ہاتھی مر کر بھی سوا لاکھ کا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پیارے بچو۔ آج ہم ہاتھی کا سبق پڑھیں گے۔ بری جانوروں میں ہاتھی سب سے بڑا جانور ہوتا ہے۔ ہاتھی سے متعلق کئی محاورے اور کہاوتیں مشہور ہیں۔ ان پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

ہاتھی والے۔
مطلب:
1۔ امیر اور مال دار لوگ، امرا و رؤسا۔
2۔ ابرہہ کے لشکری۔
استعمال: اس کا استعمال نازک ہے۔ ایک طرف یہ عزت والے لوگوں کے لیے بولا جاتا ہے اور دوسری طرف کسی طاقتور کی طرف اشارہ مطلوب ہو تو اس کے لیے۔

ہاتھی ہزار گھٹے تو بٹورے برابر رہے۔
ہاتھی مر کر بھی سوا لاکھ کا۔
مطلب: امیر آدمی کیسا ہی غریب ہو جائے پھر بھی اس کی قدر باقی رہتی ہے۔
استعمال: کسی کے بظاہر مقام کھو دینے کے معاملے میں یاد دلانے کے لیے یاد دلایا جاتا ہے کہ ابھی بھی وہ ایک طاقتور شخص ہے۔ مثلاً بڑے صاحب کہنے کو تو ریٹائر ہو گئے مگر جتنا ان کو پراویڈنٹ فنڈ اور دوسرے واجبات ملے ہیں اور نئی نوکری بھی مل گئی ہے، اسے دیکھ کر آدمی یہی کہتا ہے کہ ہاتھی مر کر بھی سوا لاکھ کا ہوتا ہے۔

ہاتھی کے منہ میں سے گنا نہیں نکال سکتے۔
مطلب: زبردست کا مقابلہ کب ہو سکے، زبردست سے مقابلہ کرنا یا اس کو کوئی چیز دے کر پھر واپس لینا بہت مشکل ہے۔
استعمال: ملکِ خداداد میں کوئی طاقتور کچھ لے لے تو اعلان کر دینا چاہیے کہ بلا جبر و اکراہ اسے یہ چیز ہدیہ کی گئی ہے کیونکہ ہاتھی کے منہ میں سے گنا نہیں نکال سکتے۔

ہاتھی کے دانت بٹھانا۔
مطلب: ناممکن بات کرنا ؛ نوجوان کو تعلیم دینا ؛ جو بات امکان سے باہر ہو اس میں کوشش کرنا نیز بوڑھے توتے کو پڑھانا ؛ حیوان کو سدھانا۔
استعمال: صاحب کو کچھ سمجھانے سے بہتر ہے کہ بندہ ہاتھی کے دانت بٹھانے کی کوشش کر لے۔

ہاتھی آئیں گھوڑے جائیں اونٹ بچارے غوطے کھائیں۔
مطلب: دشوار گزار یا تنگ جگہ جہاں سے گزرنا بہت مشکل ہو، وہ مقام جہاں سب بے بس ہو جاتے ہیں۔
استعمال: کسی طاقتور کی نقل میں آدمی منہ کی کھاتا ہے اور پریشانی اٹھاتا ہے، کہتے ہیں کہ ہاتھی آئیں گھوڑے جائیں اونٹ بچارے غوطے کھائیں۔

ہاتھی نکل گیا دم رہ گئی۔
مطلب: بڑا مرحلہ طے ہو گیا ہے بالکل تھوڑا سا کام رہتا ہے (جہاں سارا کام ہو کر تھوڑا سا باقی رہ جائے وہاں بولتے ہیں ) ۔
استعمال: صاحب نے بہت کامیاب زندگی گزاری ہے، جائیداد بنا لی، بچے سیٹ کر دیے، بس تھوڑے سے معاملات ہی باقی رہ گئے ہیں اور پوتے پوتیوں کو سیٹ کرنا باقی ہے، یعنی ہاتھی نکل گیا اور دم رہ گئی۔

ہاتھی ہی پر ہودہ بنتا ہے۔
مطلب: جو چیز جس کے مناسب حال ہوتی ہے اسی پر زیبا ہوتی ہے۔
استعمال: خدا نے شان و شوکت دی ہے تو پھر صاحب سے جلیں مت، یہ ہما شما کے بس کی بات نہیں ہے، ہاتھی ہی پر ہودہ بنتا ہے۔

ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور۔
مطلب: دکھانے کی چیز اور ہوتی ہے اور کام میں لانے کی اور، دکھاوا اور چیز ہے برتاؤ اور چیز، دنیا کے لوگ ظاہر میں کچھ باطن میں کچھ ہوتے ہیں۔
استعمال: ویسے تو صاحب بہت نیک اور پارسا بنتے ہیں لیکن دانا کہہ گئے ہیں کہ ہاتھِ کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور۔

ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں۔
ہاتھی کے پاؤں میں سب کا ساجھا۔
مطلب: بڑے آدمی کے سب مطیع اور فرمانبردار ہوتے ہیں ؛ امیروں سے غریبوں کو بھی فائدہ پہنچتا ہے ؛ سخی کی کمائی میں سب کا حصہ ہوتا ہے۔
استعمال: اپنا کام کرنا ہے تو سر جھکا کر لگے رہو، صاحب سے اختلاف نہ کرو اور جو بھی وہ کریں اس کی تعریف کرو، یاد رکھو ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں۔

ہاتھی جھومتا بھلا کھاتا قند کا ڈلا۔
مطلب: زبردست اور زور آور کا غصہ بھی اچھا لگتا ہے، طاقت ور کے غصے میں بھی کمزور کو فائدہ ہی نظر آتا ہے۔
استعمال: ہما شما ایسے کرے تو بہت پریشانی اٹھائے مگر صاحب پر یہ بہت سجتا ہے، کہتے ہیں کہ ہاتھی جھومتا بھلا کھاتا قند کا ڈلا۔

زیادہ پیچیدہ کہاوتیں اور محاورے ہم نے بیان کر دیے۔ ہاتھی کے متعلق مندرجہ ذیل کہاوتیں اور ان کا استعمال اظہر من الشمس ہے۔ مزید وضاحت کی ضرورت نہیں ہے۔

ہاتھی کا دانت گھوڑے کی لات زبردست کا چنگل۔
مطلب: یہ سب چیزیں بڑی خطرناک ہوتی ہیں ؛ بطور بد دعا بھی استعمال ہوتا ہے۔

ہاتھی کی اگاڑی اور گھوڑے کی پچھاڑی سے ڈرنا چاہیے۔
مطلب: ہاتھی اور گھوڑے کی زد سے بچنا چاہیے۔

ہاتھی کی ٹکر ہاتھی روکت ہے
مطلب: سرکار! تیری میری کہا لڑائی، ہاتھی کی ٹکر ہاتھی روکت ہے۔

ہاتھیوں کی جنگ میں بے چاری گھاس پستی ہے۔
مطلب: بڑوں اور زور آوروں کی لڑائی میں کمزور اور ناتواں کا نقصان ہوتا ہے۔

ہاتھی گھوڑے بھاگ گئے گدھا پوچھے کتنا پانی۔
مطلب: بڑے بڑے ہمت ہار گئے بے وقوف کو شوق ہے۔

ہاتھی کے نکلے ہوئے دانت بیٹھنے مشکل ہیں۔
مطلب: بگڑی ہوئی بات بھی کہیں بنی ہے، رسوائی کے بعد نیک نامی ہونی مشکل ہے، بگڑے ہوئے بھی کہیں سنورے ہیں۔
نوٹ: آج کے سبق کے لیے یہ مواد اردو ڈکشنری بورڈ کی نہایت معیاری اور معتبر لغت سے لیا گیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1312 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar