وطن عزیز پاکستان کی گزشتہ چالیس سالہ تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں تو انکشاف ہوتا ہے کہ یہاں اشرافیہ کے طبقہ سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی مجرم اپنے جرم کو اس کی اصل کے مطابق تسلیم کرنے سے ہمیشہ انکاری رہا ہے۔ نواب محمد احمد خان قتل کیس ذوالفقار علی بھٹو پر ڈالا گیا تو بھٹو صاحب نے اپنی عوامی اور بین الاقوامی مقبولیت کے زعم میں اس کو پہلے تو پرکاہ کے برابر حیثیت بھی نہ دی۔ ان کے وکیل یحییٰ بختیار بلاشبہ ایک عالی دماغ تھے۔ لیکن وہ بھی اس کیس کو اس کی اصل روح کے مطابق لڑنے میں ناکام رہے، ان کا سارا زور اسے سیاسی کیس ثابت کرنے پر صرف ہوتا رہا۔ جب یہ کیس اپنے آخری مراحل میں داخل ہوا تو پھر بھٹو صاحب سمیت ان کے سب حامیوں کو اندازہ ہوا کہ اب تیر کمان سے نکل چکا ہے اور چڑیاں سارا کھیت چگ چکی ہیں۔
یہی حال نواز شریف کا پاناما کیس میں رہا، ان کے خواجہ آصف جیسے نادان دوستوں نے انہیں یقین دلایا کہ یہ چند ہفتوں کا شور شرابا ہے، میاں صاحب، قوم جلد ہی اسے بھول جائے گی۔ جن کی خوشامد میں آ کر میاں صاحب نے قومی اسمبلی میں جھوٹ پر مبنی وہ تقریر کر ڈالی، جس میں کہا گیا تھا، کہ حضور یہ ہیں وہ ذرائع، جن سے لندن کے فلیٹ خریدے گئے۔
Read more