شراب لائسنس کیس میں عثمان بزدار کی گرفتاری کا خطرہ ٹل گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور (فہد شہباز خان، سعود بٹ) سابق ڈی جی ایکسائز اکرام اشرف گوندل کی گرفتاری کا امکان ہے ڈاکٹر راحیل صدیقی وعدہ معاف گواہ بننے سے انکار کے بعد وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی گرفتاری کا خطرہ ٹل گیا ہے۔ چونکے سردار بزدار کی گرفتاری راحیل صدیقی کے وعدہ معاف بننے سے مشروط ہے۔ تفصیلات کے مطابق نیب ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کے شراب لائسنس اجرا کیس میں سابق ڈی جی ایکسائز اکرام اشرف گوندل کے گرد گرفتاری کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ دوسری جانب سابق پرنسپل سیکرٹری وزیر اعلی پنجاب راحیل صدیقی نے وعدہ معاف گواہ بننے سے انکار کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی گرفتاری کا خطرہ ٹل گیا ہے۔ چونکے سردار بزدار کی گرفتاری راحیل صدیقی کے وعدہ معاف بننے سے مشروط ہے۔

ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کے سردار عثمان بزدار کے خلاف نیب میں خلاف ضبط اور من پسند افراد کو ٹھیکے دینے کی شکایات پر جانچ پڑتال جاری ہے۔ ان ٹھیکوں میں ایل ڈی اے، ٹیپا، پی ایچ اے سمیت دیگر اہم سرکاری محکمے شامل تفتیش ہیں۔ نیب لاہور ہیڈ کواٹر کے سامنے گیٹ وے ٹو لاہور نامی منصوبہ بھی شامل تفتیش کر لیا گیا ہے۔ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کے خلاف موصول ہونے والی شکایات میں ایک ٹھیکے دار کا نام سرفہرست ہے۔ جس کو مبینہ طور پر صوبے کے ترقیاتی منصوبوں میں ٹھیکہ دیا گیا اور اس بات کی تحقیقات جاری ہیں کے مذکورہ ٹھیکے دار کہیں وزیر اعلی کے فرنٹ مین تو نہیں؟

نیب ذرائع کے مطابق سردار عثمان بزدار کے پھوپھا ڈی پی او ساہیوال تیمور عباس کو نیب میں طلبی کے بعد آمدن سے زیادہ اثاثوں کا سوال نامہ دیا جا چکا ہے جس کا جواب آنا باقی ہے۔

سردار عثمان بزدار نے تاحال اپنے اثاثوں کی تفصیلات نیب کے حوالے نہیں کی ہے۔ دوسری طرف نیب اس معاملے کی کھوج بھی لگا رہی ہے کہ نجی ہوٹل کو شراب کا لائسنس صرف چھ ماہ کے لیے کیوں دیا گیا؟ اور لائسنس کی مدت ختم ہونے سے فقط دو روز قبل مذکورہ پارٹی کو ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا مشورہ کیوں دیا گیا؟ اور اس معاملے میں ڈیڑھ سال سے وہی لائسنس قابل عمل بھی رہا۔

ذرائع کے مطابق شراب لائسنس کے معاملے میں سابق ڈی جی ایکسائز اکرم اشرف گوندل نے مرکزی کردار ادا کیا کیونکہ نیب کے مطابق تمام دستاویزی ثبوتوں میں لائسنس اجرا کی اجازت پر اکرم اشرف گوندل کے دستخط موجود ہیں۔ جبکہ وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار اور سابق پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر راحیل صدیقی کے دستخط کسی بھی سرکاری دستاویزات پر موجود نہیں۔

نیب ذرائع کے مطابق اکرم اشرف گوندل نے وعدہ معاف گواہ بننے کی درخواست میں تحریری کیا ہے کے ڈاکٹر راحیل صدیق ان کو بہ ذرائع ٹیلیفون ان پر لائسنس جاری کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے رہے۔ نیب ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سابق ڈی جی ایکسائز اکرم اشرف گوندل شراب اجرا کیس میں وزیر اعلی کے خلاف وعدہ معاف بننے کو تیار ہیں۔

نیب ذرائع کے مطابق اکرام اشرف گوندل کا تعلق ضلع منڈی بہا الدین سے ہے۔ نیب ذرائع کے مطابق وزیر اعلی کے پھوپھا بھی منڈی بہا الدین میں بطور افسر خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ اور مبینہ طور پر اکرم اشرف گوندل اور تیمور عباس کے اچھے مراسم ہیں جس سے اس بات کی تحقیق کی جا رہی ہیں کے شراب لائسنس اجرا کیس میں سات کروڑ روپے رشوت وصولی کس کے کہنے پر ہوئی؟ جبکہ اکرم گوندل نے کس کے کہنے پر شراب کے لائسنس کے اجرا کی ذمے داری نبھائی؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •