خیال رکھیں، معتبر مگر مچھ بہہ گئے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


دین، روحانیت اور تصوف کے نام پر اپنی دھاک بٹھائے رکھنا اور مچان سجائے رکھنا معمول کی بات ہے۔ ان امور نے انسانی فلاح اور زندگی میں مثبت کردار ادا کیا اور کچھ کی نفسیات پارہ پارہ ہوئی۔ زیادتی کسی بھی امر کی ہو، عوض دیے بنا نہیں رہتی۔ آنکھوں دیکھے اور شاید جان پر سہے احوال ہیں، اولاد کو وقت کے ولی اور درگاہوں کے متولی بنانے کی جستجو نے یا تو اولاد کو ان کے مقاصد حیات سے بیگانہ کیا یا سرے سے ہی متنفر تصوف کیا۔ یقیں نہیں تو مضافات میں نظریں گھمائیے، گر نظروں سے حقیقت اوجھل ہے تو سب صحیح ہے کا چشمہ بلا جھجک دانش کی ریشم سے پونچھئے۔ ہمارے بزرگوں نے ہی ہمارے ایمانوں کو اپنی انا کی حرمت کے شراروں سے جھلسایا ہے وگرنہ بہت آساں ہوتا ہمارے لئے فقط مسلمان ہونا۔ خیر جانے دیجیے۔

بچپن سے درگاہ حضرت منگھو پیر سے وابستہ مگر مچھوں کی روایت سے واقفیت رہی ہے۔ سنانے والے اس دل جمی سے سناتے تھے کہ معلوم ہوتا تھا وہ مگر مچھ نہیں ہمارے اپنے ہوں۔ ان کے ہمراہ تیراکی بھی کی جائے تو ذرا انچ نہ آنے دیں گے۔ ہمارے بڑے کچھ ایسی باتوں کی شیرینی سے تصوف کے مشروب میٹھے کرتے آئے ہیں۔ قباحت نہیں مگر ایک حد لازم و ملزوم ہو تو انسان کی قدرتی طور پر شعور کی افزائش کا عمل آساں ہو سکتا ہے۔

انسانیت اور معاشرت کے ملاپ میں ایسے اور اس سے مناسبت رکھتے عناصر ہمیشہ سے پروان چڑھتے آئے ہیں خواہ وہ کلیسا ہو، مندر ہو یا ملا۔ دین و دانش کی سمجھ بوجھ سے بالا تر ہوتے ہوئے کلیسا، ملا مندر اب مذاہب کی سیاسی اور اجتماعی شناخت کا نام بھی ہیں۔

کوئی بھی تحریک یا نظریہ تنقید رکھنے کا وہاں مستحق ٹھہرتا ہے جب اس میں نفرت، تشدد اور انفرادی برتری کے عوامل کار فرما ہوجائیں۔ ان ہی عوامل سے معاشرتی تذبذب کی ابتدا ہوتی ہے اور حقیقی نظریات اور معنی مٹتے مٹتے ایک ایسی شکل اختیار کرتے ہیں جن کا انسانی زندگی کے مقاصد اور معاشرتی فلاح سے تعلق ہونا ناممکنات میں شمار کیا جاتا ہے مگر روایت کے احترام میں غیر شعوری اور بے دینی مطالب شعور اور دین کے نام پر انسانی اسلوب میں جذب ہو کر رہ جاتے ہیں۔

ہمارے یہاں ایسے بہت سے مفکرین اور علماء ہیں جو اپنی بات اور نظریاتی دھاک کی حمایت میں ایسا کوئی نقطہ اٹھانے سے باز نہیں آتے جس سے کم تعلیم یافتہ اور خوف و خشیت کے دھاروں میں قید عوام کی ذرا برابر شعوری اصلاح کا موقع آ جائے۔ ابھی دو روز پہلے کی بات ہے جب ہمارے محترم اور ہر دل عزیز عامر لیاقت صاحب نے کراچی کی حالیہ تباہ کن بارشوں کے حوالے سے خدشے کا اظہار کیا۔ وہ ٹویٹر پر پیغام میں سرجانی ٹاؤن، خدا کی بستی کے باسیوں کو خبر دار کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ سیلاب سے منگھو پیر کے علاقے میں مزار سے وابستہ مگر مچھ پانیوں میں نکل پڑے ہیں لہذا عوام الناس سے التماس ہے کہ حفاظتی تدابیر اپنا کر رکھیں۔

عامر لیاقت و دیگر ان کے ہم نظریہ علماء یہ کہتے دکھائی دیتے تھے کہ مزار منگھو پیر سے وابستہ یہ مگر مچھ کسی انسان کو نقصان نہیں پہنچاتے۔ یہ مگر مچھ تو معجزاتی تھے تو اچانک سے بارشوں کے باعث سیلاب میں ان مگر مچھوں کا پانیوں میں آگے کی جانب بڑھ جانا کیسے انسانوں کے لئے خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ یہ تو اللہ لوک تھے؟ اٹھارہ و انیس اگست کی درمیانی شب، پنو عاقل میں ایک آدمی گیارہ انسانی جانوں کو صرف اس لئے ختم کرتا ہے کہ خواب میں اس کو حکم دیا گیا تھا۔ کیا ہم۔ سب اس طرح کی حکایات و روایات سنتے اور شعور میں جذب کرتے بڑے نہیں ہوئے؟

پہلے عام انسانوں کے عقائد ایسے ترتیب دیے جاتے ہیں کہ اللہ کے نیک اولیا سے منسلک اشیا، عقائد اور جگہوں کی اس نوعیت کی تکریم کی جاتی ہے کہ عام فہم لوگ دین توحید کے نام پر ان کی پرستش شروع کرتے ہیں اور جب پانی سر سے گزر جائے تو انہی انسانوں کے عقائد اور نظریاتی وابستگی کی بازار سر عام سرزنش کا عمل وہی علما کرتے ہیں جن کے دم سے عقیدے نے طول پکڑی تھی۔ حضرت منگھو پیر اللہ کے ولی ہیں جو اپنی زندگی میں یقیناً انسانوں کے کام آئے ہوں گے۔ مگر ان کے نام سے جانداروں اور تالابوں کو منسوب کر کے اپنی فقہی گدی کا تسلط قائم کرنا قطعی جائز نہیں۔ اگر جائز ہے تو آج عوام کو متنبہ مت کیجئے کہ مزار منگھو پیر کے مگر مچھ کراچی کے سیلاب میں بہہ گئے ہیں جو کسی بھی وقت آپ کی گلی، چوراہے یا برآمدے میں سیلابی پانی سے سر اٹھا سکتے ہیں۔

فطرت بھی خدا کی مرتب کردہ ہے۔ ہم یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ انسانی بستیوں کے بے ہنگم آبادی سے پہلے بہت سے جاندار اپنے قدرتی ماحول میں وہاں موجود تھے جہاں آج آلودگی بہاتے اور دھواں اگلتے کارخانے، جابجا پھیلی جدید انسانی بستییاں، عمارتیں اور بازار وغیرہ ہیں۔ منگھو پیر مزار کے تالاب کے مگر مچھ بھی اپنے قدرتی ماحول میں رہتے ہیں جو سیلاب، بارش، پانی یا انسانوں کی فکر کیے بنا اپنی ڈگر پر بہتے، تیرتے اور زندہ رہتے ہیں جس کا اعتراف خود ہمارے عزیز عامر بھائی نے دو روز قبل ٹویٹ میں کر دیا ہے تو اب آپ بھی سمجھ جائیے۔

مختصراً، یہ معتبر مگر مچھ بھی ان ”بڑے“ انسانوں سے مستعار لئے جا سکتے ہیں جن کو ہم عمر بھر برگزیدہ، پارسا، محب وطن، خیال رکھنے والے اور بابرکت سمجھتے ہیں مگر جب ہنگاموں کے سیلاب، ظلم کی وبائیں اور قوم پر وقت نزاع کا سیلاب آئے تو بہتے پانیوں میں اپنی جانوں کو بچانے کے لئے آگے بہہ جاتے ہیں۔ تب کہیں جا کر عوام پر حقیقت کی بجلیاں ٹوٹتی ہیں اور معتبر اور بابرکت مگر مچھوں سے محفوظ رہنے کا انتباہ جاری کیا جاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •