ذکیہ مشہدی: کہانی سے ملاقات
ذکیہ مشہدی نے لکھنؤ یونیورسٹی سے نفسیات کی اعلیٰ تعلیم پائی، کچھ عرصہ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہیں، شفیع مشہدی سے شادی اور بچوں کی پیدائش کے بعد لکھنے کے ارادے کو ایک طویل عرصہ تعویق میں رکھا۔ پختہ عمر میں قلم سے تجدید کی۔ کم لکھا ہے مگر جو لکھا، وہ کاغذ پر افسانہ اور پتھر پر نقش ہوگیا ہے۔ عجب نہیں کہ آصف فرخی کی زیر نظر تحریر اردو افسانہ پڑھنے والوں کے لئے بہت سے نئے دروازے کھولے۔
*** ***
اس راہ پر چلتے چلاتے کہانی سے مڈھ بھیڑ ہوگئی۔ خدا بہتر جانے کہ اسے محض اتفاق سمجھا جائے یا قسمت کا لکھا (کہ اس کے علاوہ ہم میں سے کون پڑھ سکتا ہے؟ کم از کم میں تو نہیں!) مگر پچھلے دنوں ایک عجیب ماجرا پیش آیا۔ ہوا یہ کہ کتاب ہاتھ آئی لیکن اس طرح کہ ہاتھ لگائے نہ بنے۔ میں اتنی احتیاط سے پڑھتا رہا کہ کہیں جلدی ختم نہ ہو جائے۔ ایک دن اور ایک کہانی۔ ایک کہانی کے بعد اگلی کہانی۔ لیکن جیسے الف لیلہ کی داستان در داستان بھی آخر کار انجام رسیدہ ہو جاتی ہیں، یہ کتاب بھی پوری ہوگئی مگر میں اس کی کیفیت کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں کہ میں نے کیا دیکھا اور کیسا پایا۔
ان کے نام سے مجھے گمان تھا کہ ان صفحوں میں ان دیکھی حیرت ہوگی اور ان جانی منزلوں کا پتہ۔ وہ پہلے سے لکھ رہی ہوں گی مگر میری واقفیت پرانی نہیں ہے۔ چند برس پہلے میں نے ان کو بالاستعجاب پڑھنا شروع کیا جب ’’شب خون‘‘ میں ان کی ایک کہانی نے جیسے راستہ روک لیا۔ ’’شب خون‘‘ میں ان کی کہانیوں کا انتظار رہنے لگا اور ایک کہانی کے بعد سیری نہیں حاصل ہوتی تھی، جی چاہتا تھا کہ ایسی کہانیاں ابھی اور ہوں۔ پھر ’’آج‘‘ میں ایک تواتر کے ساتھ ان کو پڑھا تو جیسے بات بنی۔ ’’آج کل‘‘ میں کئی چھوٹی چھوٹی کہانیاں پڑھیں، دو ایک کہانیاں مجھے بھی ’’دنیا زاد‘‘ میں شائع کرنے کا موقع ملا جب ان سے رابطہ ممکن ہوا۔ بہرحال تعجب کم نہیں ہوا اور اب بھی یہ حال ہے کہ جس رسالے کی فہرست میں ان کا نام نظر آجائے، باقی چیزیں چھوڑ کر نظر اسی طرف لپک جاتی ہے اور جب تک کہانی پڑھ نہ لوں، چین نہیں آتا۔ یہ اور بات ہے کہ کہانی پڑھ کر بھی چین نہیں آیا۔ میرے لیے بہت سی کہانیوں کا پیش خیمہ ہے یہ نام__ ذکیہ مشہدی۔
ان کی کتاب ’’منتخب افسانے‘‘ موصول ہوئی تو میں نے اسے نعمت غیر مترقبہ سمجھ کر دیکھنا شروع کیا۔ کتاب کے فلیپ سے ان کی چند ایک سوانحی تفصیلات معلوم ہوئیں لیکن جو کام کی باتیں تھیں، وہ اپنی کہانیوں کی بُنت میں شامل کر چکی ہیں، باقی محض تھوڑے سے اور روکھے پھیکے حقائق ہیں۔ کہانیوں کے آخر میں سنِ تحریر دیا گیا ہے اور نہ ترتیب میں یہ خیال ملحوظِ خاطر رکھا گیا ہے۔ چناں چہ ان کے فنّی سفر اور ذہنی ارتقا کا اندازہ لگانا میرے لیے اساطیر کی تفتیش یا یوں سمجھیے کہ خرافات کی تلاش ہے۔ کہانی اور اس کی کیفیت اصل چیز ہیں اور میرے لیے یہی اہم ہیں۔
یوں تو کہا جاتا ہے کہ مواصلات کے سبب دنیا میں ایسا انقلاب آگیا ہے کہ نہ دیکھا نہ سُنا۔ پلک جھپکتے میں کرّۂ ارض کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پیغامات کی ترسیل ممکن ہے اور فاصلے برائے نام رہ گئے ہیں۔ انقلاب کی یہ نوید ہماری ہنسی اڑاتی ہے کہ اس دور میں بھی ہندوستان پاکستان کے درمیان اردو رسالوں، کتابوں کی ترسیل کو بے انتہا مشکل بنا دیا گیا ہے کہ دو ایک نسلیں ایک دوسرے سے بڑی حد تک بے خبری میں پروان چڑھی ہیں اور نامہ و پیام موقوف ہونے کے سبب ان کو اندازہ نہیں کہ سرحد کے اس طرف جو داستان بکھری ہوئی ہے اس میں اپنے اجزا بھی شامل ہیں۔ اس لیے چنداں تعّجب کی بات نہیں کہ ذکیہ مشہدی کا نام میں نے اتنی دیر سے سُنا، اس سے بڑھ کر حیرت کا سبب یہ ہے کہ اس تمام صورت حال کے باوجود ان کے تھوڑے بہت افسانے پڑھنے کو مل گئے۔ اور میں ان کے بارے میں دریافت کی مسرّت کے ساتھ بات کررہا ہوں۔

پہلے میں یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ اس وقت ہندوستان میں جو لوگ افسانے لکھ دیے ہیں ان میں ذکیہ مشہدی ایک معزّز مقام کی حامل ہیں۔ اب مجھے اندازہ ہورہا ہے کہ میری رائے ادھوری تھی۔ عصریت اور مقامیت کے دائرے سے نکل کر ذکیہ مشہدی کو اردو افسانے کی روایت کے اہم تر اور معتبر ناموں کے ساتھ دیکھنا چاہیے۔ ان کی کہانی میں پارسا بی بی جب دال بگھارنے بیٹھتی ہیں تو خوشبو اڑ کر سات آسمانوں تک پہنچتی ہے اور فرشتوں کو خبر مل جاتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جب ذکیہ مشہدی کہانی لکھنے بیٹھتی ہوں گی تو اس کی خوشبو سرحد کے دونوں طرف پھیل جاتی ہے کہ کہانی دیکھنے سُننے کے لائق ہے اور پڑھنے میں اپنی جگہ مُنفرد۔






