جب فہد نے ڈراپ آؤٹ ہونے کی خبر سنی


شام کی چائے میں فہد ہاں پینے کا ارادہ کیا۔ فون کیا جواب ندارد! ایسا تو کبھی نہیں ہوا، میں نے سوچتے ہوئے دوبارہ فون کیا مگر فہد نے فون نہ اٹھایا۔ آدھے گھنٹے بعد فون کرنے پر فہد نے میری کال کاٹ دی۔

میں نے میسج کیا کہ فہد کہاں مصروف ہو؛ کم از کم مجھے بتا دیتے۔ ملنے کا دل چاہ رہا تھا۔
رپلائی آیا کہ ”میں ٹھیک نہیں ہوں ؛ پھر ملیں گے“

اب تو میرا جانا اور پتا کرنا ناگزیر ہو چکا تھا۔ سو، میں بتائے بن فہد ہاں چلا گیا۔ پتا چلا کہ فہد تو گھر نہیں ہے۔ اب مجھے پتا تھا کہ فہد میاں کہاں بیٹھے ہوں گے۔۔۔

میں سیدھا نہر کنارے جا پہنچا جہاں گھاس لگی ہے اور بہت خوبصورت لکڑی کے بینچ لگے ہیں۔ میں اور فہد یہاں اکثر بیٹھا کرتے ہیں۔ دیکھا تو ایک بینچ پر گردن جھکائے فہد بیٹھا ہے۔ مجھے حالات کا احساس ہو گیا تبھی میں چونکانے والی وہ حرکت نہ کی جو ہم اکثر کرتے تھے۔

قریب جا کر میں السلام علیکم کہا۔ فہد اک دم چونک گیا اور بولا۔

وعلیکم السلام! شکر تم آ گئے۔

میں : ارے تم نے تو کہا کہ پھر ملیں گے۔ اب اس بات سے تو مجھے خوب اندازہ تھا کہ کوئی نہ کوئی مسئلہ ضرور ہے۔ اب تمہارا زرد ہوتا رنگ اور جھکی گردن نے مجھے پتا دلا دیا ہے کہ معاملہ خاصا گڑبڑ ہے۔ اب مجھے سب بتا دو کہ کیا بات ہے؟ جو ایک ہنس مکھ کو اداسی کا مجسمہ بنائے بیٹھی ہے۔

فہد: یار عبداللہ!

اتنا کہنا تھا کہ رونے لگا۔ ایک دم میں نے فہد کو گلے لگایا اور اتنا کرنا تھا کہ وہ زاروقطار رونے لگا، جیسے ایک چھوٹا سا بچہ بھوکا ہو اور اسے لگ رہا ہو کہ مجھے آج کچھ بھی نہیں ملے گا۔ کوئی پانچ منٹ کا دورانیہ رہا ہو گا۔

سنبھلنے کے بعد میں پوچھا کہ اب مجھے سب بتا دو، ہمت کر کے کہ کیا بات ہے؟

فہد: عبداللہ میں ڈراپ آؤٹ ہو رہا ہوں۔ جبکہ آخری سمسٹر ہے اور انہوں نے وہ سبجیکٹس آفر ہی نہیں کئیے جن کا وعدہ مجھ سے کیا گیا تھا کہ آفر ہوں گے۔ تین سبجیکٹس ہیں اور جونئیرز سے ایک بھی لڑکا نہیں جس کے وہ سبجیکٹ ہوں، مطلب کوئی سمسٹر نہیں بن سکتا۔

میں : ارے یہ کیا بات ہوئی! تم اور میں وائس چانسلر پاس چلیں گے۔ درخواست دیں گے۔ ظلم ان کی طرف سے ہے۔ کون سا تمہاری کوئی غلطی ہے۔ ہر سمسٹر تم اچھا SGPA لیتے آئے ہو اورر۔ ۔ ۔

فہد: نہیں یار! غلطی میری ہے۔ ۔ ۔ ان دو سبجیکٹس میں میری حاضری کم ہے اور ایک میں، میں فیل ہو گیا تھا۔ پیپر نہ دے سکنے کی وجہ! میں گیا تھا وائس چانسلر سے بھی بات ہوئی۔ ساری میری غلطی کہی گئی اور ڈراپ ہو جانے کا کہا گیا۔

اب میں کیا کروں گا؟ ایم ایس سی کا آخری سمسٹر تھا۔ سمجھ نہیں آتی اب کیسے گھر بتاؤں سب۔ ۔ ۔ اور اب کیا ہو گا۔ مستقبل کا کیا ہو گا۔

میں : فہد ذرا سامنے غور کرو۔

سامنے نہر کے بیچ ایک بطخ بار بار اوپر چڑھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ پہلے کافی بطخیں تھیں مگر سب باہر نکل کر اپنے گھروں کو جا رہی تھیں مگر ایک اس بطخ سے اوپر چڑھا نہیں جا رہا تھا۔ کافی کوششوں اور کافی بار گر گر کر بطخ نے بہت بلند اور زور سے چھلانگ لگائی، کنارے پر بہت مزاحیہ طریقے سے گری اور دوڑتی ہوئی اپنے ساتھیوں کے ساتھ شامل ہو گئی۔

اس پر میں اور فہد ہنسنے لگے۔ میں دیکھا وہ کھلکھلا کر ہنس رہا تھا اور وقتی طور پر اپنی ساری پریشانی بھول چکا تھا۔

میں کہا فہد، اس پر غور کرو۔ بار بار کی کوشش اور بار بار کا گرنا ایک بار کامیاب کر ہی گیا بطخ کو۔ اگر وہ کہتی کہ مجھ سے نہ ہو پائے گا، میں فیل ہو گئی، میں ڈراپ آؤٹ ہو گئی، میں بار بار ہار رہی تو ایسے سے کیا وہ اوپر چڑھ سکتی تھی؟

فہد: بالکل نہیں!

میں : یہی تو تمہارا کیس ہے میرے پیارے دوست! تم دو سال کی کوشش اور ناکامی کو اپنی 60,65 سالہ زندگی پر ترجیح دے رہے ہو۔ سرخ و سفید فہد پیلا پڑ گیا۔

کیا جس رب پر ہم ایمان لائے، جس نے دنیا بنائی اس کا فرمان عالی شان تم بھول گئے ”اور ہر مشکل کے بعد آسانی ہے“

فہد: بے شک!

میں : تو تم کیسے کہا کہ آگے کیا ہو گا۔ تم ڈگری نہیں لے سکے تو کیا تمہارے پاس ہنر اور تجربہ کم ہو گیا ہے۔ ڈگری لے کر آگے کیا تم کو ضمانت تھی کہ مستقبل اب شاندار ہے جبکہ تم ڈگری پکڑے جاب لیے لمبی لمبی قطاریں دیکھتے ہو۔ کیوں نہ! تم جاب دینے والوں سے بنو! بجائے کسی کی نوکری کرنے کے۔ تجربہ ہے، ہنر ہے۔ کم سے شروع ہوتا ہے ہر کاروبار اور سیڑھی نیچے سے شروع ہوتی ہے، کوئی جمپ لگا کر اوپر نہیں چڑھ سکتا۔

فہد میاں! رب العالمین فرماتے ہیں :
ولسوف یعطیک ربک فت۔ رضٰى °
اور آپ کا رب آپ کو (اتنا) دے گا کہ آپ خوش ہو جائیں گے۔
یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ جو انسان تگ ودو میں ہوتا ہے وہ کامیابی پاتا ہے۔

اب میں فہد کے رنگ کو واپس آتا دیکھ رہا تھا۔ جو چہرہ مایوس ترین تھا وہ اب جوش اور اطمینان سے کھلکھلانے لگا تھا۔

میں : فہد رب العالمین فرماتے ہیں :
وللاٰخرة خی۔ رٌ لک من الاولٰى °
اور البتہ آخرت آپ کے لیے دنیا سے بہتر ہے۔
میرے پیارے فہد! کیا تم دنیا کی اتنی فکر میں ہو گئے تھے کہ جان سے جانے لگے تھے پیارے!

میری اس بات پر فہد قہقہہ مار کر ہنسا اور میں بھی ہنسنے گا۔ میں کہا واقعی فہد مجھے لگا تم اب گئے، اس قدر تمہارا رنگ پھیکا پڑ گیا تھا۔ اور کچھ بعید نہیں کہ تم کو مرنے کے خیال بھی آ رہے ہوں گے۔

فہد: ہاں! اللہ مجھے معاف کریں، میں تو خودکشی کا سوچنے لگا تھا۔

اس بات پر فہد کو میں ایک دھول لگائی اور وہ نادم ہو کر ہنسنے لگا۔ اتنے میں گول گپے والے کی آواز آئی اور ہم دونوں ایک دوسرے کو دیکھا۔

گول گپے کھاتے ہوئے ہم مستقبل کی پلاننگ کر رہے تھے اور فہد بات بات پر ہنس رہا تھا۔
وہ سب بھول چکا تھا۔

Facebook Comments HS