فیس بک کا مورخ کیا لکھے گا؟ – عابد آفریدی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(عابد آفریدی)

\"facebook\"فیس بک پر تو مورخ کا ستیاناس کر دیا گیا ہے۔ لوگ مورخ سے ایسی واہیات چیزیں لکھوانا چاہتے ہیں کہ ایک سمجھدار مورخ وہ سب کچھ لکھنے سے پہلے اپنا قلم تھوڑ دینا پسند کرے گا۔ مثلاََ؛

مورخ لکھے گا۔ جب دنیا شیر پال رہی تھی عمران خان اس وقت کتے پال رہا تھا۔

مورخ لکھے گا۔ جب دنیا کے لوگ سکائی نیوز اور بی بی سی دیکھ رہے تھے۔ اس وقت اہل پاکستان پی ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھے۔

مورخ یہ
مورخ وہ
نہ جانے کیا کیا لکھوانا چاہ رہے ہیں۔

پہلے مورخ سے تو پوچھ لو کہ بھائی لکھنے پڑھنے کا مشغلہ تاحال برقرار ہے یا پھر بار زندگی نے قلم کے بجائے رکشے کا ہینڈل پکڑا دیا ہے۔ یا کہیں آرٹ کونسل کے باہر چھولے اور پائے کی ریڑھی سجا کے بیٹھ گئے ہو۔

کیونکہ گذشتہ کئی سالوں سے اس قوم نے ادباء، اساتذہ، شعرا، تاریخ دان، سائنسدان کے ساتھ جو سلوک روا رکھا۔ ان کا مذاق اڑایا، انہیں بیکار کہا، کاغذ قلم تک محدود رہنے کی تلقین فرمائی۔ باز نہ آنے کی صورت انہیں امریکہ کو فروخت کرنےکی دھمکیاں دیں۔ اس طبقے کو اتنا مجبور کر دیا کہ لوگوں نے ان کی حالت سے عبرت پکڑی۔ والدین نے بچوں کو بس وہی کچھ لکھنے کا کہا جو اسکول سے گھر میں لکھنے کے لئے دیا جاتا تھا۔

تو ایسے میں بچے کچے مورخین و مصنفین سب نے مل کر فیصلہ کیا اس قوم کو آئینہ دکھانے اور تاریخ کا سبق پڑھانے کی بجائے وہ کچھ لکھا جائے جو ان کی دل جوئی کا سامان مہیا کرے۔ ایسی تحریریں مرتب کی جائیں جو جگانے کی بجائے انہیں سکون کی نیند سلائے۔ تب جاکر ہم لوگ معاشرے میں سکھ کا سانس لے سکیں گے۔

اب مورخ وہ لکھتا ہے جو ہماری چاہت ہے۔ سیاسی جماعتیں بات بات پر مورخ سے اپنے قائدین کے وہ کارنامے لکھوانا چاہتے ہیں جس کا تاریخ میں سرے سے وجود ہی نہیں۔

حکومت اس بات پر مصر ہے کہ مورخ گذشتہ ادوار اور دیگر حکومتی کارنامے بھی ان کے کھاتے ڈال دے۔ اور عوام چاہتے ہیں کہ بس یہ لکھا جائے کہ ہم پر مظالم ٹوٹتے رہے۔

ہم یہ جانتے ہے کہ بغداد میں مسلمان دشمن کے سامنے تر نوالہ کیوں ثابت ہوئے۔ مغل کن عادات و اطوار کی بنا پر لٹ گئے تھے۔ عثمانی خلافت کیوں زوال پزیر ہوئی، مغرب کیسے تاریک ترین دور سے نکل کر دنیا کا مہذب خطہ بن گیا۔

یہ سب جانتے ہوئے کیا اس تاریخ سے کچھ سبق حاصل کیا۔ ان تاریخی واقعات و حادثات کی روشنی میں کبھی مستقبل کی حکمت عملی مرتب کی؟ کیا آج بھی ہم اسلام کی من چاہی تشریح بیان نہیں کرتے؟ کیا آج ہم ایک دوسرے پر کفر کے فتوے نہیں لگاتے؟ ایک دوسرے کو باطل ثابت کرنے کے لئے مناطروں کی محفل نہیں جماتے، عین اہل بغداد کی طرح۔

یہ جانتے ہوئے بھی کہ کون دشمن اور کون دوست ہے اس کے باوجود بھی اپنا رویہ دونوں کی جانب یکساں ہے۔ وہی رویہ جو خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کا باعث ہوا۔

کیا ہم نے آئندہ کے لئے ایسے تمام اسباب کا سدباب کرلیا جو انسان کو زوال کی جانب لے جاتے ہوں۔ کیا مورخین کی بتائی ہوئی یہ تاریخ کم ہے جو ہم مزید تاریخ لکھوانے کی فرمائش کر رہے ہیں۔

اگر نہیں تو اس بیچارے مورخ پر رحم کھائیں۔ اس سے یہ الٹی سیدھی کہانیاں مت لکھوائیں۔ یہ تاریخ آپ خود ہی لکھ ڈالیں۔ ایسی تاریخ کو لکھنے کے لئے کسی مورخ کی نہیں بلکہ مجھ جیسے کسی ناشائستہ انسان کی ضرورت ہوتی ہے جو آج کل فیس بک پر اکثریت میں دستیاب ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *