قائداعظم کی طرف سے فاتح سرحد کا خطاب پانے والی شخصیت
ہندوستان کے مسلمانوں کی آزادی اور ان کے حقوق کی تحریک جسے دنیا تحریک پاکستان کے نام سے جانتی ہے۔ جس میں مسلمانان ہند کے تمام طبقات نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ جس کی قیادت حضرت قائداعظم محمد علی جناح نے کی۔ اور جس نے آخرکار اپنی منزل مقصود یعنی پاکستان کو حاصل کر لیا۔ اس تحریک میں مسلمانوں کے تمام راہنماؤں نے قائداعظم کی سربراہی میں حصہ لیا۔ جن میں سے کئی شخصیات کے ناموں سے دنیا واقف ہے۔ مگر کئی شخصیات ایسی بھی ہے جو وقت کے ساتھ گمنامی میں چلی گئی اور جنہیں صرف مخصوص اہل علم لوگ ہی جانتے ہیں۔ جن کی خدمات کسی اور سے کسی طور پر کم نہیں۔
ان بھولی شخصیات میں ایک عظیم شخصیت مولانا عبد الحامد بدایونی کی بھی ہے۔ آپ کا تعلق بدایوں کے مشہور عثمانی خاندان سے تھا۔ آپ نے 18 نومبر 1901 کو دہلی میں آنکھ کھولی۔ ابتدا میں ہندوستانی علما میں صرف مذہبی اختلاف تھے۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ ان میں سیاسی اختلاف بھی پیدا ہوتے گے۔ کانگریس کی مسلم دشمنی کے باوجود بھی علما کا ایک طبقہ کانگریس سے وابستہ رہا بلکہ متحدہ قومیت کا علمبردار بھی بنا رہا۔
مسلم لیگ کے جدید تعلیم یافتہ راہنماؤں کے لیے ان علما کا مقابلہ کرنا مشکل تھا۔ ان حالات میں لیگ سے وابستہ علما نے نہ صرف ان کانگریسی علما کے متحدہ قومیت کے نظریہ کا پردہ چاک کیا بلکہ مسلمانوں کے سامنے دو قومی نظریہ کی واضح تصویر بھی پیش کی۔ مرزا علی اظہر کے بقول قائداعظم کو ان نیشنلسٹ علما کے مقابلے پہ مولانا جمال میاں فرنگی محل اور مولانا بدایونی کی صلاحیتوں پہ پورا بھروسا تھا۔ مولانا نے اپنی سیاسی زندگی میں انجمن خدام کعبہ، انجمن خدام الحرمین، کانگریس، جمعیت علمائے ہند اور آل پارٹیز مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے مسلمانوں کے حقوق کے لئے کوشاں رہیے۔
آپ نے تحریک خلافت کی سرگرمیوں میں اہم حصہ لیا۔ اس کے بعد آپ نے آل انڈیا مسلم لیگ اور سنی کانفرنس کے پلیٹ فارم سے اپنی تمام صلاحیتیں تحریک پاکستان کے لئے وقف کردی۔ مارچ 1940 کے تاریخی اجلاس منعقد لاہور میں نہ صرف آپ نے شرکت کی بلکہ قرارداد پاکستان کی تائید اور حمایت بھی کی۔ شمال مغربی سرحدی صوبہ میں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔ لیکن خان عبدالغفار خان کی وجہ سے وہاں کانگریس کافی مضبوط تھی۔ قائداعظم نے ہمیشہ صوبہ سرحد کے حقوق کی بات کی۔ اور اپنے مشہور 14 نکات میں صوبہ سرحد میں آئینی اصلاحات کا مطالبہ کیا۔ اس صوبے میں نیشنلسٹوں کی وجہ سے کانگرس کافی مضبوط تھی۔ قرارداد لاہور کے بعد قائداعظم چاہتے تھے کہ سرحد کے مسلمانوں کے سامنے قرارداد پاکستان کی صحیح تصویر پیش کی جائے۔ کیونکہ خدائی خدمت گار قرارداد کے بارے میں سرحد کے مسلمانوں میں غلط فہمیاں پھیلا رہے تھے۔ اس مقصد کے لئے قائداعظم نے ایک وفد سرحد بھیجا جس کے ایک اہم رکن مولانا بدایونی تھے۔
سرخ پوشوں نے مسلم لیگ کے خلاف ایسی فضا قائم کردی تھی کہ مسلم لیگ کے وفود کے لئے مساجد کے دروازے تک بند کر دیے جاتے تھے۔ مولانا خود فرماتے تھے ایک دفعہ ٹوپی کے علاقے میں علما اور کارکنوں کے ساتھ پہنچا تو مسجد کے دروازے بند کر دیے گے۔ ہم سے پوچھا گیا کہ ہم سرحد کیوں آئے ہے۔ تو میں نے جواب دیا کہ آپ مسجد کا دروازہ کھولیں میں آپ کے ہر سوال کا جواب دوں گا۔ تب مسجد کا دروازہ کھلا اور مولانا نے ان کو ہر طرح سے مطمئن کیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عام انتخابات میں اس علاقے سے لیگ کو ستر فیصد ووٹ ملے۔ 1938 میں بھی مولانا نے ایبٹ آباد میں ایک جلسہ سے خطاب کیا اور مسلمانوں کو لیگ میں شمولیت کی دعوت دی۔ مولانا نے سرحد کے دوردراز علاقوں کا دورہ کیا اور عوام کو مطالبہ پاکستان سے آگاہ کیا اور ان کا سیاسی شعور بیدار کیا۔ جب 1946 میں عام انتخابات ہوئے تو آپ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ایک طرف آسام میں مولانا بھاشانی چھائے ہوئے تھے تو دوسری طرف مولانا بدایونی نے پنجاب، سندھ، سرحد اور یو۔ پی کے مسلمانوں میں ایک نئی روح پھونک دی۔
خواجہ رضی حیدر کے بقول مولانا بدایونی نے سرحد کے متعدد دورے کیے۔ تحریک خلافت کے راہنما مولانا شوکت علی کے ہمراہ کئی دفعہ وفد لے کر صوبہ سرحد گئے اور پشاور میں کانگریس نواز وزیر اعلی ڈاکٹر خان اور ان کی خدائی خدمت گار سے کئی دفعہ مذاکرات کیے۔ اور ملی مفاد کے لئے انہیں مسلم لیگ میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ جب 3 جون کے منصوبے کا اعلان ہوا اور ہندوستان کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ ہوا تو صوبہ سرحد کے بارے میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ وہاں کی عوام ایک ریفرنڈم کے ذریعے فیصلہ کرے گی کہ وہ پاکستان کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہے یا ہندوستان کے ساتھ۔
تب صوبہ سرحد میں سرحدی گاندھی نے مسلمانوں کو پاکستان کے خلاف ورغلانا شروع کر دیا اور خطرہ پیدا ہو گیا کہ کہی صوبہ سرحد ہندوستان میں شامل نہ ہو جائے۔ تو مولانا بدایونی نے خود صوبہ سرحد جاکر وہاں کے صاحب اثر مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ لیگ میں شامل ہو کر پاکستان کی حمایت کرے۔ پیر صاحب مانکی شریف صوبہ میں لیگ کو اور مزید مضبوط کرنا چاہتے تھے۔ انہیں کسی ایسی شخصیت کی ضرورت تھی جو سیاسی کے ساتھ ساتھ دینی دلائل سے بھی سرحد کے مسلمانوں کو قائل کرسکے۔ تو آپ نے قائداعظم سے خصوصی درخواست کی کہ مولانا بدایونی کو سرحد بھیجا جائے۔
مولانا بدایونی قائداعظم کے حکم پر فوراً سرحد پہنچے اور اپنی خطیبانہ صلاحیتوں اور جوش ایمانی سے صورت حال کا نقشہ بھی بدل کر رکھ دیا۔ اور سرحد کے غیور مسلمانوں کو پاکستان کے حق میں قائل کر لیا۔ دوسری طرف کانگریس کو یقین تھا کہ وہ سرخ پوشوں کی مدد سے یہ ریفرنڈم جیت لی گی۔ مگر مولانا بدایونی نے پیر صاحب اور دوسرے رفقا کے ساتھ مل کر کانگرس کے منصوبے پر پانی پھیر دیا۔ اور کانگرس کو شکست فاش دی۔ اس عظیم قومی خدمت پر آپ کو حضرت قائداعظم کی طرف سے فاتح سرحد کا تاریخی خطاب عطا ہوا۔
مولانا بدایونی نے جو عظیم سیاسی خدمات سرانجام دی وہ پاکستان کے مسلمانوں کے لئے مشعل راہ ہے۔ ان کی دور اندیشی، فہم و فراست، جذبہ دینی اور بے لوث خدمت وطن سے محبت رکھنے والوں سے پوشیدہ نہیں۔ لیکن ہماری نوجوان نسل ان کے مقام اور مرتبہ سے واقف نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان ان کی خدمات کا اعتراف قومی سطح پر کرے۔ اور یونیورسٹیز اور تعلیمی بورڈز ان کی خدمات کو سوکس، مطالعہ پاکستان اور تاریخ کے نصاب کا لازمی حصہ بنائیں۔ تاکہ مولانا بدایونی کو وہ مقام دیا جاسکے جس کے وہ مستحق تھے۔
حوالہ جات
مولانا عبد الحامد بدایونی کی سیاسی اور مذہبی خدمات از ڈاکٹر اجمل بھٹی
مولانا عبد الحامد بدایونی اور تحریک پاکستان از خواجہ رضی حیدر
مولانا عبد الحامد بدایونی تحریک آزادی کے انتھک مجاہد از ڈاکٹر خواجہ عابد نظامی


