سانحہ ساہیوال کی فرانزک رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے۔ سانحہ ساہیوال میں پولیس اہلکاروں نے شواہد مٹانے کی کوشش کی جس کا فرانزک رپورٹ میں بھید کھل گیا۔ جے آئی ٹی ذرائع کے مطابق پولیس کی جانب سے سانحہ ساہیوال کے بعد خفیہ طور پر فرانزک ماہر سے رابطہ کیا گیا اور پوچھا گیا کہ سانحہ ساہوال کے شواہد کو کس طرح مٹایا جاسکتا ہے؟ پولیس کی جانب سے فرانزک ایکسپرٹ سے خفیہ رابطے کے لئے ایک سپاہی کی ڈیوٹی مختص کی گئی تھی جو گاہے بگاہے اس سانحہ سے بچاؤ کے لئے فرانزک ایکسپرٹ سے رابطے کررہا تھا اور رپورٹ اپنے اعلی افسر ان کو پہنچا رہا تھا۔
ایسے فرانزک ماہر سے رابطہ کیا گیا جو اپنی فیلڈ کا ماہر سمجھا جاتا ہے اور اس کا تعلق اسلام آباد ہے اور وہ ایک سرکاری تحقیقاتی ادارے میں اپنے فرائض سر انجام دے رہا ہے۔ فرانزک ماہر نے روزنامہ دنیا کو اپنا نام نہ بتانے پر تفصیلات سے آگاہ کیا کہ پولیس کی جانب سے خفیہ طور پر رابطہ کیا گیا اور پوچھا گیا کہ اگر ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڈر ( ڈی وی آر) کی ہارڈ ڈرائیو تبدیل کردی جائے تو کیا حقائق پر پردہ ڈالنے میں کوئی مدد مل سکے گی۔
Read more