے طالب علموں اور نادار مریضوں میں ہی تقسیم کرنا ہے ناں۔

کمالوی صاحب، نیتوں کا حال اللہ ہی بہتر جانتا ہے، عمران خان نہیں، یہ سب میری صاف نیت کی بدولت ہی ممکن ہوا ہے کہ میرے ان تمام شعبوں کی کمائی سے قدرت نے ہر طرف رنگ لگا رکھے ہیں، ورنہ تمہارا وہ یونیورسٹی کا استاد، کیا بھلا سا نام ہے اس کا، ہاں یاد آیا، پروفیسر سر بلند آزاد، جو ہر وقت لوگوں کو اخلاقیات کے لیکچر دیتا رہتا ہے، جسے تم دنیائے علم و ادب کا بے تاج بادشاہ کہتے ہو اور عقیدت و محبت سے اس کے گھٹنوں کو چھو کر، اس کی آشیر باد لے کر پھولے نہیں سماتے، کل جب میں اپنے قربانی کے جانوروں کے جلوس کے ساتھ، اپنے خوشامدیوں سے مبارک بادیں وصول کرتا ہوا بڑے فخریہ انداز میں گھر جا رہا تھا، تو میں نے دیکھا کہ تیرا وہ بیچارہ استاد پروفیسر بلند آزاد ایک چھوٹا سا بکرا لئے جا رہا تھا، جس کی قربانی کر کے اس نے گوشت تقسیم کیا خاک کرنا ہے کہ یہ تو اس کے اپنے خاندان کے لئے ہی ناکافی ہو گا۔

لیکن ایک بات میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ وہ اپنے اس چھوٹے سے بکرے بلکہ میمنے کے ساتھ سر کو بلند کر کے یوں چل رہا تھا جیسے قارون کے کسی خزانے کی چابی لے کر گھر جا رہا ہو۔ دوسری بات جس سے میں بہت دل گرفتہ ہوا وہ یہ کہ لوگ مجھ کھربوں پتی المعروف قبلہ بڑے حاجی صاحب کی نسبت اس معمولی ماسٹر سے زیادہ عزت و احترام کے ساتھ مل رہے تھے۔ جو کہ کم ظرف اور حاسد لوگوں کی ایک بہت ہی گھٹیا حرکت تھی، یار، آخر کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے، مانا کہ میں میٹرک فیل ہوں لیکن میرا شمار عالم اسلام کے امیر ترین افراد میں ہوتا ہے، میں ایک سو گیارہ عمرے کر چکا ہوں، اب اپنے اکیسویں حج مبارک پر بھی جا رہا ہوں، لیکن میں تسلیم کرتا ہوں کہ معاشرے میں میری دو ٹکے کی عزت نہیں ہے، تیسری بات جو میری سمجھ سے بالاتر تھی، وہ یہ کہ لوگوں کی آوازیں میرا پیچھا کر رہی تھیں کہ حق حلال کی کمائی سے جانوروں کے ریوڑ نہیں صرف ایک بکرا ہی خریدا جا سکتا تھا، مجھے غصہ تو بہت آیا لیکن اپنے خوشامدیوں اور درباریوں سے یہ سن کر دل کو تسلی ہوئی کہ یہ اس پروفیسر کے شاگرد وغیرہ ہیں جن کی تعداد دنیا بھر میں ہزاروں میں ہے۔

بعد ازاں قبلہ بڑے حاجی صاحب نے اپنی سفید موریوں والی ٹوپی اتار کر دوبارہ پہنی، بڑی سی تسبیح کے موٹے موٹے سبز منکوں کو تیزی سے گھمایا اور التجا آمیز لہجے میں کہنے لگے، کمالوی صاحب، میں صرف اتنا چاہتا ہوں کہ آپ میرے خدمت خلق خدا کے اس عظیم فلسفہ بلکہ مشن بارے ایک زوردار کالم لکھ کر عمران خان کو قائل کریں کہ وہ ہمارے بندوں پر قائم کیے گئے ہر قسم کے مقدمات ختم کر کے انہیں فی الفور رہا کردے۔ ہمیں کھل ڈل کے ساتھ عوام کی خدمت کا اسی طرح موقع فراہم کیا جائے جس طرح کہ ہم گزشتہ چالیس سالوں سے کرتے چلے آ رہے تھے، اگر اس نے ایسا نہ کیا تو پھر یاد رکھیں کہ ہماری صرف ایک کال پر بائیس کروڑ عوام اپنا حساب بے باک کرنے کے لئے سڑکوں پر نکل آئیں گی اور جمہوریت سخت خطرات سے دو چار ہو جائے گی، اب تک تو ہم نے جیسے تیسے عوام کو کنٹرول کیا ہوا ہے، کل کی ہم ضمانت نہیں دے سکتے۔

اور ہاں پرسوں میری حجاز مقدس کے لئے اکیسواں فریضہ حج ادا کرنے کے لئے سیٹ کنفرم ہے۔ انشا اللہ بشرط زندگی اگر خدا نے میری رسی یوں ہی دراز کیے رکھی، آپ اور آپ کی پوری فیملی اور عزیز و اقارب کے لئے بیش قیمت تحائف لانا ہرگز نہیں بھولوں گا، بس میری گزارشات پر جلد عملدرآمد ہو جانا چاہیے، کیا خیال ہے، کمالوی صاحب، ایسا ہو جائے گا ناں۔ اس پر میں نے جلدی سے اپنا موبائل فون جیب سے نکالا اور ایمرجنسی میسج کا بہانہ کر کے، قبلہ بڑے حاجی صاحب اور ان کے بزنس کے مختلف شعبوں کے سربراہان کو حیران و پریشان چھوڑ کر خدا حافظ کہتا ہوا تیزی سے ہال سے باہر نکل آیا۔ میری یوں اچانک روانگی پر باہر بیٹھے بہت سے لوگ خاص طور پر قبلہ کے معتمد خاص حکیم قدرت اللہ دھرم پوری حیرت و پریشانی کی تصویر بنے دور تک مجھے جاتا ہوا دیکھتے رہے۔ کسی گستاخ نے تو یہ آواز تک بھی لگا دی کہ قبلہ بڑے حاجی صاحب، ان تلوں میں تیل نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •