ذکیہ مشہدی: کہانی سے ملاقات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 4
  •  

ذکیہ مشہدی نے لکھنؤ یونیورسٹی سے نفسیات کی اعلیٰ تعلیم پائی، کچھ عرصہ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہیں، شفیع مشہدی سے شادی اور بچوں کی پیدائش کے بعد لکھنے کے ارادے کو ایک طویل عرصہ تعویق میں رکھا۔ پختہ عمر میں قلم سے تجدید کی۔ کم لکھا ہے مگر جو لکھا، وہ کاغذ پر افسانہ اور پتھر پر نقش ہوگیا ہے۔ عجب نہیں کہ آصف فرخی کی زیر نظر تحریر اردو افسانہ پڑھنے والوں کے لئے بہت سے نئے دروازے کھولے۔

***     ***

اس راہ پر چلتے چلاتے کہانی سے مڈھ بھیڑ ہوگئی۔ خدا بہتر جانے کہ اسے محض اتفاق سمجھا جائے یا قسمت کا لکھا (کہ اس کے علاوہ  ہم میں سے کون پڑھ سکتا ہے؟ کم از کم میں تو نہیں!) مگر پچھلے دنوں ایک عجیب ماجرا پیش آیا۔ ہوا یہ کہ کتاب ہاتھ آئی لیکن اس طرح کہ ہاتھ لگائے نہ بنے۔ میں اتنی احتیاط سے پڑھتا رہا کہ کہیں جلدی ختم نہ ہو جائے۔ ایک دن اور ایک کہانی۔ ایک کہانی کے بعد اگلی کہانی۔ لیکن جیسے الف لیلہ کی داستان در داستان بھی آخر کار انجام رسیدہ ہو جاتی ہیں، یہ کتاب بھی پوری ہوگئی مگر میں اس کی کیفیت کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں کہ میں نے کیا دیکھا اور کیسا پایا۔

ان کے نام سے مجھے گمان تھا کہ ان صفحوں میں ان دیکھی حیرت ہوگی اور ان جانی منزلوں کا پتہ۔ وہ پہلے سے لکھ رہی ہوں گی مگر میری واقفیت پرانی نہیں ہے۔ چند برس پہلے میں نے ان کو بالاستعجاب پڑھنا شروع کیا جب ’’شب خون‘‘ میں ان کی ایک کہانی نے جیسے راستہ روک لیا۔ ’’شب خون‘‘ میں ان کی کہانیوں کا انتظار رہنے لگا اور ایک کہانی کے بعد سیری نہیں حاصل ہوتی تھی، جی چاہتا تھا کہ ایسی کہانیاں ابھی اور ہوں۔ پھر ’’آج‘‘ میں ایک تواتر کے ساتھ ان کو پڑھا تو جیسے بات بنی۔ ’’آج کل‘‘ میں کئی چھوٹی چھوٹی کہانیاں پڑھیں، دو ایک کہانیاں مجھے بھی ’’دنیا زاد‘‘ میں شائع کرنے کا موقع ملا جب ان سے رابطہ ممکن ہوا۔ بہرحال تعجب کم نہیں ہوا اور اب بھی یہ حال ہے کہ جس رسالے کی فہرست میں ان کا نام نظر آجائے، باقی چیزیں چھوڑ کر نظر اسی طرف لپک جاتی ہے اور جب تک کہانی پڑھ نہ لوں، چین نہیں آتا۔ یہ اور بات ہے کہ کہانی پڑھ کر بھی چین نہیں آیا۔ میرے لیے بہت سی کہانیوں کا پیش خیمہ ہے یہ نام__ ذکیہ مشہدی۔

ان کی کتاب ’’منتخب افسانے‘‘ موصول ہوئی تو میں نے اسے نعمت غیر مترقبہ سمجھ کر دیکھنا شروع کیا۔ کتاب کے فلیپ سے ان کی چند ایک سوانحی تفصیلات معلوم ہوئیں لیکن جو کام کی باتیں تھیں، وہ اپنی کہانیوں کی بُنت میں شامل کر چکی ہیں، باقی محض تھوڑے سے اور روکھے پھیکے حقائق ہیں۔ کہانیوں کے آخر میں سنِ تحریر دیا گیا ہے اور نہ ترتیب میں یہ خیال ملحوظِ خاطر رکھا گیا ہے۔ چناں چہ ان کے فنّی سفر اور ذہنی ارتقا کا اندازہ لگانا میرے لیے اساطیر کی تفتیش یا یوں سمجھیے کہ خرافات کی تلاش ہے۔ کہانی اور اس کی کیفیت اصل چیز ہیں اور میرے لیے یہی اہم ہیں۔

یوں تو کہا جاتا ہے کہ مواصلات کے سبب دنیا میں ایسا انقلاب آگیا ہے کہ نہ دیکھا نہ سُنا۔ پلک جھپکتے میں کرّۂ ارض کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پیغامات کی ترسیل ممکن ہے اور فاصلے برائے نام رہ گئے ہیں۔ انقلاب کی یہ نوید ہماری ہنسی اڑاتی ہے کہ اس دور میں بھی ہندوستان پاکستان کے درمیان اردو رسالوں، کتابوں کی ترسیل کو بے انتہا مشکل بنا دیا گیا ہے کہ دو ایک نسلیں ایک دوسرے سے بڑی حد تک بے خبری میں پروان چڑھی ہیں اور نامہ و پیام موقوف ہونے کے سبب ان کو اندازہ نہیں کہ سرحد کے اس طرف جو داستان بکھری ہوئی ہے اس میں اپنے اجزا بھی شامل ہیں۔ اس لیے چنداں تعّجب کی بات نہیں کہ ذکیہ مشہدی کا نام میں نے اتنی دیر سے سُنا، اس سے بڑھ کر حیرت کا سبب یہ ہے کہ اس تمام صورت حال کے باوجود ان کے تھوڑے بہت افسانے پڑھنے کو مل گئے۔ اور میں ان کے بارے میں دریافت کی مسرّت کے ساتھ بات کررہا ہوں۔

ظاہر ہے کہ ان کو دریافت ہوئے بہت وقت ہو چکا۔ فلیپ پر درج تعارف سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انھوں نے تقسیم کے پندرہ، بیس سال بعد لکھنے کا آغاز کیا ہوگا۔ یوں وہ حسن منظر، خالدہ حسین، اسد محمد خاں، مسعود اشعر، نگہت حسن اور اکرام اللہ سے کچھ عرصے کے بعد اور آج ادبی افق پر نمایاں لکھنے والوں جیسے سیّد محمد اشرف، خالد جاوید اور صدیق عالم سے پہلے اپنے ادبی سفر کا آغاز کر چکی ہوں گی۔ لیکن میں حیران ہوں کہ اس ادبی سفر کی خبر اتنی دیر سے کیوں ہم تک پہنچی۔ ادبی رسالوں اور تنقیدی تجزیوں کے ذریعے سے ایسی غیرمعمولی افسانہ نگار کے ورود کی نوید سننے میں نہیں آئی۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا، مہدی جعفر کے تنقیدی مقالے میں بڑے اشتیاق سے پڑھا کرتا تھا کہ ان کے ذریعے سے ہندوستان کے ان لکھنے والوں کی اطلاع بھی مل جایا کرتی تھی جن کی کہانیوں کے نام میرے لیے نامعلوم کی خبر بن جایا کرتے تھے اور پھر میں انھیں ڈھونڈا کرتا تھا۔ مہدی جعفر کی کتاب ’’نئی افسانوی تقلیب‘‘ 1999ء میں شائع ہوئی اور اس میں نئے پرانے 29 افسانہ نگاروں کا ذکر ہے۔ اس دور میں ذکیہ مشہدی کیا لکھ رہی تھیں اور کیا کسی رجحان سے متاثر تھیں؟ ان چند کہانیوں کی بنیاد پر میرے لیے یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں ہے کہ انھوں نے کن لکھنے والوں کا اثر قبول کیا اور کن کے زیر سایہ فنّی ریاضت کے مرحلے طے کیے، بلکہ ایسی ساری باتیں غیر ضروری بھی ہیں۔ ان کے افسانے اپنے آپ میں مکمل ہیں، ایک بھرپور اور انوکھا گیشٹالٹ قائم کرتے ہیں اور اسی حیثیت میں پڑھے جانے کا تقاضہ کرتے ہیں۔ ذکیہ مشہدی کو پڑھنا آج کے بیک وقت حیرت انگیز اور اندوہ ناک تجربے سے گزرنا اور زندگی کی ناپائیداری کا درد سہنا ہے اور اس میں وہ اپنی مثال آپ ہیں۔

پہلے میں یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ اس وقت ہندوستان میں جو لوگ افسانے لکھ دیے ہیں ان میں ذکیہ مشہدی ایک معزّز مقام کی حامل ہیں۔ اب مجھے اندازہ ہورہا ہے کہ میری رائے ادھوری تھی۔ عصریت اور مقامیت کے دائرے سے نکل کر ذکیہ مشہدی کو اردو افسانے کی روایت کے اہم تر اور معتبر ناموں کے ساتھ دیکھنا چاہیے۔ ان کی کہانی میں پارسا بی بی جب دال بگھارنے بیٹھتی ہیں تو خوشبو اڑ کر سات آسمانوں تک پہنچتی ہے اور فرشتوں کو خبر مل جاتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جب ذکیہ مشہدی کہانی لکھنے بیٹھتی ہوں گی تو اس کی خوشبو سرحد کے دونوں طرف پھیل جاتی ہے کہ کہانی دیکھنے سُننے کے لائق ہے اور پڑھنے میں اپنی جگہ مُنفرد۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 4
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں